1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایک نوجوان جب ایک ہسپتال میں اپنے دوست کی تیمار داری کیلئے گیا -------- !!!!

'ایمانیات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جنوری 13، 2014۔

  1. ‏جنوری 13، 2014 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,971
    موصول شکریہ جات:
    6,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    ایک نوجوان جب ایک ہسپتال میں اپنے دوست کی تیمار داری کیلئے گیا تو اسی ہسپتال میں ہی لمبے عرصے سے چلنے پھرنے سے معذور، صرف سر کو ہلا سکنے کی قوت رکھنے والے مفلوج اپنے محلے کے اس بزرگ کے بستر پر بھی گیا تاکہ اس کی تیمار داری کر سکے۔

    حال احوال اور خیر خیریت پوچھنے کے بعد اس نے بزرگ سے پوچھا؛ بابا جی، اس معذوری اور اپاہجی میں یقیناً آپ کے دل میں کوئی خواہش تو ضرور ہوگی؟

    نوجوان کا خیال تھا بابا کہے گا کہ بیٹا میری خواہش ہے میں تندرست ہو جاؤں، چلوں پھروں، بھاگوں دوڑوں اور دنیا دیکھوں۔

    مگر بزرگ نے کہا؛ بیٹے میری عمر پچاس سال سے متجاوز ہے، میرے پانچ بچے ہیں، میں سات سال سے اس چارپائی کا ہوا پڑا ہوں۔ مجھے نا ہی چلنے پھرنے کی خواہش ہے اور نہ ہی اپنے بچوں سے ملنے کی کوئی حسرت اور نا ہی میں لوگوں کی طرح روزمرہ کی عام زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔

    نوجوان نے حیرت سے بزرگ کی طرف دیکھا اور پوچھا؛ تو پھر آپ کیا چاہتے ہیں؟

    بزرگ نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا؛ بس میں اس ماتھے کو زمین پر ٹکانا چاہتا ہوں، میری اتنی سی خواہش ہے کہ اس رب کو ویسے سجدہ کروں جیسے دوسرے لوگ کرتے ہیں۔

    نعمتوں میں گھرے، خوشیوں میں مگن، بیماریوں، ورموں، زخموں اور دوائیوں سے محفوظ، پھر بھی ایسی ناشکری کہ رب کے حضور سر جھکانے کی فرصت نہ ہو۔۔۔۔۔۔ ہم اتنا ظالم تو نہ بنیں۔

    اللہ پاک ہماری کوتاہیوں کو معاف فرمادیں اور نیکی کی توفیق اور سیدھے راستے پر چلنے کی ہدایت دیں۔ آمین

    قاضی حارث
     
    • پسند پسند x 6
    • شکریہ شکریہ x 2
    • زبردست زبردست x 2
    • لسٹ
  2. ‏جنوری 13، 2014 #2
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    بہت اچھی بات ہے۔اللہ تعالی ایسا جذبہ بیدار کرے کہ سوائے اللہ کی رضا اور محبت کے کوئی دوسری چیز دل و دماغ میں نہ رہے۔آمین
     
  3. ‏جنوری 13، 2014 #3
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    بہت اچھی بات ہے۔اللہ تعالی ایسا جذبہ بیدار کرے کہ سوائے اللہ کی رضا اور محبت کے کوئی دوسری چیز دل و دماغ میں نہ رہے۔آمین
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  4. ‏جنوری 14، 2014 #4
    نسرین فاطمہ

    نسرین فاطمہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    حیدرآباد سندھ
    شمولیت:
    ‏فروری 21، 2012
    پیغامات:
    1,279
    موصول شکریہ جات:
    3,218
    تمغے کے پوائنٹ:
    396

    صحیح بات ہے جب پاس صحت ہو تو قدر نہیں ہوتی اور جب چلی جاتی ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔احساس ہوتا ہے کہ ہم کتنے غافل تھے ۔
     
    • متفق متفق x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں