1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

اہل علم سے ایک سوال

'طہارت' میں موضوعات آغاز کردہ از بنیامین, ‏جون 19، 2016۔

  1. ‏جون 19، 2016 #1
    بنیامین

    بنیامین رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 21، 2015
    پیغامات:
    137
    موصول شکریہ جات:
    37
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    اگر آدمی کے کپڑے ناپاک ہوں، اور دھوتے وقت ناپاکی کی کچھ چھینٹیں آدمی کے کپڑوں پر پڑ جائیں تو کیا وہ کپڑے ناپاک ہو جائیں گے?

    Sent from my SM-E700H using Tapatalk
     
  2. ‏جون 19، 2016 #2
    بنیامین

    بنیامین رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 21، 2015
    پیغامات:
    137
    موصول شکریہ جات:
    37
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    چاہے وہ چھینٹے پیشاب کے ہوں یا، منی کے قطروں کے وغیرہ؟

    Sent from my SM-E700H using Tapatalk
     
  3. ‏جون 19، 2016 #3
    بنیامین

    بنیامین رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 21، 2015
    پیغامات:
    137
    موصول شکریہ جات:
    37
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    خضر حیات بھائی
    اسحاق سلفی بھائی
    دیگر اہل علم

    Sent from my SM-E700H using Tapatalk
     
  4. ‏جون 20، 2016 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,593
    موصول شکریہ جات:
    2,001
    تمغے کے پوائنٹ:
    650

    آپ کا مطلب شاید یہ ہے کہ :
    ناپاک کپڑوں کو دھوتے وقت ان کا ناپاک پانی پاک کپڑوں پر پڑے تو وہ ناپاک ہوجائیں گے یا نہیں ؟
    جواب آسان ہے کہ ناپاک پانی پڑنے سے کپڑے ناپاک ہوجائیں گے ،
    ناپاک پانی اگر کپڑے کےکسی معین ،معلوم جگہ پر پڑا ہے تو صرف اس حصہ کو دھولینا بھی کافی ہوگا
    اور دفع وساوس کیلئے پورا کپڑا دھولیا جائے ،
    اور منی کے متعلق اگر چہ بہت سارے اہل علم کا قول یہ ہے کہ ناپاک نہیں ، تاہم اختلاف اور وسوسہ سے بچنے کیلئے
    کپڑا دھولینا چاہیئے "

    آپ کے سوال کا جواب علامہ عبد العزيز بن عبد الله بن باز (المتوفى: 1420 ھ) نے
    " فتاوى نور على الدرب " میں درج ذیل دیا ہے ،
    حكم نجاسة الثياب التي أصابها المني
    س: إذا وضعت الملابس التي احتلمت فيها وفيها المني، ووضعتها في صحن كبير، أو في الغسالة للغسيل، وأثناء عملية الغسل تقع علي وعلى ثيابي بعض القطرات من هذا الماء فهل أتنجس أنا وثيابي؟ وهل غسله واحدة تكفي؟ وما مقدار القلتين (1) ؟
    ج: اعلم يا أخي أن المني طاهر وليس بنجس، فإذا وضعت الثوب الذي فيه المني في صحن كبير أو في غيره، ونالك من غسله رشاش لا يضرك، وليس بنجس، المني هو أصل الإنسان، وهو طاهر، وكانت عائشة رضي الله عنها ربما حكته من ثوب النبي صلى الله عليه وسلم من دون غسل، ولو كان نجسا لاحتاج إلى غسل، المقصود أن الصحيح أنه طاهر فقط وليس بنجس، فلا يضر ما يقع من رشاش في غسله، وكذلك الماء الذي لا تعرف نجاسته الأصل فيه الطهارة، هذا هو الأصل لجميع المياه؛ الطهارة، إلا ما عرفت نجاسته؛ لأن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إن الماء طهور لا ينجسه شيء (2) »
    والقلتان فسرت القلتان: بأنهما خمس قرب
    __________
    (1) السؤال الخامس عشر من الشريط رقم (16) .
    (2) أخرجه الترمذي أبواب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب ما جاء أن الماء لا ينجسه شيء، برقم (66) ، وأبو داود في كتاب الطهارة، باب ما جاء في بئر بضاعة، برقم (67) ، والنسائي في المجتبى كتاب المياه، برقم (325) .
     
  5. ‏جون 20، 2016 #5
    بنیامین

    بنیامین رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 21، 2015
    پیغامات:
    137
    موصول شکریہ جات:
    37
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    الشیخ اگر عربی عبارات کا ترجمہ بھی کر دیں تو نوازش ہو گی،،

    Sent from my SM-E700H using Tapatalk
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں