1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بچوں کاقیامت کے متعلق سوال

'گوشہ اطفال' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن داود, ‏دسمبر 10، 2017۔

  1. ‏دسمبر 10، 2017 #1
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,651
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
    میری چار سال کی بیٹی نے سوال کیا ہے کہ کیا، انسانوں کی طرح جانوروں کو بھی دوبارہ زندہ کیا جائے گا؟
    اس پر سات سالہ بیٹی نے اضافہ کر دیا کہ کیاان کو بھی سزا وجزا دی جائے گی؟
    @اسحاق سلفی
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏دسمبر 10، 2017 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,401
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
    ـــــــــــــــــــــــــ
    حیوانات بھی قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جائیں گے
    ــــــــــــــــــــــــــــــــ
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    حیوانات کے بارے میں بتائیں کہ قیامت کے دن ان کا حشر ہوگا یا نہیں ؟ بعض علماء کہتے ہیں کہ احادیث میں ان کے حشر کا زکر مجاز اور کنایہ ہے ظالم و مظلوم سے۔
    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال


    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
    ولا حول ولا قوةالا باللہ۔

    حیوانات کا حشر حق ہے جس پر کتاب و سنت اور اقوال سلف دلالت کرتے ہیں۔​
    حشر حیوانات کے قرآنی دلائل:


    اللہ تعالی کا قول ہے :
    ﴿وَما مِن دابَّةٍ فِى الأَر‌ضِ وَلا طـٰئِرٍ‌ يَطيرُ‌ بِجَناحَيهِ إِلّا أُمَمٌ أَمثالُكُم ۚ ما فَرَّ‌طنا فِى الكِتـٰبِ مِن شَىءٍ ۚ ثُمَّ إِلىٰ رَ‌بِّهِم يُحشَر‌ونَ ٣٨﴾... سورة الانعام


    "اور جتنے قسم کے جاندار زمین پر چلنے والے ہیں اور جتنے قسم کے پرند جانور ہیں کہ اپنے دونوں بازؤوں سے اڑتے ہیں ان میں کوئی قسم ایسی نہیں جو کہ تمہاری طرح گروہ نہ ہو ہم نے دفتر میں کوئی چیز نہیں چھوڑی پھر سب اپنے پروردگار کے پاس جمع کئے جائیں گے۔"​
    امام قرطبي کہتے ہیں "ضمیر کا مرجع تمام خلائق ظاہر ہے۔"
    اور اللہ تعالی فرماتے ہیں:
    ﴿وَإِذَا الوُحوشُ حُشِرَ‌ت ٥﴾... سورة التكوير

    "اور جب وحشی جانور اکھٹے کئے جائیں گے"
    اور ایسی دیگر آیات۔
    احادیث بابت حشر حیوانات:

    ۱۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں : "قیامت کے دن حقداروں کو ان کے حقوق ضرور اسا کئے جائیں گے یہاں تک کہ کھلے سینگوں والی بکری سے لیٹے ہوئے سینگوں والی بکری کا بدلہ لیا جائے گا۔ صحیح مسلم (4/1997) ، احمد (2/233-235)"
    ۲۔ امام قرطبي ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ان کا قول روایت کرتے ہیں۔ مویشیوں جانداروں پرندوں سمیت تمام مخلوق اکھٹی کی جائے گی اور اللہ تعالی کا عدل یہاں تک پہنچے گا کہ کھلے سینگ والی سے لیٹے ہوئے سینگ والی کا بدلہ لیا جائے گا پھر کہا جائے گا مٹی ہو جاو۔ اور اللہ تعالی قول میں اس کا ذکر ہے:
    ﴿وَيَقولُ الكافِرُ‌ يـٰلَيتَنى كُنتُ تُرٰ‌بًا ٤٠﴾ سورة النباء

    "اور کافر کہے گا کہ کاش ! میں مٹی ہو جاتا" حاکم (2/316)، طبري (11/347)، اور الدرر المنثور وابن كثير۔
    ۳۔ امام دارقطنی عطاء سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں "جب دیگر مخلوق انسانوں کو جزع فزع کی حالت میں دیکھیں گے تو کہیں گے الحمد للہ کہ اللہ تعالی نے ہمیں تمہاری طرح نہیں بنایا ہمیں جنت کی امید ہے نہ جہنم کا ڈر تو اللہ تعالی انہیں حکم فرمائیں گے مٹی بن جاو تو اس وقت کافر مٹی ہو جانے کی تمنا کریں گے۔"
    ۴۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس دو بکریوں نے آپس میں سینگ مارے تو آپ ﷺ نے فرمایا : اے ابو ذر کیا تجھے ان کی لڑائی (کے انجام) کی خبر ہے؟ میں نے کہا نہیں ! لیکن اللہ تعالی کو ان کی لڑاٗی کا علم ہے اور وہ اس کا فیصلہ کرے گا۔ احمد (5/162 - 173 )، الطبری (11/348) جیسے کہ زاد المیسر میں ہے۔
    ۵۔ عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : لپٹنے سینگوں والی کھلے سینگوں والی سے قیامت کے دن بدلہ لے گی ۔ احمد(1/72)، ابن کثیر (2/۱۳۱)۔
    ۶۔ ابو ھریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یقینا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمام مخلوق آپس میں ایک دوسرے سے بدلہ لیں گے یہاں تک کہ لپٹنے سینگوں والی کھلے سینگوں والی سے اور یہاں تک کہ چیونٹی دوسری چیونٹی سے ۔
    شیخ الاسلام نے الفتاوی (4/۲۴۸) میں کہا ہے تمام حیوانات کو اللہ تعالی اکھٹا فرمائے گا جیسے کتاب و سنت اس پر دلیل ہیں اور پھر مذکورہ دو آیتیں ذکر کیں:
    اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
    ﴿وَمِن ءايـٰتِهِ خَلقُ السَّمـٰوٰتِ وَالأَر‌ضِ وَما بَثَّ فيهِما مِن دابَّةٍ ۚ وَهُوَ عَلىٰ جَمعِهِم إِذا يَشاءُ قَديرٌ‌ ٢٩﴾... سورة الشوريٰ

    "اور اس کی نشانیوں میں سے آسمان اور زمین کی پیدائیش ہے اور ان میں جانداروں کا پھیلانا ہے وہ اس پر بھی قادر ہے کہ جب چاہے انہیں جمع کردے۔ "
    اور "اذا" کا صرف کسی چیز کا لا محالہ ٓنے پر دلالت کرتا ہے۔ اس مضمون کی احادیث مشہور ہیں کہ اللہ تعالی قیامت کے دن تمام حیوانات کو جمع کر کے ان کو ایک دوسرے سے بدلہ دلواٗیں گے پھر انہیں مٹی بن جانے کا ھکم فرماٗیں گے تو وہ مٹی ہو جائیں گے تو کافر اس وقت کہے گا کاش میں بھی مٹی ہو جاتا اور جو کہتا ہے کہ زندہ نہیں ہو نگے تو وہ قبیح غلطی پر ہے بلکہ وہ گمراہ یا کافر ہے۔
    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب


    ج1ص214


    محدث فتویٰ
     
    • علمی علمی x 4
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  3. ‏دسمبر 10، 2017 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,401
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    مصير الحيوانات يوم القيامة
    ماتت قطتي، البالغة من العمر 20 عاما ، مؤخراً. وقامت قريباتي الصغيرات (بنات أخ/أخت) بالسؤال عن ما إذا كانت الحيوانات تدخل الجنة . ولم أتمكن من الجواب على ذلك لأني لا أعرف .
    فهل تذهب الحيوانات للجنة/النار؟ وكيف لنا أن نكفّر عن معاملتنا (؟) إذا كنا قد عاملنا الحيوانات بقسوة (خصوصا بعد موتها) ؟.
    ــــــــــــــــــــــــــــــــ
    الحمد لله

    هذا السؤال من شقَّين :

    الشِّق الأول :

    هو مصير الحيوانات في الآخرة : يقول الله تعالى : ( وإذا الوحوش حشرت ) التكوير/5

    وقال تعالى : (وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الأَرْضِ وَلا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ ) الأنعام/38 ، قال ابن عباس : يحشر كل شيء حتى الذباب .

    والحيوانات يوم القيامة يقتص بعضها من بعض ، فقد جاء من حديث أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقَ إِلَى أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ مِنْ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ رواه مسلم ( البر والصلة والآداب/4679) .

    وجاء في الحديث : ( يقضي الله بين خلقه الجن والإنس والبهائم ، وإنه ليقيد يومئذ الجماء من القرناء ، حتى إذا لم يبق تبعة عند واحدة لأخرى قال الله : كونوا ترابا ، فعند ذلك يقول الكافر : { يا ليتني كنت تراباً ) قال الشيخ الألباني : صحيح . برقم (1966) انظر السلسلة الصحيحة ج/4 ص/966 .

    والواجب على المسلم الرفق بالحيوان وأن لا يعذبه ، وقد ثبت أن امرأة عذِّبت بسبب هرَّة . فروى البخاري من حديث ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَخَلَتْ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ ) ( بدء الخلق/3071 )

    وغفر الله عز وجل لبَغِيٍّ لأنها أحسنت إلى كلب فقد روى البخاري أيضاً من حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا كَلْبٌ يُطِيفُ بِرَكِيَّةٍ كَادَ يَقْتُلُهُ الْعَطَشُ إِذْ رَأَتْهُ بَغِيٌّ مِنْ بَغَايَا بَنِي إِسْرَائِيلَ فَنَزَعَتْ مُوقَهَا فَسَقَتْهُ فَغُفِرَ لَهَا بِهِ ) ( أحاديث الأنبياء/3208 )

    ومن حصل منه إيذاء لحيوان فإن عليه بالتوبة إلى الله عز وجل من ذلك ، لأنه رب الحيوانات وهو الذي كلفنا بالإحسان إليها ( إلا ما كان ضاراً ) .

    الإسلام سؤال وجواب
    الشيخ محمد صالح المنجد

    ترجمہ :
    سوال : روز قيامت جانوروں كا انجام
    بالآخر بيس برس كى عمر ميں ميرا بلا مر گيا، اور ميرى بھتيجياں اور بھانجياں مجھ سے سوال كرنے لگيں كہ كيا جانور جنت ميں داخل ہونگے؟ ليكن علم ميں نہ ہونے كى بنا ميں جواب نہ دے سكى.
    تو كيا جانور جنت ميں داخل ہونگے يا جہنم ميں؟ اگر ہم نے جانوروں كے ساتھ سختى كى تو اس كا كفارہ كيسے ادا كيا جاسكتا ہے، خاص كر جانور كے مرنے كے بعد ؟
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
    جواب :
    الحمد للہ :

    سوال كى دو شقيں ہيں:

    پہلى شق:

    آخرت ميں جانوروں كا انجام اور ٹھكانا.

    اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

    {اور جب وحشى جانوروں كو اكٹھا كيا جائے گا} التكوير ( 5 )

    اور ايك مقام پر اللہ سبحانہ وتعالى نے فرمايا:

    {اور زمين ميں جتنے قسم كے چلنے والے جانور ہيں، اور اپنے پروں سے اڑنے والے جتنى قسم كے پرندے ہيں، ان ميں كوئى قسم ايسى نہيں جو تمہارى طرح گروہ نہ ہوں، ہم نے كتاب ميں كوئى چيز نہيں چھوڑى پھر سب اپنے پروردگار كے پاس جمع كيے جائيں گے}الانعام ( 38 ).

    ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما كہتے ہيں كہ ہر چيز جمع كى جائے گى حتى كہ مكھى بھى.

    اور روز قيامت ايك دوسرے سے قصاص بھى ليں گے، اس كى دليل مندرجہ ذيل حديث ميں ہے:

    ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    " روز قيامت تم حقداروں كے حقوق ضرور ادا كرو گے، حتى كہ بغير سينگ والى بكرى سينگ والى بكرى سے قصاص لے گى"

    صحيح مسلم باب البر والصلۃ والآداب حديث نمبر ( 4679 ).

    اور ايك دوسرى حديث ميں ہے كہ:

    " اللہ سبحانہ وتعالى اپنى مخلوق جن وانس اور جانوروں كے ميں فيصلہ كرے گا، اور بلاشبہ روز قيامت بغير سينگ كے بكرى سينگ والى بكرى سے قصاص لے گى، حتى كہ جب كسى ايك كا دوسرے پر كوئى حق باقى نہيں بچے گا تو اللہ تعالى فرمائےگا: تم مٹى ہو جاؤ، تو اس وقت كافر يہ كہے گا: كاش ميں بھى مٹى ہو جاتا"

    علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے اس حديث كو السلسلۃ الصحيحۃ حديث نمبر ( 1966 ) ميں صحيح قرار ديا ہے.

    ديكھيں: السلسلۃ الصحيحۃ ( 4 / 966 ).

    مسلمان شخص پر واجب ہے كہ وہ جانوروں كے ساتھ نرمى كا برتاؤ كرے اور انہيں تكليف نہ دے، اور حديث سے ثابت ہے كہ ايك عورت بلى كى بنا پر جہنم ميں چلى گئى.

    امام بخارى رحمہ اللہ تعالى نے ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما سے بيان كيا ہے كہ نبى صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    " ايك عورت بلى كو باندھ كرركھنے كى وجہ سے آگ ميں چلى گئى، نہ تو اس نے اسے كھانے پينے كے ليے كچھ ديا، اور نہ ہى اسے چھوڑا كہ وہ زمين كے كيڑے وغيرہ كھا كر گزارا كر لے"

    صحيح بخارى بدء الخلق حديث نمبر ( 3071 ).

    اور اللہ تعالى نے ايك بدكار عورت كو اس ليے بخش ديا كہ اس نے ايك كتے سے حسن سلوك كيا تھا.

    امام بخارى رحمہ اللہ تعالى نے ہى روايت بيان كى ہے كہ:

    ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    " ايك كتا كنويں كے ارد گرد گھوم رہا تھا، قريب تھا كہ اسے پياس مار ڈالتى كہ اچانك بنى اسرائيل كى ايك بدكار عورت نے اسے ديكھ ليا اور اپنا موزا اتار كر اسے پانى پلايا تو اللہ تعالى نے اسے بخش ديا"

    صحيح بخارى كتاب الانبياء حديث نمبر ( 3208 ).

    جس كسى سے بھى كسى جانور كو اذيت اور تكليف پہنچے تو وہ اللہ تعالى سے اس كى توبہ و استغفار كرے، كيونكہ جانوروں كے پروردگار نے ہميں جانوروں كے ساتھ اچھا برتاؤ كرنے كا مكلف بنايا ہے، ( ليكن اگر جو جانور ضررساں اور نقصان دہ ہو ).

    واللہ اعلم .

    شيخ محمد صالح المنجد
     
    • علمی علمی x 2
    • مفید مفید x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏دسمبر 10، 2017 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,401
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    السؤال
    هل إذا مات حيوان تربى عندنا فهل يحاسب مثلنا وسيشهد علينا يوم الحساب؟
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    الإجابــة
    الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه، أما بعـد:

    فإن الحيوانات والبهائم ليست مثل الإنسان فيما يتعلق بالعقاب والثواب في الآخرة لأنها غير مكلفة أصلاً، وما ورد من أنها تعاد وتحشر يوم القيامة ويقتص لبعضها من بعض، فقد قال العلماء إن هذا القصاص ليس قصاص تكليف وإنما هو قصاص مقابلة، فقد ذكر النووي رحمه الله تعالى في شرح صحيح مسلم عند كلامه على قوله صلى الله عليه وسلم: لتؤدن الحقوق إلى أهلها يوم القيامة حتى يقاد للشاة الجلحاء من الشاة القرناء.. قال: هذا تصريح بحشر البهائم يوم القيامة وإعادتها يوم القيامة كما يعاد أهل التكليف من الآدميين، وكما يعاد الأطفال والمجانين ومن لم تبلغه دعوة، وعلى هذا تظاهرت دلائل القرآن والسنة، قال الله تعالى: وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ. وإذا ورد لفظ الشرع ولم يمنع من إجرائه على ظاهره عقل ولا شرع وجب حمله على ظاهره، قال العلماء: وليس من شرط الحشر والإعادة في القيامة المجازاة والعقاب والثواب.

    وأما القصاص من القرناء للجلحاء فليس هو من قصاص التكليف إذ لا تكليف عليها بل هو قصاص مقابلة والجلحاء بالمد هي الجماء التي لا قرن لها. والله أعلم. انتهى.

    وروى ابن جرير أيضاً عن عبد الله ابن عمر قال: إذا كان يوم القيامة مد الأديم، وحشر الدواب والبهائم والوحش، ثم يحصل القصاص بين الدواب، يقتص للشاة الجماء من الشاة القرناء نطحتها، فإذا فرغ من القصاص بين الدواب، قال لها: كوني تراباً، قال: فعند ذلك يقول الكافر: يا ليتني كنت تراباً. انتهى.

    ثم إننا لم نطلع على ما يدل على شهادة الحيوانات على بني آدم يوم القيامة.

    والله أعلم.

    (اسلام ویب ، مرکزالفتوی )
     
  5. ‏دسمبر 10، 2017 #5
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,651
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    جزاک اللہ خیراً اسحاق سلفی بھائی!
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏جنوری 03، 2018 #6
    محمد المالكي

    محمد المالكي رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 01، 2017
    پیغامات:
    401
    موصول شکریہ جات:
    153
    تمغے کے پوائنٹ:
    47

لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں