1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امریکا کے شب و روز بدل گئے۔

'تذکار ایام' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد آصف مغل, ‏ستمبر 01، 2013۔

  1. ‏ستمبر 01، 2013 #1
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کے اس بیان سے بھلا کسے اختلاف ہو سکتا ہے کہ شام میں نہتے شہریوں کے خلاف کیمیاوی ہتھیاروں کا استعمال سفاک ترین حرکت ہے اور دنیا کو شتر مرغ بننے کے بجائے اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو سخت سزا دینی چاہیے۔

    اگر کوئی بھی ساتھ نہیں دیتا تب بھی امریکہ اس ظلم کے خلاف اپنے طور پر صف آرا ہوگا تاکہ آئندہ ایسی حرکت کرنے والوں کو کان ہوجائیں۔ اس بیان کے بعد ہمارے دل میں امریکہ کے خلاف جو تھوڑی بہت کدورت تھی وہ بھی صاف ہوگئی۔

    وہ دن اور تھے جب ہیروشیما ناگاساکی کو صدر ہیری ٹرومین نےجوہری عبرت کا نشان بنا دیا تھا اور سوا لاکھ جاپانیوں کے سائے تک جل گئے تھے۔

    وہ زمانہ اور تھا جب امریکہ نے ویتنام کے تیرہ فیصد جنگلات اور زرعی زمین کو بی باون طیاروں سے ایجنٹ اورنج چھڑک کر زہریلا کر ڈالا تھا ۔

    وہ امریکہ اور تھا جس کی سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کی مدد سے صدام حسین نے اسی کے عشرے میں ایرانی فوجی دستوں کو پن پوائنٹ کر کے بیس ہزار ایرانیوں کو گیس بموں ، مارٹروں اور شیلوں کی مدد سے اگلے جہان پہنچا دیا تھا اور حلب جاہ میں اپنے ہی پانچ ہزار شہری گیس کے چھڑکاؤ سے مار ڈالے تھے اور ریگن انتظامیہ بضد تھی کہ یہ کارروائی ایرانیوں نے کی ہے۔

    وہ واشنگٹن اور تھا جس کے بذریعہ اقوامِ متحدہ عراق کی دس برس کی مکمل اقتصادی ناکہ بندی کے سبب پانچ لاکھ سے زائد بچے مرگئے یا اپاہج ہوگئے۔وہ بش سینیئر کوئی اور تھا جس کے دستوں نے جنوبی عراق میں یورینیم سے آلودہ آرٹلری شیل استعمال کیے ۔یوں علاقے میں طرح طرح کے سرطانوں کی ایک طویل فصل لہلا اٹھی۔

    وہ طیارے کسی اور امریکہ کے تھے جنہوں نے قندھار کی وادیِ ارغنداب کے گاؤں طارق کلاچی پر دو برس پہلے پچیس ٹن بارود کچھ یوں برسایا کہ اب وہ افغانستان کے نقشے میں ہی نہیں۔البتہ متاثرہ خاندانوں کو دس دس ہزار ڈالر بھی ملے۔

    ایک زمانہ تھا کہ بشار الاسد اور ان کے والد حافظ الاسد شرفا میں شمار ہوتے تھے۔تبھی تو شام انیس سو نوے کی جنگِ خلیج میں عراق مخالف امریکی اتحاد کا حصہ تھا۔تبھی تو سی آئی اے مشتبہ القاعدہ قیدی راز اگلوانے کے لیے ابھی کچھ عرصے پہلے تک بشار الاسد حکومت کے حوالے کیا کرتی تھی۔لیکن اب نہ وہ شریف شام رہا اور نہ ہی وہ سفاک امریکہ۔

    دراصل شام نے اپنی کم بختی کو خود دعوت دی ہے۔اگر روایتی ہتھیاروں سے وہاں ایک لاکھ کے بجائے دو لاکھ افراد بھی مر جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔آخر پینسٹھ برس سے ہزاروں فلسطینی روایتی امریکی ہتھیاروں سے ہی مرے ہیں اور مر رہے ہیں۔

    حال ہی میں مصر میں ایک ہزار سے زائد افراد بھی انہی ہتھیاروں سے قتل ہوئے۔کسی نے کوئی اعتراض کیا؟ لیکن کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال سے چودہ سو انتیس معصوم شہریوں کی ہلاکت تو کوئی سفاک سے سفاک انسان بھی برداشت نہیں کر سکتا۔چے جائکہ مہذب دنیا؟ چے جائکہ امریکہ اور فرانس وغیرہ ؟

    حالانکہ امریکہ سمیت دنیا کے ایک سو اٹھاسی ممالک نے کیمیاوی ہتھیاروں کی تیاری، زخیرے اور استعمال پر پابندی کے عالمی کنونشن پر دستخط کر رکھے ہیں۔لیکن شام، اسرائیل اور مصر ان چند ممالک میں شامل ہیں جو اس کنونشن کو تسلیم نہیں کرتے۔(مصر کے بارے میں تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے یمن میں سن ساٹھ کی دہائی میں باغیوں کے خلاف کیمیاوی ہتھیار استعمال کیے۔تہتر کی جنگ کے دوران شام کو احتیاطاً کیمیاوی ہتھیاروں کے سمپل بھی بھجوائے اور صدام حسین کو اس شعبے میں مہارت دلانے کے لیے مغربی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ فعال کردار ادا کیا۔مگر اسرائیل اور مصر کی بات کچھ اور ہے۔شام سے بھلا ان کا مقابلہ کیسے ہوسکتا ہے)۔

    امریکہ نے چونکہ اب ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا تہیہ کر ہی لیا ہے۔لہذٰا اوباما انتظامیہ محض شام تک نہیں رکے گی۔ شام کے بعد وہ اسرائیل اور مصر کو کیمیاوی ہتھیاروں پر پابندی کے معاہدے پر دستخط پر مجبور کرے گی۔ایران کے بعد سعودی اور اماراتی جوہری پروگرام پر بھی پابندیاں لگوائے گی۔اور کیمیاوی ہتھیاروں کے دستخطی کے طور پر امریکہ کو انتیس اپریل دو ہزار بارہ تک اپنی قاتل گیسوں سے جو سو فیصد چھٹکارا پانا تھا۔وہ اپنی کوتاہی پر عالمی برداری سے معافی بھی مانگے گا اور شام پر حملے سے پہلے پہلے اپنے بقیہ پانچ ہزار ٹن کیمیاوی ہتھیاروں کے زخیرے کو بھی چوک میں رکھ کے آگ لگائے گا۔۔۔
     
  2. ‏اگست 01، 2016 #2
    فواد

    فواد رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 28، 2011
    پیغامات:
    434
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    74

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    کيا لکھاری اپنی دليل سے يہ ثابت کرنا چاہ رہے ہيں کہ دنيا کا کوئ بھی ايسا ملک جو تاريخ ميں کبھی بھی کسی فوجی معرکے کا حصہ رہا ہو، اس سے يہ "حق" چھين ليا جانا چاہيے کہ وہ عالمی سطح پر کہيں بھی انسانيت سوز مظالم کے واقعات پر اپنا موقف دے سکے؟

    اس حوالے سے کوئ ابہام نہيں رہنا چاہيے۔ شام کے عوام کی خود اپنی ہی حکومت کے ہاتھوں قتل و غارت گری ايک ايسا قبيح فعل ہے جس کے خلاف آواز بلند کرنے ميں امريکی حکومت تنہا ہرگز نہيں ہے۔ ہم خطے کے عام شہريوں کی جان بچانے کی اس جاری عالمی کوشش کا حصہ ہيں جو ايک ايسی حکومت کے مظالم کا شکار ہيں جو کسی بھی منطق اور دليل کو ماننے سے مسلسل انکار کر رہی ہے۔

    يہ امر خاصہ دلچسپ ہے کہ کچھ تجزيہ نگار دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں کی منطق کو چيلنج کرنے کے ليے ان تنازعات اور جنگوں کے حوالے استعمال کرتے ہيں جو کئ دہائيوں پرانے ہيں اور جن کا موجودہ دور کے عالمی تنازعوں کے ساتھ نہ کوئ تعلق بنتا ہے اور نہ ہی ان کا کوئ باہمی ربط ہے۔ يہ کوئ حيران کن بات نہيں ہے کہ يہ راۓ دہندگان بآسانی ان عام لوگوں کی تکاليف اور مصائب کو پس پش ڈال ديتے ہيں جو دنيا سے اس بات کے طلب گار ہوتے ہيں کہ ان کے زندہ رہنے کے حق کے ليے آواز بلند کی جاۓ۔

    جس وقت يہ "ماہرين" اور تجزيہ نگار ان برسوں پرانی جنگوں کے حوالے دے کر ايک محض علمی سطح کی بحث ميں مصروف ہيں اور يہ باور کروانے کی کوشش کر رہے ہيں کہ برسوں پہلے کيا ہونا چاہيے تھا، اسی دوران وہ اس تلخ حقيقت کا ادراک کرنے ميں ناکام ہو جاتے ہيں کہ آج کے موجودہ دور ميں دنيا کے مختلف حصوں ميں دہشت گرد گروہ اور ظالم حکومتيں بے گناہوں کے خون سے اپنی تاريخ رقم کرنے ميں مصروف ہيں۔

    جہاں تک ايک ايسی جنگ کے حوالے سے امريکہ پر تنقيد کا سوال ہے جو کم و بيش سات دہائيوں قبل لڑی گئ تھی تو اس ضمن ميں مفصل تجزيے کے ليے يکطرفہ جملہ بازی کی بجاۓ واقعات کے تسلسل اور درست تناظر کا غير جانب دارانہ مطالعہ ضروری ہے۔

    کيا آپ سمجھتے ہيں کہ پاکستان پر اس بنياد پر يک طرفہ تنقید درست قرار دی جا سکتی ہے کہ يہ ملک 50 سالوں ميں 4 جنگوں ميں ملوث رہا ہے جبکہ اس تنقيد کے ضمن ميں ان پرانے تنازعوں، اس وقت کے سياسی حالات يا فوجی اور علاقائ حکمت عملی يا واقعات کے اس تسلسل کا سرے سے ذکر ہی نا کيا جاۓ جو ان جنگوں کا سبب بنے؟

    آپ يہ اہم نقطہ کيوں نظرانداز کر رہے ہيں کہ جاپان نے بغير اعلان کے امريکہ پر حملہ کيا تھا جس کے نتيجے ميں 2 ہزار سے زائد امريکی جاں بحق ہو گۓ تھے۔ امريکہ اس جنگ ميں اپنے دفاع اور جرمن کی اس فوجی يلغار کو روکنے کے ليے شامل ہوا تھا جس کے نتيجے ميں يورپ پر حملہ اور کئ علاقوں پر براہ راست قبضہ کر ليا گيا تھا۔ جاپان نے بھی ايسٹ ايشيا کے بيشتر علاقے فتح کر کے لوگوں پر غير انسانی مظالم کی انتہا کر دی تھی۔ بلکہ اکثر تاريخ دانوں کے مطابق نازی جرمنی اور جاپان کا جابرانہ تسلط حاليہ انسانی تاريخ کے سياہ ترين باب تھے۔ امريکہ نے اس تاريک دور کے خاتمے ميں فيصلہ کن کردار ادا کيا تھا۔ اگر آپ تاريخی حقائق کا جائزہ ليں تو يہ واضح ہو گا کہ دوسری جنگ عظيم ميں ايٹمی ہتھيار استعمال نا کرنے کی صورت ميں جاپان ميں فوج بھيجی جاتی جس کے نتيجے ميں بڑے پيمانے پر فوجيوں اور شہريوں کی ہلاکت ہوتی جو کافی عرصے تک جاری رہتی۔ ايسی صورت حال ميں ہونے والا انسانی نقصان تاريخی لحاظ سے بے مثال ہوتا۔

    آج بھی دوسری جنگ عظيم ميں زندہ بچ جانے والے ايسے لوگ موجود ہيں جو اس بات کی گواہی دے سکتے ہيں کہ امريکہ نے خود اس جنگ ميں شموليت اختيار نہيں کی تھی جس کا آغاز 1939 ميں ہو چکا تھا۔ دسمبر 7 1941 کو ہوائ ميں پرل ہاربر کے مقام پر جاپان کے حملے کے بعد لامحالہ امريکہ کو اس جنگ کا حصہ بننا پڑا۔ اس حملے کے چار روز بعد ہٹلر نے باقاعدہ امريکہ کے خلاف جنگ کا اعلان کيا۔

    ايٹمی ہتھيار کا استمعال يقينی طور پر ايک کٹھن فيصلہ تھا ليکن اس وقت کے معروضی حالات کے تناظر ميں بادل نخواستہ يہ مشکل فيصلہ کيا گيا تھا تا کہ اس ممکنہ طويل جنگ کو روکا جا سکے جو جاپان پر زمينی حملے کی صورت ميں تمام فريقين کے ليے عظيم انسانی سانحے کا سبب بنتی۔

    سات دہائيوں قبل ايک عالمی تنازعے کے دوران کيا پاليسی اپنائ جانی چاہيے تھی، اس ضمن ميں تاريخی حقائق اور علمی بحث کو ايک جانب رکھتے ہوۓ لکھاری کے پاس ايسی کوئ مربوط دليل يا منطقی وجہ نہيں ہے جس کی بنياد پر وہ اسد کی حکومت کے خلاف آواز بلند کرنے پر امريکہ کو ہدف تنقيد بنائيں۔ اوروہ بھی پچاس اور ساٹھ کی دہائ کے واقعات کا تقابلی جائزہ پيش کر کے، جس کا شام ميں جاری ظلم و تشدد سے کوئ تعلق نہيں ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
    [​IMG]
     
  3. ‏اگست 03، 2016 #3
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,077
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    ابتسامہ...
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں