1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اے تحریک طالبان پاکستان کے حامیو! کیا جواب ہوگا آپ کے پاس اس کا؟؟

'خوارج' میں موضوعات آغاز کردہ از ابو بصیر, ‏اگست 04، 2013۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏مارچ 28، 2014 #121
    متلاشی

    متلاشی رکن
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2012
    پیغامات:
    336
    موصول شکریہ جات:
    373
    تمغے کے پوائنٹ:
    92

    پرویز مشرف جو بھی قبول کرتا ہے بلکل درست کرتا ہے۔ اگر گھاس و گوبر کھاتا تو وہ بھی خوارجیوں کی طرح ٹی ٹی پی میں ہوتا۔ پرویز مشرف نے جو کیا ہر دور کی حکومت نے یہی کیا۔ حضور صل اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو بھی مشرکین کے حوالے کیا تھا تو اگر پرویز مشرف بھی حضور صل اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چل رہا تھا اس میں کون سی غلط بات تھی۔ ایسا کوڑا کرکٹ جس سے کسی کو فائدہ بھی نہ ہو صرف نقصان ہی نقصان ہو اُس کو کباڑی کو دینے میں کیا حرج ہے۔ میں اس بات کا حمایتی تو نہیں ہوں کیونکہ یہ ان لوگوں کے کرتوتوں کی بہت معمولی سزا ہے۔
     
  2. ‏مارچ 28، 2014 #122
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    محترم بھائی امریکہ کے ایجنٹ سے میری مراد ریمنڈ ڈیوس جیسے لوگ ہیں اور بلیک واٹر کے لوگ ہیں اب انکو یہاں پاکستان میں اختیارات کیسے ملے تو میں نے اس پر اعتراض نہیں کیا
    پس محترم بھائی اگر آپ کے نزدیک یہ سب پاکستان خود کر رہا ہے یا اسکی فوج کر رہی ہے تو میری بات کا تعلق تو اس سے پھر بھی نہیں بنتا کیونکہ میں تو یہ کہا ہے کہ اگر آپ ان پاکستانی حکمرانوں کو محارب بھی سمجھتے ہیں تو پھر بھی مصلحت کے تحت ان سے قتال نہیں بنتا جیسے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مصلحت کے تحت محاربین سے بھی قتال نہیں کیا تھا واللہ اعلم
     
  3. ‏مارچ 29، 2014 #123
    ابو ساریہ

    ابو ساریہ مبتدی
    جگہ:
    دبئی، متحدہ عرب امارات
    شمولیت:
    ‏مارچ 24، 2014
    پیغامات:
    9
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    4

    یعنی کہ طالبان بھی احتجاج کریں بس۔۔ مصر کے اخوانیوں کی طرح۔۔ اچھی آپشن ھے۔
     
  4. ‏مارچ 29، 2014 #124
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,337
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    دخل در معقولات کے لیے معذرت ۔
    بعض بھائیوں کے لہجے میں آہستہ آہستہ درشتی آرہی ہے ۔ قبل اس کے لیے مراسلہ جات کے حذف یا لڑی کے مقفل ہونے کی نوبت آئے اراکین سے احتیاط کی گزارش ہے کہ صرف طنزیہ لہجہ و اسلوب اپنانے کی بجائے تفہیمانہ انداز اور مفاہمتی طرز پر گفتگو کو آگے بڑھائیں ۔ بہت شکریہ ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏مارچ 30، 2014 #125
    عکرمہ

    عکرمہ مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 27، 2012
    پیغامات:
    658
    موصول شکریہ جات:
    1,835
    تمغے کے پوائنٹ:
    157

    جی ایک گروہ’’ابطال امت‘‘کے کشتے کے پشتے لگا دے اور دوسرا فریق’’صبر‘‘پر ہی اکتفا کرے۔۔
    یہ مصلحت پسندی نہیں بلکہ دھوکہ ہے،جو پاک فوج کی تقدیس میں مگن رہنے والی زبانوں پر صبح وشام جاری رہتا ہے۔۔۔اس کا’’چہرہ‘‘تاریخ میں کئی بار’’عیاں‘‘ہوچکا ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  6. ‏اپریل 01، 2014 #126
    tashfin28

    tashfin28 رکن
    شمولیت:
    ‏جون 05، 2012
    پیغامات:
    151
    موصول شکریہ جات:
    19
    تمغے کے پوائنٹ:
    52

    تحریک طالبان پاکستان - انسانیت کے قاتل

    معزز ممبران
    السلام عليکم

    یہ واقعی حیران کن بات ہے کہ فورم پر کچھ ارکان پاکستانی معصوم عوام کے خلاف تحریک طالبان پاکستان کےجاری مظالم پر اپنی آنکھيں بند کرکے اسکی طرف توجہ دينے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ ميں ان حضرات کی اس منطق کو سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ٹی ٹی پی پاکستانی عوام کے دانستہ قتل عام میں ملوث نہيں ہے ۔ ٹی ٹی پی نے اپنے قول اور جاری ظالمانہ کارروائيوں سے پاکستانی قوم کے خلاف اپنےحقیقی ارادوں اور عزائم کو ظاہر کرديا ہے۔ مذہب کی آڑ میں قتل و غارت کے ذریعے سیاسی اقتدار کو حاصل کرنا تحریک طالبان پاکستان کی حکمت عملی کا بنيادی جزو ہے۔ سياسی طاقت کی ہوس ميں ان درندوں نے عورتوں، بچوں، ہسپتالوں اور اسکولوں پر جاری بھيانک حملوں سے ثابت کرديا ہے کہ يہ انتہاپسند اپنے سياسی عزائم کے حصول کيلۓ انسانيت کی تمام حدیں پار کرسکتے ہیں۔ ٹی ٹی پی کے ان حامیوں کو يہ بھولنا نہيں چاہيۓ کہ ان نام نہاد جہادیوں نے پاکستانی عوام کے خلاف بہت سے وحشیانہ حملوں کی کھلے الفاظ میں ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس ميں کوئی ابہام نہیں ہے کہ ٹی ٹی پی مذہب کی آڑ میں سياسی عزائم کے حصول کيلۓ ایک منظم پروپیگنڈہ مہم کے ذریعے سماجی اور ثقافتی اقدار کا استحصال کررہی ہے۔

    http://postimg.org/image/y8i9kcy33
    [​IMG]
    کچھ مبصرین ان درندوں کو مبينہ طور پر امريکہ کے ساتھ وابستہ کرنےکی کوشش کر رہے ہیں جو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کيلۓ خواتین، بچوں،صحت کے کارکنوں، اور فوجیوں کو جان بوجھ کر قتل کررہے ہیں۔ کس طرح اتنی آساںی سے يہ حضرات تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے ان بیانات اور اس پروپیگنڈہ مواد کو نظرانداز کرديتے ہیں جس کے ذريعے طالبان کھلم کھلا سرحد پار افغانستان میں امریکی اہلکاروں پر دہشتگرد حملوں کے بارے میں گھمنڈ کرنے کے ساتھ اس کی تشہير کرتے ہیں؟ حال ہی ميں ٹی ٹی پی دسمبر 2009 میں افغانستان میں ايک امريکی بيس پر کيۓ گۓ حملے کی تمام سوشل ميڈيا پر تشہير کررہی ہے۔
    تحریک طالبان پاکستان اس حملے میں ہلاک ہونے والے تمام امریکی اہلکاروں کے نام اور مختصر پروفائلز دے کر اس دہشتگرد حملے کے بارے میں شیخی بھگاررہے ہيں۔ يہاں ايک سوال پيدا ہوتا ہے کہ امريکہ کسی ايسی تنظيم کی کسطرح حمايت اور فنڈنگ کرسکتا ہے جو افغانستان میں موجود امریکی افراد اور اڈوں پر کئی حملوں میں براہ راست ملوث ہے؟ ہم ٹی ٹی پی کو ايک دہشتگرد تنظيم سمجھتے ہيں۔ معلومات کيلۓ عرض ہے کہ امريکہ نے ٹی ٹی پی کو 2010 میں ہی ایک دہشتگرد تنظيم قراردے دیا تھا۔

    http://www.state.gov/j/ct/rls/other/des/123085.htm

    ہم پاکستانی عوام اور سيکورٹی فورسز کے ساتھ ملکر تحریک طالبان پاکستان کی اس جاری تشدد آميز لعنت کو مٹانےکے لئے کام کر رہے ہیں۔

    http://jihadepakistan.blogspot.com/2013/03/blog-post_540.html

    تحریک طالبان پاکستان کی منظم پروپیگنڈہ مہم کی پيداکردہ ان مضحکہ خیز کہانیوں پر یقین کرنے کے بجاۓ ہمیں معصوم لوگوں کے خلاف جاری سفاکانہ مظالم کی بھر پور مذمت کرنی چاہيۓ۔ يہ انتہاپسند ملک میں جاری دہشتگردی کے متعلق لوگوں کے ذہنوں میں ابہام پيدا کرکے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہيں۔ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ دہشتگردی کی لعنت کو شکست دينے اور اسکی بيخ کنی کيلۓ ہميں حکومت اور سيکورٹی فورسزز کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہيۓ کيونکہ ملک بھر میں کئی معصوم زندگیاں اس دہشتگردی کا نشانہ بن چکی ہيں۔

    تاشفين ۔ ڈيجٹل آؤٹ ريچ ٹيم، يو اس اسٹيٹ ڈیپارٹمنٹ

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu
    DOTUrdu2@state.gov
    tashfin28@gmail.com
     
  7. ‏اپریل 01، 2014 #127
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    محترم بھائی جنگ خندق میں جب باہر سے دشمن گھیر چکے تھے تو اندر سے یہودی بھی اسوقت باہر کے دشمنوں سے مل گئے اور محارب بن گئے تھے اسکا پتا بہت سی روایات سے چلتا ہے مثلا حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کا یہودی محارب کو قتل کرنا، غالبا نعیم رضی اللہ عنہ کا یہودیوں اور مشرکین کو لڑانے کے لیے ڈبل کردار ادا کرنا وغیرہ
    لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تک باہر والوں سے نمٹ نہیں لیا اندر والوں سے لڑائی شروع نہیں کی بعد میں طاقت آنے پر چاہے سب کو تہ تیغ کر دیا
    اور صبر کا اعتراض عمر رضی اللہ عنہ نے بھی صلح حدیبیہ پر کیا تھا مگر جس مصلحت کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے اسکو عمر رضی اللہ عنہ نہیں جانتے تھے
    محترم بھائی اللہ آپکے اسلام کے بارے جذبات پر آپکو جزائے خیر دے مگر ایک بات بتاتا چلوں کہ جذبات ابھارنا بھی اگرچہ شریعت کا ایک فریضہ ہے جس پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مامور کیا گیا کہ حرض المومنین علی القتال (مومنوں کو قتال پر ابھاریئے) مگر یہ تب ہے جب جنگ مسلط کر دی گئی ہو یا پھر سوچ بیچار اور مصلحت کو دیکھ کر علماء حق نے لڑائی کا فیصلہ کر لیا ہو جیسے جنگ بدر یا احد میں کر لیا تھا تو ابھارا گیا تھا مگر حدیبیہ میں ایک موقع پر ایسا کیا بھی گیا (بیت رضوان) مگر بعد میں صورتحال واضح ہونے اور مصلحت کو دیکھتے ہوئے دوسرا معاملہ کیا گیا
    پس محترم بھائی آپ کو کم از کم دوسرا منہج رکھنے والوں سے جائز مصلحت کے استعمال کا حق نہیں چھیننا چاہیے


    محترم بھائی اگر تقدیس سے آپکی مراد شرعی طور پر درست اور پاک صاف ہونا ہے تو کوئی بھی اہل حدیث میرے خیال میں فوج کو ایسا نہیں سمجھتا ہو گا کیونکہ لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق کی خلاف ورزی تو ہوتی ہے کیونکہ انکو یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ تمھیں افسر جامعہ حفصہ پر حملہ کا حکم دے یا کسی مسلمان کو بلا وجہ مارنے کا حکم دے تو تم نے انکار نہیں کرنا ورنہ کورٹ مارشل ہو گا چاہے وہ افسر غلط ہی کیوں نہ نکلے جبکہ شریعت اسکے خلاف ہے جسکی مثال اس امیر کی ہے جس نے لکڑیاں جلوائی تھیں اور اس میں کودنے کا کہا تھا

    لیکن محترم بھائی کیا کسی کی تقدیس کی گواہی نہ دینے کا صرف یہی مطلب ہوتا ہے کہ اس سے قتال شروع کر دیا جائے یا دوسرے لفظوں میں اگر آپ کسی سے قتال نہیں کر رہے تو یہ سمجھا جائے گا کہ آپ اسکی تقدیس کی گواہی دے رہے ہیں
    میرے خیال میں یہ بات بنتی نہیں واللہ اعلم
     
  8. ‏اپریل 01، 2014 #128
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,337
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    تاشفین صاحب اوپر کی گئی درج ذیل گزارش تمام اراکین کے لیے تھی ۔
    یہ غالبا آپ کی پہلی شراکت ہے اس موضوع میں اس لیے باقی ہے ۔ ورنہ جو اسلوب آپ نے استعمال کیا اس میں موجودہمز و غمز اس لائق نہیں کہ اس کو فورم پر باقی رکھاجائے ۔
     
  9. ‏اپریل 02، 2014 #129
    ضدی

    ضدی رکن
    جگہ:
    برطانیہ
    شمولیت:
    ‏اگست 23، 2013
    پیغامات:
    291
    موصول شکریہ جات:
    234
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    یہ امریکہ کا ایجنٹ نہیں ہیں، بلکہ یہ وہ گروہ ہے جو جنگ صفین اور جنگ جمل میں دونوں طرف سے متحرک تھا ۔ اور جس کا خمیازہ اُمت مسلمہ نےبکھتا
     
  10. ‏اپریل 19، 2014 #130
    tashfin28

    tashfin28 رکن
    شمولیت:
    ‏جون 05، 2012
    پیغامات:
    151
    موصول شکریہ جات:
    19
    تمغے کے پوائنٹ:
    52

    انتہاپسند عناصر – انسانيت کے قاتل

    محترم ضدی
    السلام عليکم

    ميں يہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہماری ٹيم کا مقصد بہت واضح ہے۔ ہماری ٹيم یواس اسٹيٹ ڈیپارٹمنٹ کا حصہ ہے جو دنيا بھر ميں انٹرنیٹ پر سامعين سے کھلم کھلا رابطے میں رہتی ہے تاکہ انتہاپسند پيغامات کو چيلنج کرے اور مختلف مسائل پر امریکی سرکاری مؤقف کی وضاحت کرسکے۔ ڈیجیٹل آؤٹ ریچ ٹیم انٹرنیٹ پر سامعین سے رابطے ميں کبھی بھی اپنی شناخت نہیں چھپاتی ۔ ہم صرف حقائق کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہماری ٹیم کسی بھی مبينہ پروپيگنڈہ میں ملو ث نہيں ہے۔

    آپ اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ يہ انتہاپسند تنظيمین پاکستانی معصوم عوام کے خلاف اپنی جاری انتہائی تشدد آميز کارروائیوں کا مذہب کے نام پر جواز پیش کرنے کے لئے ایک منظم پروپیگنڈہ مہم چلا رہی ہے۔ اس کے علاوہ يہ دہشتگرد عناصر پاکستانی قوم کے خلاف جاری سفاکانہ اور تشدد آميز کارروائیوں کا الزام کچھ پراسرار غیر ملکی ہاتھوں پر لگاتے رہے ہیں۔ يہ انتہا پسند عناصر اور ان کے حامی جان چکے ہيں کہ اب پاکستانی عوام ان کے حقیقی سیاہ چہرے اور برے ارادوں کو بھانپ چکی ہے۔ پاکستانی عوام يہ جانتی ہے کہ دہشتگرد عناصر اپنے سياسی عزائم کے حصول کيلۓ مذہب کی آڑ ميں معصوم زندگيوں سے کھيلتے ہیں۔

    لہذا ان انتہاپسندوں نے پاکستانی لوگوں کےخلاف اپنی مسلسل ظالمانہ کارروائیوں سے علیحدگی کا اعلان شروع کر دیا ہے اور اب وہ کھل کر ان وحشیانہ حملوں کا الزام پراسرار غیر ملکی عناصر پرلگاتے ہیں ۔ تاہم يہ دہشتگرد بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں کہ پاکستانی عوام ان کے نئے پروپیگنڈے کا شکار ہو جائينگۓ۔ کيونکہ يہ انتہاپسند ماضی ميں خواتين، بچوں، ہسپتالوں اور سکولوں پر ہونے والے حملوں کيلۓ ذمہ داری قبول کرتے رہے ہیں۔

    [​IMG]
    http://postimg.org/image/pr0cexqt5/

    اس ميں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہيۓ کہ يہ نام نہاد جہادی سياسی اقتدار کے حصول کیلۓ پاکستانی عوام کے خلاف سنگین جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ يہ نہايت دکھ کی بات ہے کہ يہ مذہب کے نام نہاد رکھوالے جہاد کے نام پر معصوم عوام کے قتل عام ميں ملوث رہے ہیں۔ يہ عناصر اپنی درندگی اور دھمکيوں کے ذريعے اپنے شيطانی سياسی ايجنڈے کے حصول کيلۓ مذہبی، سماجی، اور ثقافتی اقدار کا استحصال کرتے رہے ہيں۔ میڈيا رپورٹس کے مطابق حال ہی میں ٹی ٹی پی کے مختلف گروہ سياسی اختلافات پر آپس میں لڑ رہے ہیں جس میں دونوں دھڑوں کيطرف سے کئی جنگجو مارے گۓ ہيں۔ طالبان کی آپس کی اس لڑائی سے صاف ظاہر ہے کہ مذہب کے نام پر معصوموں کے خون سے کھيلنے والے يہ درندے سياسی برتری کے حصول کيلۓ ايک دوسرے کے خون کے پیاسے ہيں۔

    [​IMG]
    http://postimg.org/image/cd4mnpbdd/

    پاکستانی عوام اس حقيقت سے بخوبی واقف ہيں کہ يہ نام نہاد جہادی اپنے سياسی ‏عزائم کے حصول کیلۓ انسانيت کے خلاف ہر قسم کی کارروائی کا ارتکاب کرسکتے ہیں۔ ہميں عوام کے خلاف اس دہشتگردی کی بھرپور مذمت کرنی چاہيۓ اور ملک سے اس انتہاپسندی کا قلع قمع کرنے کيلۓ حکومت اور سيورٹی فورسزز کی جاری کوششوں میں بھرپور حمايت کرنی چاہيۓ۔ ہميں ان انتہاپسندوں کی منظم پروپیگنڈہ مہم کو مسترد کر نا چاہیۓ جو حقائق کو توڑمروڑ کرکے اور مضحکہ خيز کہانيوں کی تشہير سے پاکستانی عوام کے ذہنوں میں الجھن پيدا کرنا چاہتے ہیں۔ ہميں يہ واضح ہونا چاہيے کہ يہ انتہاپسند عناصر دہشت گرد ہیں جو انسانیت کی کوئی قدرنہيں کرتے اور اپنے سياسی عزائم کے حصول کيلۓ پاکستان میں موجودہ افراتفری اور پرتشدد کارروائيوں کے ليۓ ذمہ دار ہیں۔

    تاشفين – ڈيجٹل آؤٹ ريج ٹيم، يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu
    tashfin28@gmail.com
    http://www.state.gov/r/cscc/214422.htm
     
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں