1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اگر کوئی شخص یہ کہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے صحابہ کو مدد سے کیوں روکا

'سیرت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین' میں موضوعات آغاز کردہ از عامر عدنان, ‏نومبر 24، 2018۔

  1. ‏نومبر 24، 2018 #1
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    858
    موصول شکریہ جات:
    240
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت
    [ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے صحابہ کو مدد سے کیوں روکا ]
    امام ابوبکر الآجری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    " فإن قال قائل: فلم منعهم عثمان من نصرته وهو مظلوم , وقد علم أن قتالهم عنه نهى عن منكر , وإقامة حق يقيمونه؟ قيل له: وهذا أيضا غفلة منك , فإن قال: وكيف؟ قيل له: منعه إياهم عن نصرته يحتمل وجوها , كلها محمودة: أحدها , علمه بأنه مقتول مظلوم لا شك فيه؛ لأن النبي صلى الله عليه وسلم قد أعلمه أنك تقتل مظلوما , فاصبر فقال: أصبر , فلما أحاطوا به علم أنه مقتول , وأن الذي قاله النبي صلى الله عليه وسلم له حق كما قال لابد من أن يكون , ثم علم أنه قد وعده من نفسه الصبر , فصبر كما وعد , وكان عنده أن من طلب الانتصار لنفسه والذب عنها فليس هذا بصابر , إذ وعد من نفسه الصبر فهذا وجه , ووجه آخر: وهو أنه قد علم أن في الصحابة رضي الله عنهم قلة عدد , وأن الذين يريدون قتله كثير عددهم , فلو أذن لهم بالحرب لم يأمن أن يتلف من صحابة نبيه بسببه , فوقاهم بنفسه إشفاقا منه عليهم؛ لأنه راع والراعي [ص: ١٩٨٣] واجب عليه أن يحوط رعيته بكل ما أمكنه , ومع ذلك فقد علم أنه مقتول فصانهم بنفسه , وهذا وجه , ووجه آخر: وهو أنه لما علم أنها فتنة , وأن الفتنة إذا سل فيها السيف لم يؤمن أن يقتل فيها من لا يستحق؛ فلم يختر لأصحابه أن يسلوا في الفتنة السيف , وهذا أيضا إشفاق منه عليهم , فتنة تعم , وتذهب فيها الأموال , وتهتك فيها الحريم , فصانهم عن جميع هذا , ووجه آخر , يحتمل أن يصبر عن الانتصار لتكون الصحابة رضي الله عنهم شهودا على من ظلمه , وخالف أمره , وسفك دمه بغير حق , لأن المؤمنين شهداء الله عز وجل في أرضه , ومع ذلك فلم يحب أن يهراق بسببه دم مسلم , ولا يخلف النبي صلى الله عليه وسلم في أمته بإهراقه دم مسلم , وكذا قال رضي الله عنه , فكان عثمان رضي الله عنه بهذا الفعل موفقا معذورا رشيدا , وكان الصحابة رضي الله عنهم في عذر , وشقي قاتله"
    اگر کوئی شخص یہ کہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے صحابہ کو مدد سے کیوں روکا جب کہ وہ مظلوم تھے اور وہ یہ جانتے تھے کہ ان (عثمان) کی طرف سے ان (صحابہ) کا لڑنا برائی سے روکنے کی مانند ہے اور حق کو قائم کرنے کی مانند ہے۔ تو اس شخص سے کہا جائے گا کہ یہ تیری غفلت ہے ، اگر وہ کہے کہ وہ کیسے ؟ تو اس سے کہا جائے گا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کا ان حضرات کو اپنی مدد سے روکنا کئی پہلوؤں کا احتمال رکھتا ہے ۔ جو سب کے سب لائق تعریف ہیں :
    پہلی بات یہ ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ یہ جانتے تھے کہ انھیں مظلوم ہونے کے طور پر قتل کر دیا جائے گا اس میں کوئی شک بھی نہیں تھا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اس بات سے آگاہ فرما دیا تھا کہ بیشک تمھیں مظلوماً قتل کیا جائے گا سو تم صبر کرنا۔ یہ سن کر عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ میں صبر کروں گا اور جب ان لوگوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کر لیا اور عثمان رضی اللہ عنہ کو پتہ چل گیا کہ وہ قتل ہو جائیں گے اور انھیں یہ بھی پتہ چل گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جو بات ارشاد فرمائی تھی وہ برحق ہے اور جیسا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا بہر صورت ہونا ہے تو انھیں یہ بات پتہ چل گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان کی ذات کے حوالے سے صبر کا وعدہ لیا تھا تو عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے کئے ہوئے وعدے کے مطابق صبر کیا اگر وہ اپنی ذات کے لئے دوسرے لوگوں سے مدد حاصل کرتے تو ایسی صورت میں وہ صبر کرنے والے شمار نہ ہوتے چونکہ انھوں نے اپنی ذات کے حوالے سے صبر کا وعدہ کیا تھا لہذا ایک وجہ تو یہ تھی۔
    دوسری وجہ یہ تھی کہ عثمان رضی اللہ عنہ یہ بات جانتے تھے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی تعداد تھوڑی ہے اور جو لوگ عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کرنا چاہتے ہیں ان کی تعداد زیادہ ہے اگر عثمان رضی اللہ عنہ ان حضرات کو لڑنے کی اجازت دے دیتے تو اس بات کا اندیشہ موجود تھا کہ ان کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے صحابہ کی جانیں ضائع ہو جاتیں لہذا آپ نے اپنی جان قربان کر کے ان حضرات کو بچا لیا کیونکہ آپ نگران تھے اور نگران پر یہ واجب ہے کہ جہاں تک ممکن ہو اپنی رعایا کا بچاؤ کرے پھر اس کے بعد یہ پہلو بھی ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ کو یہ تو پتہ تھا کہ وہ شہید ہو ہی جائیں گے تو انھوں نے اپنی ذات کے مقابلے میں ان حضرات کا بچاؤ کیا ۔ یہ وجہ بھی ہے ۔
    اس کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ جب عثمان رضی اللہ عنہ کو یہ پتہ چل گیا کہ یہ ایک آزمائش ہے اور جب آزمائش کے دوران تلوار کو سونت لیا جائے تو پھر اس بات کا امکان موجود رہتا ہے کہ ایسا شخص بھی مارا جائے گا جو قتل کا مستحق نہیں تھا تو انھوں نے اپنے ساتھیوں کے لئے یہ چیز اختیار نہیں کی کہ وہ دوران فتنہ تلوار سونت لیں ۔ یہ بھی انکی طرف سے اپنے ساتھیوں کے بچاؤ کی کوشش تھی کیونکہ فتنہ عمومی ہوتا ہے اس میں اموال ضائع ہو جاتے ہیں ، حرمتیں پامال ہوتی ہیں تو عثمان رضی اللہ عنہ نے ان تمام حضرات کو ان چیزوں سے بچایا۔
    اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس بات کا بھی احتمال ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے مدد حاصل کرنے کے حوالے سے اس لئے صبر سے کام لیا تا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین ان لوگوں کے خلاف گواہ بن جائیں جنھوں نے آپ رضی اللہ عنہ پر ظلم کیا تھا اور آپ کے حکم کی مخالفت کی تھی اور ناحق آپ کا خون بہایا تھا کونکہ اہل ایمان زمین میں اللہ تعالی کے گواہ ہیں ۔ نیز اس کے ساتھ ساتھ آپ یہ بھی نہیں چاہتے تھے کہ آپ کی وجہ سے کسی مسلمان کا خون بہہ جائے اور آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایسے فرد بن جائیں جن کی وجہ سے کسی مسلمان کا خون بہایا گیا ہو ۔ اس لئے آپ نے یہ طرز عمل اختیار کیا جبکہ آپ توفیق یافتہ تھے معذور تھے ہدایت یافتہ تھے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین معذرت کے مقام پر تھے اور آپ کو شہید کرنے والے لوگ بدبخت تھے ۔ [ الشريعة ج ٤ ص ١٩٨٠ ]
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں