1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اگر جمعہ کی نماز میں دوسری رکعت کا رکوع نہ مل سکے

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از مظفر اختر, ‏مارچ 30، 2019۔

  1. ‏مارچ 30، 2019 #1
    مظفر اختر

    مظفر اختر مبتدی
    جگہ:
    ملتان
    شمولیت:
    ‏جون 13، 2018
    پیغامات:
    77
    موصول شکریہ جات:
    9
    تمغے کے پوائنٹ:
    27

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    اگر کوئی بندہ جمعہ کی ادائیگی کے لئے مسجد میں جائے اور امام التحیات پڑھ رہا ہو تو اس مقتدی کو نماز میں شامل ہونا چاہئیے یا نہیں؟
    اگر ہونا چاہیے تو مقتدی امام کے سلام پھیرنے کے بعد ظہر کی نماز ادا کرے گا یا جمعہ کی دو رکعتیں ادا کرے گا؟
    علماء قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں
     
  2. ‏مارچ 31، 2019 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,186
    موصول شکریہ جات:
    2,366
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فضیلۃ الشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں :

    نماز جمعہ رہ جانے کی صورت میں ظہر ادا کی جائے گی ؛
    سوال جس شخص کی جمعہ کی نماز فوت ہو جائے تو کیا وہ نماز جمعہ ادا کرے گا یا نماز ظہر ادا کرنا ہوگی؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    الجواب وہ نماز ظہر پڑھے گا۔ حدیث نبوی ہے کہ : ((عن أبي هريرة، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من أدرك من الجمعة ركعة فليصل إليها أخرى»
    سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو جمعہ میں سے ایک رکعت پائے تو اس کے ساتھ دوسری آخری رکعت ملالے۔
    (سنن ابن ماجه1121 وهو حديث صحيح ) وقال الالباني صحيح
    اور (سنن الدارقطنیؒ کی ) ایک روایت میں ہے کہ ((عن نافع عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أدرك ركعة من يوم الجمعة فقد أدركها وليضف إليها أخرى»

    سیدناعبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جوشخص جمعہ کے دن جمعہ کی نماز سے ایک رکعت پالے تواس نے جمعہ پالیا اور وہ اس کے ساتھ دوسری رکعت ملالے۔(سنن الدارقطنی ، ح1592، وسنده حسن)
    اس حدیث کے راوی عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
    " عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْجُمُعَةِ فَقَدْ أَدْرَكَهَا، إِلَّا أَنَّهُ يَقْضِي مَا فَاتَهُ »
    ترجمہ : جس نے جمعہ کی ایک رکعت پائی اس نے جمعہ پالیا اور یہ کہ وہ فوت شده (ایک رکعت ) ادا کرے گا۔ (سنن الکبریٰ للبیہقی ج۳ص۲۰۲ وسنده صحيح)
    یہی قول امام زہری رحمہ الله سے ثابت ہے اور وہ اسے (وهي السنة )اور یہی سنت ہے۔ قرار دیتے تھے۔ (دیکھئے موطا امام مالک اس ۱۰۵)
    امام مالک رحمہ الله فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے شہر مدینہ طیبہ میں علما کو اسی قول پر پایاہے۔ (ایضاً)
    اوریہی قول (مشہور تابعین ) جناب عروه بن الز بیر، سالم بن عبدالله بن عمر، نافع بن عمر ، وغیرہم کا ہے۔
    دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ (ج۲ ص ۱۳۷۰۱۳۹) و غیره
    ان دلائل و آثار سے ثابت ہوا کہ جو جمعہ کی ایک رکعت بھی نہ پا سکے تو پھر دو رکعتیں نہیں پڑھے گا ،لہذا وہ ایسی حالت میں چار رکعتیں پڑے گا۔
    ان دلائل وآثار کے مقابلے میں عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس کا جمعہ فوت ہو جائے وہ دو رکعتیں پڑھے۔ یہ ابوالقاسم صلى الله عليه وسلم کی سنت ہے۔“
    اخبار اصبہان لابی نعیم الاصبہانی ج۲ ص۲۰۰ ) اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ محمد بن نوح بن حمد کا ذکر اخبار اصبہان اور طبقات ابی الشیخ (ج3 ص115) میں ہے تاہم اس کی توثیق معلوم نہیں۔ احمد بن حسین اور حمد بن جعفر کا تعین بھی مطلوب ہے۔ ]یہ فتویٰ ماہنامہ شہادت ، جولائی ۲۰۰۱ء]
    (فتاوی علمیہ ،جلد اول صفحہ 450 )
    https://archive.org/details/FtaawaIlmiya/page/n444
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    اور مشہور محقق عالم علامہ حافظ عبداللہ روپڑیؒ "فتاوی اہل حدیث " (جلد دوم صفحہ 342 ) میں لکھتے ہیں :
    جمعہ کے دن جمعہ ہی فرض ہے ،لیکن اگر جمعہ (کی جماعت ) نہ ملے تو ظہر پڑھے ،مشکوٰۃ ،باب الخطبہ والصلوٰۃ " میں حدیث ہے :جو جمعہ کی ایک رکعت پالے وہ دوسری ساتھ ملالے ،اور جس سے دونوں رکعتیں فوت ہوگئیں وہ چار پڑھے ،یا فرمایا ظہر پڑھے ،اس کی مؤید اور روایتیں بھی ہیں ۔ملاحظہ ہو نیل الاوطار وغیرہ ۔
    فتاوی اہل حدیث ،علامہ حافظ عبداللہ روپڑیؒ (جلد دوم صفحہ 342 )
    https://archive.org/details/FataawaAhl-e-hadees-2/page/n342
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور مشہور سعودی مفتی شیخ محمدصالح المنجد کا فتوی ہے کہ :
    ماذا يفعل من أدرك التشهد في صلاة الجمعة ؟
    اگر كوئى شخص نماز جمعہ كى تشھد ميں ملے تو كيا كرے ؟
    تاريخ النشر : 21-11-2001
    السؤال
    ماذا على المسلم الذي لم يدرك من صلاة الجمعة إلا التشهد أن يفعل ؟
    وفي حالة ما إذا مُنع المسلم من حضور الصلاة أو تأخر عنها بسبب خارج عن إرادته، كأن تتعرض الحافلة التي يستقلها للعطل ، فهل يكون عليه ذنب في ذلك؟ هل يفقد كل الأجر الذي كان من المتوقع أن يحصل عليه ولحظات استجابة الدعاء ؟ .. وما إلى ذلك .

    ترجمہ :
    سوال
    اگر كوئى مسلمان شخص نماز جمعہ كى صرف تشھد ہى پائے تو اسے كيا كرنا چاہيے ؟
    اور اگر كسى شخص كو نماز جمعہ كى ادائيگى سے روك ديا جائے يا پھر كسى ايسے سبب كى بنا پر وہ نماز جمعہ ادا نہ كر سكے جس كا باعث وہ خود نہيں، مثلا جس بس اور گاڑى پرسوار تھا وہ خراب ہو گئى تو كيا اس پر كوئى گناہ ہو گا ؟
    كيا اسے جو اجروثواب اور دعاء كى قبوليت كے جو لحظات حاصل ہونا تھے وہ سب ضائع ہو جائيگا ؟


    جواب :
    الحمد للہ :
    إدراك صلاة الجمعة لا يكون إلا بإدراك ركعة مع الإمام ، وإدراك الركعة يكون بإدراك الركوع مع الإمام ، فإذا أدرك الإمام قبل الرفع من الركوع في الركعة الثانية فإنه يكون قد أدرك الصلاة ، وحينئذ يتم صلاته بعد سلام الإمام ، فيقوم ويصلي الركعة التي بقيت من صلاته

    ترجمہ :اگر امام كے ساتھ ايك ركعت ملے تو پھر نماز جمعہ حاصل ہو گى، اور ايك ركعت اس وقت ملے گى جب امام كے ساتھ ركوع سے قبل ملے اور ركوع حاصل كر لے، اور اگر وہ دوسرى ركعت ميں امام كے ساتھ ركوع سے قبل مل جائے تو اس نے نماز جمعہ پالى، تو اس وقت امام كے سلام پھيرنے كے بعد وہ اٹھ كر ايك ركعت ادا كر كے نماز جمعہ مكمل كرے گا.

    وأما إذا أدرك الإمام بعد الرفع من الركوع من الركعة الثانية فإنه يكون قد فاتته صلاة الجمعة ولم يدركها وحينئذ فإنه يصليها ظهراً فيقوم بعد سلام الإمام ويتم صلاته أربع ركعات على أنها صلاة الظهر لا الجمعة. وهذا هو مذهب جمهور العلماء مالك والشافعي وأحمد رحمهم الله ، انظر المجموع للنووي (4/558)
    ليكن اگر وہ امام كے ركوع سے اٹھنے كے بعد امام كے ساتھ ملتا ہے تو اس كى نماز جمعہ رہ جائيگى، اور اس طرح وہ ظہر كى نماز ادا كرے گا، اور امام كے سلام پھيرنے كے بعد اٹھ كر چار ركعت نماز ظہر ادا كرے گا نہ كہ نماز جمعہ، جمہور علماء كرام: امام مالك، امام شافعى، امام احمد رحمہم اللہ كا مسلك يہى ہے. (ديكھيں: المجموع للنووى ( 4 / 558 ).
    واستدلوا بعدة أدلة منها :
    1- قول النبي صلى الله عليه وسلم : (من أدرك ركعة من الصلاة فقد أدرك الصلاة) البخاري (580) ومسلم (607)
    ان كے دلائل يہ ہيں:
    1 - نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے: " جس نے نماز كى ايك ركعت پالى اس نے نماز پالى " (صحيح بخارى حديث نمبر ( 580 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 607 ).
    2- ما رواه النسائي عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : (من أدرك ركعة من الجمعة أو غيرها فليضف إليها أخرى وقد تمت صلاته).صححه الألباني في الإرواء (622)
    2 – امام نسائى رحمہ اللہ نے عبد اللہ بن عمر رضى اللہ تعالى عنہما سے بيان كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:" جس نے نماز جمعہ يا دوسرى نماز كى ايك ركعت پالى تو وہ اس كے ساتھ دوسرى ركعات بھى ادا كر تو اس كى نماز مكمل ہو گئى "
    علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے الارواء ( 622 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.
    والله تعالى أعلم .
    الشيخ محمد صالح المنجد

    https://islamqa.info/ar/answers/12601/
     
    Last edited: ‏مارچ 31، 2019
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں