1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بیوی کو مارنے کے متعلق حدیث اور اس کے راوی عبدالرحمن المسلی کے متعلق تحقیق

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوطلحہ بابر, ‏نومبر 19، 2019۔

  1. ‏نومبر 19، 2019 #1
    ابوطلحہ بابر

    ابوطلحہ بابر مشہور رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏فروری 03، 2013
    پیغامات:
    663
    موصول شکریہ جات:
    835
    تمغے کے پوائنٹ:
    195

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    محترم شیوخ ! راوی حدیث عبدالرحمن المسلی کی توثیق درکار ہے۔
    یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے انہیں ثقہ کہا ہے اس کا حوالہ بھی درکار ہے۔
    @اسحاق سلفی
     
  2. ‏نومبر 20، 2019 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    بیوی کو مارنے کے متعلق حدیث

    حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُسْلِيِّ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يُسْأَلُ الرَّجُلُ فِيمَا ضَرَبَ امْرَأَتَهُ
    سنن ابی داود ۲۱۴۷
    سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” شوہر سے بیوی کو مارنے کے سلسلے میں سوال نہیں کیا جائے گا ۔ “
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
    رواه أبو داود (رقم/2147) ، والنسائي في " السنن الكبرى " (5/372) ، وابن ماجه (رقم/1987) وأحمد في " المسند " (1/275) وغيرهم ، جميعهم من طريق :
    سنن ابو داود حديث نمبر ( 2147 ) سنن نسائى الكبرى ( 5 / 372 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 1987 ) مسند احمد ( 1 / 275 ) وغيرہ سب نے ہى درج ذيل طريق سے اسے روايت كيا ہے:
    داود بن عبد الله الأودي ، عن عبد الرحمن المسلي ، عن الأشعث بن قيس ، عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه به .
    قلنا : وهذا إسناد ضعيف بسبب عبد الرحمن المسلي ، لم يوثقه أحد من أهل العلم ، بل نقل ابن حجر في " تهذيب التهذيب " (6/304) عن أبي الفتح الأزدي إيراده له في " الضعفاء " وقوله عنه : فيه نظر . وأورد له هذا الحديث .

    ہم (الاسلام سوال و جواب کے مفتی ) كہتے ہيں كہ اس كى سند عبد الرحمن بن المسلى كى بنا پر ضعيف ہے، كيونكہ اسے كسى بھى اہل علم نے ثقہ قرار نہيں ديا بلكہ ابن حجر رحمہ اللہ تھذيب التھذيب ( 6 / 304 ) ميں ابو الفتح الازدى سے بيان كيا ہے كہ انہوں نے اسے ضعفاء ميں ذكر كيا ہے، اور اس كے بارہ ميں كہا ہے كہ: فيہ نظر اور اس كے بعد يہ حديث ذكر كى ہے.

    ولذلك حكم علماء الحديث على هذا الحديث بالضعف والرد ، منهم :
    حديث ضعيف قال ابن المديني - رحمه الله تعالى - : " فإن إسناده مجهول رواه رجل من أهل الكوفة يقال له داود بن عبد الله الأودي لا أعلم أحدا روى عنه شيئا غير عبد الرحمن المسلي وهو عندي أبو وبرة المسلي " ا.هـ العلل لابن المديني 1/93

    اس ليے علماء حديث نے اس حديث پر ضعف اور رد كا حكم لگايا ہے، ان علماء حديث ميں درج ذيل علماء شامل ہيں:امام ابن المدینی ؒ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ اس کی اسناد میں ایک کوفی راوی داود بن عبد الله الأودي مجہول ہے ، کیونکہ ہمیں نہیں معلوم ، اس داود سے عبد الرحمن بن المسلى کے سوا کسی نے اس سے روایت نقل کی ہو ۔
    https://archive.org/details/FP67140/page/n667
    قال ابن القطان رحمه الله : " لا يصح " انتهى. " بيان الوهم والإيهام " (5/524)
    وقال الذهبي رحمه الله : " فيه عبد الرحمن المسلي : لا يعرف " انتهى. " ميزان الاعتدال " (2/602)
    وقال الشيخ أحمد شاكر رحمه الله : " إسناده ضعيف " انتهى." مسند أحمد " (1/77)
    وكذا ضعفه محققو مسند أحمد في طبعة مؤسسة الرسالة ، والشيخ الألباني في " إرواء الغليل " (7/98

    )
    ابن قطان رحمہ اللہ كہتے ہيں: "( يہ صحيح نہيں )" انتہى ديكھيں: بيان الوھم و الايھام ( 5 / 524 ).
    اور امام ذھبى رحمہ اللہ كہتے ہيں:" اس ميں عبد الرحمن بن المسلى ہے جو كہ معروف نہيں " انتہى ديكھيں: ميزان الاعتدال ( 2 / 602 ).
    اور مصر کے مشہور محدث علامہ شيخ احمد شاكر رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    " اس كى سند ضعيف ہے " انتہى ديكھيں: مسند احمد ( 1 / 77 ).

    اسى طرح مؤسسۃ الرسالۃ كے زير طبع نسخہ كے محققين نے بھى اسے ضعیف قرار دیا ہے ،لکھتے ہیں :
    إسناده ضعيف لجهالة عبد الرحمن المسلي، فإنه لم يرو عنه سوى داود الأودي، وذكره أبو الفتح الأزدي في " الضعفاء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وهو في " مسند الطيالسي " (47) و (135) ، ومن طريقه أخرجه البيهقي في " سننه " 7 / 305.
    وأخرجه عبد بن حميد (37) ، وأبو داود (2147) ، وابن ماجه (1986) ، والبزار (239) والنسائي في " الكبرى " (9168) ، والحاكم 4 / 175 من طرق عن أبي عوانة، بهذا الإسناد. وقال الحاكم: هذا حديث صحيح الإسناد، ووافقه الذهبي! فوهما.


    اور علامہ البانى رحمہ اللہ نے ارواء الغليل ( 7 / 98 ) ميں اسے ضعيف كہا ہے.
    اور تحریر التقریب (جلد ۲ ص ۳۵۸)میں ہے :
    عبدُ الرحمن المُسْلي، بضم الميم وسكونِ المهملة، الكوفي: مقبولٌ، مِن الثالثة. د س ق.
    • بل: مجهولٌ، تفرَّد بالرواية عنه داود بن عبد الله الأودي، ولم يوثقه أحد، وقال الذهبي في "الميزان": لا يُعرف

    .
    خلاصہ یہ کہ حافظ اب حجرؒ کے نزدیک المسلی ’’ مقبول ‘‘ یعنی متابعت میں مقبول ہے ،جبکہ تحریر تقریب کے مولفین کہتے ہیں کہ یہ ’’ مجہول ‘‘ راوی ہے ؛
    السادسة: مَن ليس له من الحديث إلا القليل، ولم يثْبُت فيه ما يُترك حديثه من أجله، وإليه الإشارة بلفظ: مقبول، حيث يتابع، وإلا فَليِّنُ الحديث

    https://archive.org/stream/FP35036FP/02_35037#page/n358/mode/2up
     
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں