1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

بکری قرآن کھا گئی

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوالوفا محمد حماد اثری, ‏جون 08، 2017۔

  1. ‏جون 08، 2017 #1
    ابوالوفا محمد حماد اثری

    ابوالوفا محمد حماد اثری مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2017
    پیغامات:
    35
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    11

    بکری قرآن کھا گئی ؟
    تحریر : غلام مصطفی ظہیر امن پوری
    سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :

    لَقَدْ أُنْزِلَتْ آيَةُ الرَّجْمِ وَرَضَعَاتُ الْكَبِيرِ عَشْرًا، فَكَانَتْ فِي وَرَقَةٍ تَحْتَ سَرِيرٍ فِي بَيْتِي، فَلَمَّا اشْتَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشَاغَلْنَا بِأَمْرِهِ، وَدَخَلَتْ دُوَيْبَةٌ لَنَا فَأَكَلَتْهَا "
    ''آیت رجم اور آیت'' رضعات کبیر دس بار پینے سے ثابت ہوتی ہے، نازل ہوئی تھیں۔''یہ آیات میری چار پائی کے نیچے رکھی تھیں کہ رسول اللہ ﷺکو بخار نے آلیا ، ہم آپ کی طرف مشغول ہو گئے، تب ایک بکری آئی اور ان دو آیات کو کھا گئی۔''
    (مسند احمد:6/269، وسندہ حسن )
    بعض لوگ اس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نعوذبا للہ قرآن کو بکری کھا گئی، لہذا قرآن محفوظ کیسے؟
    تو جوابا عرض ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جن دو آیات کا ذکر کیا ہے ، ان کی تو تلاوت ہی منسوخ ہوچکی تھی ، جیسا کہ صحیح مسلم(1452)دس بار رضاعت اورصحیح بخاری (6830)میں آیت رجم کی منسوخیت کا ذکر ہے۔یہ دو آیات ہی بکری نے کھائی ہیں۔
    لہذا جن آیات کی تلاوت منسوخ ہو چکی ہے، بکری نہ بھی کھاتی تو بھی قرآن میں ان کا ذکر نہیں ہونا تھا۔تو اس کی بنیاد پرقرآ ن کو ناقص قرار دینا کہاں کا انصاف ہے؟
    2یہ آیات منسوخ نہ ہوتیں تب بھی بکری کے ایک آیت کھانے سے ایسا کچھ لازم نہیں آتاکہ نعوذ باللہ قرآن میں کمی آگئی ،کیوں کہ و ہ قرآن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام کے سینوں میں تو موجود تھا۔
    بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي
    صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَمَا يَجْحَدُ بِآيَاتِنَا إِلَّا الظَّالِمُونَ (العنکبوت : 49)
    اللہ نے قرآن کی حفاظت کا ذریعہ اہل علم کے سینوں کو قرار دیا ہے۔ معلوم ہوا کہ قرآن محفوظ ہے، بعض حضرات کااسے غیر محفوظ باور کروانا سطحی ہے۔
    فرمان باری تعالیٰ ہے :

    {إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ} [الحجر: 9]
    ''ہم نے اس ذکر کو نازل کیا ، ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔''

    نوٹ :
    ہماری بحث ان آیات سے ہے جنہیں بکری نے کھایا ، وہ دس تھیں،
    پانچ رضعات والی آیت کی تلاوت بھی منسوخ ہے اورحکم باقی ہے، لیکن
    یہاں اس پر بحث نہیں، کیوں کہ اس کا تعلق نہ تو مذکورہ شبہ سے ہے ،نہ ہی بکری کے کھانے سے ۔فافہم۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں