1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بیٹے کا عقیقہ ایک بکرا؟؟

'فقہی سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از مظفر اختر, ‏نومبر 07، 2018۔

  1. ‏نومبر 07، 2018 #1
    مظفر اختر

    مظفر اختر مبتدی
    جگہ:
    ملتان
    شمولیت:
    ‏جون 13، 2018
    پیغامات:
    79
    موصول شکریہ جات:
    9
    تمغے کے پوائنٹ:
    27

    السلام علیکم
    کیا بیٹے کے عقیقہ میں ایک بکرا بھی کیا جا سکتا ہے؟
    علماء قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں
    جزاک اللہ
     
  2. ‏نومبر 08، 2018 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,233
    موصول شکریہ جات:
    2,369
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    نومولود کی طرف سے عقیقہ کا جانور ذبح کرنا ضروری ہے :
    عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُلُّ غُلَامٍ رَهِينَةٌ بِعَقِيقَتِهِ، تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ، وَيُحْلَقُ وَيُسَمَّى »
    ترجمہ : سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ہر بچہ اپنے عقیقہ کے ساتھ گروی ہوتا ہے ( لہٰذا ) ساتویں دن اس کی طرف سے جانور ذبح کیا جائے ، اس کا سر مونڈا جائے اور نام رکھا جائے"
    سنن ابوداود 2838

    عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى »
    ترجمہ : سیدنا سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” لڑکے کے لیے عقیقہ لازمی ہے ، لہٰذا اس کی طرف سے خون بہاؤ اور اس کی میل کچیل دور کرو ۔ “
    سنن ابی داود 2839

    عَنْ أُمِّ كُرْزٍ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ، مِثْلَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ»
    ترجمہ : سیدہ ام کرز رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” لڑکے کی طرف سے دو بکریاں ہیں ہم مثل ( ایک جیسی ) اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے ۔»
    سنن ابی داود 2836
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    احادیث صحیحہ سے لڑکی کی طرف سے ایک بکری اور لڑکے کے عقیقہ میں دو بکریاں ذبح کرنا ہی مشروع ہے ،
    تاہم اگر دو بکریوں کی استطاعت نہ ہو تو ایک بکری کا عقیقہ بھی جائز ہے ،
    وقال الشيخ ابن عثيمين رحمه الله :
    " فإن لم يجد الإنسان ، إلا شاة واحدة أجزأت وحصل بها المقصود ، لكن إذا كان الله قد أغناه ، فالاثنتان أفضل " انتهى .
    "الشرح الممتع" (7/492) .
    اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    " اگر انسان صرف ايك ہى بكرى پائے تو يہ كفائت كر جائيگى اور اس سے مقصود حاصل ہو جائيگا، ليكن اگر اللہ تعالى نے اسے مالدار اور غنى كيا ہے تو پھر دو افضل ہيں " انتہى
    ديكھيں: الشرح الممتع ( 7 / 492 )
    https://archive.org/stream/waq53629/07_53635#page/n492/mode/2up

    اور مشہور شافعی فقیہ امام ابو اسحاق شیرازی (المتوفی 476ھ ) فرماتے ہیں :
    والسنة أن يذبح عن الغلام شاتين وعن الجارية شاة لما روت أم كرز قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عن العقيقة فقال للغلام شاتان مكافئتان وعن الجارية شاة ولانه إنما شرع للسرور بالمولود والسرور بالغلام أكثر فكان الذبح عنه أكثر وان ذبح عن كل واحد منهما شاة جاز»
    یعنی سنت تو یہی ہے کہ :لڑکے کی طرف سے دو ایک جیسی بکریاں عقیقہ میں ذبح کی جائیں ،جیسا کہ سیدہ ام کرز سے مروی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” لڑکے کی طرف سے دو بکریاں ہیں ہم مثل ( ایک جیسی ) اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے "
    اور اس لئے بھی کہ بچہ کی ولادت کی خوشی میں شرعاً جانور ذبح کرنا مقرر کیا گیا ہے ،اور چونکہ لڑکے کی ولادت کی خوشی زیادہ ہوتی ہے ،اس لئے (لڑکی کے عقیقہ کی نسبت )لڑکے کے عقیقہ میں زیادہ جانور ذبح کرنا مقرر ہے ،، اور اگر ہر ايك كى جانب سے ايك بكرى ذبح كى جائے تو بھى جائز ہے »
    ( المهذب في الفقه الإمام الشافعي)
    https://archive.org/stream/FP28685/01-02_28685#page/n839/mode/2up
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نیز دیکھئے ۔۔ المجموع شرح المہذب ۔۔
    https://archive.org/stream/FP3865/magm08#page/n407/mode/2up
     
    Last edited: ‏نومبر 08، 2018
    • علمی علمی x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں