1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بے چارے سلفی !

'سلفیت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏نومبر 30، 2016۔

  1. ‏دسمبر 02، 2016 #31
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,344
    موصول شکریہ جات:
    1,076
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    ایسا نہ کہیں جناب!
    حسن ظن رکھنا چاہیۓ.
     
  2. ‏دسمبر 02، 2016 #32
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,330
    موصول شکریہ جات:
    712
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    ابتسامہ
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏دسمبر 02، 2016 #33
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,526
    موصول شکریہ جات:
    408
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    جناب نام آپکا راشد محمود اور دلیل مسلمین کی؟

    کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہم نے سلف کا لفظ ثابت کیا آپ تو اپنے نام کے دو حرف بھی ثابت نہ کرسکے اور دلیل مسلمین نام کی دے رہے ہو؟
    ابتسامہ
     
    • ناپسند ناپسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  4. ‏دسمبر 02، 2016 #34
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,526
    موصول شکریہ جات:
    408
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    جناب آپکو کس نے اختیار دیا؟ اور آپنے جو دلیل دی ہے اس میں آپ ہی پھنسے ہو اور لطیفہ پر لطیفہ سوال کیا پوچھ رہے ہو
    آپ کو کس نے اختیار دیا کہ آپ اپنا دینی نام خود رکھیں اور جناب اپنے نام کی دلیل بھی نہ دے سکے ؟




     
  5. ‏دسمبر 02، 2016 #35
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,526
    موصول شکریہ جات:
    408
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    جناب ذرا روشنی ڈالیں صرف قرآن و حدیث سے

    IMG_20161202_200057_829-1.jpg
     
  6. ‏دسمبر 03، 2016 #36
    راشد محمود

    راشد محمود رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 24، 2016
    پیغامات:
    216
    موصول شکریہ جات:
    19
    تمغے کے پوائنٹ:
    35

    غلط فہمی : -

    ازالہ : -
    آپ بیشک نہ تسلیم کریں خود کو مسلم کہنا - آپ اپنے اعمال کے جواب دہ خود ہو !
    ہمیں تو قرا ن اور حدیث نبوی پر چلنا ہے لہذا ہم تو خود کو مسلم ہی کہیں گے
    ان شاء الله
     
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • تکرار تکرار x 1
    • لسٹ
  7. ‏دسمبر 03، 2016 #37
    راشد محمود

    راشد محمود رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 24، 2016
    پیغامات:
    216
    موصول شکریہ جات:
    19
    تمغے کے پوائنٹ:
    35

    غلط فہمی : -

    ازالہ : -
    بڑے افسوس کی بات ہے قرآن اور حدیث میں صفاتی نام تو بہت آئے مسلمین کے لیکن ان میں "نہ تو اہل حدیث نام آیا اور نہ ہی سلفی "!
     
  8. ‏دسمبر 03، 2016 #38
    راشد محمود

    راشد محمود رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 24، 2016
    پیغامات:
    216
    موصول شکریہ جات:
    19
    تمغے کے پوائنٹ:
    35

    غلط فہمی : -

    ازالہ : -
    جناب ! میں تو اپنے دینی نام کی دلیل دے چکا ہوں - اب آپ کو دینی ہے -
    جواب نہیں ہے تو الٹا میرا سوال ہی دہرانے لگے آپ ؟؟؟
     
  9. ‏دسمبر 03، 2016 #39
    راشد محمود

    راشد محمود رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 24، 2016
    پیغامات:
    216
    موصول شکریہ جات:
    19
    تمغے کے پوائنٹ:
    35

    غلط فہمی : -

    ازالہ :-
    جناب ! دینی نام کی بات ہو رہی ہے - اور میں نے اپنا دینی نام ثابت کا ہے الحمدللہ -
    اور اب جواب نہ ہونے کی وجہ سے آپ اپنی اصلیت دکھانے لگے ہیں !؟
    اور دوسری بات آپ کو "سلفی " نام کی دلیل دینی ہے - صرف قرآن اور حدیث نبوی کی روشنی میں -
     
  10. ‏دسمبر 03، 2016 #40
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,957
    موصول شکریہ جات:
    6,504
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    قرآن میں جس فرقہ کا ذکر ہے اس سے مراد؟

    شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 23 June 2014 12:01 PM

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

    قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے کس فرقہ پر کاربند رہنے کا حکم دیا ہے،جبکہ قرآن کریم میں تو فرقہ بندی سےمنع کیا گیا ہے ،نیز یہ بھی آگاہ فرمائیں کہ کس حدیث میں رسول اللہﷺ نے 73 فرقوں کا ذکر کیا ہے؟

    قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے ہمارانام مسلمان رکھا ہے اور ہمیں فرقہ بندی سے بھی سختی کے ساتھ منع کیا ہے۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو اہل حدیث کہلاتے ہیں۔ کیا اہل حدیث ایک فرقہ نہیں ہے؟

    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!


    قرآن پاک میں ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے کسی خاص فرقہ پر کاربند رہنے کا حکم نہیں دیا، بلکہ اس سلسلہ میں ہدایت جاری کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لواور تفرقہ نہ پڑو۔ (۳/آل عمران:۱۰۳)

    حبل اللہ ،یعنی اللہ کی رسی سے مراد اللہ کی کتاب اور رسول اللہﷺ کے فرمودات و معمولات ہیں۔ جب تک امت ان دونوں کو مضبوطی سے تھامے رکھے گی،کبھی گمراہی سے دوچار نہیں ہوگی۔ چنانچہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:‘‘میں تمہارے اندردو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں،اگر تم نے انہیں مضبوطی سے تھامے رکھا تو دنیا کی کوئی طاقت تمہیں گمراہ نہیں کرسکےگی۔ وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب اور میرا طریقہ ہے۔’’ (مستدرک حاکم ،العلم:۳۱۹)

    فرقہ سازی ، فرقہ پروری اور فرقہ پرستی سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں منع فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :‘‘تم ان لوگوں کی طرح مت ہوجانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور روشن دلائل آنے کے بعد آپس میں اختلاف کرنے لگے۔’’ (۳/آل عمران:۱۰۵)

    نیز فرمایا کہ ‘‘ جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ ڈالا اور کئی فرقوں میں تقسیم ہوگئے ،ان سے آپ کو کوئی سروکار نہیں ،ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔’’ (۶/الانعام:۱۶۰)

    آیت کریمہ میں ‘‘لوگوں سے مراد یہودو نصاریٰ ہیں جو نفسانی خواہشات اور حصول اقتدار کی بنا پر مختلف گروہوں میں بٹ گئے اور ایک دوسرے کو کافر کہنے لگے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

    ‘‘یہودی اکہتر(71)فرقوںمیں اور نصاریٰ بہتر (72)گروہوں میں بٹ گئے ۔ آخرکار میری امت تہتر(73)فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی جن میں ایک فرقہ کے علاوہ سب دوزخی ہوں گے۔’’

    عرض کیا گیا کہ وہ نجات یافتہ کون لوگ ہوں گے؟آپ نے فرمایا کہ ‘‘جو اس راستہ پر چلیں گے جس پر میں اور میرے صحابہ ؓ گامزن ہیں۔’’ (ترمذی ،الایمان:۲۶۴۱)


    اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر گمراہ فرقے کی بنیاد کوئی اختر اعی عقیدہ یا خود ساختہ عمل ہوتا ہے۔ لہٰذا مسلمان کو اس بات کی تحقیق کرلینی چاہیے کہ اس کا کوئی عقیدہ یا عمل ایسا تو نہیں ہے جو عہد رسالت اور صحابہ کرام ؓ میں پایاجاتا ہو۔ اگر کسی عقیدہ یا عمل کا ثبوت کتاب وسنت سے نہیں ملتا تو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ وہ گمراہی میں مبتلا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ‘‘دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔’’ (۴۲/الشوریٰ:۱۳)

    واضح رہے کہ لوگوں میں اختلاف اور تفرقہ ،اس لئے نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں کوئی ابہام یا سنت رسول اللہﷺ میں کوئی الجھن ہے۔ جس کی لوگوں کو پوری طرح سمجھ نہیں آتی بلکہ اس کی اصل وجہ اپنا اپنا جھنڈا اونچا کرنے کی خواہش یامال و جاہ کی طلب ہوتی ہے، پھر اس کے بعد باہمی ضد اور ایک دوسرے کو زک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ وہ اسباب ہیں جو لوگوں کو دین کی کشادہ راہ اور سیدھے راستہ سے ہٹاکر مختلف پگڈنڈیوں پر ڈال دینے کا باعث ہوئے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ‘‘ان لوگوں میں فرقہ بندی اس وقت پیداہوئی جب وہ ضد بازی پر اتر آئے ، حالانکہ اس سے پہلے ان کے پاس علم وحی آچکا تھا۔ ’’ (۴۲/الشوریٰ:۱۴)

    الحمدللہ!جماعت اہل حدیث کے منہج اور طرزعمل میں فکر و عقیدہ اور عمل و کردار کے اعتبار سے کوئی کجی نہیں ہے ،کیونکہ یہ لوگ اس دین کو تھامے ہوتے ہیں ، جن پر صحابہ کرام ؓ عمل پیرا تھے ان کی شناختی علامت یہ ہے۔

    اصل دین آمد کلام اللہ معظم داشتن پس حدیث مصطفیٰ برجان مسلم داشتن

    جماعت اہل حدیث کے عقیدہ و عمل کو درج ذیل حدیث کی روشنی میں دیکھا جاسکتا ہے کہ رسول اللہﷺؑ نے فرمایا :

    ‘‘میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ اللہ کے احکام کو قائم رکھے گا۔ان کی تکذیب کرنے والے یا انہیں رسواکرنے والے ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے حتیٰ کہ جب قیامت آئے گی تو یہ لوگ احکام الہٰی پر کاربند ہوں گے۔ ’’ (صحیح بخاری:۷۴۶۰)

    یہی وہ اجنبی لوگ ہیں جنہیں رسول اللہﷺ نے مبارک باد دی ہے:

    ‘‘کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو میرے اس طریقہ کی اصلاح کرتے ہیں جسے مختلف لوگوں نے خراب کردیا ہوگا۔’’ (ترمذی ،الایمان:۲۶۳۰)

    جماعت اہل حدیث کے افراد عملی کوتاہی کا شکار توہوسکتے ہیں لیکن من حیث الجماعت فکروعمل کی کوتاہی سے محفوظ ہیں، باقی رہا اہل حدیث نام کا مسئلہ تو یہ کوئی بڑی بات نہیں کیونکہ یہ ایک لقب ہے جو اصحاب الرائے اور روافض سے ممتاز ہونے کے لئے اختیار کیا گیا ہے ۔ا گرچہ فرمان باری تعالیٰ ہے کہ ‘‘اس سے قبل ازیں بھی تمہارا نام مسلم رکھاتھا اور اس (قرآن کریم )میں بھی مسلم ہی رکھا ہے۔’’(۲۲/الحج:۷۸)

    تاہم اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مسلمانوں کو‘‘مہاجرین اور انصار’’کے لقب سے بھی یاد فرمایا ہے۔(۹/التوبہ:۱۰۰)

    متعدد آیات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کی صفات کی وجہ سے مہاجرو انصار میں تقسیم فرما کر ان کی طرف منسوب کردیا اس سے معلوم ہو اکہ جس فرد یا جماعت میں کوئی خاص امتیازی وصف ہوتو مسلمین میں شمولیت کے باوجود ان صفات کی طرف ان کا انتساب کوئی معیوب چیز نہیں ہے اور نہ ہی اسے بدعت کہا جاسکتا ہے۔ اہل حدیث لقب کے جائز ہونے پر محدثین کرام اور تمام سلف صالحین کا اجماع یہی ہے کہ اسلام کےابتدائی دور سے لے کر چودھویں صدی ہجری کے نصف تک کسی نے بھی اس لقب کو بدعت نہیں کہا، پھر حدیث میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

    ‘‘تم مسلمین کو ان کے ناموں کے ساتھ پکارا کرو۔اللہ تعالیٰ نےان کے نام مسلمین ،مؤمنین اور عباد اللہ رکھے ہیں۔’’(مسند امام احمد،ص:۱۳۰،ج ۴)

    اللہ تعالیٰ کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کردینے والے کو ‘‘مسلم ’’کہاجاتا ہے۔ اس لحاظ سے ہر نبی پر ایمان لانے والی قوم مسلم ہی تھی۔اس اعتبار سے ہم بھی مسلم ہیں لیکن جب اس مسلم قوم میں بدعات کا رواج ہوتو امتیازی طورپر انہیں اہل حدیث یا اصحاب الحدیث کہاجانے لگا۔ گویا مسلم ذاتی اور اہل حدیث ایک صفاتی نام ہے۔ اہل رائے اور اہل بدعت کے مقابلہ میں اہل حدیث کالقب اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ آخر ہم لوگ اپنی پہچان کےلئے اپنے نام الگ رکھ لیتے ہیں تو بحیثیت جماعت اہل حدیث صفاتی نام رکھنے میں کیا قباحت ہے ۔ اس حدیث کی مخالفت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ کم ازکم اپنے پیر حضرت عبدالقادرجیلانیؒکی بات ہی مان لیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ اہل السنہ کانام اہل حدیث ہے۔ (غنیۃ الطالبین مترجم فارسی،ص:۲۱۲)

    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب


    ج2ص489

    محدث فتویٰ
     
    • زبردست زبردست x 2
    • ناپسند ناپسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں