1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ترک رفع الیدین کی احادیث

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از مظفر اختر, ‏اپریل 06، 2019۔

  1. ‏اپریل 06، 2019 #1
    مظفر اختر

    مظفر اختر مبتدی
    جگہ:
    ملتان
    شمولیت:
    ‏جون 13، 2018
    پیغامات:
    93
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    27

    السلام علیکم
    ان احادیث کی تحقیق درکار ہے ،علماء رہنمائی فرمائیں ،
    (1) الامام الدارقطني (م385ھ) روایت کرتے ہیں :
    [رَوی عَبد الرَّحِيمِ بن سُلَيمان عَن أَبِي بَكرٍ النَّهشَلِيِّ عَن عاصِمِ بنِ كُلَيبٍ ، عَن أَبِيہ] عَن عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيه وسَلم : أَنَّهُ كان يَرفَعُ يَدَيهِ فِي أَوَّلِ الصَّلاَةِ ثُمّ لا يَعُودُ.
    (کتاب العلل للدارقطنی ج4ص106سوال457)
    (2) روی الامام الحافظ المحدث أحمد بن شعيب أبو عبد الرحمن النسائي م303ھ:
    قال أخبرنا سويد بن نصر حدثنا عبد الله بن المبارك عن سفيان عن عاصم بن كليب عن عبد الرحمن بن الأسود عن علقمة عن عبد الله قال ألا أخبركم بصلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فقام فرفع يديه أول مرة ثم لم يعد
    (سنن النسائی ج1ص158باب ترک ذلک ، السنن الکبری للنسائی ج1ص350،351رقم1099باب ترک ذالک)
    (3) روی الامام أبو عيسى محمد بن عيسى الترمذي م 279ھ قال :
    حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبدالرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبداللہ بن مسعو د رضی اللہ عنہ: الا اصلی بکم صلوۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فصلی فلم یرفع یدیہ الا فی او ل مرۃ
    قال [ابوعیسی ] وفی الباب عن البراء بن عازب
    قال ابوعیسی حدیث ابن مسعودرضی اللہ عنہ،حدیث حسن وبہ یقول غیر واحد من اہل العلم من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم والتابعین وھو قول سفیان [الثوری] واہل الکوفۃ۔
    تحقیق السند: اسنادہ صحیح علی شرط البخاری ومسلم تغلیباً•
    (جامع الترمذی ج1ص59باب رفع الیدین عند الرکوع )​
    وفی نسخۃ الشیخ صالح بن عبد العزیز ص71 باب ماجاء ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم لم یرفع الا فی اول مرۃ رقم الحدیث 257 ، مختصر الاحکام للطوسی ص109رقم 218طبع مکۃ مکرمۃ و فی سنن ابی داؤد ج1ص116باب من لم یذکرالرفع عندالرکوع
     
    Last edited by a moderator: ‏اپریل 08، 2019
  2. ‏اپریل 08، 2019 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
    جناب علی رضی اللہ عنہ کی جو روایت عدم ِرفع الیدین میں علل الدارقطنیؒ سے پیش کی گئی ہے ، اس میں بھی خیانت و دھوکہ سے کام لیا گیا ہے ،
    یہ روایت علل الدارقطنیؒ میں اس طرح ہے :
    وسئل عن حديث كليب بن شهاب، عن علي، عن النبي صلى الله عليه وسلم؛ أنه كان يرفع يديه في أول الصلاة ثم لا يعود.
    یعنی امام أبو الحسن علي بن عمر دارقطنی (المتوفى: 385هـ) سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی اس روایت کے متعلق پوچھا گیا جس میں جناب علی فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نماز کے شروع میں رفع یدین کرتے ،اور پھر نہ کرتے ۔

    فقال: هو حديث يرويه أبو بكر النهشلي، ومحمد بن أبان وغيرهما، عن عاصم بن كليب.
    واختلف عن أبي بكر النهشلي، واسمه لا يصح، فرواه عبد الرحيم بن سليمان عنه، عن عاصم بن كليب، عن أبي، عن علي، عن النبي صلى الله عليه وسلم.
    ووهم في رفعه.وخالفه جماعة من الثقات، منهم: عبد الرحمن بن مهدي، وموسى بن داود، وأحمد بن يونس، وغيرهم، عن عاصم، فرووه عن أبي بكر النهشلي موقوفا على علي، وهو الصواب.

    تو اس کے جواب میں امام دارقطنیؒ نے فرمایا کہ : یہ روایت ابوبکر النھشلی اور محمد بن ابان دونوں عاصم بن کلیب سے نقل کرتے ہیں ،اور ابو بکر نہشلی سے سن کر آگے نقل کرنے والوں نے اختلاف کیا ہے ،
    عبدالرحیم بن سلیمان نے ابوبکر نہشلی سے روایت کیا ،ابوبکر نے عاصم بن کلیب سے ،اور عاصم نے اپنے والد کلیب سے ، اور کلیب نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ،اور جناب علی نے نبی اکرم ﷺ سے ۔۔۔۔
    امام دارقطنیؒ فرماتے اس حدیث کو مرفوع یعنی نبی اکرم ﷺ کا عمل بتانے والے کو وہم ہوا ،یعنی اسے غلطی لگی ہے ،کیونکہ ثقہ رواۃ کی ایک جماعت نے یہ روایت موقوفاً روایت کی ہے ، یعنی حضرت علی کا عمل بتایا ہے ،
    اسے عبد الرحمن بن مهدي، موسى بن داود، أحمد بن يونس، موقوفاً روایت کیا ہے ، اور اس اصل صورت بھی یہی ہے ؛ ۔انتہی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تو اسے اسی کتاب سے مرفوع بنا کر پیش کرنا کھلا دھوکہ اور فریب ہے ،
    یہ اصل میں موقوف تھی یعنی جناب علی رضی اللہ عنہ کا عمل بیان کیا گیا تھا ،جسے اصطلاح محدثین میں "اثر " کہتے ہیں ، اور یہ موقوفاً بھی صحیح اور ثابت نہیں ، اس کے ثابت نہ ہونے دلائل درج ذیل ہیں :
    اس کے متعلق امام بخاریؒ "جزء رفع الیدین " میں لکھتے ہیں : قال عبد الرحمن بن مهدي: ذكرت للثوري حديث النهشلي، عن عاصم بن كليب، فأنكره
    یعنی امام عبدالرحمن بن مہدیؒ فرماتے ہیں کہ میں نے جناب علی رضی اللہ عنہ سے منقول عدم رفع یدین کی یہ روایت امام سفیان الثوریؒ کے سامنے پیش کی تو انہوں نے اس (کی صحت ) کا انکار فرمایا ؛
    اور امام ابو بکر البیہقیؒ نے "السنن الکبریٰ " میں بسندہ نقل فرمایا ہے کہ :
    أخبرناه محمد بن عبد الله الحافظ، أنبأ أبو الحسن العنبري، ثنا عثمان بن سعيد الدارمي، ثنا أحمد بن يونس، ثنا أبو بكر النهشلي، فذكره قال عثمان الدارمي: فهذا قد روي من هذا الطريق الواهي، عن علي "
    یعنی امام عثمان بن سعید الدارمی (المتوفی 280 ھ) نے سیدنا علی کی یہ عدم رفع یدین والی روایت ذکر فرمائی اور فرمایا کہ :یہ روایت نہایت واہی (کمزور ،ناکارہ ) اسناد سے مروی ہے ۔
    خود امام بیہقیؒ فرماتے ہیں : ولكن ليس أبو بكر النهشلي ممن يحتج بروايته أو تثبت به سنة لم يأت بها غيره
    ابوبکر نہشلی اس درجہ کا راوی نہیں جس کی روایت سے دلیل لی جائے ، یا اس کی روایت سے کوئی ایسی سنت ثابت ہو جو اس کے علاوہ کسی اور نے روایت نہ کی ہو ۔
    اور امام بیہقیؒ نے اس روایت کو نقل کرکے ساتھ امام شافعیؒ کا اس کے متعلق یہ تبصرہ بھی نقل فرمایا ہے کہ : قال الزعفراني قال: الشافعي في القديم: ولا يثبت عن علي وابن مسعود، يعني ما رووه عنهما من أنهما كانا لا يرفعان أيديهما في شيء من الصلاة إلا في تكبيرة الافتتاح.
    امام شافعیؒ فرماتے ہیں : حضرت علی اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے جو روایت کیا جاتا ہے کہ وہ تکبیر تحریمہ کے علاوہ نماز میں کسی مقام پر رفع الیدین نہ کرتے تھے ،تو ان دونوں صحابہ سے یہ عدم رفع یدین کی بات ثابت نہیں ہوتی ۔

    اور محدث کبیر امام سراج الدين أبو حفص عمر بن علي ابن الملقن(المتوفى: 804هـ) لکھتے ہیں :
    فأثر علي رضي الله عنه ضعيف لا يصح عنه، وممن ضعفه البخاري ثم روي تضعيفه عن سفيان الثوري، (البدر المنیر 3/499 )
    یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول اثر (جس میں بتایا گیا ہے کہ وہ تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع یدین نہیں کرتے تھے ) تو یہ روایت ان سے ثابت نہیں ، اسے کئی ائمہ نے ضعیف کہا ہے ، اس کو ضعیف کہنے والوں میں امام بخاریؒ جیسا عظیم محدث بھی ہیں ،
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے صحیح اسناد سے رفع الیدین کرنے کی حدیث ثابت ہے

    امام ابوبکر محمد بن إسحاق بن خزيمة (المتوفى: 311هـ) روایت کرتے ہیں کہ :
    عن علي بن أبي طالب، عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه كان إذا قام إلى الصلاة المكتوبة كبر ورفع يديه حذو منكبيه، ويصنع مثل ذلك إذا قضى قراءته وأراد أن يركع، ويصنعه إذا رفع من الركوع، ولا يرفع يديه في شيء من صلاته وهو قاعد، وإذا قام من السجدتين رفع يديه كذلك وكبر "
    [التعليق] 584 - قال الأعظمي: إسناده حسن

    صحیح ابن خزیمہ پر تعلیق و تخریج لکھنے والے حنفی دیوبندی مولوی محمد مصطفی الاعظمی اس حدیث کی تعلیق میں لکھتے ہیں کہ : اس کی اسناد حسن ہے "
    https://archive.org/stream/waq69577/shuzaima1#page/n294/mode/2up
    ترجمہ :
    سیدناعلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب نماز ادا کرنے کے لئے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہہ کر کندھوں تک ہاتھ اٹھاتے اورپھر قراءت ختم کر کے رکوع جاتے ہوئے بھی اسی طرح کرتے ، اور رکوع سے اٹھ کر بھی اسی طرح کرتے اور بیٹھنے کی حالت میں کسی بھی جگہ رفع الیدین نہ کرتے اور جب سجدتین (دورکعتیں) پڑھ کر کھڑے ہوتے تو اسی طرح رفع الیدین کرتے اور تکبیر کہتے تھے۔
    صحیح ابن خزيمة (ح 854) واللفظ له ،صحیح ابن حبان کمافی العمدۃ للعینی (5/277) سنن الترمذي (3423 )
    وقال:” هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ۔۔۔۔۔۔سَمِعْت أَبَا إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يُوسُفَ يَقُولُ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ الهَاشِمِيَّ يَقُولُ: وَذَكَرَ هَذَا الحَدِيثَ، فَقَالَ: هَذَا عِنْدَنَا مِثْلُ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ "

    امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲ میں نے ابواسماعیل ترمذی محمد بن اسماعیل بن یوسف کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے (امام احمد بن حنبلؒ کے استاذ) امام سلیمانؒ بن داود ہاشمی کو کہتے ہوئے سنا ، وہ فرماتے تھے کہ: یہ حدیث میرے نزدیک ایسے ہی مستند اور قوی ہے، جیسے مشہور امام زہریؒ کی وہ حدیث قوی و مستند ہوتی ہے جسے وہ سیدناسالمؒ بن عبداللہ بن عمر سے اور سیدناسالمؒ اپنے والد گرامی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں۔
    (یہ بخاری و مسلم کی اعلیٰ ترین اسانید میں سے ہے )
    وصححه احمد بن حنبل كما في نصب الراية 1/412 ، والدراية 1/153،والتلخيص الحبير1/ 219 ، وابن تیمیہ کما في الفتاوی الکبری 1/105 ،ومجموع الفتاوی 22/453 )
    اس حدیث کو امام احمد بن حنبلؒ نے صحیح کہا ہے جیسا کہ "نصب الرایہ " اور الدرایہ " اور "التلخیص الحبیر" میں ہے ،
    اور اسے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ نے بھی صحیح کہا ہے ،دیکھئے "مجموع الفتاویٰ "
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
     
    • علمی علمی x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  3. ‏اپریل 08، 2019 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    یہ دونوں روایتیں اصل میں ایک ہی حدیث ہے ،جسے مختلف محدثین نے نقل فرمایا ہے ؛
    اس کی اصل اسناد بھی ایک ہی ہے یعنی :
    "سفیان عن عاصم عن عبدالرحمن بن الاسود عن علقمۃ عن عبداللہ "
    اس کے متعلق اہل علماء شروع سے واضح کرتے آئے ہیں کہ یہ روایت صحیح اور محفوظ نہیں ؛
    تفصیل پیش ہے :
    سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بیان کرتے ہیں:
    أنه كان يرفع يديه في أول تكبيرة، ثم لا يعود.
    ”آپ پہلی تکبیر میں رفع الیدین فرماتے تھے، پھر دوبارہ نہ کرتے۔“ (مسند احمد:441،388/1، سنن ابي داود:748، سنن نسائي:1927، سنن ترمذي:257)
    تبصرہ:
    (۱) یہ روایت ”ضعیف“ ہے،
    اس میں سفیان ثوری ہیں، جو کہ بالاجماع ”مدلس“ ہیں، ساری کی ساری سندوں میں
    ”عن“ سے روایت کر رہے ہیں، سماع کی تصریح ثابت نہیں۔ مسلم اصول ہے کہ جب ”ثقہ مدلس“ بخاری و مسلم کے علاوہ ”عن“ یا ”قال“ کے الفاظ کے ساتھ حدیث بیان کرے تو وہ ”ضعیف“ ہوتی ہے۔


    اس حدیث کے راوی امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ (م : ۱۸۱ھ) نے امام ہشیم بن بشیر رحمہ اللہ (م : ۱۸۳ھ) سے پوچھا، آپ ”تدلیس“ کیوں کرتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا:
    ان كبيريك قد دلسا الأعمش وسفيان.
    ”آپ کے دو بڑوں امام اعمش اور امام سفیان رحمہ اللہ علیہما نے بھی تدلیس کی ہے۔“ (الكامل لابن عدي:95/1، 135/7 وسنده صحيح)


    امام عینی حنفی لکھتے ہیں:
    سفيان من المدلسين، والمدلس لا يحتج بعنعنته الا أن يثبت سماعه من طريق آخر.
    ”سفیان مدلس راویوں میں سے ہیں اور مدلس راوی کے عنعنہ سے حجت نہیں لی جاتی، الا یہ کہ دوسری سند میں اس کا سماع ثابت ہو جائے۔“ (عمدة القاري :112/3)


    (۲) یہ ”ضعیف“ روایت عام ہے، جبکہ رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کے متعلق احادیث خاص ہیں، خاص کو عام پر مقدم کیا جاتا ہے، لہذا یہ حدیث عدم رفع الیدین کے ثبوت پر دلیل نہیں بن سکتی۔

    (۳) مانعین رفع الیدین یہ بتائیں کہ وہ اس حدیث کو پس پشت ڈالتے ہوئے خود وتروں اور عیدین میں پہلی تکبیر کے علاوہ کیوں رفع الیدین کرتے ہیں؟
    حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ محدیثین کرام کی نظر میں
    (۱) امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    لم يثبت عندي حديث ابن مسعود. ”میرے نزدیک حدیث ابن مسعود ثابت نہیں۔“ (سنن الترمذي: تحت حديث256، سنن الدارقطني:393/1، السنن الكبريٰ للبيھي:79/2، وسنده صحيح)


    (۲) امام ابوداود رحمہ اللہ اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں :
    وليس ھو بصحيح علي ھذا اللفظ. ”یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ صحیح نہیں۔“


    (۳) امام ابوحاتم الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    ھذا خطأ. ”یہ غلطی ہے۔“ (العلل:96/1)


    (۴) امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    وليس قول من قال : ثم لم يعد محفوظا.
    ”جس راوی نے دوبارہ رفع یدین نہ کرنے کے الفاظ کہے ہیں، اس کی روایت محفوظ نہیں۔“ (العلل:173/5)


    (۵) امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    ھو في الحقيقة أضعف شئ يعول عليه، لأن له عللا تبطله.
    ”درحقیقت یہ ضعیف ترین چیز ہے جس پر اعتماد کیا جات ہے، کیونکہ اس میں کئی علتیں ہیں جو اسے باطل قرار دیتی ہیں۔“(التلخيص الحبير لابن حجر:222/1)


    تنبیہ :
    اگر کوئی کہے کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ”حسن“ کہا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ حنفی مذہب کی معتبر کتابوں میں لکھا ہے :
    ”ابن دحیہ نے اپنی کتاب ”العلم المشہور“ میں کہا ہے کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں کتنی ہی
    ”موضوع“ (من گھڑت) اور ”ضعیف“ سندوں والی احادیث کو ”حسن“ کہہ دیا ہے۔“ (نصب الراية للزيلعي:217/2، البناية للعيني:869/2، مقالات الكوثري:311، صفائح اللجين از احمد رضا خان بريلوي:29)

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • علمی علمی x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں