• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بدعت کی تعریف

شمولیت
فروری 06، 2013
پیغامات
156
ری ایکشن اسکور
93
پوائنٹ
85

بدعت کی تعریف۔
جابر رضی اللہ عنہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ سب سے سچی حدیث کتاب اللہ ہے اور سب سے اچھا طریقہ طریقہ محمدی ہے اور بد ترین امور دین میں ایجاد کردہ چیزیں ہیں اور دین میں ہر ایجاد کردہ چیز بدعت ہے اور ہر بدعت ضلالت یا گمراہی ہے۔
حوالہ۔ مسلم ،کتاب الجمعتہ 2005
امام نسائی رحمتہ اللہ علیہ کی روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد میں ان الفاظ کا بھی اضافہ ہوتا ہے کہ ہر ضلالت یا گمراہی دوزخ میں لے جانے والی ہے۔
حوالہ۔ کتاب لعیدین 1579
چنانچہ ان احادیث مبارکہ سے ثابت ہو ا کہ کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق جو شرعی احکامات ہیں ان میں اپنی طرف سے من گھڑت اضافہ کرنے والا ہر اصول اور ہر عمل بدعت کہلاتا ہے۔
بدعت کی تعریف بلحاظ خیر القرون۔
خیرالقرون کامطلب قرون قرن کی جمع ہے جس کے معنی ہیں دور یا زمانہ اور خیر کے معنی ہیں بھلائی ،برکت ،بہتر یا درست بلکہ ہر لحاظ سے ٹھیک۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں۔
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کون لوگ بہتر ہیں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ قرن بہتر ہے جس میں میں ہوں پھر دوسرا قرن پھر تیسرا قرن۔
حوالہ۔ مسلم ،جلد 2 صفحہ 310، کتاب فضائل الصحابہ 670
حضرت امام محی الدین ابو زکریا یحیی بن شرف الدین نووی رحمتہ اللہ علیہ نے خیرالقرون والی حدیث کی اس طرح تشریح کی ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ آپ کے قرن سے حضرات صحابہ کا قرن زمانہ ہے اور دوسرےقرن سے تابعین کا قرن اور تیسرے قرن سے تبع تابعین کا قرن مراد ہے۔
حوالہ شرح مسلم جلد 2 صفحہ 35
حضرت عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں وصیت کرتا ہوں۔ ﴿ کہ ان کے نقش قدم پر چلنا ﴾ پھر ان کے بارے میں جو ان سے ملتے ہیں۔﴿تابعین ﴾ پھر ان کے بارے میں جو ان سے ملتے ہیں ﴿یعنی تبع تابعین ﴾ ان تین زمانوں کے بعد جھوٹ عام ہو جائے گا ۔ یہا ں تک کہ آدمی بلا قسم دیئے بھی قسم اٹھایں گے اور بلا گواہی طلب کیے بھی گوہی دیں گے سو جو شخص جنت کے وسط میں داخل ہونا چاہتا ہے تو اس جماعت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تابعین اور تبع تابعین کا ساتھ نہ چھوڑے۔
حوالہ۔ احمد 326، ابو داود7845، نسائی 3840
لہذا صحابہ کرام تابعین اور تبع تابعین کے نقش قدم پر نہ چلنا بھی بدعت یعنی اپنی طرف سے من گھڑت شریعت ہوئی۔ کتاب فضائل الصحابہ 2470
علامہ سعد الدین تفتانی تحریر کرتے ہیں کہ مذموم بری بدعت وہ ہے جو دین کے اندر ایجاد کی جائے اور وہ حضرات صحابہ کرام تابعین کے عہد میں نہ ہو اور نا اس پر کوئی شرعی دلیل دلالت کرتی ہو۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بن مسعود تھے انہوں نے فرمایا ہے۔ تم ہمارے نقش قدم پر چلو اور نئی نئی بدعات مت ایجاد کرو کیوں کہ تم کفایت کیے گئے ہو ۔تمہارے لیے ضروری شرعی احکامات تکمیل کے ساتھ کافی کر دیے گے ہیں۔
الا عتصام جلد 1 صفحہ 54 مجمع الزوئد 181/1 دارمی 61/1
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
اتباع کرو اور بدعت جاری نہ کرو۔
ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںِ۔
ہر قسم کی بدعت گمراہی ہے اگرچہ لوگ اسے اچھا ہی سمجھتے ہوں۔
مسند دارمی 58۔61 /1
حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ۔
اہل سنت والجماعت یہ فرماتے ہیں کہ جو قول و فعل جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت نہ ہو تو اس کا کرنا بدعت ہے کیوں کہ اگر وہ کا م اچھا ہوتا تو ضروروہ اس کا م کو پہلے کرتے اس لیے کہ انہوں نے نیکی کے کسی پہلو اور کسی نیک اور عمدہ خصلت کو عمل کے بغیر نہیں چھوڑا بلکہ وہ کام میں سبقت لے گے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر جلد 4 صفحہ 104
 
Top