1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بدعت حسنہ وسیئہ کی تقسیم

'بدعی عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از گڈمسلم, ‏جنوری 18، 2013۔

  1. ‏جنوری 18، 2013 #1
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    بدعت حسنہ وسیئہ کی تقسیم

    عبد الہادی عبد الخالق مدنی​
    بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بدعت کی دو قسمیں ہیں :
    ذیل میں ہم ان کے شبہات کا ذکر کریں گے، اور ساتھ ہی ان کا علمی جائزہ لیں گے اور ان کے ازالہ کی کوشش کریں گے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 8
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏جنوری 18، 2013 #2
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    پہلا شبہ :
    عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں لوگوں کو تراویح کے لئے جمع کیا تھا اور پھر فرمایا تھا :
    ازالہ:
    عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول شریعت کے اندر بدعت حسنہ کی دلیل نہیں بن سکتا، کیونکہ یہاں انھوں نے اس کا لغوی مفہوم مراد لیا ہے۔ اس لئے کہ یہ عمل ہر اعتبار سے سنت تھا :
    ٭ خود قیام رمضان سنت ہے۔آپ ﷺ نے اس کی ترغیب فرمائی ہے۔آپ نے فرمایا ہے:
    ٭ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو کئی راتیں با جماعت تراویح پڑھائی، جب لوگوں کی تعداد کافی بڑھ گئی تو آپ اس اندیشہ کی وجہ سے کہ کہیں اسے فرض نہ کر دیا جائے لوگوں کی طرف نکلنے سے باز رہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک معاملہ اسی پر باقی رہا۔ (ملاحظہ ہو بخاری ٥٨٣ـ٥٩)
    جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی،اور وحی کے بند ہو جانے کی وجہ سے اس کے فرض کر دیئے جانے کا اندیشہ ختم ہو گیا، تو عمر فاروق ؓ نے اپنے عہد خلافت میں لوگوں کو ایک امام پر جمع کر دیا، اور اس بات پر صحابہ کا اجماع ہو گیا۔
    ٭ نیز یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ یہ ایک خلیفۂ راشد کی سنت ہے جن کی اتباع کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
    اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ابو بکر صدیقؓ کے زمانے میں اسے با جماعت کیوں نہیں ادا کیا گیا؟ تو اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ
    ٭ا گر مذکورہ بحث سے اطمینان حاصل نہ ہو تو یہ قاعدہ ذہن نشین کر لیں کہ قول صحابی قول رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف حجت اور دلیل نہیں بن سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے :
    حدیث بالکل عام ہے، اس میں کسی قسم کا استثناء نہیں ہے،لہذا اس عموم کے خلاف کسی صحابی کے قول کو دلیل نہیں بنایا جاسکتا ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 8
    • پسند پسند x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  3. ‏جنوری 18، 2013 #3
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    دوسرا شبہ :
    بدعت کو حسنہ اور سیئہ میں تقسیم کرنے والے دوسری دلیل کے طور پر حدیث ذیل کو پیش کرتے ہیں۔
    اس حدیث سے وجہ استدلال یہ ہے کہ یہ حدیث کُلُّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَة والی حدیث کے عموم کی تخصیص کرتی ہے۔
    اس حدیث میں سَنَّ کا لفظ آیا ہے جو اخترع (ایجاد کرنے) اور ابتدع (بلا مثال سابق شروع کرنے)کے ہم معنی ہے، نیز اس کے شروع کرنے کو شارع کے بجائے مکلف کی طرف منسوب کیا گیا ہے، بالکل اس حدیث کی طرح جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :
    اس حدیث میں بھی سَنَّ کا لفظ اخترع یعنی ایجاد کرنے کے معنی میں ہے، کیونکہ قابیل نے ہی قتل کا طریقہ سب سے پہلے شروع کیا ہے، اس سے پہلے قتل کا وجود نہیں تھا۔ اگر حدیث میں یہ کہنا مقصود ہوتا کہ شریعت میں ثابت کسی سنت پر کسی نے عمل شروع کیا تو سَنَّ کے بجائے یوں کہا جاتا:
    ازالہ:
    مذکورہ حدیث میں کسی نئے عمل کی ایجاد مراد نہیں ہے بلکہ کسی سنت ثابتہ پر عمل یا کسی سنت متروکہ کا احیاء مراد ہے۔ اس کی وضاحت دو طرح سے ہو گی۔
    1۔ حدیث کی مراد اس کے سبب ورود سے واضح ہو گی۔
    چنانچہ پوری حدیث اس طرح ہے :
    اس حدیث کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ سنت حسنہ سے انصاری صحابی والے عمل جیسا عمل مراد ہے۔کیونکہ جب وہ تھیلی بھر کر لائے تو صدقہ کا دروازہ کھل گیا، اور لوگ یکے بعد دیگرے اپنے صدقات لانے لگے۔ مگر بہر حال اس خیر و بھلائی کے شروعات کی فضیلت انھیں ہی حاصل ہوئی۔ صحابی مذکور کا عمل کوئی نئی چیز نہیں،بلکہ شریعت سے ثابت ایک عمل تھا۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ صحابہ کو متنبہ کرنے اور انھیں صدقہ پر ابھارنے میں ان کے کر دار کا ہاتھ تھا۔ چنانچہ معلوم ہوا کہ سنت حسنہ سے مراد کسی سنت پر عمل کرنا ہے، خصوصاً اس وقت جب لوگ اس سے غافل ہوں یا اسے ترک کر چکے ہوں۔
    2۔ اس حدیث میں سَنَّ کے لفظ کو اختراع و ایجاد کے معنی پر محمول کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ کسی عمل کا اچھا یا برا ہونا شریعت کی موافقت یا مخالفت ہی سے معلوم ہوسکتا ہے۔اگر شریعت کے موافق ہے تو سنت حسنہ ورنہ سنت سیئہ۔
    سنت سیئہ دو چیزوں پر بولا جاتا ہے :
    اگر بالفرض مذکورہ حدیث سے شریعت کے اندر بدعت حسنہ کے وجود پر استدلال کیا جائے تو یہ حدیث ان احادیث سے متعارض ہو گی جس میں بدعت کی عمومی مذمت کی گئی ہے، اور یہ قاعدہ معلوم ہے کہ جب عموم اور تخصیص کے دلائل باہم متعارض ہوتے ہیں تو تخصیص ناقابل قبول ہوتی ہے۔ (الموافقات٢٣٢٣)
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏جنوری 18، 2013 #4
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    تیسرا شبہ :
    بدعت حسنہ کی دلیل کے طور پر یہ روایت بھی ذکر کی جاتی ہے:
    اس حدیث سے وجہ استدلال یہ ہے کہ اس میں مطلقاً ہر بدعت کی مذمت نہیں کی گئی ہے بلکہ صرف اسی بدعت کی مذمت کی گئی ہے جو الله اور اس کے رسول کی مرضی کے خلاف ہو اور بدعت ضلالت ہو۔
    ازالہ:
    مذکورہ حدیث سے استدلال درست نہیں کیونکہ وہ ضعیف ہے، اس میں ایک راوی کثیر بن عبد اللہ بن عمرو بن عوف المزنی ہے جو متروک و مجروح ہے اور اس کی روایت ناقابل اعتبار ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏جنوری 18، 2013 #5
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    چوتھا شبہ :
    عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں :
    وجہ استدلال یہ ہے کہ اچھا سمجھنے کی نسبت مسلمانوں کی طرف کی گئی ہے، دلیل کی طرف نہیں۔ جس سے معلوم ہوا کہ بدعت اچھی اور بری دونوں طرح ہوسکتی ہے۔
    ازالہ:
    مذکورہ حدیث ایک طویل حدیث کا ٹکڑا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس شبہ کے ازالہ کی خاطر پوری حدیث مکمل سیاق کے ساتھ پہلے یہاں ذکر کر دیں۔
    یہ حدیث کئی اسباب کی بنا پر بدعت حسنہ کے لئے دلیل نہیں بن سکتی:
    حقیقت یہ ہے کہ ابن مسعود کی حدیث سے بدعت حسنہ کے وجود یا جواز پر استدلال کرنا کسی صورت میں درست نہیں ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏جنوری 18، 2013 #6
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    پانچواں شبہ :
    سلف صالحین نے کچھ ایسے اعمال انجام دیئے ہیں جن سے متعلق خاص اور صریح نص وارد نہیں ہے۔ جیسے جمع قرآن اور تصنیف علوم وغیرہ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت میں بدعت حسنہ کا وجود ہے۔
    ازالہ :
    معلوم ہونا چاہئے کہ وہ چیز بدعت نہیں ہے جس کے الله اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت ہونے کے بارے میں شرعی دلیل موجود ہو۔
    جہاں تک جمع قرآن کا معاملہ ہے تو اگرچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ میں ایسا نہیں کیا،مگر آپ نے قرآن مجید کے لکھنے کا حکم دیا، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
    البتہ جہاں تک ایک مصحف میں دو دفتوں کے درمیان قرآن مجید کے جمع کرنے کی بات ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں ایسا اس لئے نہیں کیا کیونکہ کچھ آیات یا کچھ سورتوں کے نازل ہونے یا کچھ آیتوں کے منسوخ ہونے کا احتمال تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد یہ احتمال ختم ہو گیا۔ چنانچہ ابوبکرؓ نے یہ مبارک عمل انجام دیا۔ پھر عثمانؓ نے لوگوں کو ایک مصحف پر جمع کر دیا اور تمام صحابہؒ کا اس بات پر اجماع ہو گیا۔
    جہاں تک احادیث نبویہ کی تدوین اور علوم شرعیہ کی تصنیف کا سوال ہے تو یہ تبلیغ شریعت کے ضمن میں داخل ہے اور اس کے دلائل واضح اور معلوم ہیں۔
    بہر حال سلف کے وہ اعمال جن سے بدعت حسنہ کے وجود پر استدلال کیا گیا ہے، یا تو وہ سنت کے وسیع مفہوم میں شامل اور داخل ہیں، یا تو کسی شرعی کام کی انجام دہی کا وسیلہ اور ذریعہ ہیں لہذا بدعت نہیں ہیں۔
    یہاں پریہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ اختلاف لفظی ہے، ورنہ تمام معتبر اہل علم اس بات پر متفق ہیں کہ تمام بدعات مذمومہ ضلالت ہیں جن کا خلاصہ بیان ہو چکا ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏جنوری 18، 2013 #7
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    بدعت حسنہ اور بدعت سئیہ

    سب سے پہلے یہ حدیث مبارک ملاحظہ فرمائیے، اور بدعتِ حسنہ کے فلسفہ پر غور فرمائیے :
    محترم قارئین!
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے اِن فرامین پر ٹھنڈے دِل سے غور فرمائیے، دیکھیئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے جو جواب دیا جائے گا اُس سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اُمت کے اعمال نہیں جانتے، اور اللہ تعالیٰ دِین میں نئے کام کرنے والوں کو حوضِ رسول صلی اللہ علیہ آلہ وسلم سے ہٹوائیں گے، اچھے یا برے نئے کام کے فرق کے بغیر، اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے یہ سفارش کرنے کا ذِکر کیا کہ اچھے نئے کام یعنی "بدعتِ حسنہ " کرنے والوں کو چھوڑ دِیا جائے۔ ’’’ غور فرمائیے‘‘‘ بدعت دینی اور بدعت دُنیاوی، یا یوں کہیئے، بدعتِ شرعی اور بدعتِ لغوی میں بہت فرق ہے اور اِس فرق کو سمجھنے والا کبھی"بدعتِ حسنہ اورسیئہ"کی تقسیم کو درست نہیں جانتا،
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    غور فرمائیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان میں ہر وہ کام مردود قرار دِیا گیا ہے جو دِین میں نہیں ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں۔ ۔ جو کام دِین میں سے نہیں وہ بدعت ہو سکتا ہے، اور فلان فلان کام تو دِین میں سے ہیں، اور ان کے اس فلسفے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کا یہ فرمان رد کرتا ہے کہ "جو اِس (یعنی دِین) میں نہیں ہے "، پس ایسا کوئی بھی کام جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے دُنیا سے رخصت ہونے کے وقت تک دین میں نہیں تھا وہ دین نہیں ہو سکتا، اور اس کے ساتھ ساتھ ہر وہ کام جو خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم اجمعین کے طرف سے جاری نہیں کیا گیا وہ بھی دینی نکتہ نظر سے قابل اتباع نہیں ہے۔
    مثلاً اپنی خود ساختہ عبادات، دُعائیں، ذکر اذکار، چلہ کشیاں، اور ان کے خاص کیفیات، اوقات اور عدد وغیرہ مقرر کرنا، خصوصی یاد گیری کی محافل سجانا اور دن منانے، وغیرہ وغیرہ۔
    جی ہاں یہ مذکورہ بالا کام "دِین میں سے " تو ہیں، لیکن جب یہ کام ایسے طور طریقوں پر کیے جائیں جو "دِین میں "نہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مذکورہ بالا حُکم لاگو ہوتا ہے۔
    بہت توجہ اور تحمل سے سمجھنے کی بات ہے کہ "دِین میں سے ہونا "اور "دِین میں ہونا "دو مختلف کیفیات ہیں، کِسی کام ( قولی و فعلی، ظاہری و باطنی، عقیدہ، اور معاملات کے نمٹانے کے احکام وغیرہ )کا دِین میں سے ہونا، یعنی اُس کام کی اصل دِین میں "جائز "ہونا ہے،
    اور کِسی کام کا دِین میں ہونا، اُس کام کو کرنے کی کیفیت کا دِین میں ثابت ہونا ہے،
    مَن گھڑت، خود ساختہ طریقے اور کیفیات دِین میں سے نہیں ہیں، اللہ کی عِبادت، دُعا، ذِکر و اذکار، عید، صلاۃ و سلام، یہ سب دِین میں تو ہیں، لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ "اِن کو کرنے کی کون سی کیفیت اور ہیئت دِین میں ہے ؟؟؟"
    مزید ملاحظہ فرمائیے۔ ۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    ایک دوسری روایت میں مزید وضاحت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے بدعت کے بارے میں فیصلہ فرما دیا ہے، ملاحظہ فرمایے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ بالا اِن فرامین کے بعد دِین میں کِسی بھی نئے کام یعنی بدعت کی کوئی گنجائش نہیں رہتی، "ہر "بدعت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گمراہی قرار دِیا ہے، کِسی بدعت کو اچھا یعنی بدعتِ حسنہ کہہ کر جائز کرنے کی کو ئی گنجائش نہیں،۔
    ان سب معلومات کے حصول کے بعد میں کہتا ہوں کہ بدعتِ حسنہ اور بدعتِ سئیہ کی تقسیم بذات خود ایک بدعت ہے۔
    اِمام الالکائی نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا قول نقل کیا کہ۔
    یہ ایک ایسے عظیم القدر صحابی رضی اللہ عنہ کا فتویٰ ہے جن کے علم، زہد و تقویٰ، اور محبت رسول صلی اللہ علیہ آلہ وسلم ایک بہترین مثال کے طر پر بیان ہوتی ہے، ان کے علاوہ دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم سے اِس موضوع پر بہت سے فرامین صحیح اسناد کے ساتھ مروی ہیں، اِن شاء اللہ کبھی اُن کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کی سعی کروں گا۔
    اِمام الشاطبی رحمہُ اللہ نے اپنی معروف کتاب "الأعتصام "میں ابن ماجشون سے نقل کیا ہے کہ اُنہوں نے اِمام مالک علیہ رحمہ اللہ کو کہتے ہوئے سنا کہ
    محترم قارئین ؛
    مجھے اُمید ہے کہ اب تک آپ یہ سمجھ چکے ہوں گے کہ دین میں ہر بدعت، محض بدعت ہے، اور اس میں کہیں سے بھی اچھی یا بری بدعت نکالنے کی گنجائش نہیں، پس ایسا ہر کام جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے دُنیا سے رخصت ہونے تک، اور پھر خلافت راشدہ کے اختتام تک دین میں نہیں تھا وہ دین میں نہیں ہو سکتا،

    ایسا کوئی بھی کام کرنے والا، کروانے والا اللہ کے ثواب نہیں پائے، بلکہ ایسے کسی بھی کام کو دِین سمجھ کر کرنے والے پر عتاب ضرور ہو گا کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاف اور صریح أحکامات کی خلاف ورزی کر رہا ہے، جیسا کہ جلیل القدر تابعی سعید بن المُسیب رحمہُ اللہ کا فتویٰ ہے جو کہ اِمام البیہقی نے اپنی "سنن الکبری "صحیح أسناد کے ساتھ نقل کیا کہ "سعید بن المُسیب نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ فجر طلوع ہونے کے بعد دو رکعت سے زیادہ نماز پڑہتا ہے اور اِس نماز میں خوب رکوع اور سجدے کرتا ہے تو سعید نے اُسے اِس کام سے منع کیا، اُس آدمی نے کہا
    یہ میرا نہیں، دو چار سو سال پہلے بنے ہوئے کسی "گستاخ فرقے "کا نہیں، ایک تابعی کا فتویٰ ہے، اِس پر غور فرمائیے، اور بار بار فرمائیے، یہ اتباع سُنّت، محبت و عظمتِ رسول صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے اظہار کا صحیح اور ہمیشہ سے انداز ہے نا کہ وہ جو کچھ اپنی اپنی منطق، سوچ اور فلسفے کی بُنیاد آیات و احادیث کی تفسیر و تشریح کر کے بنایا جاتا ہے،
    محترم قارئین
    کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فرمان
    "مَن سَنَّ فی الاِسلامِ سُنَّة حَسنة۔"
    جس نے اسلام میں اچھی سنت چالو کی ) کو بدعت حسنہ یعنی اچھی بدعت اور بدعت سیئہ یعنی بری بدعت کی تقسیم کی دلیل بناتے ہیں، جبکہ اس فرمان مبارک میں کِسی "بدعت حسنہ "کی کوئی دلیل نہیں ہے،
    اگر آپ اِس فرمان والے واقعے کو پورا پڑہیے، اور صرف یہ غور فرمائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے کب، کیوں اور کس کام کے بارے میں یہ فرمایا ؟ اور یہ بھی غور فرمائیے کہ "مَن اَبتداعَ فی الاِسلام بَدعة حَسنة" جس نے اسلام میں اچھی بدعت ایجاد کی ) نہیں فرمایا کیونکہ "سُنة "اور "بِدعة" قطعاً ایک چیز نہیں ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے بڑھ کر شریعیت اور لغت کو جاننے والا کوئی اور نہیں، پوری حدیث اور واقعہ صحیح مُسلم /کتاب الزکاۃ/ باب ٢٠، اور، صحیح ابن حبان /کتاب الزکاۃ /باب ٩، میں پڑھیئے، بڑی وضاحت سے پتہ چل جاتا ہے کہ وہاں کسی نئے کام کی ایجاد کا نام و نشان بھی نہیں، اور جس کام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے وہ کیا نیا کام نہیں تھا، بلکہ اللہ کی راہ میں صدقہ کرنا، اور اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنا تھا، جو پہلے سے معروف تھا اور کیا جاتا تھا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فرمان "مَن سَنَّ فی الاِسلامِ سُنَّة حَسنة" جس نے اسلام میں اچھی سنت چالو کی ) میں کسی نئے کام کی ایجاد کو اچھا نہیں کہا گیا،

    کچھ اسی طرح کا معاملہ دیگر ان باتوں کا ہے جو بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ کی دلیل بنائی جاتی ہیں، جیسا کہ امیر المؤمنین عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہما کا قول "نعمة البدعة ھذہ " اور خلفاء راشدین کی طرف سے کیے جانے کچھ کاموں کو بدعت سمجھنا-

    اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ہر سُنّت کو پہچاننے اور اُس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر اُس کام کو جاننے اور پہچاننے اور اُس سے بچنے اور کم از کم اُس پر اِنکار کرنے کی توفیق عطاء فرمائے جو سُنّت کے خِلاف ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏جنوری 18، 2013 #8
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    کیا اچھی نیت سے بدعت نکالی جا سکتی ہے؟

    کچھ بھائیوں کے ذہن میں آنے والا ایک خیال جس کا اظہار بعض دفعہ زبان سے بھی ہوتا ہے کہ کچھ چیزیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے ثابت نہیں ہیں لیکن وہ انہیں اچھی نیت سے کرتے ہیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے اس قول سے استدلال کرتے ہیں:
    ان کے استدلال اور باتوں کے بارے میں حق بات معلوم کرنے کے لیے میں کہتا ہوں:
    جو مسلمان حق کو پانا چاہتا ہے، حق کی معرفت کا طلبگار ہے اور حق پر عمل کرنا چاہتا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ سنت نبوی کی تمام نصوص کو سامنے رکھے نہ یہ کہ بعض کو اختیار کرے اور بعض کو ترک کر دے۔ یہی طریقہ ہے حق سے قریب اور خطا سے دور ہونے کا۔
    اس مسئلے میں صحیح بات یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا فرمان ’اعمال نیتوں سے ہیں‘، ان دو شرائط میں سے ایک ہے جن پر عبادت کے درست ہونے اور اسکی قبولیت کا دارومدار ہے۔ پہلی یہ کہ جو عمل بھی کیا جائے وہ سچے دل سے خالصتًا اللہ تعالیٰ کے لیے ہو، اس میں غیراللہ کا شائبہ تک نہ پایا جائے۔ دوسری یہ کہ وہ عمل سنت کے موافق ہو۔ اس کی دلیل یہ حدیث ہے:
    ان دو عظیم الشان حدیثوں میں دین کے اصول و فروع، ظاہر اور باطن بلکہ پورا دین داخل ہے۔ پہلی حدیث یعنی ’اعمال نیتوں سے ہیں‘ اعمال کے باطن کی اصلاح کرتی ہے اور دوسری حدیث ’جس نے کوئی بھی ایسا عمل کیا۔ ۔ ۔ ‘ اعمال کی ظاہری صورت کے لیے میزان ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی متابعت اور پیروی ہر قول و عمل کے ظاہر و باطن کو جانچنے کا پیمانہ ہیں۔ جس نے اعمال کو اللہ کے لیے خالص کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی اتباع کی تو اس کا عمل مقبول ہے اور جس نے ان میں سے کسی ایک کو یا دونوں کو چھوڑا تو اس کا عمل مردود اور ناقابل قبول ہے۔
    اللہ تعالیٰ کا فرما ن ہے:
    فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں
    تابعین اور تبع تابعین میں سے بعض کا کہنا ہے کہ
    ’عمل کس لیے کیا‘ کا مطلب ہے کہ اس کے پیچھے کیا نیت، محرک اور باعث تھا۔ دنیا کے فوائد سمیٹنے، لوگوں سے تعریف سننے اور ان کی تنقید سے بچنے وغیرہ کے لیے کیا یا اللہ کی عبادت، اللہ کی محبت میں اور اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے کیا۔
    ’کس طرح کیا‘ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے قول و فعل اور تقریر کے مطابق تھا یا اپنی مرضی اور فہم سے نکالا گیا۔

    اِمام البیہقی نے اپنی "سنن الکبری "میں صحیح اسناد کے ساتھ نقل کیا کہ "سعید بن المُسیب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ فجر طلوع ہونے کے بعد دو رکعت سے زیادہ نماز پڑہتا ہے اور اِس نماز میں خوب رکوع اور سجدے کرتا ہے تو سعید رحمۃ اللہ علیہ نے اُسے اِس کام سے منع کیا۔
    اُس آدمی نے کہا:
    قارئین کرام،
    یہ میرا نہیں، دو چار سو سال پہلے بنے ہوئے کسی "فرقے "کا نہیں، ایک تابعی کا فتویٰ ہے، اِس پر غور فرمائیے، اور بار بار فرمائیے۔

    خلاصہ کلام یہ کہ نیک نیتی سے کیا گیا ہر کام قبولیت کے درجے کو نہیں پہنچ سکتا جب تک اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی مہر تصدیق ثبت نہ ہو۔ اور نیک نیتی اسی وقت فائدہ مند ہو سکتی ہے جب عمل بذات خود درست ہو۔
     
    • شکریہ شکریہ x 7
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  9. ‏نومبر 02، 2015 #9
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,951
    موصول شکریہ جات:
    6,501
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    جزاک اللہ خیرا
     
  10. ‏نومبر 03، 2015 #10
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,319
    موصول شکریہ جات:
    707
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    اللہ آپکو جزائے خیر دے۔
    مفید معلومات پیش کیں ۔ اللہ هم سبکو صراط مستقیم پر قائم رکهے ۔ آمین
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں