1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی

'مسلمہ شخصیات' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏مئی 25، 2011۔

  1. ‏مئی 25، 2011 #1
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,398
    موصول شکریہ جات:
    25,968
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی

    محمد عطاء اللہ صدیقی​

    2 مئی 2011ء کو امریکی بحریہ کے کمانڈوز کے ایبٹ آباد آپریشن کے بعد امریکی ٹی وی چینلز او راخبارات نے پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کردی کہ اُسے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کا علم تھا اور اُس نے اس راز کو امریکہ سے چھپا رکھا تھا۔ امریکی کانگریس کے کئی ارکان نے مطالبہ کردیا کہ پاکستان کو دی جانے والی امداد بند کردینی چاہیے۔ اس مملکت خداداد کے ازلی دشمن بھارت نے بھی پاکستان پر دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے کے الزامات کی گردان شروع کردی۔
    14 مئی کو پارلیمنٹ کوبریفنگ دیتے ہوئے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل احمد پاشا کی طرف سے واضح طور پر اعتراف کیا گیا کہ انہیں ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کےبارے میں علم نہیں تھا۔
    امریکی میڈیا جوبھی پراپیگنڈہ کررہاہے،مگر امریکی حکومت کا سرکاری مؤقف اس سے قطعی طور پر مختلف ہے۔ 6 مئی کو سی آئی اے کے سربراہ لیون پینیٹا (Peneta)نے واضح طور پربیان دیاکہ ہمیں ایسے شعواہد نہیں ملے جس سے ثابت ہوتا ہو کہ حکومت پاکستان ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی سے باخبر تھی۔ابھی چند روز پہلے امریکی کانگریس کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر جان کیری، پاکستان آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بیان دیاکہ ایسے شواہد نہیں ملے کہ پاکستان کو اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کا علم تھا۔ سینیٹر جان کیری کا یہ بیان 17 مئی کو پاکستان کے اخبارات میں نمایاں طور پر شائع ہوا۔ 18 مئی کو رات دس بجے کی خبروں میں پاکستان کے ٹی وی چینلز نے امریکی سیکرٹری دفاع رابرٹ گیٹس کا بیان نشر کیاجس میں انہوں نے کہا کہ ’’حکومت پاکستان اسامہ بن لادن کی موجودگی سے آگاہ نہیں تھی‘‘
    ان خبروں سے کچھ ہی دیر پہلے ٹی وی چینلز پربھی امریکی افواج کی جائنٹ سٹاف کمیٹی کے چیئرمین ایڈمرل مائیک مولن اور دیگر اعلیٰ فوجی حکام سے منسوب یہ بیاندکھایا جارہا تھا کہ پاکستان کی قیادت کو اسامہ بن لادن کی موجودگی کا علم نہیں تھا۔ایسےشواہد نہیں ملے ہیں۔
    یہ عجیب اتفاق ہےکہ 18 مئی کو جب امریکی سیکرٹری دفاع اور ایڈمرل مائیک مولن کے بیانات نشر ہورہے تھے ، پاکستان کے ایک لبرل دانشور پرویز ہود بھائی، حامد میر کے پروگرام ’ٹاک شو‘ میں بے حد جوش و خروش سے یہ بیان داغ رہے تھے ’ہم تو پوری دنیاکو بتا رہے تھے کہ اسامہ بن لادن پاکستا میں نہیں ہے، مگر وہ تو فوج کی بغل سے نکلا، کاکول اکیڈمی کے پاس سے، اتنے طویل عرصے تک وہ وہاں کیسے رہا؟ اس میں شک نہیں کہ وہ وہاں چھپایا گیاتھا، یہ بات تسلیم نہیں کی جاسکتی کہ وہ بس اتفاق سے وہاں پہنچ گیا تھا۔‘‘ (جیو ٹی وی)
    یادش بخیر یہ وہی پرویز ہود بھائی ہیں جو پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے کی مہم چلائے ہوئے ہیں۔ یہ صاحب جو قائداعظم یونیورسٹی میں فزکس کے پروفیسر ہیں، پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کے سخت مخالف ہیں۔مسئلہ کشمیر پر یہ پاکستان میں بھارتی مؤقف کے جذباتی حامیوں میں شامل ہیں۔
    ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی او رامریکی کمانڈوز کے ہاتھوں مارے جانے کی تمام خبریں امریکی ذرائع سے ملی ہیں۔ کیا امریکی ذرائع اس قدر قابل اعتماد ہیں کہ ان کی روایت کومن و عن تسلیم کرلیاجائے؟ حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک امریکہ کی طرف سے بھی کوئی قطعی الدلالت ثبوت فراہم نہیں کیا گیا کہ جس کی بنیاد پر نہایت یقین سے کہا جاسکے کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں موجود تھے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی کالم نگار اس رائے کا اظہار کررہے ہیں کہ اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن محض ایک ڈرامہ تھا۔ بعض لوگوں کے خیال میں وہ بہت پہلے انتقال کرچکے تھے او ران کی موت کا سبب ان کی گردوں کی خرابی تھی۔کچھ لوگوں کے خیال میں وہ تورا بورا میں امریکی بمباری کی زد میں آگئے تھے۔ 9 مئی کو سی این این کے معروف اینکر پرسن فرید زکریا سے بات کرتے ہوئے جگنو محسن نے اسی خیال کا اظہار کیا۔یاد رہے جگنو محسن ، نجم سیٹھی کی بیوی ہیں اور طالبان کی سخت مخالف ہیں۔اسی پروگرام میں امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی نےکہا کہ فی الحال میں اس سوال کا جواب دینا نہیں چاہتا۔ 10 مئی کو ڈان نیوز ٹیوی پر خبر القاعدہ کی وضاحت شائع ہوئی ،جس میں بتایا گیا کہ شیخ اسامہ بن لادن 2003ء میں انتقال کرگئے تھے۔ حالانکہ 4 مئی کو ایک جہادی ویب سائٹ کے حوالے سے یہ بات پھیلائی گئی کہ القاعدہ نے اسامہ بن لادن کی موت کی تصدیق کی ہے۔
    2 مئی کی صبح کو راقم الحروف نے ایبٹ آباد آپریشن کی خبر پہلی دفعہ سنی تو اس کا پہلا تاثر یہی تھا کہ سی آئی اے نے آئی ایس آئی کو بدنام کرنے اور پاکستان پردباؤ بڑھانے کی غرض سے یہ ڈرامہ رچایا ہے۔ پھر میڈیا پر یکطرفہ خبروں کا ایسا طو مار باندھا گیا کہ گمان ہونے لگا کہ شاید ایسا ہوا ہو۔
    4 مئی کے اخبارات میں ایک تصویر شائع ہوئی جس کے نیچے تحریر کیاگیا تھاکہ یہ اسامہ بن لادن کے بیٹے یا اُس کے سیکورٹی گارڈ کی تصویر ہے۔ایبٹ آباد کے لوگوں نے اس تصور کو پہچان کر کہاکہ یہ طارق کی تصویر ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
    اس رپورٹ نے ایک دفعہ پھر ذہن میں اس واقع کے متعلق شکوک پیدا کردیئے مگر کئی روز تک یہ بات ناقابل فہم رہی کہ آخر امریکی کمانڈوز نے اس کمپاؤنڈ کو آپریشن کے لیے کیوںمنتخب کیا۔بالآخر واشنگٹن پوسٹ اور ہفت روزہ ’’ٹائم‘‘ کی رپورٹ پڑھ کر یہ عقدہ کھلا کہ امریکی ذرائع اسامہ بن لادن کے جس مبینہ کوریئر کا ذکر کررہے تھے، وہ یہی ارشد تھا۔ ایبٹ آباد کے لوگوں نے ارشد کے بارے میں بتایا کہ وہ دوبئی میں الیکٹرانک اورہوٹل کا کام کرتا تھا۔ وہاں سے اچھی خاصی رقم کمانے کے بعد وہ چارسدہ سے ایبٹ آباد منتقل ہوگیا۔ چارسدہ میں اُس کی اپنے رشتہ داروں کے ساتھ دشمنی چل رہی تھی۔ اس لیے وہ 2005ء میں ایبٹ آباد آگیا۔ آپریشن سے چند روز پہلے وہ پاکستان آیا ہوا تھا۔ واشنگٹن پوسٹ کے نامہ نگار کے مطابق ارشد کا باپ اسامہ بن لادن کادوست تھا۔ خدا جانے اس کہانی میں کتنی صداقت ہے؟ کیاواقعی ارشد کوریئر تھا یا اُسے ایساسمجھ لیا گیاتھا؟ اس سوال کا جواب بھی شاید کبھی نہ مل سکے۔ ہمارےمیڈیا میں جہاں بہت سے اہم سوالات کو زیر بحث لایاجارہا ہے، اس سوال کو شاید غیر اہم سمجھتے ہوئے نظر انداز کردیاگیا ہے۔ حالانکہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کے متعلق کوئی حتمی رائے قائم کرنےکے لیے اس سوال کا جواب نہایت اہم ہے۔
    ہمارے بعض کالم نگار تو تواتر سے اسامہ بن لادن کی یمنی بیوی کے بیانات بھی تحریر کررہے ہیں اور یہ بھی کہاجارہا ہے کہ امریکہ نے پاکستان سے اسامہ بن لادن کی بیواؤں سے پوچھ گچھ کی اجازت بھی طلب کی ہے؟ نہیں معلوم پارلیمنٹ کے ان کیمرہ سیشن میں یہ سوال بھی زیربحث لایا گیا تھا یا نہیں؟
    ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کے متعلق امریکی صحافی بھی سوالات اٹھا رہے ہیں وہ حکومت امریکہ سےمطالبہ کررہے ہیں کہ ایبٹ آباد آپریشن کی تصاویر پرجاری کرے۔ پینٹاگان کی طرف سے اب تک جو تصاویر میڈیا کو بھجوائی گئی ہیں، ان سے تو اس شک کو تقویت ملتی ہے کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں نہیں تھے۔ آپریشن کے بعد اسامہ بن لادن کی جو بھی تصویر میڈیا میں دکھائی گئی، اُس کے جعلی ہونے میں تو امریکی میڈیا کو بھی اب کوئی شک نہیں رہا۔ اس پر مستزاد بوڑھے اسامہ بن لادن کی ٹیلی ویژن دیکھتے ہوئے ویڈیو فلم ہے،جو پہلی تصویر کے رد کے لیے برہان قاطع کا درجہ رکھتی ہے۔ یو ٹیوب پر یہ ویڈیو فلم اب بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ یوٹیوب میں ایبٹ آباد آپریشن کے حوالے سے کچھ اور بھی تصویریں ہیں مگر کسی میں اسامہ بن لادن نظر نہیں آئے۔ اسامہ کے خون آلود بیڈ روم کی تصویر میڈیا پربار بار دکھائی گئی مگر اسے ہر دفعہ خالی ہی دکھایا گیا۔
    نجانے اس میں کیا مصلحت شامل تھی۔ امریکی اخبارات ، نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ میں اس حوالے سے جو باتیں شائع ہوئی ہیں، اس میں ایک بات نہایت توجہ طلب ہے امریکی صدر بارک اوبامہ ، نائب صدر بائیڈن، سیکرٹری دفاع رابرٹ گیٹ، سیکرٹری خاجرہ ہیلری کلنٹن اور وائٹ ہاؤس کے دیگر افسران سچیوایشن روم میں جو مناظر دیکھ رہے تھے، وہ انہیں ایبٹ آباد سے براہ راست نہیں دکھائے جارہے تھے بلکہ یہی مناظر سی آئی اے ہیڈکوارٹر سے نشر کئے جارہے تھے۔ اگر اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں نہیں تھے تو کیا سی آئی اے نے ان سب کو بے وقوف بنایا؟ یہ سوال ہم ہی نہیں کررہے، بعض امریکی صحافی بھی اُٹھا رہے ہیں۔ اوبامہ ایڈمنسٹریشن نے اسامہ بن لادن کی لاش کی تصویریں نہ دکھانے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ اس طرح مسلمانوں میں اشتعال پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ مگر امریکی میڈیا بھی اس توجیہہ کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے کیونکہ وہ صدام حسین کی پھانسی کی تصاویر کی مثال پیش کرتے ہیں۔ ویسے بھی مسلمانوں کے جذبات کا اگر اتنا ہی خیال تھا تو اسامہ بن لادن کو مبینہ طور پر نشانہ کیوں بنایا گیا۔
    پارلیمنٹ کے ان کیمرہ سیشن میں ڈی جی ۔ آئی ایس آئی او رپاک فضائیہ کے ڈپٹی ایئرچیف نے بے حد جرأت مندانہ انداز میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگی ہے۔ ہمارے خیال میں اس اعتراف کا تعلق امریکی ہیلی کاپٹر کی آمدورفت نہ دیکھ سکنے سے ہے۔ اس سے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی یا عدم موجودگی کا عقدہ نہیں کھلتا۔اگر کسی بھی طریقے سے یہ ثابت ہوجائے کہ آپریشن کے دوران اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں موجود نہیں تھے تو کم از کم دنیاکو سی آئی اے کے اس آپریشن کی حقیقت کا علم ہوجائے گا۔
    فرض کیجئے یہ ثابت بھی ہوجائے کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں موجود تھے اورامریکی کمانڈوز نے ان کی لاش کو سمندر بُرد کیا تو بھی اس سے یہ ہرگز ثابت نہیں ہوگا کہ پاکستانی فوج نے اُسے ’’اپنی بغل میں‘‘ چھپایا ہوا تھا یا آئی ایس آئی اور حکومت پاکستان کو اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کا علم تھا۔ یہ جان لینا چاہیے کہ امریکہ خدا ہے،نہ ایجنسیاں
    علیم و خبیر ذات صرف اللہ کی ہے، افراد ہوں یا حکومتیں ان کا علم ہمیشہ ناقص ہی ہوتا ہے۔ اس میں غلطی کا احتمال قائم رہتا ہے۔ فرض کیجئے اگر اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں کئی برسوں سے رہ رہا تھا اورکسی کو اس کی خبر نہ ہوئی، تو ایسا ناممکن کیوں ہے؟ جہاں انسان ہوں گے وہاں اس طرح کی بے خبری کا امکان بھی رہے گا۔ واللہ اعلم بالصواب۔
     
  2. ‏مئی 26، 2011 #2
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    جزاکم اللہ خیرا کلیم بھائی
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں