1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بیلجیئم میں کرکٹ بیٹ ”اسلحہ“ بن گیا، 22 سالہ پاکستانی کو فیملی سمیت ملک بدری کا حکم

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از کنعان, ‏نومبر 25، 2014۔

  1. ‏نومبر 25، 2014 #1
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    بیلجیئم میں کرکٹ بیٹ ”اسلحہ“ بن گیا، 22 سالہ پاکستانی کو فیملی سمیت ملک بدری کا حکم​

    25 نومبر 2014 (17:05) :
    [​IMG]

    برسلز (مانیٹرنگ ڈیسک) بیلجیئم کی حکومت نے ایک 22 سالہ پاکستانی لڑکے کو کرکٹ بیٹ ٹی شرٹ میں چھپا کر لے جانے پر اسے "دہشت گرد" قرار دے کر ملک بدری کا حکم دے دیا گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق بیلجیئم میں مقیم 22 سالہ پاکستانی عاصم اور اس کی فیملی کو دہشت گرد قرار دے کر ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس مقصد کیلئے ان کے پاسپورٹ بھی طلب کر لئے گئے ہیں۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق عاصم عباسی کرکٹ کی پریکٹس کیلئے جا رہے تھے کہ اس دوران بارش شروع ہو گئی اور اس نے بیٹ کو بھیگنے سے بچانے کیلئے اپنی ٹی شرٹ میں لپیٹ لیا۔ مقامی پولیس نے اس کی تصاویر کو میڈیا میں شائع کرتے ہوئے اسے مسلح اور دہشت گرد قرار دے دیا۔

    اخبار میں تصاویر چھپنے اور دہشت گرد قرار دیئے جانے کی خبر دیکھنے پر عاصم نے مقامی پولیس سے رابطہ کیا اور بتایا کہ وہ مسلح نہیں تھا بلکہ اس نے اپنی ٹی شرٹ میں بیٹ لپیٹ رکھا تھا۔

    عاصم کا کہنا تھا کہ "میں نے اپنا بیٹ ٹی شرٹ میں اس لئے چھپایا کہ بارش ہو رہی تھی اور اگر بیٹ بھیگ جاتا تو وہ صحیح طرح سے کھیل نہیں سکتا تھا"۔

    عاصم کے والد طفیل عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس تمام صورتحال سے سفارتخانے کو آگاہ کیا گیا تاہم انہوں نے مدد کرنے کے بجائے مجھے ہی نوکری سے نکال دیا ہے جبکہ ملک بدری سے متعلق بھی کوئی مدد نہیں کی جا رہی۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  2. ‏نومبر 26، 2014 #2
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    طفیل عباسی کو خلاف ضابطہ ملازمت پر غیر قانونی قرار دیا گیا: دفتر خارجہ​

    25 نومبر 2014 (16:51)

    اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بیلجیئم میں دہشت گرد قرار دیئے جانے والے 22 سالہ عاصم عباسی کے والد طفیل عباسی کو خلاف ضابطہ ملازمت پر بیلجیئم میں غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔

    دفتر خارجہ کی ترجمان تسلیم اسلم نے کہا ہے کہ عاصم عباسی کے والد طفیل عباسی وزارت تجارت میں ملازم تھے اور برسلز میں پاکستانی سفارتخانے کے کمرشل سیکشن میں تعینات تھے۔

    ترجمان کے مطابق طفیل عباسی 4 سال تک برسلز میں تعینات رہے تاہم خلاف ضابطہ ملازمت پر انہیں بیلجیئم میں غیر قانونی قرار دیا گیا ہے اور ان کی جگہ نئی تعیناتی بھی کر دی گئی ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ طفیل عباسی نے معمول کی پوسٹنگ پر پاکستان آنا تھا تاہم طفیل عباسی اور ان کا خاندان پاکستان واپس نہیں آنا چاہتا ۔

    واضح رہے کہ بیلجئیم میں مقیم 22 سالہ پاکستانی عاصم عباسی کو کرکٹ بیٹ ٹی شرٹ میں چھپانے پر دہشت گرد قرار دے کر فیملی سمیت ملک بدر کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

    ح

    =========

    طفیل عباسی کی واپس پاکستان تعیناتی معمول کی بات، بیٹے کے الزامات غلط ہیں: دفتر خارجہ

    25 نومبر 2014 (19:54)

    اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ طفیل عباسی برسلز میں پاکستانی سفارت خانے میں 4 سال سے بطور سٹینو ٹائپسٹ خدمات سر انجام دے رہے تھے اور ان کا پاکستان تبادلہ معمول کی کاروائی کا حصہ ہے کیونکہ ان کی تعیناتی کی مدت مارچ 2014 میں پوری تھے تاہم ان کے بیٹے کی طرف برسلز میں قائم پاکستانی سفارت خانے پر بے بنیاد الزام تراشی کی جا رہی ہے۔

    دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے دوران بریفنگ بتایا کہ طفیل عباسی کی جگہ نئے سیکشن آفیسر کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ ان کے بیٹے سے بیٹ بر آمد ہونے پر پولیس کے پاس موقع پر پہنچ کر سفارت خانے کے عملے نے معاملہ کروا دیا تھا اور اب ان کے تبادلے کا معاملہ ذاتی نوعیت کا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ طفیل عباسی اب بھی بدستور پاکستانی سفارت خانے میں کام کر رہے ہیں اور حکومت پاکستان جب چاہے ان کو واپس بلانے کا اختیار رکھتی ہے۔

    واضح رہے طفیل عباسی کے بیٹے کو برسلز میں بیٹ رکھنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا جس پر اس نے پاکستانی سفارت خانے پر عدم تعاون کا الزام عائد کیا تھا۔

    ح
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں