1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایک روایت " یا محمدٌ کی تحقیق

'موضوع ومنکر روایات' میں موضوعات آغاز کردہ از Abdul Mussavir, ‏ستمبر 22، 2017۔

  1. ‏اکتوبر 17، 2017 #81
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,138
    موصول شکریہ جات:
    2,633
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    میرے بھائی! ہمارا تو یہ عقیدہ نہیں کہ کسی فوت شدہ شخص کو اس اعقاد کے ساتھ پکارا جائے کہ وہ سن رہا ہے!
    یعنی کہ ہم مردے کو اس اعتقاد کے ساتھ کہ وہ ہماری پکار سنے گا، اسے پکارنے کے قائل نہیں!
    حالانکہ قرآن میں ''يا فرعون'' کے الفاظ ہیں، ہم اسے پڑھتے ہیں، لیکن بر اعتقاد و برسبیل ندا نہیں!
    لہٰذا آپ کے مدعا کے مطابق تو آپ فرعون کو بھی پکار سکتے ہیں!
     
    • متفق متفق x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏اکتوبر 17، 2017 #82
    arslanmasoom2

    arslanmasoom2 مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 24، 2017
    پیغامات:
    56
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    22

    جی میں جانتا ہوں جناب کہ آپ نہیں پکارتے لیکن یا محمدہ والی حدیث میں تو پکار رہے ہیں .....
    کیا مردے نہیں سنتے ایک آیت یا ایک حدیث دکھا دے...
    جناب سے مودبانہ گزارش ہے ..
    میں انتظار کروں گا لیکن ہاں وہ ایت بتوں والی نہ ہو...

    Sent from my GT-I9505 using Tapatalk
     
  3. ‏اکتوبر 17، 2017 #83
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,092
    موصول شکریہ جات:
    315
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    غیر اللہ کو ما فوق الاسباب طریق پر پکارنے کے متعلق یہ بتوں اوراولیاء اللہ کی ”قرآنی آیات “ کی تقسیم کہاں سے آ گئی ؟ کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ وہ” بت“ کن کے تھے ؟ کیا آپ نے کبھی فرعون ، ہامان،شداد ،قارون وغیرہ کے ”بت “ دنیا کے کسی کونے میں دیکھیں ہیں، جن کی لوگ پوجا کرتے ہوں؟ کیا وہ ” بت“ آسمانوں سے نازل ہوئے تھے ؟
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏اکتوبر 17، 2017 #84
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,138
    موصول شکریہ جات:
    2,633
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    بعض ''من دون الله'' کی تقسیم کرتے ہیں، کہ ''مٹی کے بتوں'' کی پوجا تو حرام ہے، لیکن اولیاء و صالحین و انبیاء کی پوجا حلال و مستحب ہے!
    یا پھر یہ صرف ''مٹی یا کسی مادے کے بتوں'' کو ''من دون اللہ'' گمان کرتے ہیں، اور اولیاء و صالحین و انبیاء کو بھی اللہ ہی گما ن کرتے ہیں!
     
    Last edited: ‏اکتوبر 17، 2017
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  5. ‏اکتوبر 17، 2017 #85
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,092
    موصول شکریہ جات:
    315
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    معصوم صاحب کو معلوم ہونا چاہیے کہ سونے ، چاندی اور پتھر وغیرہ کے بتوں کی پوجا کے پیچھے ایک ”خاص نظریہ“ کارفرما ہوتا ہے ۔ میں آپ سے معلوم کرنے کا خواہش مند ہوں کہ وہ ”خاص نظریہ “ کیا تھا ؟
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏اکتوبر 17، 2017 #86
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,977
    موصول شکریہ جات:
    1,494
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    إِنَّ ٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ ۖ فَٱدْعُوهُمْ فَلْيَسْتَجِيبُوا۟ لَكُمْ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ ﴿194﴾
    ترجمہ: بے شک جنہیں تم الله کے سوا پکارتے ہو وہ تمہاری طرح کے بندے ہیں پھر انہیں پکار کر دیکھو پھر چاہیے کہ وہ تمہاری پکار کو قبول کریں اگر تم سچے ہو (سورۃ الاعراف،آیت 194)
     
    • پسند پسند x 3
    • علمی علمی x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  7. ‏اکتوبر 18، 2017 #87
    arslanmasoom2

    arslanmasoom2 مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 24، 2017
    پیغامات:
    56
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    22

    مجھے نہیں تھا پتہ جناب اتنے جاہل ہیں....

    جناب ابن داود صاحب پوجا کا مطلب کیا ہے زرہ وضاحت کرنا....
    اور کس نے کہا کہ پوجا کرنی چاہئے اولیاء اللہ کی یا کس نے لکھا پوجا کرنے کا زرہ وہ سکین بھی لگا دینا...
    ورنہ بہتان کگانے سے پرہیز کرو..
    جھوٹے پے اللہ کی لعنت...
    کہو بے شمار.....
    اب وضاحت کرنا رونا دھونا اور ایک جگہ سے دوسری جگہ چلانگ نہ لگانا پہلے بھی میرے سوال کا جواب گول مول کر گے ہو سعودیہ کے ریال سمجھ کر

    Sent from my GT-I9505 using Tapatalk
     
  8. ‏اکتوبر 18، 2017 #88
    arslanmasoom2

    arslanmasoom2 مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 24، 2017
    پیغامات:
    56
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    22

    کاش شان نزول بھی بیجھ دیتے جناب تو بہت مہربانی ہوتی...


    Sent from my GT-I9505 using Tapatalk
     
  9. ‏اکتوبر 18، 2017 #89
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,138
    موصول شکریہ جات:
    2,633
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    پہلی بات تو یہ کہ اگر آپ کو پوجا کا معنی نہیں معلوم تو اس میں آپ کی جہالت کا قصور ہے!
    دوم کہ ''یا رسول اللہ المدد''، ''یا غوث پاک المدد'' کی پکار بر سبیل اعتقاد و بر سبیل ندا ان کی پوجا کرنا ہے!
    کیونکہ ما فوق الاسباب کسی کو مدد کے لئے ندا کرنا دعا ہے، اور اللہ کے علاوہ کسی اور کو ما فوق الاسباب دعا کرنا ، ان کی پوجا ہے!
    بلکل جھوٹوں پر اللہ کی لعنت، کہ جو کوئی یہ جھوٹ کہے کہ کہ لوگ ''یا رسول اللہ المدد'' اور ''یا غوث پاک المدد'' برسبیل اعتقاد و برسبیل ندا نہیں کرتے!
    کہو بے شمار!
    اب میرے سوال کا جواب دو!
    وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاءُ وَلَا الْأَمْوَاتُ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُسْمِعُ مَن يَشَاءُ ۖ وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ ﴿٢٢﴾ إِنْ أَنتَ إِلَّا نَذِيرٌ ﴿٢٣﴾ ﴿سورة فاطر﴾
    یہاں خطاب کس ہے؟
    ''أَنتَ'' کس کے لئے ہے؟
     
    Last edited: ‏اکتوبر 18، 2017
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 2
    • لسٹ
  10. ‏اکتوبر 18، 2017 #90
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,977
    موصول شکریہ جات:
    1,494
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    محترم -

    قرآن غور سے پڑھیں -ایک تہائی قرآن کا شان نزول یہی ہے کہ مشرکین عرب جن کو ہم بت پرست کہتے ہیں وہ درحقیقت مٹی کی مورت بنا کر اس کا ایک نام نہیں رکھ دیتے تھے اور صرف اس کو اپنا معبود قرار نہیں دیتے تھے۔ بلکہ ان کے پیچھے کچھ قد آور شخصیات ہوتی تھیں جن کی تعظیم کے نام پر وہ یہ سب کچھ کرتے تھے -جن کے متعلق یہ عقیدہ قائم کرلیا گیا تھا کہ یہ اللہ کے اس قدر قریب ہوگئے ہیں کہ ان کے واسطے سے ہم اپنی حاجتوں میں اللہ تعالیٰ کو راضی کرسکتے ہیں۔ یہی سب کچھ آج بھی ہوتا ہے۔ اور جب کہا جاتا ہے کہ شرک نہ کرو تو کہتے ہیں کہ امّت محمّدیہ سب کچھ کرسکتی ہے لیکن شرک نہیں کر سکتی - لہذا مزارات و قبور سے متعلق جو خرافات ہیں- ان کے نزدیک جائز و مستحب ہیں- جب کہ اگر ان کے ولی کو کوئی درندہ کھا جائے تو کس مزار کا رخ کریں گے- کس قبر پر ماتھا ٹیکیں گے ؟؟ قبر تو صرف عبرت کا نشان ہے اور بس-

    قرآن کی تعلیم یہی ہے کہ مشکل کشا ایک ہی ہوسکتا ہے بہت سے نہیں - اگر "یا محمّد " سے مشکل کشائی ممکن ہے تو "یا علی" کا نعرہ بے سود ہے -اگر "یا علی" سے مدد ،مل سکتی ہے تو یا محمّد " اور یا غوث پاک" کے نعروں کا کوئی فائدہ نہیں - محبّت کے دعوی پر پھر کس کس کو مدد کے لئے پکارا جائے ؟؟-

    يَا صَاحِبَىِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيْـرٌ اَمِ اللّـٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ (39)

    اے میرے قید خانہ کے رفیقو! کیا کئی جدا جدا معبود اچھے ہیں- یا اکیلا اللہ جو زبردست ہے۔؟؟

    الله ہم سب کو اپنی ہدایت کے راستہ دیکھاے (آمین)
     
    • علمی علمی x 3
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں