1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

تحف حنفیہ بجواب تحفہ اہل حدیث

'منہج' میں موضوعات آغاز کردہ از imran shahzad tarar, ‏ستمبر 03، 2016۔

  1. ‏ستمبر 03، 2016 #1
    imran shahzad tarar

    imran shahzad tarar مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 30، 2016
    پیغامات:
    56
    موصول شکریہ جات:
    7
    تمغے کے پوائنٹ:
    16

    *تحفہ حنفیہ*
    *بجواب*
    *تحفہ اہل حدیث*
    مضمون نمبر 3:

    کیا مرزا قادیانی اہل حدیث تھا؟

    مقلدین حضرات کی طرف سے ایک پوسٹ میں گپ ماری گئی اور مرزا غلام احمد قادیانی کو غیر مقلد اہل حدیث کہا گیا ہے-اور مزید کچھ الزام اور کچھ جهوٹ منسوب کیے گئے جس کا مدلل جواب تو علماء اہل حدیث ہی دیں گے لیکن میں مسلک اہل حدیث کا ادنٰی سا داعی ہونے کے ناطے اپنے فہم و تحقیق سے مختصر تر جواب دینے کی کوشش کرتا ہوں-کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا حنفی مقلد ہونا ثابت ہے-
    اور فیصلہ ہمیشہ کی طرح قارئین پر چهوڑتا ہوں کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے؟؟؟؟

    الحمدللہ:
    نوٹ:کسی تحریک سے چند افراد کا یا کسی فرد کا مرتد ہو جانا کیا اس تحریک کے باطل و مردود ہونے کی دلیل بن سکتی ہے؟؟؟؟

    یہ ایک بہترین سوال ہے جس سے موضوع بحث میں قدرے علمی رنگ بهی آئے گا- اور بات کو سمجھنے میں بهی آسانی رہے گی اس سوال کے جواب میں ہم سب سے پہلے کتاب اللہ کو پیش کرتے ہیں جو تعلیم محمدی کا بنیادی ماخذ ہے-چنانچہ تعلیم قرآن کی رو سے ہدایت من جانب باللہ ہے-یعنی اللہ کی توفیق سے ہی کوئی شخص ہدایت کو قبول کرتا ہے اور قبول کرنے کے بعد اس پر قائم رہتا ہے-گویا کوئی فرقہ یا جماعت کسی کو ہدایت یافتہ بنا سکتا ہے نہ ہی اسے ہدایت پر قائم رکھ سکتا ہے یہی راز ہے کہ انسان دن میں بیسیوں مرتبہ نماز میں صراط مستقیم کی دعا کرتا ہے-

    تعلیم قرآن پر ایک طائرانہ نظر ڈالیے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کی حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کافر تهے، اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ کسی کو یہ کہنے کا حق مل گیا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام حضرت لوط علیہ السلام برائیوں کی جڑ تهے-(نعوذباللہ من ذالک)
    اس سے نیچے آئیے تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کے مقدس گروہ کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں-کہ ان کے ایمان کی گواہی اللہ تعالیٰ نے بار بار قرآن میں دی ہے-مگر اسی گروہ میں بعض نام کے مسلمان بهی تهے جو منافقین کے نام سے یاد کیے جاتے ہیں-بلکہ ایک کاتب وحی مرتد ہو گیا تها-(بخاری)
    اسی طرح مال غنیمت کو تقسیم کرتے ہوئے جس شخص نے کہا تها اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم انصاف کیجئیے-(بخاری)
    وہ بهی تو خود کو مسلمان ہی سمجھتا تها-اب اگر ان باتوں کو لے کر کوئی یہ اعتراض کر دے کہ صحابہ میں منافقین کا وجود اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بے انصافی کا اعتراض اور کاتب وحی کا مرتد ہونا درحقیقت اسلام کا نقص ہے-تو کیا کوئی عقل مند اس اعتراض میں وزن محسوس کرے گا؟؟
    ہر گز نہیں بلکہ ایسے معترض کو ہر باشعور انسان علم و فہم سے کورا تعصب سے لبریز اور پڑها لکها جاہل کہے گا-
    مقلدین حضرات اپنے حال پہ غور کریں اپنے اعتراض کو تاریخ کے آئینہ میں دیکهیں-
    معروف مدعی نبوت مختار بن عبیداللہ جس کا دعویٰ تها کہ میرے پاس وحی آتی ہے اور میں اللہ کا نبی ہوں-( مسند طیالسی وغیرہ بحوالہ فتح الباری ص 484 ج6 )
    نبوت کا دعویٰ کرنے والا معروف صحابی عبیداللہ رضی اللہ عنہ کا بیٹا تها -کیا کوئی دانا یہ بات تسلیم کرنے کو تیار ہے کہ مختار کا دعویٰ صحابی رسول کا بیٹا ہونے کا نتیجہ ہے-
    میرے عزیز بهایئو! فقہ حنفی کے ابواب الحیل کی بجائے آپ حضرات قرآن وسنت کا بهی مطالعہ کیا کریں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:( سیکون فی امتی کذابون ثلثون کلهم یذعم انہ نبی للہ)یعنی عنقریب میری امت سے تیس جهوٹے کذاب پیدا ہوں گے جو تمام کے تمام نبی ہونے کا دعویٰ کریں گے-
    امر واقعہ میں بهی یہ پیش گوئی پوری ہوئی اور اسلام میں ایسے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا مگر آج تک کسی جاہل سے جاہل اور متعصب سے متعصب نے بهی اسلام پر یہ اعتراض نہیں کیا کہ مسلمانوں سے جهوٹے مدعی نبوت پیدا ہوئے ہیں، لہٰذا اسلام کی تعلیم میں کوئی نقص ضرور ہے-مزید دکھ کی بات یہ ہے کہ اس اعتراض کو کرنے والے سادہ لوح عوام کے ساتھ ساتھ ایسے افراد بهی ہیں جن کے نام کے ساتھ شیخ الحدیث و التفسیر کا بهی لاحقہ و اضافہ ہے-
    پهر جہاں یہ اعتراض اپنے اندر کوئی معقولیت نہیں رکهتا ویسے ہی یہ جهوٹ بهی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اہل حدیث تها-
    (نوٹ:اس مضمون میں آگے جا کر اوپر بیان کردہ بحث میں تکرار آئے گا جو کہ قارئین کیلئے مفید ثابت ہو گا)
    توآئیے اس کی تفصیل ملاحظہ کریں-

    چناچہ علامہ عبدالحئی لکھنوی حنفی فرماتےہیں: فکم من حنفی حنفی فی الفروع معتزلی عقیدۃ کالز محشری جا راللہ مؤلف الکشاف وغیرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وکم من حنفی حنفی فرعا مرجی او زیدی اصلاً وبالجملۃ فالحنفیۃ لہا فروع باعتبار اختلاف العقیدۃ فمنہم الشیعۃ ومنہم المعتزلۃ ومنہم المرجئۃ۔
    (الرفع والتکمیل فی الجرح والتعدیل ص ۲۷۔ دوسرا نسخہ ص ۳۸۵۔۶۸۳ بتحقیق ابی غدہ)
    "عقیدہ کے اعتبار سے حنفی مذہب کی کئی شاخیں اور فروع ہیں ۔بہت سارے حنفی شیعہ، معتزلہ اور مرجئہ ہیں، درحقیقت حنفی فرقہ وہ جماعت ہے جو فروعی مسائل اور شرعی اعمال میں امام ابو حنفیہ کی تقلید کرتے ہیں اگرچہ ان کا عقیدہ امام صاحب کے موافق ہو یا نہ ہو، اگر موافق ہوگا تو وہ کامل حنفی کہلائے گا مگر جو دوسرے فرقوں کے موافق عقیدہ رکھے گا وہ بھی حنفی ہی کہلائے گا لیکن اس کےعقیدے کی وضاحت کی جائے گی، اس طرز پر بہت سارے لوگ فروعی مسائل میں حنفی ہیں اور عقیدہ کے اعتبار سے معتزلی مثلًا زمخشری، نجم الدین الزاہدی، عبدالجبار، ابو ہاشم اور جبائی وغیرہم، اسی طرح کتنے ہی فروعی مسائل میں حنفی ہیں اور اصولی مسائل کے اعتبار سے مرجیہ اور زیدی شیعہ ہیں۔" اسی طرح احناف کے مرشدو ممدوح شیخ عبدالقادر جیلانی نے بہتر (۷۲) گمراہ فرقوں کی تفصیل ان کے ناموں کے ساتھ لکھی ہے ،مرجئہ فرقہ کی بارہ شاخوں میں سے ایک "حنفیہ" کو قرار دیا ہے اور حنفیہ کے بارے میں لکھتے ہیں: واما الحنفیۃ فہم بعض اصحاب ابی حنیفۃ النعمان بن ثابت زعموان الایمان ہو المعرفۃ والاقرار بااللہ ورسولہ۔۔۔۔۔ یعنی حنفیہ، ابو حنیفہ کے بعض اصحاب کا نام ہے جن کا نظریہ یہ ہے کہ ایمان اللہ اور اس کے رسول ﷺکی معرفت اور اقرار کا نام ہے۔ شیخ جیلانی فرقہ ناجیہ کے بارے میں لکھتے ہیں: واما الفرقۃ الناجیۃ فہی اہل السنۃ والجماعۃ ۔۔۔۔۔ وما اسمہم الّا اصحاب الحدیث واہل السنۃ۔ یعنی فرقہ ناجیہ اہل النسۃ والجماعۃ ہے جن کا نام اصحاب الحدیث (اھل الحدیث) اور اہل السنۃ ہی ہے

    ۔ (غنیۃ الطالبین ص ۲۱۴- ۲۲۱، ۲۲۲ )

    یعنی حنفیہ شیخ جیلانی کے نزدیک گمراہ فرقوں میں سے ہے جن کا اہل السنۃ والجماعۃ سے کوئی بھی تعلق نہیں ہے۔ اسی لئے شیخ العرب والعجم علامہ سید ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: "میں یہ بات علیٰ وجہ البصیرۃ کہتا ہوں کہ موجودہ تمام مذہبی فتنوں مثلاً عیسائی مشنری، کمیونزم تحریک، چکڑالوی، انکار حدیث، مرزائی، شیعہ وغیرہ کی بنیاد فقہ حنفی کی کتابوں میں ملتی ہے۔ پھر اگرچہ کسی نے پَر سے پرندہ بنایا ہو، لیکن اس پَر کا وجود فقہ حنفی میں ہوتا ہے۔" (مروجہ فقہ کی حقیقت (سندھی) ص ۳۰) قارئین کرام: اس کے برعکس آج کل دیوبندیوں اور بریلویوں نے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ مرزاقادیانی اہلحدیث تھا اس کی مثال "الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے" کی طرح ہے، مرزا اگر اہلحدیث ہوتا تو دعویٰ الوہیت، نبوت، مسیحیت وغیرہ کبھی نہ کرتا کیونکہ ائمہ کرام کے نزدیک اہلحدیث کی تعریف ہی یہی ہے کہ: صاحب الحدیث عندنا من یستعمل الحدیث۔ (مناقب الامام احمد بن حنبل ص ۸۰۲)"یعنی ہمارے نزدیک اہلحدیث وہ ہے جو رسول اللہ ﷺ کی حدیث پرعمل پیرا ہو" جب کہ احادیث میں تو اس قسم کے دعوؤں کو کفر و شرک کہا گیا ہے۔تو مرزا کا اہلحدیث ہونا محال ہے۔اصولی جواب اہلحدیث کے عظیم سپوت مولانا پروفیسر حافظ عبداللہ بہاولپوری اس کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: اگر بفرض ومحال یہ تسلیم کرلیا جائے کہ مرتد ہونے سے پہلے یہ لوگ اہلحدیث تھے۔ تو اس سے اہلحدیث پر کیا حرف آتا ہے؟ آپ لوگ مقلد ہیں جو ایسی بے عقلی کی باتیں کرتے ہیں اگر تقلید نے آپ کی مت نہ ماردی ہوتی تو ایسی احمقانہ باتیں کبھی نہ کرتے، آپ بتائیں رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے والوں میں سے جو مرتد ہوئے ان سے آپ ﷺ یا جماعت صحابہ پر کوئی حرف آیا؟ شیطان کے راندہ درگاہ ہونے سے جماعت ملائکہ پر کوئی اثر پڑا؟ اگر اسلام سے کوئی منحرف ہوجائے تو اسلام پر کوئی دھبہ آسکتا ہے؟ کسی کے راہ حق سے ہٹ جانےسے راہ حق خراب نہیں ہوتی بلکہ صاف ہوجاتی ہے۔ جب ایک مسلمان اقالہ بیعت کرکے مدینہ چھوڑ کر جانے لگا تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ مدینہ بھٹی ہے یہ منافق اور گندے کو برداشت نہیں کرتا۔ جس کے اندر گند ہوتا ہے وہ حق کو چھوڑ جاتا ہے اس سے حق پر طعن نہیں آتا، دیوبندی حضرات احمد رضا خان بریلوی کو کیا سمجھتے ہیں؟ ان کے نزدیک وہ امام الضالین والمضلین نہ تھے؟ اسی طرح بریلوی حضرات رشید احمد گنگوہی، اشرف علی تھانوی اور دیگر دیوبندی اکابرین کو ان سے کم "القابات" سے نہیں نوازتے۔ ان کا ظہور حنفیت میں ہی ہوا اور حنفیت میں ہی پروان چڑھے حنیتس کو ہی انہوں نے چار چاند لگائے ۔ آپ بتائیں ان کی وجہ سے کیا حنفیت پلید ہوگئی؟ اگر ان کے ظہور سے حنفیت کو کچھ نہیں ہوا تو مرزا یا کسی اور کے خروج سے اہلحدیث کو کیا ہوجائے گا؟" (رسائل بہاولپوری ص ۱۸۳ بتصرف یسیر) ہمارے استاد فضلۃو الشیخ حافظ محمد سلیم صاحب حفظہ اللہ )شیخ الحدیث المعہد السلفی کراچی( نے بتایا کہ مناظر اہلحدیث مولانا عبدالقاد روپڑی رحمہ اللہ پر مدمقابل مناظر نے یہی اعتراض کیا کہ مرزا قادیانی اہلحدیث تھا؟ تو انہوں نے برجستہ جواب دیا کہ : "خراب ہمیشہ دودھ ہی ہوتا ہے، پیشاب کبھی خراب نہیں ہوتا"حقیقت کیا ہے؟ معزز قارئین!حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی دعویٰ نبوت سے قبل اور بعد میں بھی حنفی رہا اور حنفیت کی تعریف سے رطب اللسان تھا، بلکہ لوگوں کو حنفیت کی تعلیم دیتا رہا۔ لیکن باری ہے سب سے پہلے اصول وعقائد کی اس لیئے ہم بات کی ابتدا٫ کرتے ہیں عقائد سے آئندہ سطور میں ہم ثابت کریں گے کہ مرزا جی اور احناف کے عقائد میں ہم آہنگی ہے۔ (۱) غیر اللہ کو پکارنا مرزا قادیانی مشکل اور مصیبت کے وقت پڑھا کرتا تھا : اے سید الوریٰ مددے وقت نصرت است یعنی اے رسول اللہ! آپ کی امت پر نازک گھڑی آئی ہوئی ہے میری مدد کو تشریف لائیے کہ یہ نصرت کا وقت ہے۔
    (سیرت المہدی ص ۵۵ ج ۳)
    یہ الفاظ بھی مذکور ہیں کہ : صلی اللہ علیک یا رسول اللہ وسلمک اللہ یا رسول اللہ (ایضًا) حاجی امداد اللہ صاحب دیوبندی کے اشعار بھی بلکل اسی طرز کے ہیں کہ : سخت مشکل میں پھنسا ہوں آج کل اے میرے مشکل کشا فریاد ہے-
    (کلیات امدایہ ص ۹۱)
    اشرف علی تھانوی صاحب فرماتے ہیں: دستگیری کیجئے میرے نبی کشمکش میں تم ہی ہو میرے نبی بجز تمہارے ہے کہاں میری پناہ فوج کلفت مجھ پر آ غالب ہوئی ابن عبداللہ زمانہ ہے خلاف اے میرے مولا خبر لیجئے میری میں ہوں بس اور آپکا دریا رسول ابرغم گھیرےنہ پھر مجھ کو کبھی
    (نشر الطیب ص ۱۵۶)
    دیوبندیوں کے نزدیک علی رضی للہ عنہ بھی مشکل کشا ہیں (کلیات امدایہ ص ۱۰۳)مزید دیکھئے فضائل درود ۳۷۲)
    بریلوی حضرات کے نزدیک تو یہ عقیدہ مسلمہ ہے۔ (۲) قبر پرستی "مرزا قادیانی نے ایک بزرگ کی قبر پر دعا مانگی تو صاحب قبر اپنی قبر سے نکل کر دوزانو ہوکر ان کے سامنے بیٹھ گئے۔ مرزا نے اپنے ساتھی سے کہا کہ اگر تم نہ ہوتے تو میں ان سے باتیں بھی کرلیتا۔" الخ (سیرۃ المہدی ج ۱ ۷۱)

    "بعض لوگ قبروں پر سے کپڑے اتار کر لے جاتے تھے جب مرزا قادیانی کو معلوم ہوا تو اس نے اس کام کو ناجائز قرار دیا تب یہ لوگ باز آگئے۔"
    (سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۲۶۴)

    چہلم کے بارے میں مرزا کی ایک حکایت ہے کہ: یہ جو چہلم کی رسم ہے یعنی مردے کے مرنے سے چالیسویں دن کھانا کھلا کر تقسیم کرتے ہیں غیر مقلد اسکے بہت مخالف ہیں۔۔۔۔۔۔ اس پر مرزا نے کہا فرمایا کہ چالیسویں دن غربا٫ میں کھانا تقسیم کرنے میں یہ حکمت ہے کہ مردے کی روح کے رخصت ہونے کا دن ہے پس جسطرح لڑکی کو رخصت کرتے ہوئے کچھ دیا جاتا ہے اسی طرح مردے کی روح کی رخصت پر بھی غربا٫ میں کھانا دیا جاتا ہے تاکہ اسے اسکا ثواب پہنچے۔
    "(سیرۃ المہدی ج ۱ ص ۱۸۳) "
    مرزا بزرگوں کے عجیب و غریب کشف اور چلہ کشی وغیرہ کا بھی قائل تھا۔"
    (سیرۃ المہدی ج ۱ ص ۶۹-۷۰-۸۱-۸۲- تریاق القلوب ۶۲)

    "مرزا کے والد کی قبر پختہ بنائی گئی اور مسجد کے صحن میں دفن کیا گیا۔
    "( سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۱۷۸)
    قارئین کرام! ان عقائد کا حامل شخص اہلحدیث کیسے ہوسکتا ہے؟ یہ عقائد تو حنفیت کی دونوں شاخوں بریلویوں اور دیوبندیوں کےپاس مسلمہ ہیں جن سے ان کے اکابر کی کتابیں بھری پڑی ہیں،چنانچہ حاجی امداد اللہ صاحب فرماتے ہیں کہ : "ایک صاحب کشف شخص حضرت حافظ صاحب کے مزار پر فاتحہ پڑھنے لگے۔ بعد فاتحہ کہنے لگے: بھائی! یہ کون بزرگ ہیں؟ بڑے دل لگی باز ہیں جب میں فاتحہ پڑھنے لگا تو مجھ سے فرمانے لگے کہ جاؤ کسی مردہ پر فاتحہ پڑھیو یہاں زندوں پر فاتحہ پڑھنے آئے ہو یہ کیا بات ہے۔" (ارواح ثلاثہ ۱۸۱ حکایت نمبر ۲۰۵)

    اسی قسم کے مزیدواقعات کے لئے تبلیغی جماعت کے رہنما مولوی زکریا کی کتاب فضائل صدقات ص ۵۶۲-۵۷۱-۵۷۲- ملاحظہ فرمائیں۔ نیز دیوبندیوں کے نزدیک قبر کی مٹی سے شفا حاصل ہوتی ہے۔ (حکایات اولیا٫ حکایت نمبر ۳۶۶)
    عقیدہ کے بارے میں علی الاطلاق مرزائیت کا یہ پیغام ہے کہ: "احمدیت کا سیدھا سادہ عقیدہ اس بارے میں وہی ہے جو حضرت امام ابوحنیفہ کا تھا"
    (پیغام احمدیت ص ۱۶)
    عقیدہ کے دیگر مسائل مرزا کے نزدیک بزرگوں کو دیکھنے سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔
    (سیرۃ المہدی ج۲ ص۹۸)
    اور دیوبندیوں کے نزدیک بھی بزرگ کم درجہ نہیں رکھتے۔ چنانچہ ملاحظہ فرمائیں: " واللہ العظیم مولانا تھانوی کے پاؤں دھوکر پینا نجات اخروی کا سبب ہے (تذکرۃ الرشید ج ۱ ص ۱۱۳)
    اور دیوبندیوں کے نزدیک حق وہی ہے جو رشید احمد گنگوہی کی زبان سے نکلتا ہے-
    (تذکرۃ الرشید ج ۲ ص ۱۷)
    مرزا نے لکھا ہے کہ: ہمارے نبی ﷺکا اکثر اولیا٫ سے عین بیداری کی حالت میں ملاقات کرنا کتابوں میں بھرا پڑا ہے اور مؤلف رسالہ ہذٰا (خود مرزا)بھی کئی دفعہ اس شرف سے مشرف ہوچکا ہے۔
    (ازالہ اوہام ص ۹۴)
    اسی طرح دیوبندی مولوی علی میاں نے سید احمد شہید کے بارے میں لکھا ہے کہ انہوں نے بیداری کی حالت میں رسول اللہ ﷺ اور ابو بکر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی ۔ (تاریخ دعوت وعزیمت ج ۱ ص ۱۲۸ حصہ ششم) مرزا قادیانی اپنے آپکو رحمۃ للعالمین کہتا ہے (تذکرۃ الشہادتین ص ۳)
    اور دیوبندیوں کے نزدیک حاجی امداد اللہ رحمۃ للعالمین ہیں (قصص الاکابر ص ۶۹)
    جبکہ اللہ رب العالمین اپنی پیاری کتاب قرآن مجید میں محمد رسول اللہ ﷺ سے مخاطب ہوکر فرماتا ہے کہ: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ (107) (الانبیا٫) ہم نے آپکو رحمۃ للعالمین بناکر مبعوث فرمایا قارئین کرام! مندرجہ بالا عقائد میں مرزا قادیانی نے حنفیت کی خوب تائید کر رکھی ہے۔ نجات کی بنیاد عقیدہ پر ہے، سب انبیا٫ کی پہلی دعوت عقیدہ توحید کی دعوت ہے اور اہلحدیث کا مرزائیوں، حنفیوں بریلویوں اوردیوبندیوں سے اصل اختلاف عقیدے میں ہے۔ عقائد میں مرزا قادیانی نے احناف کی اتنی موافقت کر رکھی ہے کہ علما٫ احناف بھی اسے تسلیم کر رہے ہیں چنانچہ بریلوی حضرات کے مرشد و محبوب خواجہ غلام فرید چشتی حنفی فرماتے ہیں کہ : وہ (مرزاقادیانی) اہل سنت و جماعت کے عقائد و ضروریات دین کا ہرگز منکر نہیں ہے۔ "(اشارات فریدی حصہ سوم ص ۶۰) دیوبندیوں کے حکیم الامت مولوی اشرف علی تھانوی کے سامنے کسی شخص نے مرزا کے لئے سخت الفاظ استعمال کیے تو انہوں نے اسے برا محسوس کیا۔ حضرت (تھانوی) نے لہجہ بدل کر ارشاد فرمایا کہ" یہ زیادتی ہے، توحید میں ہمارا ان سے کوئی اختلاف نہیں" ۔۔۔۔۔۔ الخ (سچی باتیں ص ۲۱۳)
    امام اعظم کون ہیں؟اہلحدیث کے نزدیک امام اعظم محمد رسول اللہ ﷺ ہیں چنانچہ محدث دیار سندھ شیخ العرب والعجم الامام السید بدیع الدین شاہ الراشدی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ: " خبردار! اہلحدیث کا کوئی بھی امام نہیں ہے بلکہ صرف ایک امام یعنی امام اعظم جناب رسالت مآب محمد ﷺ ہیں۔" (مروجہ فقہ کی حقیقت (سندھی) ص ۴۶) شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے سندھ کی عظیم منھجی جماعت، جمعیت اہلحدیث سندھ کی بنیاد رکھی تو اس کے منشور میں باقاعدہ یہ نکہی شامل فرمایا کہ: "صرف محمد ﷺ کو امام اعظم تسلیم کرنا" (توحید ربانی سندھی) دوسری طرف حنفی ،امام ابو حنیفہ کے "امام اعظم" ہونے کا ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں، اس نام سے کانفرنسیں بھی منعقد کرتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اس مسئلے میں احناف کی تائید کر رکھی ہے چنانچہ اس نے ازالہ اوہام ص ۱۹۸ میں امام ابوحنیفہ کو امام اعظم لکھا ہے اور امام صاحب کے احادیث کی طرف کم التفات کرنے کی عجیب و غریب تاویلیں کی ہیں اور ان کی تعریف میں رطب اللسان ہے، مرزا بشیر لکھتا ہے کہ: حضرت مسیح موعود (مرزا) یوں تو سارے اماموں کو عزت کی نظر سے دیکھتے تھے مگر امام ابوحنیفہ صاحب کو خصوصیت کے ساتھ علم و معرفت میں بڑھا ہوا سمجھتے تھے اور ان کی قوت استدلال کی بہت تعریف فرماتے تھے۔ (سیرت المہدی ص ۴۹ ج ۲) بلکہ اجتہاد، علم اور درایت اور فہم و فراست میں باقی ائمہ ثلاثہ سے افضل و اعلیٰ تھے۔
    (ازالہ اوہام ص ۱۹۸) اہلحدیث بھی امام ابوحنیفہ کی عزت کرتے ہیں مگر تعریف میں اتنا غلو ایک حنفی ہی کرسکتا ہے! عقیدہ ختم نبوت عقیدہ ختم نبوت قرآن و حدیث کے دلائل سے ثابت ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں لیکن حنفی مولویوں کی کتابوں میں ایسی عبارتیں موجود ہیں جن سے اس عظیم الشان عقیدے پر حرف آتا ہے چنانچہ"حضرت غوث علی شاہ قلندری قادری" کی ملفوظات مولوی گل حسن شاہ قادری نے "تذکرہ غوثیہ" کے نام سے مرتب کی ہے جس کے صفحہ ۳۲۴ میں ہے کہ: حضرت ابوبکر شبلی کی خدمت میں دو شخص بارادہ بیعت حاضر ہوئے ان میں سے ایک کو فرمایا کہ کہو: لا الٰہ الا اللہ شبلی رسول اللہ اس نے کہا اجی لاحول ولاقوۃ الا باللہ آپ نے بھی یہی کلمہ پڑھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسرے شخص کو بلایا اور فرمایا کہو لا الٰہ الّا اللہ شبلی رسول اللہ اس نے جواب دیا کہ حضرت میں تو آپ کو کچھ اور ہی سمجھ کے آیا تھا آپ تو درے ہی پر گر پڑے رسالت پر ہی قناعت کی (یعنی میں آپ کو رسالت سے بڑھ کر سمجھ کر آیا تھا) مولوی اشرف علی دیوبندی کے ایک مرید نے خواب دیکھا کہ وہ خواب میں کہہ رہا ہے لا الٰہ الَّا اللہ اشرف علی رسول اللہ اور پھر اٹھ کر بھی اس کے منہ سے درود پڑھتے ہوئے محمد ﷺ کی بجائے مولانا اشرف علی نکلتا ہے-
    (رسالہ امداد ص ۳۵ بحوالہ دیو بیت ص ۱۹۰)
    جب مرید نے خواب بیان کیا تو مولوی اشرف علی نے بجائے اسے ڈانٹنے اور ایمان کی تجدید کروانے کے اسے ان الفاظ سے حوصلہ دیا کہ "اس واقعے میں تسلی تھی کہ جسکی طرف تم رجوع کرتے ہو وہ بعونہ تعالیٰ متبع سنت ہے"۔ مولوی رشید احمد گنگوہی نے کہا: اور یہ قسم (سے) کہتا ہوں کہ جو کچھ نہیں ہوں مگر اس زمانے میں ہدایت و نجات موقوف ہے میرے اتباع پر
    (تذکرۃ الرشید ج ۲ ص ۱۷) ایک بریلوی مولوی محمد اصغر علوی اپنے اعلیٰ حضرت احمد رضا کے بارے میں لکھتا ہے کہ: غیر شرعی لفظ زبان مبارک پر نہ آیا اور اللہ تعالیٰ نے ہر لغزش سے آپکو محفوظ رکھا۔ (مقدمہ فتاویٰ رضویہ ج ۲ ص ۶)
    اندازہ لگائیے کہ معصوم عن الخطا ہونا تو انبیا٫ کرام کی شان ہے! احمد رضا کے سونے کے انداز کے بارے میں لکھتے ہیں کہ: اپنی کروٹ اس طرح لیٹتے تھے کہ دونوں ہاتھ سر کے نیچے رکھتے اور پاؤں سمیٹ کر سوتے اس طرح سر "میم" کہنیاں "ح" کمر "میم" اور پاؤں "دال" گویا نام محمد (ﷺ) کا نقشہ بن جاتا اسطرح سونے سے فائدہ یہ ہے کہ ستر ہزار فرشتے رات بھر نام مبارک کے گرد درود شریف پڑھتے ہیں-
    (فتاویٰ رضویہ ج ۲ ص ۱۶)
    بلکہ ص ۱۱ پر یہ بھی لکھا ہے کہ: انی لاجد نور اللہ فی ہٰذا الجبین (بیشک اللہ کا نور اس (احمد رضا کی) پیشانی میں پاتا ہوں)۔ قارئین کرام! خاتم النبیین کے معنیٰ میں بھی ان لوگوں نے تحریف کر رکھی ہے چنانچہ ملاعلی قاری حنفی لکھتے ہیں: اذا المعنیٰ لایاتی نبي بعدہ ینسخ ملتہ-
    (موضوعات کبیر ص ۱۰۰)
    یعنی خاتم النبیین کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی نہ آئے گا کہ جو آپ ﷺ کے دین کو منسوخ کردے۔ اس کا معنیٰ تو یہ ہے کہ شریعت کو منسوخ کرنے والا نبی نہیں آسکتا لیکن شریعت محمدی کو منسوخ نہ کرنے والا نبی آسکتا ہے۔ مرزا کے بارے میں کیا خیال ہے اس نے بھی ظلی، بروزی اور شارح نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا؟ مولوی قاسم نانوتوی فرماتے ہیں اگر بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کہیں اور نبی ہو تو جب بھی آپکا خاتم ہونا بدستور باقی ہے۔ (تحذیر الناس ۱۸)
    دیوبندیوں کے نزدیک سات زمینیں ہیں ہر زمین میں ہمارے نبی جیسا نبی ہے۔ (تحذیر الناس ص ۴) قاری طیب دیوبندی لکھتے ہیں کہ: حضور کی شان محض نبوت ہی نہیں نکلتی بلکہ نبوت بخشی بھی نکلتی ہے جو بھی نبوت کی استعداد پایا ہوا فرد آپ کے سامنے آگیا نبی ہوگیا (آفتاب نبوت ص ۸۲)
    خام النبیین کا بعینہ یہی معنیٰ مرزا قادیانی نے کیا ہے لکھتا ہے: آنحضرت ﷺ کو صاحب خاتم بنایا گیا یعنی آپکو افاضہ کمال کے لیئے مہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھرا یعنی آپکی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے (حقیقۃ الوحی ص ۹۷ روحانی خزائن ص ۱۰۰ ج ۲۲)
    تقلید اور مرزا قادیانی جس طرح احناف تقلید کے دلدادہ ہیں مرزا قادیانی بھی اسی طرح تقلید کو ضروری تصور کرتا ہے چنانچہ لکھا ہے: ہمارا مذہب وہابیوں کے برخلاف ہے ہمارے نزدیک تقلید کو چھوڑنا ایک قباحت ہےکیونکہ ہر ایک شخص مجتہد نہیں ہے۔ آج کل جو لوگ بگڑے ہوئے ہیں اسکی وجہ صرف یہی ہے کہ اماموں کی متابعت چھوڑدی گئی۔
    (روحانی خزائن ج ۲ ص ۳۳۲۔۳۳۳) یعنی مرزا کے نزدیک وہابی وہ ہیں جو تقلید کو چھوڑ دیتے ہیں اسلیئے ان وہابیوں سے اعلان برأت کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ : مجھے یہ خواہش کبھی نہیں ہوئی کہ مجھے وہابی کہا جائے اور میرا نام کسی کتاب میں وہابی نہ نکلے گا۔ (روحانی خزائں ۲ ج ۴ ص ۴۰۳)
    ایک مولوی مرزا کے پاس آیا اور الگ ملاقات کی خواہش ظاہر کی جب وہ آپ سے ملا تو باتوں باتوں میں اسنے کئی دفعہ یہ کہا کہ میں حنفی ہوں اور تقلید کو اچھا سمجھتا ہوں و غیر ذالک آپ نے اس سے فرمایا کہ ہم کوئی حنفیوں کے خلاف تو نہیں ہیں کہ آپ بار بار اپنے حنفی ہونےاظہار کرتے ہیں میں تو ان چار اماموں کو مسلمانوں کے لیئے بطور چار دیواری کے سمجھتا ہوں جسکی وجہ سے وہ منتشر اور پرا گندہ ہونے سے بچ گئے ہیں ہر شخص اس بات کی اہلیت نہیں رکھتا کہ دینی امور میں اجتہاد کرے اگر یہ ائمہ نہ ہوتے تو ہر اہل و نا اہل آزادانہ طور پر اپنا طریق اختیار کرتا اور امت محمدیہ میں ایک اختلاف کی عظیم صورت قائم ہو جاتی، ان ائمہ نے مسلمانوں کو پراگندہ ہوجانے سے محفوظ رکھا ہم ان کی قدر کرتے ہیں ان کی بزرگی اور احسان کے معترف ہیں یہ امام مسلمانوں کے لیئے بطور چار دیواری کے رہے ہیں۔ (سیرۃ المہدی ج ۲ ص ۴۹)
    قارئین کرام!مرزانے تقلید کی تعلیم کتنے ہی "خوبصورت " انداز میں پیش کی ہے کیا یہ انداز کسی اہلحدیث کا ہو سکتا ہے؟ یعنی مرزا کے نزدیک ان ائمہ کی تقلید کو چھوڑنا انتشار، پراگندگی، آزادی اور اختلاف کا باعث ہے! اب ان چاروں مذاہب میں سے جو مذہب مرزا نے اپنے اور اپنے ساتھیوں کے لیئے پسند کیا وہ حنفی مذہب ہے۔ مرزا قادیانی حنفی مناظر کی حیثیت سے مولانا محمد حسین بٹالوی کے مقابلے میں حنفیوں نے مرزا قادیانی کو مناظر مقرر کیا اس نے حنفی اور وہابی مسائل پر شیخ محمد حسین بٹالوی سے مناظرہ کیا اور رسوا ہوا۔ (سیرۃ المہدی ج ۲ ص ۹۱)
    مرزا کی حنفیت سے محبت یہ بات پیچھے گذر چکی ہے کہ مرزا لفظ وہابی وغیر مقلد اہلحدیث کے لیئے استعمال کرتا تھا چنانچہ لکھا ہے کہ نواب ناصر وہابی مذہب کے تھے اور مرزا صاحب اہل سنت و الجماعت تھے ان کے درمیان اپنے اپنے مذاہب پر بحث مباحثہ بھی ہوتا رہتا تھا۔ (سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۱۷۸) مرزا کا بیٹا مرزا بشیر لکھتا ہے کہ: اصولا آپ ہمیشہ اپنے آپکو حنفی ظاہر فرماتے تھے آپ نے اپنے لیئے کسی زمانہ میں بھی اہل حدیث کا نام پسند نہیں فرمایا (سیرۃ المہدی ج ۲ ص ۴۹)
    مرزا خود لکھتا ہے کہ: ہمارے ہاں جو آتا ہے اسے پہلے حنفیت کا رنگ چڑہانا پڑتا ہے میرے خیال میں یہ چاروں مذاہب اللہ تعالیٰ کا فضل ہیں اور اسلام کے واسطے ایک چار دیواری (ملفوظات مرزا غلام احمد ج ۲ ص ۳۳) مولوی محمد علی لاہوری نے لکھا: حضرت مرزا صاحب ابتدا٫ سے لیکر آخر زندگی تک علی الاعلان حنفی المذہب رہے (تحریک احمدیت ص ۱۱) مرزا حنفیت کا داعی و مبلغ نہ صرف یہ کہ مرزا خود حنفی تھا بلکہ حنفیت کا داعی اور مبلغ بھی تھا۔ چنانچہ مرزا بشیر لکھتا ہے کہ: مرزا نے مولوی نور الدین صاحب کو یہ لکھا کہ آپ یہ فرمادیں کہ میں حنفی المذہب ہوں حالانکہ آپ جانتے تھے کہ حضرت مولوی صاحب عقیدتا اہلحدیث تھے حضرت مولوی صاحب نے اس کے جواب میں حضرت (مرزا) صاحب کی خدمت میں ایک کارڈ ارسال کیا جس میں لکھا: بہ مے سجادہ رنگیں کن گرت پیر مغان گوید کہ سالک بے خبر نبود زادہ و رسم منزلہا اور اس کے نیچے نور الدین حنفی کے الفاظ لکھ دیئے ۔۔۔۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی صاحب نے جو شعر لکھا تھا کہ اگرچہ میں اپنی رائے میں تو اہل حدیث ہوں لیکن چونکہ میرا پیر طریقت (مرزا) کہتا ہے کہ اپنے آپ کو حنفی کہو اسلیئے میں اس کی رائے پر اپنی رائے کو قربان کرتا ہوا اپنے آپکو حنفی کہتا ہوں (سیرت الہدی ج ۲ ص ۴۸)
    مرزا نے مولوی نور الدین پر حنفیت کا ایسا رنگ چڑھایا کہ اس نے لکھا کہ: کتاب وسنت پر ہمارا عمل ہے اگر بتصریح وہاں مسئلہ نہ ملے تو فقہ حنفیہ پر اس ملک میں عمل کرلیتے ہیں-
    (مرقاۃ الیقین فی حیاۃ نور الدین ص ۳۲)
    اوپر مذکور واقعہ میں نور الدین کے الفاظ کہ: میرا پیر طریقت کہتا ہے کہ اپنے آپکو حنفی کہو اسلیئے میں اپنی رائے کو اسکی رائے پر قربان کرتا ہوں" اسکی مقلدانہ ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں نیز مرزا کے دامن تزویر میں پھنسنے سے پہلے ہی نورا لدین کے اصول وہی تھے جو احناف کے ہیں-
    (سیرۃ المہدی ج ۲ ص ۴۸)
    مرزا کا اہلحدیث سے بغض اوپر یہ حوالہ گذر چکا ہے کہ مرزا کو لقب اہلحدیث سے نفرت تھی، اس نے کسی زمانہ میں بھی اہلحدیث کا نام پسند نہیں کیا ۔مرزا کے اصول و قواعد اہلحدیث سے الگ تھلگ ہیں چنانچہ وہ خود لکھتا ہے کہ: ہم اہلحدیث کی اصطلاحات سے الگ ہوکر بات کرتے ہیں یعنی ہم حدیث اور سنت کو ایک چیز قرار نہیں دیتے جبکہ یہ رسمی محدثین کا طریقہ ہے۔ (مسیح موعود حکم کاریو :۶) مولانا محمد حسین بٹالوی رحمہ اللہ نےاہلحدیث کے دس امتیازی مسائل، رفع الیدین آمین وغیرہ کے ثبوت کے بارے میں ایک اشتہار شایع کیا، اس اشتہار کے بارے میں مرزا نے کہا کہ دیکھو یہ کیسا فضول اشتہار ہے جب نماز ہر طرح ہوجاتی ہے تو ان باتوں کا تنازعہ موجب فساد ہے۔
    (سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۴۴-۴۵)
    رسول اللہ ﷺ کی سنت کے دفاع میں شایع کردہ اشتہار کو فضول اور موجب فساد قرار دینا اہل تقلید کا طریقہ کار ہے اور مرزا کی نبی کریم ﷺ کی پیاری سنتوں سے دشمنی اور اہلحدیث سے بغض و نفرت کی واضح دلیل ہے۔ مرزا قادیانی نےجہاد کی حرمت کا فتویٰ دیا تھا اور اہلحدیث اس فتویٰ کے سخت مخالف تھے اس واقعے کو تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے مرزا لکھتا ہے کہ: اور پنجاب کے شر انگیز بعض آدمی جو اپنے تئیں موحد یا اہلحدیث کے نام سے موسوم کرتے تھے امیر کے پاس پہنچ گئے تھے۔۔۔۔۔ (تذکرۃ الشہادتین ص ۵۱) مندرجہ بالہ عبارت میں مرزا نے اہلحدیث کو شر انگیز قرار دیا ہے اس سے واضح ہے کہ مرزا کو اہلحدیث سے سخت نفرت تھی۔ ایک شخص فتح خان کے بارے میں لکھا ہے کہ: فتح خان رسولپور متصل ٹانڈہ ضلع ہوشیار پور کا رہنے والا تھا اور حضور (مرزا) کا بڑا معتقد تھا مگر بعد میں مولوی محمد حسین بٹالوی کے اثر کے نیچے مرتد ہوگیا۔ (سیرۃ المہدی ج ۱ ص ۶۹) اس عبارت سےواضح ہے کہ علما٫ اہلحدیث کا یہ کام تھا کہ عام مسلمانوں اور خصوصًا مرزا کے معتقدین کو اس کےچنگل سے چھڑا کر مسلمان اہلحدیث بناتے تھے جنہیں مرزا مرتد قرار دے رہا ہے یعنی علما٫ اہلحدیث سے تعلق اور ان کے زیر اثر آنا اور اہلحدیث ہونا مرزا کےنزدیک "مرتد "ہونا ہے۔ اسی لیئے مولانا محمد حسین بٹالوی کو اول المکفرین اور مولانا ثنا٫ اللہ امر تسری کو اشد المعاندین قرار دیا ہے-
    (سیرۃ المہدی ج ۱ ص ۴۸ – ۱۰۷)
    مرزا کہتا ہے : محمد حسین بٹالوی نےمجھے سب سےپہلے کافر قرار دیا، سب سے پہلے استفتا٫ کا کاغذ ہاتھ میں لے کر ہر ایک طرف یہی بٹالوی صاحب دوڑے چنانچہ سب سے پہلے کافر و مرتد ٹہرانے میں جہاں نذیر حسین دہلوی نے قلم اٹھائی اور بٹالوی صاحب کے استفتا٫ کو اپنی کفرئی شہادت سے مزین کیا اور میاں نذید حسین نے جو اس عاجز کو بلا توقف و تامل کافر ٹہرایا۔ (انجام آتھم: ۲۱۲، آئینہ کمالات اسلام ص ۳۱)اہلحدیث کے امتیازی مسائل اور مرزا قادیانی پچھلی سطور میں یہ بات باحوالہ گذر چکی ہے مرزا نےاہلحدیث کے دس امتیازی مسائل کے اشتھار کو فضول و موجب فساد قرار دیا، مرزا کا بیٹا لکھتا ہے کہ: ایک سچے احمدی کی نماز وہ نہیں جیسی ایک عام (حنفی) مسلمان پڑھتا ہے؟ شکل وہی ہے (پیغام احمدیت ص ۴۱) مرزا اہلحدیث کی نماز پر حنفیوں کی طرح مذاق کیا کرتا تھا اور سنت کے مطابق نماز پڑھنے والے کو ٹوکتا تھا۔ چنانچہ عبداللہ سنوری مرتد ہونے سے قبل آمین بالجھر، رفع الیدین وغیرہ کیا کرتا تھا وہ بیان کرتا ہے کہ: ایک دفعہ جب میں نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی تو نماز کے بعد آپ نے مجھ سے مسکرا کر فرمایا میاں عبداللہ! اب تو اس سنت پر بہت عمل ہو چکا ہے! اور اشارہ رفع الیدین کیطرف تھا ۔میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں کہ اس دن سے میں نے رفع الیدین کرنا ترک کردیا بلکہ آمین بالجھر کہنا بھی چھوڑ دیا اور میاں عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت (مرزا) صاحب کو کبھی رفع یدین کرتے یا آمین بالجھر کہتے نہیں سنا اور نہ کبھی بسم اللہ بالجھر پڑھتے سنا ہے۔ (سیرۃ المہدی ج ۱ ص ۱۶۲) شب برأت وغیرہ کے موقع پر کھیل و تفریح کے لیئے گھر میں آتش بازی کے انار وغیرہ منگاکر چلالیا کرتے تھے، آپ کے سامنے آتش بازی ہوتی دیکھتے رہتے مگر منع نہیں کرتے تھے بعض دفعہ اس کے لیئے پیسے بھی دیتے تھے۔ رسوم کو کلی طور پر اہلحدیث کی طرح رد نہیں کر دیتے تھے۔۔۔۔ ان میں کوئی نہ کوئی توجیہ فوائد کی نکال لیتے تھے۔
    (سیرۃ المہدی ج ۱ ص ۵۵، ۵۶ ج ۳ ۲۳۱)
    مرزا قادیانی نماز کی نیت باندھتے وقت اپنے ہاتھوں کے انگوٹھوں کو کانوں تک پہنچاتے تھے یعنی یہ دونوں آپس میں چھوجاتے تھے۔
    (سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۲۳۱)
    ایک شخص میاں حبیب اللہ نے مرزا قادیانی کےساتھ نماز پڑھی اور اپنا پاؤں اس کے ساتھ ملانا چاہا تو مرزا نے اپنا پاؤں اپنی طرف سرکا لیا جس پر میاں حبیب اللہ بہت شرمندہ ہوا۔ (سیرۃ المہدی ج ۲ ص ۲۹) اہلحدیث کے نماز میں پاؤں سے پاؤں، ٹخنے سے ٹخنہ، کندھے سے کندھا ملاکر کھڑے ہونے پر مرزا کا بیٹا اس طرح تبصرہ کرتا ہے کہ: مگر اس پر اہل حدیث نے اتنا زور دیا اور اس قدر مبالغہ سے کام لیا ہے کہ یہ مسئلہ ایک مضحکہ خیز بات بن گئی اب گویا ایک اہلحدیث کی نماز ہو نہیں سکتی جب تک وہ اپنے ساتھ والے نمازی سے کندھے سے کندھا اور ٹخنہ سے ٹخنہ اور پاؤں سے پاؤں رگڑاتے ہوئے نماز ادا نہ کرے حالانکہ اس قدر قرب بجائے مفید ہونے کے نماز میں خوامخواہ پریشانی کا موجب ہوتا ہے۔ (سیرۃ المہدی ج ۲ ص ۳۰)
    قارئین کرام! نوٹ فرمائیں کہ سنتوں پر سختی سے عمل کرنے کو مضحکہ خیز اور باعث پریشانی قرار دینا تقلیدی ذہنیت نہیں تو اور کیا ہے؟ مرزا اپنے بیعت کرنے والوں کو کہتا تھا کہ: نماز میں اپنی زبان میں دعا کیا کریں (سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۱۴)
    یہی مسئہی فقہ حنفی کی کتاب ہدایہ اولین ص ۱۵۱ مین ہے کہ : فان افتتح الصلاۃ بالفاسیۃ او قرأ فیہا بالفارسیۃ او ذبح وسمٰی بالفارسیۃ وہو یحسن العربیۃ اجزاہ عند ابی حنیفۃ یعنی جو شخص عربی زبان اچھی طرح سے جانتا بھی ہو پھر بھی نماز فارسی میں پڑھے تو امام ابوحنیفہ کے نزدیک نماز جائز ہوگی۔ تمام اہل حدیث کا نظریہ یہ ہے کہ جو شخص نماز میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھتا اسکی نماز نہیں ہوتی اس کے برخلاف مرزا کہتا ہے کہ: میں یہ نہیں کہتا کہ جو شخص سورۃ فاتحہ نہیں پڑھتا اسکی نماز نہیں ہوتی کیونکہ بہت سے بزرگ اور اولیا٫ اللہ ایسے گذرے ہیں جو سورہ فاتحہ کی تلاوت ضروری نہیں سمجھتے تھے اور میں ان کی نمازوں کو ضائع شدہ نہیں سمجھ سکتا۔ اگر ان کی نماز نہ ہوئی تو وہ اولیا٫ کیسے ہوگئے چونکہ ہمیں امام اعظم سے ایک طرح کی مناسبت ہے اور ہمیں امام اعظم کا بہت ادب ہے ہم یہ فتویٰ نہیں دے سکتے کہ نماز نہیں ہوتی۔ آپ (مرزا) غالی اہل حدیث کی طرح یہ نہیں فرماتے تھے کہ جو شخص سورہ فاتحہ نہیں پڑھتا اسکی نماز نہیں ہوتی۔
    (تذکرۃ المہدی حصہ اول ص ۳۵۳۔ سیرۃ المہدی ج ۲ ص ۴۹- ۵۰)
    مرزا اپنی داڑھی کے زیادہ بڑھے ہوئے بالوں کو قینچی سے کتروا دیا کرتا تھا۔۔۔۔۔۔ اسکا یہ منشا٫ نہیں کہ داڑھی کی کوئی خاص مقدار شریعت نے مقرر کردی ہے۔ اس قسم کی جزئی باتوں میں شریعت دخل نہیں دیتی بلکہ شخصی مناسبت اور پسندیدگی پر چھوڑ دیتی ہے۔ منشا٫ صرف یہ ہے کہ داڑھی منڈوائی نہ جاوے بلکہ رکھی جاوے لیکن داڑھی کا بہت زیادہ لمبا کرنا بھی پسند نہیں کیا گیا چنانچہ مرزا کہتا تھا کہ ایک مشت و دو انگشت کے اندازہ سے زیادہ بڑھی ہوئی داڑھی کتروادینی مناسب ہے۔ جسکی وجہ غالبًا یہ ہے کہ بہت لمبی داڑھی خلاف زینت ہوتی ہے۔
    (سیرۃ المہدی ج ۲ ص ۵۴)
    داڑھی کے بارے میں مندرجہ بالا نظریہ مقلدین احناف کا ہے۔ مرزا کا مصافحہ کرنے کا طریقہ ایسا تھا جو عام طور پر رائج ہے۔ اہلحدیث والا مصافحہ نہیں کرتا تھا۔ (سیرت المہدی ج ۳ ص ۲۰۶)
    حکیم نوالدین جانشین اول مرزا کی گواہی :، حضرت مرزا صاحب اہل سنت والجماعت خاص کر حنفی تهے-اس طائفہ ظاہرین علی الحق میں سے تهے والحمد للہ رب العالمین نورالدین 29اگست 1912ء-
    (کلام امیر المعروف ملفوظات نور حصہ اول ص54)
    مولوی محمد علی لاہوری مرزائی کی گواہی:حضرت مرزا صاحب ابتداء سے آخرزندگی تک علی الاعلان حنفی المذہب رہے ہیں-
    (تحریک احمدیت ص1 حصہ اول)
    مرزا بشیر احمد کی گواہی:اصولاً آپ ہمیشہ اپنے آپ کو حنفی ظاہر فرماتے تهے، آپ نے اپنے لیے کسی زمانہ میں بھی اہل حدیث کا نام پسند نہیں فرمایا-(سیرت المہدی ص 49 ج 2)
    معروف مرزائی مصنف مرتضٰی خان حسن بی اے لکهتے ہیں کہ ہم فقہ حنفی کو مانتے ہیں اور فقہائے عظام کی دل سے قدر کرتے ہیں اور ان کے اجتہاد اور تفقہ کی قدر کرتے ہیں-ہم بالخصوص حضرت امام ابوحنیفہ کئ فقہ پر عمل پیرا ہیں اسی ہدایت ہمارے لیے امام حضرت مرزا نے فرمائی؛ (مجدد زمان بجواب دونبی ص 217)
    مضمون کے پیش طوالت ہم صرف چند حنفی علماء کے حوالے درج کرتے ہیں کہ مرزا احمد قادیانی حنفی تها-
    ( کفر کے اندھیروں سے نور اسلام تک صط93 طبع مطبعہ المکتبہ العلمیہ س 1985ء)(پیش لفظ سیف چشتائی ص ت طبع چہارم 1981ء)(آفتاب گولڑہ اور فتنہ مرزیئت ص 159)وغیرہ

    *راقم الحروف کا مشورہ*
    آخر میں ہم اپنے مقلدین بهایئو کو ایک مشورہ دیتے ہیں-
    ہم میں اور تم میں اختلافات اپنی جگہ پر لیکن کیا ہم اس بات پر متفق نہیں ہو سکتے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نہ حنفی تها نہ اہل حدیث تها-کیونکہ اگر وہ حنفی یا اہل حدیث ہوتا تو نبوت کا دعویٰ نہ کرتا- وہ ایک گمراہ اور کذاب شخص تها جس کا مسلمانوں کی کسی جماعت سے قطعی تعلق نہیں ہے-
    کیونکہ نہ ہی امام صاحب کی فقہ میں لکها ہے کہ نبوت کا دعویٰ کرو-اگر تقلید کا ہار اپنے گلے میں سجا لیتا تو دعویٰ نبوت ہر گز نہ کرتا-اور اگر اہل حدیث ہوتا تو سلف صالحین نے کہاں لکها ہے کہ نبوت کا دعویٰ کرو، اگر اہلحدیث ہوتا تو نبوت کا دعویٰ ہر گز نہ کرتا---
    تو آئیے مل کر ایک دوسرے پر الزام لگانے کی بجائے مل کر ختم نبوت کا دفاع کریں اور ہر اس شخص کو منہ توڑ جواب دیں جو نبوت کا اعلان کرے--مل کر یہ عہد کریں کہ جو نبوت کا دعویٰ کرے اس سے ہماری کهلی جنگ ہے..اور کسی قربانی سے دریغ نہ کریں گے---
    اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ اگر ہمارے دیوبندی اور بریلوی بهائی اہل حدیثوں کے خلاف سوشل میڈیا پر افترابازی نہ کرتے تو میں ہر گز یہ مضمون نہ رقم کرتا-بہرحال
    *ختم نبوت کے متعلق امت مسلمہ کا عقیدہ*
    پہلی چیز جو احمدیوں کو مسلمانوں سے جدا کرتی ہے-وہ ختم نبوت کی نئی تفسیر ہے جو انہوں نے مسلمانوں کی متفق علیہ تفسیر سے ہٹ کر اختیار کیا ہے-چودہ سو سال سے تمام مسلمان بالاتفاق یہ مانتے رہے ہیں اور آج بهی یہی مانتے ہیں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالٰی کے آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی مبعوث ہونے والا نہیں ہے-ختم نبوت کے متعلق قرآن مجید کی تصریح کا یہی مطلب صحابہ کرام نے سمجها تها اور اسی لئے انہوں نے ہر اس شخص کے خلاف جنگ کی جس نے خاتم النبیین سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دعویٰ نبوت کیا پهر یہی مطلب بعد کے ہر دور میں تمام مسلمان سمجهتے رہے جس کی بناء پر مسلمانوں نے اپنے درمیان کبهی کسی ایسے شخص کو برداشت نہیں کیا جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہو-
    (تفصیل کے لئے سورہ احزاب:40،سورہ مائدہ:3)

    جن دوستوں کو اس مضمون کی پی ڈی ایف فائل چاہیے وہ نیچے دیے گئے نمبرز پر رابطہ کرے-

    ہماری پوسٹس پڑھنے کیلئے ہمارا بلاگ یا ہمارا گروپ جوائن کریں
    whatsApp:0096176390670
     
  2. ‏جنوری 07، 2018 #2
    محمد المالكي

    محمد المالكي رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 01، 2017
    پیغامات:
    401
    موصول شکریہ جات:
    152
    تمغے کے پوائنٹ:
    47

    ماشااللہ اللہ آپ کی محنت قبول و منظور فرمائے ۔آمین
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں