1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اکابر و علماء اہل حدیث

'علماء' میں موضوعات آغاز کردہ از ابو زہران شاہ, ‏اگست 02، 2018۔

  1. ‏اگست 02، 2018 #1
    ابو زہران شاہ

    ابو زہران شاہ مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 02، 2018
    پیغامات:
    69
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    22

    السلام وعلیکم ورحمۃ اللہ وبراکۃ

    مجھے اکابر و علماء اہلحدیث کے نام درکار ہے تاکہ ان کے بارے میں کچھ پڑھ سکوں
    اکابر جیسے ثناءاللہ امرتسری رحمہ اللہ سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ
    علماء جیسے محمد حسین بٹالوی رحمہ اللہ
     
  2. ‏اگست 02، 2018 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    آپ نے بہت مفید سوال کیا ہے ؛
    جواب کی ابتداء میں کر رہا ہوں ، ان شاء اللہ دیگر احباب بھی اپنا حصہ ڈالیں گے ؛
    ــــــــــــــــــــــــ
    شیخ الحدیث استاذ العلماء عبداللہ محدث روپڑی رحمۃ اللہ علیہ
    عبداللہ محدث روپڑی یکتائے روز گار محقق اور اپنے دورکے مجتہد ہونے کے علاوہ علم و فضل کے روشن مینار تھے۔ تفسیر اورحدیث میں آپ کو جامع بصیرت حاصل تھی۔ احکام و مسائل اور ان کے اسباب و علل پر گہری نظر رکھتے تھے۔آپ نے اپنی زندگی میں دین کے ہر شعبہ سے متعلق سوالات کے کتاب و سنت کی روشنی میں جوابات دئیے۔ یہ فتاوی جات عوام و خواص اور طالبان علم کے لیے نہایت قیمتی ہیں ان کی اسی اہمیت کے پیش نظر ان تمام فتاوی جات کو کتابی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ کتاب کو ’فتاوی اہل حدیث‘ کا نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ مولانا کا تمام تر انحصار قرآن اور حدیث پر رہا ہے اور قیاس وعلت و معلول جیسی بحثوں سے اجتناب کیا گیا ہے۔ فتاوی جات تحقیق سے مزین اور تعصب سے پاک ہیں۔ عوام کی استعداد اور خواص کے علمی و فکری معیار پر پورا اترتے ہیں۔ (ع۔ م)
    شیخ حافظ عبداللہ محدث روپڑی ؒ کی کتب
     
  3. ‏اگست 02، 2018 #3
    ابو زہران شاہ

    ابو زہران شاہ مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 02، 2018
    پیغامات:
    69
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    22

    جزاک اللہ خیرا
    مجھے انتظار رہے گا باقی بھائیوں کا۔
     
  4. ‏اگست 02، 2018 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    شیخ الشیوخ حضرت حافظ عبد المنان نورپوری رحمۃ اللہ علیہ


    فضیلۃ الشیخ حافظ عبدالمنان نور پوری حفظہ اللہ تعالی کی شخصیت محتاج تعارف نہیں ۔آپ زہدو ورع اور علم و فضل کی جامعیت کے اعتبار سے اپنے اقران و اماثل میں ممتاز ہیں۔اللہ تعالی نے جہاں آپ کو علم و فضل کے دروہ عُلیا پر فائز کیا ہے ،وہاں آپ کو عمل و تقویٰ کی خوبیوں اور اخلاق و کردار کی رفعتوں سے بھی نوازا ہے ۔علاوہ ازیں اوائل عمر ہی سے مسند تدریس پر جلوہ افروز ہونے کی وجہ سے آپ کو علوم و فنون میں بھی جامعیت یعنی معقول اور منقول دونوں علوم میں یکساں عبور اور دسترس حاصل ہے ۔تدریسی و تحقیق ذوق ،خلوص وللّٰہیت اور مطالعہ کی وسعت گہرائی کی وجہ سے آپ کے اندر جو علمی رسوخ ،محدثانہ فقاہت اور استدلال و استنباط کی قوت پائی جاتی ہے ،اس نے آپ کو مرجع خلائق بنایا ہوا ہے۔چنانچہ عوام ہی نہیں خواص بھی،ان پڑھ ہی نہیں علماء فضلاء بھی ،اصحاب منبر و محراب ہی نہیں الہ تحقیق و اہل فتویٰ بھی مسائل کی تحقیق کے لیے آپ کی طرف رجوع کرتےہیں اور آپ تدریسی و تصنیفی مصروفیات کے با وصف سب کو اپنے علم کے چشمہ صافی سے سیراب فرماتے ہیں ۔جزاہ اللہ عن الاسلام والمسلمین خیر الجزاء۔
    زیر نظر کتاب(
    قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل
    )
    انہی سینکڑوں سوالات کے جوابات پر مستمل ہے جو ملک کے اطراف وجوانب سے بذریعہ خطوط آپ سے کیے گئے ۔اس میں عقائد سے لے کر زندگی کے تمام معاملات تک کے مسائل شامل ہیں ۔ہر سوال کا جواب قرآن وحدیث کی روشنی میں دیا گیا ہے جس سے فاضل مؤلف کے قرآن و حدیث پر عبور ،نصوص کے استخصا ر ،تفقہ و استنباط کے ملکہ اور قوت استدلال کا اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔
    یوں شرعی احکام و مسائل پر مشتمل یہ کتاب رہنمائے زندگی بھی ہے اور علوم و معارف کا خزینہ بھی،حکمت و دانش کا مرقع بھی ہے اور اسرار و حکم کا گنجینہ بھی ،فکر و نظر کا گلدستہ بھی ہے اور قدیم و جدید کا حسین امتزاج بھی۔اس میں مفسرانہ نکتے بھی ہیں اور محدثانہ شان بھی ،فقیہانہ استنباط و طرز استدلال بھی ہے اور متکلمانہ انداز بھی ۔عوام کے لیے بھی ایک نہایت مفید کتاب اور علماء و طلبائے علوم دینیہ کے لیے بھی ایک گوہر نایاب ،معیاری کتابت و طباعت اور خوبصورت جلدان سب پر مستزاد۔گویا پیکر حسن کو لباس جمیل سے آراستہ کر کے اس کے قامت کی زیبائی کو اور رؤئے آبدار کی رعنائی کو خوب سے خوب تر کر دیا گیا ہے ۔جس پر اصحاب المکتبۃ الکریمیۃ بھی مبارک باد کے مستحق اور تحسین و آفرین کے سزاوار ہیں ۔ ایں کار از تو آید و مرواں چنیں کنند
    ــــــــــــــــــــــــ
    شیخ رحمۃ اللہ علیہ کی کتابوں کیلئے یہاں کلک کیجئے
     
  5. ‏اگست 02، 2018 #5
    ابو زہران شاہ

    ابو زہران شاہ مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 02، 2018
    پیغامات:
    69
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    22

    جو بھی بھائی یہاں کوئی پوسٹ کرتا ہے تو ساتھ میں یہ بھی بتادیں کہ یہ اکابر میں سے ہیں یا پھر علماء میں سے ہیں
    جزاک اللہ خیرا
     
  6. ‏اگست 02، 2018 #6
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    محدّث العَصر حَافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
    Hafiz Zubair Alizai Rahimahullah

    حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ 25 جون 1957 کو صوبہ پنجاب ضلع اٹک کی ایک سرسبز وادی، وادی چھچھ میں پید۱ ہوئے۔

    آپ کا اصل نام محمد زبیر تھا۔ تاہم وہ ابو طاہر محمد زبیر علی زئی کے نام سے مشہور تھے۔

    آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں پیرداد میں حاصل کی۔ بعد ازاں گورنمنٹ ڈگری کالج اٹک سے گریجوایشن کا امتحان اعلی نمبروں سے پاس کیا۔

    آپ نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اسلامیات اور عربی میں دو مرتبہ ماسٹرز کا امتحان پاس کیا۔

    آپ نے اسلامی تعلیم جامعہ محمدیہ گوجرانولہ اور وفاق المدارس السلفیہ فیصل آباد سے حاصل کی۔

    آپ تقریبا 90 دنوں میں قرآن حفظ کرچکے تھے۔

    آپ کا تعلق ایک پٹھان خاندان "علی زئی" سے تھا۔

    آپ کی شادی 1982 میں ہوئی تھی۔ آپ کے تین بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ بچے بترتیب طاہر، عبد اللہ ثاقب اور معاذ ہیں۔

    آپ نے "الحدیث" کے نام سے ایک رسالہ جون 2004 میں شروع کیا تھا۔ آپ کے سینکڑوں مضامیں رسالہ الحدیث میں شائع ہو چکے ہیں۔ رسالہ الحدیث آن لائن پڑھنے کے لئے ۔

    آپ کی اردو تصانیف:

    اختصار علوم الحدیث لابن کثیر/ ترجمہ وتحقیق
    اکاذیب آل دیوبند
    التاسیس فی مسئلۃ التدلیس (تحقیقی مقالات، جلد اول)
    القول الصحیح فیما تواتر فی نزول المسیح (مقالات، جلد اول)
    القول المتین فی الجہر بالتامین
    انوار الطریق فی رد ظلمات فیصل الحلیق (مقالات جلد چہارم)
    تحقیق وترجمہ اثبات عذاب القبر للبیہقی
    تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات (چھ جلدیں)
    تخریج احادیث: الرسول کانک تراہ
    تخریج ریاض الصالحین
    تخریج فتاویٰ اسلامیہ
    تخریج نماز نبوی
    ترجمہ، تحقیق وفوائد مشکوٰۃ المصابیح/کتاب الایمان
    ترجمہ شعار اصحاب الحدیث للحاکم الکبیر (تحقیقی مقالات جلد دوم)
    ترجمہ وتحقیق آثار السنن
    تسہیل والاصول
    تعداد رکعات رمضان کا تحقیقی جائزہ
    تلخیص الاحادیث المتواترہ (مخطوط)
    توضیح الاحکام / فتاویٰ علمیہ جلد اول، جلد دوم
    جنت کا راستہ
    حاجی کے شب و روز، ترجمہ وتحقیق وفوائد
    دین میں تقلید کا مسئلہ
    سیف الجبار
    شرح حدیث جبریل / ترجمہ وتحقیق وفوائد
    صحیح بخاری پر اعتراضات کا علمی جائزہ
    عبادات میں بدعات اور سنت سے ان کا رد (ترجمہ وتحقیق)
    عرص حاضر کے چند کذابین کا تذکرہ
    فضائل درود سلام / ترجمہ وتحقیق
    موطا امام مالک / روایۃ ابن القاسم (ترجمہ وتحقیق وفوائد)
    نبی کریم صلی اللہ علی وسلم کے لیل و نہار (ترجمہ وتحقیق کتاب الانوار للبغوی)
    نصرالباری فی تحقیق وترجمۃ جزء القراء ۃ للبخاری
    نصرالمعبود فی الرد علیٰ سلطان محمود (تحقیقی مقالات جلد دوم)
    نورالقمرین
    نور المصابیح
    ہدیۃ المسلمین
    یمن کا سفر
    حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی عربی تصانیف کی لسٹ نورالعینین پر دیکھیں۔

    مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ (متوفی 1408ھ)
    مولانا ابوالفضل فیض الرحمٰن الثوری رحمہ اللہ (متوفی 1417ھ)

    آپ کی مادری زبان "ہندکو" تھی، تاہم آپ کو دیگر چھ (6) زبانوں پربھی عبور حاصل تھا۔ یونانی یا عبرانی واحد زبان تھی جو وہ صرف پڑھ لکھ سکتے تھے، باقی تمام زبانوں میں انھیں بولنے پر دسترس حاصل تھا۔ دیگر زبانیں جو آپ نے سیکھیں: عربی، پشتو، فارسی، انگریزی، یونانی یا عبرانی، اور پنجابی۔

    آپ کو علم اسماء الرجال پر عبور حاصل تھا۔

    آپ تقریبا 15 یا 16 سال کے تھے جب آپ کو آپ کے سگے چچا نے صحیح بخاری تحفہ دی۔ یہ اسلامی تعلیم کی طرف آپ کا پہلا قدم تھا۔

    1980 کے آخر میں جب آپ پاکستان واپس آئے تو دوستوں نے مولاناحاجی اللہ دتہ صاحب کے بارے میں بتایا۔ حاجی صاحب کامرہ ایئر بیس سے ہر جمعہ حضرو شہر میں درس دینے آتے تھے۔ حاجی صاحب آپ کے پہلے استاد تھے۔ آپ حاجی صاحب کے مناظروں میں شریک ہوتے، ان سے کتابوں کی صحت کے بارے سوالات کرتے، مسائل پوچھتے۔ غرض یہ کہ (بقول آپ کے) آ پ نے جن شیوخ میں سے سب سے زیادہ علمی فائدہ حاصل کیا، حاجی صاحب ان شیوخ میں سر فہرست تھے۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    مزید کتب و مضامین کیلئے یہاں کلک کیجئے
     
  7. ‏اگست 02، 2018 #7
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدؒ


    کائنات میں کچھ ہستیاں ایسی پیدا ہوئیں اور تا قیام قیامت پید ا ہوتی رہیں گی کہ جن کی زندگیاں دوسروں کے لئے مشعلِ راہ ہوتی ہیں۔ ایسی شخصیات جب روشنی کی کرنیں اپنی زندگیوں میں بکھیرکر اس دارِفانی سے رخصت ہوتی ہیںتو بعدمیں آنے والے لوگ مدتوں اس روشنی سے راہ پاتے ہیں اور اپنے آپ کو بھٹکنے سے محفوظ رکھتے ہیں۔ایسی ہی شخصیات میں سے ایک علامہ احسان الٰہی ظہیر تھے۔

    وہ سیالکوٹ کے ایک کاروباری مگر دین دوست گھرانے میں 31مئی 1940ء کو پیدا ہوئے۔ شروع ہی سے پڑھنے لکھنے کی طرف راغب تھے ۔ ساڑھے آٹھ برس کی عمر میں قرآن مجید حفظ کر لیا۔ابتدائی تعلیم جامعہ شہابیہ سیالکوٹ سے حاصل کرنے کے بعد گوجرانوالہ کے جامعہ اسلامیہ میں داخلہ لے لیا۔ یہاں مولانا ولی العصر مولانا البرکات ؒ اور محدث العصر علامہ محمد گوندلویؒ سے فیض حاصل کیامزید تعلیم کے حصول کے لئے جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں داخلہ لے لیا۔ جامعہ سلفیہ سے سند ِفراغت نمایاں پوزیشن میںحاصل کرلینے کے بعد ان کے اساتذہ نے انہیں جامعہ کی طرف سے سعودی عرب کی ــ''الریاض یونیورسٹی" میں مزید تعلیم کے لئے بھیج دیا۔
    1970ء میں مدینہ یونیورسٹی سے فراغت کے بعد انہوں نے سعودی عرب اور پاکستان کے علاوہ بعض دوسرے ممالک سے آنے والی اعلیٰ عہدوں کی پیشکشوں کو ٹھکراتے ہوئے تبلیغ وتحریر کے مشن کو اپنایا اور تادمِ ِ آخر اسی سے وابستہ رہے۔
    علامہ شہیدؒ نے 1968ء میں باقاعدہ سیاست کا آغاز اقبال پارک میں خطبہ عید کے دوران کیا اس وقت کیا جب جنرل ایوب خان کے خلاف تحریک چل رہی تھی۔ ابتداء میں علامہ ظہیر ؒ تحریکِ استقلال سے وابستہ ہوئے تو انہیں تحریک کا مرکزی سیکرٹری اطلاعات بنا دیا گیا۔بعد ازاںقائم مقام سربراہ بھی رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی نام نہاد عوامی حکومت کے خاتمے کے لئے علامہ نے ـ''تحریک ِ ختم نبوت میں بڑے جوش و خروش سے حصہ لیا اور تحریک کے اہم مرکزی قائدین میں شمار ہوئے۔'' 1977ء کی تحریک میں بھی سرگرم رہے ،قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں،مقدمات جھیلے، ان پر بھٹو حکومت کے دوران 95 سیاسی مقدمات قائم کئے گئے۔ جن میں قتل کے مقدمات بھی شامل تھے بعدازاں تحریک استقلال کے سربراہ اصغر خان سے اختلافات کی وجہ سے انہوں نے تحریک استقلال سے علیحدگی اختیار کرلی وہ ایم آر ڈی کی رونق تھے لیکن ایم آر ڈی میں باقاعدہ شامل نہ ہوئے۔ پنجاب میں وہ جنرل ضیاء الحق کے سب سے بڑے مخالف خیال کئے جاتے تھے۔ وہ مارشل لائی نظام حکومت کو اسلام کے منافی قرار دیتے تھے۔انہوں نے ایک سہ جماعتی اتحاد بھی بنایا جو عام اتحادوں کی طرح زیادہ دیر نہ چل سکاپھر انہوں نے اپنی جماعت کو سیاسی قوت بنانے کا فیصلہ کر لیا یہ فیصلہ انہوں نے اس وقت کیا جب ان کی اپنی جماعت کے بہت سے علماء حضرات مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء الحق کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ہوئے تھے انہوں نے جماعت کے بزرگوں میاں فضل حق مرحوم ، معین الدین لکھوی سابق ایم این اے، عبدالقادر روپڑی مرحوم اور مولانا محمد حسین شیخوپوری سے درخواستیں کرنے کے بعد جمعیت اہل حدیث کے نام سے الگ جماعت بنا لی۔ جس کے سربراہ مولانا محمد عبداللہ مرحوم پرنسپل جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ منتخب ہوئے اور علامہ ظہیر ناظم اعلیٰ ، انہوں نے اہل حدیث نوجوانوں کو اہل حدیث یوتھ فورس کے پلیٹ فارم پر جمع کرنا شروع کردیااور براہِ راست نوجوانوں کی تربیت شروع کی دوسری طرف ان کی یہ کوشش رہی کہ وہ تما م اہل حدیث جو دوسری جماعتوں میں شامل ہیں ان کو واپس لایا جائے ۔ علامہ شہیدؒ کی کوششوں سے بہت جلد جمعیت اہل حدیث ملک کی صفِ اول کی سیاسی جماعتوں کے شانہ بشانہ آکھڑی ہوئی۔ موچی دروازہ ، لیاقت باغ، نشتر پارک ، قلعہ کہنہ، قاسم باغ، دھوبی گھاٹ فیصل آباد ، شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ ، وائس آف جرمنی، وائس آف امریکہ اور بی بی سی کے تبصرے اس بات کے واضح گواہ ہیں کہ مارشل لاء کے حواریوں کو علامہ مرحوم خار کی مانند کھٹکتے تھے ۔ شریعت بل پیش ہوا تو مختلف فورموں میں بالخصوص اور عوامی جلسوں میں بالعموم انہوں نے شریعت بل کے پرخچے اڑا دئیے ۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اہلِ حدیثوں اور بالخصوص میرے ہوتے ہوئے کوئی عوام کو بیوقوف نہیں بنا سکتا۔

    عالم باعمل، محدث العصر، مفتی دوراں، شعلہ نوا مقرر ، نامور ادیب ،عظیم صحافی، اعلیٰ مبلغ اور کئی دینی کتابوں کے مصنف علامہ احسان الٰہی ظہیر 23مارچ 1987ء بروز پیر قلعہ لچھمن سنگھ لاہور کے وسیع میدان میں سیرت النبی ﷺ کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے بم دھماکہ کا شکار ہو گئے اور علامہ حبیب الرحمان یزدانی، خان نجیب خان ، عبدالخالق قدوسی سمیت کئی ساتھیوں کے ہمراہ اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے وہ سات دن تک موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہے اور بالآخر30مارچ 1987ء بروز پیر سعودی عرب میں شہادت کے رتبے کو پاگئے۔ انہیں جنت البقیع میں محدث زماں امام مالکؒ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔

    مرحوم ایک عظیم خطیب، نامور مصنف ،منتظم اور گوناگوں صفات کے حامل تھے۔ حکومت ِ وقت کے ایوانوں میں ان کی گھن گرج سے لرزہ طاری ہو جایا کرتا تھا۔ وہ پاسبانِ قرآن و سنت تھے اور ملک میں فی الواقع قرآن وسنت کی حکمرانی کے خواہاں تھے۔ وہ کسی خاص فقہ کے ملک میں نفاذ کے حامیوں کے لئے ایک صاعقہ مرسلہ تھے حقیقت تو یہ ہے کہ علامہ شہید ؒ جیسی شخصیات روز روز پیدا نہیں ہوتیں۔ اللہ پاک انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔(آمین)
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ کی کتب کیلئے یہاں تشریف لائیں
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏اگست 02، 2018 #8
    عبدالرحمن حمزہ

    عبدالرحمن حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 27، 2016
    پیغامات:
    251
    موصول شکریہ جات:
    73
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    مولانا محمد اسمٰعیل سلفی رحمہ اللہ

    سوانح حیات


    شیخ الحدیث مولانا محمد اسمٰعیل سلفی ۱۸۹۵ء میں تحصیل وزیرآباد کے قصبہ 'ڈھونیکی' میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کانام مولانا حکیم محمدابراہیم تھا۔ جو جید عالم دین، حاذق طبیب ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ پایہ کے خوشنویس بھی تھے۔ آپ عرصہ تک مولانا ابوسعید محمد حسین بٹالوی کا رسالہ 'اشاعة السنة' کتابت کرتے رہے۔ اس کے علاوہ آپ نے امام حدیث مولانا عبدالرحمن محدث مبارکپوری کی مشہور کتاب 'تحفة الاحوذی شرح جامع ترمذی' جو چار جلدوں میں ہیکی کتابت بھی کی۔ تحفة الاحوذی کے ٹائٹیل پر یہ عبارت درج ہے: کتبہ محمد ابراہیم : موضع ڈھونیکی، تحصیل وزیرآباد، ضلع گوجرانوالہ

    مولانا محمد اسمٰعیل نے ابتدائی تعلیم اپنے والد مولانا حکیم محمد ابراہیم سے حاصل کی۔ اس کے بعد آپ دارالحدیث وزیرآباد تشریف لے آئے۔ دارالحدیث وزیرآباد میں استادِ پنجاب شیخ الحدیث مولانا حافظ عبدالمنان محدث وزیرآبادی توحید و سنت کی اشاعت میں سرگرمِ عمل تھے۔ استادِ پنجاب کے علاوہ اس مدرسہ میں مولوی عمر الدین وزیرآبادی اور استادِ پنجاب کے صاحبزادہ مولوی عبدالستارمرحوم بھی مدرّ س تھے اور ایک مدرّس مولوی تاج الدین بھی تھے۔

    مولانا محمد اسمٰعیل نے صرف و نحو کی کتابیں مولوی تاج الدین سے پڑھیں۔ مولوی عمر الدین سے فارسی کتابیں گلستان، بوستان وغیرہ پڑھیں اور مولوی عبدالستار صاحب سے سنن نسائی کا رُبع اوّل پڑھا اور استادِ پنجاب سے جملہ علوم و فنون، قرآن و حدیث، فقہ و اصول فقہ، عربی ادب، منطق و فلسفہ اور عقائد وکلام میں استفادہ کیا۔

    وزیرآباد میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد مولانا محمد اسمٰعیل دہلی تشریف لے گئے۔ دہلی ان دنوں علم وفن کا مرکز تھا۔ یہاں پر شاہ ولی اللہ دہلوی اور ان کی تحریک ِعلمی کے گہرے نقوش تھے۔ آپ نے مدرسہ امینیہ، دہلی میں داخلہ لیا اورمولانا محمد قاسم سے فقہ کے اسباق پڑھے، لیکن عامل بالحدیث ہونے کی وجہ سے جلدہی مدرسہ سے خارج کردیئے گئے۔ اس کے بعد آپ نے مدرسہ دارالکتاب والسنة، صدر بازار دہلی کا رخ کیا،جہاں مولانا عبدالوہاب ملتانی صدر مدرّس تھے اور مولانا عبدالرحمن ولایتی مدرّس تھے۔ مولانا عبدالرحمن ولایتی بلند پایہ عالم دین، محدث اور فقیہ تھے۔ شیخ الکل مولانا سید محمد نذیر حسین دہلوی کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔ ان سے مولانا محمد اسمٰعیل نے حدیث اور معقولات کی کتابیں پڑھیں اور اس کے بعد مولانا عبدالجبار عمرپوری (جد ِامجد مولانا عبد الغفار حسن)سے تفسیر ابن کثیر اور تفسیر فتح البیان کے بعض اجزا پڑھے۔ مولانا عبدالجبار ان دنوں مکفوف البصر (نابینا) ہوگئے تھے۔

    اس کے بعد مولانا محمداسمٰعیل واپس وطن وزیرآباد تشریف لے آئے اور دوبارہ استادِ پنجاب کی خدمت میں حاضر ہوکر تفسیر و حدیث کی سند حاصل کی۔ اور اس کے بعد دوبارہ دہلی تشریف لے گئے۔اس زمانہ میں عالمی جنگ زوروں پر تھی۔ دہلی کے حالات کافی حد تک خراب تھے، جس کی وجہ سے مولانا محمد اسمٰعیل اپنے سبق صحیح طور پر شروع نہ کرسکے۔ ان دنوں استاذالاساتذہ مولانا حافظ عبداللہ محدث غازی پوری دہلی میں قیام فرما تھے۔ مولانا محمد اسمٰعیل ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اوران کے درسِ قرآن سے مستفیض ہوتے رہے۔

    دہلی میں حالات چونکہ خراب تھے۔ اس لئے مولانا محمد اسمٰعیل دہلی سے امرتسر تشریف لے آئے۔ امرتسر بھی ان دنوں علم و فن کا مرکز تھا۔ حضرت مولانا عبداللہ غزنوی  نے مدرسہٴ غزنویہ کے نام سے ایک دینی درسگاہ قائم کی تھی جس میں مولانا سید عبداللہ غزنوی اپنی زندگی میں قرآن و حدیث کا درس دیتے رہے۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادگان مولانا عبداللہ بن عبداللہ غزنوی، مولانا محمد بن عبداللہ غزنوی اور مولانا سید عبدالجبار غزنوی رحمہم اللہ اجمعین اس مدرسہ میں قرآن و حدیث کا در س دیتے رہے۔

    مولانا محمد اسمٰعیل جب امرتسر تشریف لائے تو اس وقت مولانا عبدالرحیم بن مولانا سید عبداللہ غزنوی، مولانا عبدالغفور بن مولانا محمد بن عبداللہ غزنوی اور مولانا محمد حسین ہزاروی داماد مولانا عبدالجبار غزنوی مدرسہٴ غزنویہ کے روحِ رواں تھے۔ مولانا محمد اسمٰعیل نے ان ہر سہ علما سے جملہ علومِ اسلامیہ میں استفادہ کیا۔ منطق و فلسفہ کی کتابیں مولانا مفتی محمد حسن امرتسری بانی جامعہ اشرفیہ، لاہورسے پڑھیں۔طب کی تعلیم امرتسر میں مولوی حکیم محمد عالم امرتسری سے حاصل کی۔ مولوی حکیم محمد عالم اسلامیہ ہائی سکول میں عربی کے استاد تھے۔ مسلکا بریلوی تھے لیکن بڑے وسیع الظّرف تھے۔

    امرتسر میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد مولانا محمد اسمٰعیل واپس وزیرآباد تشریف لائے اور اس کے بعد مولانا محمد ابراہیم میرسیالکوٹی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی اپنے وقت کے مشہور مناظر، مفسر قرآن اور کامیاب مصنف تھے اور مولانا ثناء اللہ امرتسری کے دست ِراست تھے۔ مولانا محمد اسمٰعیل نے مولانا سیالکوٹی سے تفسیر قرآن میں استفادہ کیا۔مولانا محمد اسمٰعیل فرمایا کرتے تھے کہ

    "مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی کا درسِ قرآن مناظرانہ انداز سے بہت مفید ہوتا تھا۔ میں نے تفسیر بیضاوی مولانا سیالکوٹی سے شروع کی مگر مقامی مشاغل کی وجہ سے چند اسباق ہی پڑھ سکا۔ اس کے بعد چھٹی ہوگئی۔"

    ۱۹۲۱ء میں مولانا محمد اسمٰعیل نے جملہ علومِ اسلامیہ سے فراغت پائی۔۱۹۲۱ء میں ملک میں آزادی کا آغاز ہوچکا تھا اور رواٹ ایکٹ نافذ ہوچکا تھا۔ مجلس خلافت نے ترکی خلافت کے لئے تحریک ِخلافت شروع کردی تھی۔ ۱۹۲۱ء میں مولانا محمد اسمٰعیل کو مولانا ثناء اللہ امرتسری اور مولانا محمد ابراہیم میرسیالکوٹی نے گوجرانوالہ میں رہائش اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔ چنانچہ آپ مسجد ِاہلحدیث حاجی پورہ میں خطیب مقرر ہوئے۔ چوک نیائیں گوجرانوالہ میں بھی ایک مسجد ِاہلحدیث تھی جو اب مرکزی مسجداہلحدیث کہلاتی ہے۔ اس مسجد کے خطیب مولانا علاؤ الدین مرحوم تھے۔مولانا علاؤ الدین ضلع ملتان کے ایک گاؤں 'اوج بھٹیاں' کے رہنے والے تھے۔ شیخ الکل مولانا سید محمد نذیر حسین دہلوی کے شاگرد تھے۔ ۱۸۷۴ء/۱۲۹۰ھ میں گوجرانوالہ میں اقامت اختیار کی۔ ۱۹۲۱ء/۱۲۳۹ھ میں انتقال ہوا۔

    مولانامحمد اسمٰعیل چند ماہ مسجد اہلحدیث حاجی پورہ کے خطیب رہے۔مولانا علاؤ الدین کے انتقال کے بعد آپ کو مسجد اہلحدیث چوک نیائیں کا خطیب مقرر کیا گیا۔ آپ اپنی وفات ۱۹۶۸ء تک اس مسجدمیں خطابت کے فرائض انجام دیتے رہے۔ مسجد اہلحدیث چوک نیائیں کا خطیب مقرر ہوتے ہی آپ نے اس مسجد میں مدرسہٴ محمدیہ کی بنیاد رکھی اور اس میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ یہ مدرسہ آپ کی یادگار ہے اور آج بھی اسلام کی نشرواشاعت ، توحید و سنت کی ترقی و ترویج اور شرک و بدعت کی تردید وتوبیخ میں کوشاں ہے۔ مولانا محمد اسمٰعیل کے تلامذہ کی فہرست طویل ہے۔ مشہور تلامذہ جنہوں نے کسی نہ کسی حیثیت سے علمی دنیا میں اپنا ایک مقام پیدا کیا، ان میں چند ایک یہ ہیں :

    1۔ مولانا محمد حنیف ندوی: مفسر قرآن اور مشہور فلسفی، فلسفہ اسلام کو اپنا موضوع بنایا اور اس پر بہت کچھ لکھا۔

    2۔ مولانا محمد اسحق بھٹی: مشہور صحافی اور مصنف

    3۔ مولانا محمد خالد گھرجاکھی: صاحب ِتصانیف کثیرہ اور بیشتر عربی کتابوں کے ناشر

    4۔ مولانا حکیم محمود سلفی: مشہور طبیب، جید عالم دین

    5۔ مولانا حافظ اسمٰعیل ذبیح: مشہور عالم، واعظ اور مدرس

    6۔ مولانا محمد سلیمان کیلانی: مشہور عالم اور مصنف (مولانا عبد الرحمن کیلانی کے برادرِ کبیر)

    7۔ مولانامعین الدین لکھوی: مشہور عالم، واعظ اور سیاسی رہنما

    مولانامحمد اسمٰعیل نے درس و تدریس کے ساتھ ساتھ برصغیر کی تحریک ِآزادی میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ تحریک ِاستخلاصِ وطن کے سلسلہ میں کئی بار قید ہوئے اورحرمت ِختم نبوت کے سلسلہ میں بھی آپ اسیر زنداں رہے۔مولانا محمد اسمٰعیل علم و فضل کے اعتبار سے بلند پایہ عالم دین تھے۔ آپ اکابر علمائے اہلحدیث کی جملہ صفات کے حامل اور ایک مثالی شخصیت تھے۔

    مولانا حافظ عبداللہ غازی پوری کا ورع اور تقویٰ، مولانا عبدالرحمن مبارکپوری کی تواضع، مولانا عبدالواحد غزنوی کا ذوقِ قرآن فہمی، مولانا عبدالعزیز رحیم آبادی کی انگریز دشمنی، مولانا ابوالکلام آزاد کا جوہر خطابت،مولانا عبدالوہاب دہلوی کی شیفتگی ٴسنت، مولانا ابوالوفاثناء اللہ امرتسری کا ذوقِ تالیف، مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹی اور مولانا محمد حسین بٹالوی کا وسعت ِعلم، مولانا عبدالقادر قصوری کی متانت اور عمق فکر، مولانا قاضی محمد سلیمان منصور پوری کی شرافت اور تبحر علمی، مولانا حافظ عبداللہ روپڑی کا ملکہ افتا اور مولانا سید محمد داؤد غزنوی کی معاملہ فہمی اور وسعت ِقلبی... یہ صفات ایک مولانا محمد اسمٰعیل میں موجود تھیں۔

    مولانا محمد اسمٰعیل کئی بار حج بیت اللہ کی سعادت سے مشرف ہوئے، قیامِ مکہ کے دوران آپ نے شیخ ابوبکر توقیر سے تدریس و افتا میں 'اجازہ' حاصل کی۔

    جماعت ِاہلحدیث کو منظم اور فعال بنانے میں ان کی خدمات قدر کے قابل ہیں۔ حدیث ِنبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کو والہانہ محبت تھی اور حدیث کے معاملہ میں معمولی سی مداہنت بھی برداشت نہیں کرتے تھے۔ گوجرانوالہ میں تعمیر مساجد میں بھرپور حصہ لیا۔ آپ نے جس وقت اس دنیا کو خیر باد کہا، اس وقت آپ نے اس شہر میں اہلحدیث کی ۲۵ ویں مسجد کی تاسیس فرمائی۔ (اس وقت گوجرانوالہ میں اہلحدیث مساجد کی تعداد ۶۰ کے قریب ہے۔)

    وفات

    مولانا محمد اسمٰعیل سلفی نے نصف صدی تک مسند ِدرس و تدریس اور خطابت و افتاکو زینت دینے کے بعد ۲۰/ فروری ۱۹۶۸ء مطابق ۲۰/ ذی قعدہ ۱۳۸۷ھ بروز منگل بعد نمازِ عصر انتقال کیا۔ انا لله وانا اليه راجعون

    بدھ کے روز بعد نمازِ ظہر گوجرانوالہ میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ مولانا حافظ محمد یوسف گکھڑوی مرحوم نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔ راقم کو بھی نمازِ جنازہ میں شرکت کی سعادت حاصل ہے۔جنازہ پر بے پناہ ہجوم تھا شورش کاشمیری مرحوم بھی جنازہ میں شریک تھے۔ انہوں نے اپنے اخبار ہفت روزہ چٹان،لاہور میں لکھا:

    "ایسا جنازہ تو بادشاہوں کوبھی نصیب نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ کی بال بال مغفرت فرمائے اور علیین میں مقام عطا فرمائے۔"

    اساتذہ

    مولانا سلفی نے جن اساتذہ کرام سے مختلف علوم و فنون میں استفادہ کیا، ان کے نام درج ذیل ہیں :

    1۔مولانا حکیم محمد ابراہیم  2۔مولانا عمر الدین وزیرآبادی 

    3۔مولانا تاج الدین 4۔مولوی عبدالستار بن شیخ الحدیث مولانا حافظ عبدالمنان وزیرآبادی

    5۔مولانا عبدالرحمن ولایتی 6۔استاد پنجاب شیخ الحدیث مولانا حافظ عبدالمنان محدث وزیرآبادی

    7۔مولانا محمد قاسم مدرس مدرسہ امینیہ دہلی8۔مولانا عبدالجبار عمرپوری

    9۔مولانا حافظ عبداللہ غازی پوری  10۔مولانا عبدالرحیم غزنوی 

    11۔مولانا عبدالغفور غزنوی 12۔مولانا محمد حسین ہزاروی

    13۔ مولانا مفتی محمدحسن امرتسری  14۔مولوی حکیم محمد عالم امرتسری 

    15۔مولانا محمدابراہیم میر سیالکوٹی  16۔شیخ ابوبکر توقیر مکی

    محدث میگزین
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں