1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بھارت میں 45 سال سے زائد عمر کی خواتین کو محرم کے بغیر حج کی اجازت

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از کنعان, ‏اکتوبر 08، 2017۔

  1. ‏اکتوبر 08، 2017 #1
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    بھارت میں 45 سال سے زائد عمر کی خواتین کو محرم کے بغیر حج کی اجازت
    8 اکتوبر 2017

    سعودی حکومت نے بھارت کو اجازت دیتے ہوئے اسے ترقی پسند اقدام قرار دیا، حج کمیٹی۔

    نئی دلی: بھارتی حکومت نے 45 سال سے زائد عمر کی خواتین کو محرم کے بغیر حج پر جانے کی اجازت دے دی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق وزیر اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے اعلان کیا کہ آئندہ سال سے 45 سال سے زائد عمر کی خواتین کو محرم کے بغیر حج پر جانے کی اجازت دے دی جائے گی۔ مختار عباس نقوی نے بتایا کہ حج انتظامات کی جائزہ کمیٹی نے نئی پالیسی تشکیل دے کر وفاقی حکومت کے حوالے کی ہے جس میں متعدد سفارشات پیش کی گئی ہیں، ان میں سے بعض تجاویز کو اگلے سال نافذ کیا جاسکتا ہے۔ حج کمیٹی کے سربراہ افضل امان اللہ نے اگلے سال سے اگر کوئی خاتون بغیر محرم حج پر جانا چاہے تو جاسکتی ہے، سعودی حکومت نے بھارت کو اس اقدام کی اجازت دیتے ہوئے اسے ترقی پسند فیصلہ قرار دیا ہے۔

    دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام ہند سے تعلق رکھنے والے مفتی محمد حذیفہ قاسمی نے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اتنے فاصلے تک سفر پر جانے کے لیے مسلم خاتون کے ساتھ محرم کا ہونا ضروری ہے۔

    ح
     
    • پسند پسند x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  2. ‏اکتوبر 08، 2017 #2
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,430
    موصول شکریہ جات:
    720
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

    اس خبر میں آگے یہ بهی لکها هیکہ جنکا مسلک اجازت دے ، دوسرے الفاظ میں یہ چهوٹ مل ضرور گئی هے لیکن اس طرح کے دینی سفر پر بغیر حقیقی محرم کے جانا وہ ہی پسند کرینگے جنکا مذهب و مسلک اجازت دیتا هے ۔
    هند سے میرے علم کے مطابق خواتین گروپ کی شکل میں جاتی تهیں اور کاغذی خانہ پری میں کسی کا بهی نام جو اسی گروپ میں هوتا هے بطور برادر پیش کیا جاتا هے تاکہ سعودی ایمبیسی اس خاتون کو حج ویزہ دے دے ۔ یہ اہل سنت میں سے صرف ایک مخصوص گروہ کے مسلک میں اجازت ملتی هے ۔ دارالعلوم دیوبند اس میں شامل هو ہی نہیں سکتا نا ہی علم رکهنے والے احناف و شوافع ۔ ماعدا ان شوافع و احناف کے جن کے عقائد کا سلف صالحین کے عقائد سے هٹ کر ہیں ۔ خیر یہ ماضی کی بات هے ، آئندہ سال سے چهوٹ ملجانے کے بعد تو کوئی مسئلہ مسئلہ ہی نہیں رهیگا۔
    جو خوش هوئے اور جنہوں نے تالیاں بجائیں وہ مسلک معروف هے لیکن ایک مسئلہ ، فتنہ اور فساد میں اچهے سچے مسلمانوں کو ضرور مبتلا کردیا گیا هے ۔
    اللہ سے دعاء هیکہ حق پر قائم رهنے والوں کی مدد فرمائے ۔ ابهی تو تجویز هے لیکن یہ قانون نا بن جائے ۔ مزید میری دلی خواہش هیکہ اس خبر کو سعودی کے متعلقہ اداروں تک ضرور پہونچائی جائے ۔
    آج کے اردو روزنامہ انقلاب میں یہ خبر اور تفصیل موجود هے جو ممبئی سے شائع هوتا هے ۔
     
  3. ‏اکتوبر 08، 2017 #3
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,430
    موصول شکریہ جات:
    720
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    ایک بات رہ گئی کہنے کی وہ یہ کہ اہلحدیث خواتین تو فری ٹکٹ اور رهائش مع طعام پر بهی سفر حج پر جانے کے لیئے راضی نا هونگی بغیر حقیقی محرم کے ، ان شاء اللہ ۔
    جس کی رضا کی خاطر سفر کریں اسکے عذاب سے ڈرتی بهی ہیں وہ۔ جب اللہ کی جانب سے سفر ہی ممنوع هے تو اجر کس سے ملنا هے؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں