1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بیان کوضرورتکے وقت سے مؤخر کرنا اور بوقت ضرورت واضح کرنا:

'اصول حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از ناصر رانا, ‏اکتوبر 02، 2011۔

  1. ‏اکتوبر 02، 2011 #1
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,448
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    بیان کوضرورتکے وقت سے مؤخر کرنا اور بوقت ضرورت واضح کرنا:

    بیان کو مؤخر کرنے کی دو قسمیں ہیں:

    ۱۔ اتنی تاخیر کرنا کہ عمل کا وقت آپہنچے۔ ایسا کرنا جائز ہے اور ایسا ہوا بھی ہے۔ معراج کی رات نماز مجمل طور پر فرض کردی گئی تھی اور اس کے بیان کو اگلے دن تک مؤخر رکھا گیا تھا حتی کہ جبریل علیہ السلام آئے اور انہوں نے اسے بیان کیا۔ اسی طرح رسول اللہﷺ جانتے تھے کہ غنیمت کے مال میں پانچواں حصہ جو ﴿ وَلِذِي الْقُرْبَى ﴾ [الأنفال:41] قرابت داروں کےلیے تھا،ان قرابت داروں سے مراد علاوہ بنونوفل اور بنی عبد شمس کے صرف بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب ہیں اگرچہ عبد مناف کی اولاد ہونے میں سارے برابر تھے۔ تو اس کا بیان اس وقت تک مؤخر رکھا گیا حتی کہ جبیر بن مطعم نوفلی اور عثمان بن عفان عبشمی نے آپ سے اس خمس کا مطالبہ کیا ، تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ” «أنا وبنو المطلب لم نفترق في جاهلية ولا في إسلام» “ میں اور بنو عبدالمطلب ایک ہی ہیں، ہم نہ تو جاہلیت میں الگ ہوئے تھے، نہ ہی اسلام میں۔

    اسی طرح نماز، زکاۃ اور حج کے بارے میں آیات ہیں ، جن کی وضاحت سنت نے بعد میں آہستہ آہستہ کی تھی۔ اسی قاعدے پر اللہ رب العالمین کا یہ فرمان گرامی بھی دلالت کرتا ہے: ” ﴿ فَإذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ (18) ثُمَّ إنَّ عَلَينَا بَيانَهُ [القيامة:19،18] “ تو جب ہم اسے پڑھ لیں تو آپ اس کے پڑھنے کی پیروی کریں (۱۸) پھر اس کا واضح کردینا ہمارے ذمہ ہے۔(۱۹)

    تو ان آیات میں ’ثُمَّ‘ کا لفظ تراخی (تاخیر) کےلیے آیا ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی دلائل ہیں۔

    ۲۔ اتنی تاخیر کرنا کہ وقت ِ ضرورت ہی گزر جائے۔ تو ایسا کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ اس طرح مخاطب کو تکلیف مالایطاق (ایسا حکم دینا جس کی بندہ طاقت نہ رکھے)کا مکلف ٹھہرایا جائے گا جو جائز نہیں ہے۔


    ترجمہ کتاب تسہیل الوصول از محمد رفیق طاہر
     
  2. ‏اکتوبر 02، 2011 #2
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں