1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

بدعت کو سمجھیے-7: (بدعت اور مباح میں فرق، منع نہ ہونا، بدعت اورمباح کا فرق)

'بدعت' میں موضوعات آغاز کردہ از deewan, ‏اپریل 20، 2017۔

  1. ‏اپریل 20، 2017 #1
    deewan

    deewan رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2014
    پیغامات:
    56
    موصول شکریہ جات:
    5
    تمغے کے پوائنٹ:
    41

    بدعت اور مباح میں فرق
    بدعت کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے بدعت اور مباح کا فرق جاننا بھی بہت ضروری ہے۔ بدعت اور مباح دونوں شرعی اصطلاحات ہیں جن کے مفہوم میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اس فرق کو سمجھنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ شریعت میں اعمال کی تقسیم ہے۔ یہ تقسیم اس طرح ہے:
    · فرض: جس کا کرنا لازم ے، انکار سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔ مثلا: نماز فرض ہے، روزہ فرض ہے۔
    · واجب: اس کا کرنا بھی لازم ہے، انکار سے انسان دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔ مثلا: وتر کی نماز واجب ہے۔
    · سنت: اس کا کرنا ضروری ہے بلاضرورت چھوڑنے والا گناہگار ہوتا ہے۔ مثلا: مغرب کے فرض کے بعد کی دو رکعتیں سنت ہیں۔ اس کی پھر دو قسمیں ہیں۔
    · حرام: جس کا چھوڑنا لازم ہے، انکار کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔ مثلا: شراب حرام ہے۔
    · مکروہ: جس کا چھوڑنا لازم ہے، انکار سے انسان دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔ سگریٹ نوشی مکروہ ہے۔
    · مستحب (نفل): کرنے سے ثواب ملتا ہے نہ کرنے سے گناہ نہیں ہوتا۔ مثلا: چاشت کی نماز مستحب ہے۔
    · مباح: جس کے کرنے سے نہ کوئی ثواب ہے نہ کوئی گناہ۔ مثلا: چائے پینا مباح ہے۔
    اعمال کے یہ درجے شریعت کے دلائل (قرآن سنت اور اجماع) سے ثابت ہوتے ہیں۔
    اب ہم بدعت اور مباح میں فرق دیکھتے ہیں۔
    جب کسی عمل کو مباح کہا جاتا ہے تو اس سے مراد ایسا عمل ہے جس کے بارے شریعت میں نہ منع آئی ہو اور نہ جواز اور اس کو اختیار کرنے سے کوئی پکڑ یا مواخذہ نہ ہوگا۔مثلا: شربت پینا ایک مباح عمل ہے جس کے پینے پر نہ کوئی ثواب ملتا ہے نہ کوئی گناہ ہوتا ہے۔ مباح کے برعکس بدعت کو نیکی اور ثواب کا کام سمجھ کر کیا جاتا ہے اور اس پر آخرت میں اجر ملنے کی امید ہوتی ہے۔ حالانکہ کسی عمل پر ثواب کا حکم صرف شریعت لگا سکتی ہے ہم اپنی طرف سے ایسا کوئی حکم نہیں لگا سکتے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب کسی عمل کو نیکی کا کام سمجھ کر کیا جاتا ہے اور اس پر ثواب کی امید ہوتی ہے تو پھر وہ مباح نہیں رہتا بلکہ شریعت کے بتائے ہوئے اعمال میں سے ہوجاتا ہے جس کا ادنی درجہ مستحب (نفل) ہے اور مستحب ایک حکم شرعی ہے جس کے لیے شریعت (قرآن و سنت اور اجماع) سے دلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔ صرف اتنا کافی نہیں ہوتا کہ اس پر کوئی منع تو نہیں آئی ہے۔ اگر کسی پر کام پر شریعت میں منع آئی ہے تو وہ بدعات میں سے نہیں رہتا بلکہ وہ پھر حرام یا مکروہ کے درجے میں ہوتا ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: لیس علیہ امرنایعنی ایسا عمل جس پر ہمارا ثبوت موجود نہیں وہ مردود ہوگا۔ یہ نہیں کہ جس کو ہم نے منع فرمایا وہ مردود ہوگا۔
    کسی کام کا منع نہ ہونا اس کے جائز ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا
    آیت

    ياايها الذين آمنوا لا تسالوا عن اشياء ان تبد لكم تسؤكم (المائدہ: 102)
    ترجمہ: اے ایمان والو ان چیزوں کے متعلق سوال نہ کرو کہ اگر تم پر کھول دی جائیں تو تم کو بری لگیں
    یعنی ان کا بیان نہ کرنا بلکہ اس کے بارے میں سوال کرنے سے ڈرانا اس بات کی دلیل ہے کہ جن چیزوں کے بارے میں شریعت خاموش ہے ان میں بہت سی چیزوں کے ناجائز ہونے کا احتمال تھا نہ کہ حلال ہونے کا اور یہ احتمال تقاضا کرتا ہے کہ انسان ہر وہ کام جس کی دلیل شریعت سے نہ ملے اس میں پڑنے سے بچے۔
    حدیث
    وعن النعمان بن بشير رضي الله عنهما قال‏ سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول‏ ان الحلال بين وان الحرام بين وبينهما مشتبهات لا يعلمهن كثير من الناس فمن اتقى الشبهات استبرا لدينه وعرضه ومن وقع فى الشبهات وقع فى الحرام (صحیح مسلم،كتاب المساقاة )
    ترجمہ: حضرت نعمان ابن بشیر روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ’’حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہات ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے جو شخص مشتبہات (جن کے بارے میں شبہ ہو) سے کنارہ کشی کرے اس نے اپنا دین اور اپنی عزت بچا لی اور جو ان میں جا پڑا وہ حرام ہی میں جا پڑا
    ایک اہم اصول
    اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں جو چیزیں پیدا کی ہیں اور ان میں جو دنیاوی منافع ہیں وہ انسانوں کے لیے اصلا حلال ہیں۔ اس کو یوں بھی کہا جاتا ہے کہ ’’اصل ہر چیز میں اباحت ہے۔‘‘ یعنی اللہ کی تمام زمین اور اس سے نکلی تمام نعمتیں انسانوں کے لیے اصلا حلال ہیں۔ ان کو برتنے کی اجازت ہے۔ ان میں حرام وہی چیز ہے جسے شریعت نے حرام فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    آیت
    هو الذي خلق لكم ما في الارض جميعا (البقرۃ: 29 )
    ترجمہ: وہ ہے جس نے پیدا کیا تمہارے لیے جو کچھ زمین میں ہیں
    لیکن اس اصول کا تعلق صرف دنیاوی امور سے ہے۔ فرمایا:
    في الارض جمیعا
    ترجمہ:جو کچھ زمین میں ہے
    عبادات اور طاعات سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ عبادات اور طاعات کے لیے شریعت (قرآن و سنت) سے نقل درکار ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں