1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایک رافضی کا اعتراض کہ قاتل عثمان رضی اللہ عنہ صحابی تھے؟

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از عامر عدنان, ‏اکتوبر 18، 2016۔

  1. ‏اکتوبر 18، 2016 #1
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    860
    موصول شکریہ جات:
    240
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    اس کا جواب عنایت فرما دیں
    "قال: وأما عمرو بن الحمق فوثب على عثمان، فجلس على صدره وبه رمق، فطعنه تسع طعنات قال عمرو: فاما ثلاث منهن فانى طعنتهن اياه الله، وأما ست فإني طعنتهن إياه لما كان في صدري عليه."
    اسکین
    14641949_228006827613548_3641442856664420744_n.jpg
    جزاک اللہ خیراً

    نوٹ: کوشش کریں کہ ترجمہ بھی ساتھ لکھ دیں
     
    Last edited by a moderator: ‏اکتوبر 18، 2016
  2. ‏اکتوبر 18، 2016 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    تاریخ الطبری میں سند کے ساتھ یہ روایت درج ذیل ہے :
    قال محمد بن عمر: حدثني عبد الرحمن بن أبي الزناد، عن عبد الرحمن ابن الحارث، قال: الذي قتله كنانة بن بشر بن عتاب التجيبي وكانت امرأة منظور بن سيار الفزاري تقول: خرجنا إلى الحج، وما علمنا لعثمان بقتل، حتى إذا كنا بالعرج سمعنا رجلا يتغنى تحت الليل:
    ألا إن خير الناس بعد ثلاثة ... قتيل التجيبي الذي جاء من مصر
    قال: وأما عمرو بن الحمق فوثب على عثمان، فجلس على صدره وبه رمق، فطعنه تسع طعنات قال عمرو: فاما ثلاث منهن فانى طعنتهن اياه الله، وأما ست فإني طعنتهن إياه لما كان في صدري عليه.


    لیکن یہ روایت قابل استدلال نہیں ، کہ اس کا بنیادی راوی (محمد بن عمر بن واقد الواقدي ) متروک اور ناکارہ راوی ہے ،علامہ الذہبی میزان الاعتدال میں اس کے ترجمہ میں لکھتے ہیں :

    قال أحمد بن حنبل: هو كذاب، يقلب الأحاديث، يلقى حديث ابن أخي الزهري
    على معمر ونحو ذا.
    وقال ابن معين: ليس بثقة.
    وقال - مرة: لا يكتب حديثه / وقال البخاري وأبو حاتم: متروك.
    وقال أبو حاتم أيضا والنسائي: يضع الحديث.
    وقال الدارقطني: فيه ضعف.
    وقال ابن عدي: أحاديثه غير محفوظة والبلاء منه.
    وقال أبو غالب ابن بنت معاوية بن عمرو: سمعت ابن المديني يقول.
    الواقدي يضع الحديث.

    (میزان الاعتدال جلد 3 صفحہ 663 )
    خلاصہ یہ کہ ان مذکور جلیل القدر ائمہ محدثین نے واقدی کو کذاب ، اور حدیثیں گھڑنے والا ، اور ناکارہ راوی بتایا ہے
    لہذآ صحابہ کرام کے متعلق ایسے گھٹیا آدمی کی روایات کیسے قابل قبول ہوسکتی ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دوسری اہم بات یہ کہ صحابہ کے خلاف تاریخ طبری پیش کرنے والوں سے پوچھ لیں کہ انہیں جناب علی کے خلاف طبری کی روایات قبول ہیں ؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں