1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تعلیم اور اس سے مسلمانوں کی بے حسی

'جدید عصری علوم' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد صادق تیمی, ‏مارچ 01، 2018۔

  1. ‏مارچ 01، 2018 #1
    محمد صادق تیمی

    محمد صادق تیمی مبتدی
    جگہ:
    بہار ،انڈیا
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2018
    پیغامات:
    24
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    25

    تعلیم اور اس سے مسلمانوں کی بے حسی
    محمد صادق جمیل تیمی


    مراکش کے قرویین میں 859 عیسوی میں عالمِ اسلام کی اولین یونیورسٹی قائم ہوئی ۔پھر 14 رمضان المبارک 359 ھ مطابق 971 عیسوی میں "جامع الازھر "کا سنگِ بنیاد رکھا گیا ۔چار سال بعد 975 عیسوی میں اس وقت کی فاطمی حکومت کے قاضی القضاۃ عبد الحسن النعمان نے رافضی فقہ پر لکچر دیا اور اسی دن جامع الازھر کے نام سے جو ادارہ معرضِ وجود میں آیا، وہ مسلم دنیا کی دوسری سب سے پہلی یونیورسٹی بن گیا ۔اس کی عمر بروقت 1046 سال ہے اور اس میں تعلیم و تعلم کا سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔زیادہ تر لوگ اسے ہی عالمِ اسلام کی اولین یونیورسٹی سمجھتے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ 1046 سال کی اس لمبی مدت میں ہم نے کتنی یونیورسٹیاں قائم کیں؟ اور بروقت عالمِ اسلام میں کل کتنی یونیورسٹیاں ہیں؟ جواب آئندہ سطور میں مل ہی جاے گا لیکن اس سے پہلے ہم آپ کو کچھ تلخ باتیں بتانا چاہیں گے :


    1526 عیسوی میں ہندستان میں مغلیہ حکومت قائم ہوئی اور 181 سال تک قائم رہنے کے بعد 1857 میں فنا ہو گئی ۔اس دوران میں نصیر الدین ہمایوں کی بیوہ حمیدہ بانو بیگم نے ہمایوں کا مقبرہ تعمیر کرانے میں آٹھ سال لگاے ۔یہ مقبرہ دہلی میں آج بھی قائم ہے اور مغربی افق کی اوٹ میں سورج کے منہ چھپاتے ہی دیوانگانِ نظریہِ فرائڈ کی محفوظ و خاموش پناہ گاہ بن جاتا ہے ۔پھر کچھ دنوں بعد جلال الدین اکبر نے فتح پور سیکری آباد کیا اور اس کی دھرتی پر قلعہ تعمیر کروایا جس کے حصار میں اکبر کی طلاق شدہ رانیوں کے شیش محل بھی تعمیر ہوے ۔پھر بادشاہ سلیم الدین جھانگیر نے اپنے ایک محبوب ہرن کی یادگار میں "ہرن مینار "بنوایا ۔پھر بادشاہ شہاب الدین محمد شاہجہان نے اپنی محبوب ترین رانی ارجمند بانو بیگم کے پہلو میں بعدِ مرگ بھی جگہ پانے کے لیے تاج محل تعمیر کروایا جس میں 22000 مزدوروں نے مسلسل 23 سال تک کام کیا، تب جاکر وہ تاج محل تیار ہوا جسے تاجِ محبت کھا جاتا ہے ۔اسی تاج محل نے مغلیہ سلطنت کا دیوالیہ نکال دیا اور عوام پر اس قدر ٹیکس لاگو کر دیا گیا کہ ان کی جان پر بن آئی ۔اورنگزیب عالمگیر کی صورت میں اسے سنبھالا تو ملا لیکن اکیلا چنا بھاڑ نہیں پھوڑتا ۔


    حیرت کی بات ہے کہ ان 181 سالوں میں ایک بھی یونیورسٹی قائم نہیں کی گئی ۔کیا مغلیہ سلطنت کو یونیورسٹی کے قیام سے امریکیوں یا برطانویوں نے روکا تھا؟


    موجودہ دور کی بات کریں تو دنیا بھر کے ایک ارب چالیس کروڑ مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم "آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس "کے ممبران ممالک کی تعداد 57 ہے ۔ان کل 57 ممالک میں 604 یونیورسٹیاں ہیں یعنی 20 لاکھ مسلمانوں کے لیے صرف ایک یونیورسٹی جب کہ ایک یہودی ملک اسرائیل میں 25 یونیورسٹیاں ہیں یعنی ہر ڈھائی لاکھ یہودیوں کے مجموعہ کے لیے ایک یونیورسٹی ۔


    آپ کو معلوم ہوگا کہ ان 604 یونیورسٹیوں میں سے کسی ایک نے بھی ایک بھی ایسا ساینس داں پیدا نہیں کیا جس کو اعترافِ خدمات کے طور پر ساینس کے لیے نوبیل انعام ملا ہو ۔ویسے بھی اب تک صرف دس مسلمانوں کو نوبیل انعام ملا ہے ۔مصر کے انور السادات، فلسطین کے یاسر عرفات، ایران کی شیریں عبادی، مصر کے محمد البرادعی، بنگلہ دیش کے محمد یونس اور یمن کے توکل کرمان کو امن کا، مصر کے نجیب محفوظ اور ترکی کے اورہان پامک کو ادب کا، اور پاکستان کے عبد السلام کو فزکس کا اور ترکی کے احمد زویل کو کیمسٹری کا نوبیل انعام ملا ہے ۔


    سچ ہے کہ 1999 میں احمد زویل کو کیمسٹری میں عظیم خدمات انجام دینے کے لیے نوبیل انعام ملا لیکن یہ بھی یاد رہے کہ انھوں نے کیمسٹری میں پہلی ڈگری تو یقینا اسکندریہ یونیورسٹی سے حاصل کی لیکن جس تحقیقاتی پیپر پر انہیں یہ انعام ملا، وہ ترکی میں نہیں، کیلی فورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی میں تیار ہوا۔


    1979 میں پاکستان کے عبد السلام کو (معلوم رہے کہ یہ قادیانی تھے) فزکس کا نوبیل انعام ملا ۔درست اور بالکل درست!!! لیکن اسے کیا کہا جاے کہ فزکس میں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے تو کیا لیکن نوبیل انعام کا مستحق جس کام نے انہیں ٹھہرایا، اسے انہوں نے اٹلی اور انگلینڈ کی یونیورسٹیوں میں انجام دیا۔


    تعلیم کے بارے میں دوسری اقوام عالم کی حساسیت اور ہماری بے حسی کا یہ کتنا حیرت انگیز شاخسانہ ہے کہ جب ہم تاج محل کی صورت میں ایک مقبرے کی تعمیر کر رہے تھے، اسی دوران وہ لوگ ہارورڈ یونیورسٹی قائم کر رہے تھے ۔وہی ہارورڈ جس کے 40 خوشہ چینوں کو اب تک، نوبیل انعام مل چکا ہے ۔


    جب تک ہم ممتاز محل کی تعمیر سے فارغ ہوتے، انہوں نے 48 یونیورسٹیاں قائم کر لی تھیں ۔ان کی کسی بھی یونیورسٹی میں آج تک الوھیتِ عیسی علیہ السلام زیرِ بحث نہیں آئی لیکن ہماری اولین یونیورسٹی الازھر میں ہر زمانے میں مسلکی جنگ برپا رہی ۔بروقت تو اس کی حالت یہ ہے کہ اس کا نصابِ تعلیم علما و فضلا نہیں بناتے، پارلیمنٹ بناتی ہے اور پروفیسرز کا تقرر بھی سیاست کے گلیاروں میں ہونے کے بعد وہاں نافذ ہوتا ہے ۔موجودہ شیخ الازھر کا حال یہ ہے کہ 25 فروری 2017 میں بوسنیا ہرزے گووینا کے شہر گروزنی میں منعقد ہونے والی عالمی صوفی کانفرنس میں، جس میں صحیح العقیدہ مسلمانوں کو اہلِ سنت و الجماعت کے گروپ سے نکال باھر کیا گیا، نہ صرف بہ نفسِ نفیس شرکت فرماتے ہیں بلکہ مذکورہ اندھے ظلم پر لب کشائی تک کی زحمت گوارا نہیں فرماتے ۔وہی یہ ازھر ہے جس کے افتا خانے سے کبھی یہ فتوی بھی صادر ہوا تھا کہ ہوائی جھاز سے سفر کرنا مسلمانوں کے لیے اس لیے جایز نہیں ہے کہ جھاز قبرستان کے اوپر سے بھی گزر سکتا ہے اور اس سے قبروں کی بے حرمتی کا گناہ سرزد ہوگا ۔


    ایک بار پھر ہندستان آئیے اور دیکھیے کہ برادرانِ وطن کی تعلیمی حساسیت کس قدر شدید اور ہماری بے حسی کس قدر اندوھناک ہے!! یو جی سی کی آفیشیل سایٹ کے مطابق، ہمارے ملک میں 789 یونیورسٹیاں ،37204 کالجز اور 11443 بڑے نجی تعلیمی ادارے ہیں یعنی ہمارے 57 ملکوں کی یونیورسٹیوں کی مجموعی تعداد کے مقابلے میں 185 یونیورسٹیاں اس ایک ملک میں زیادہ ہیں ۔

    اس سے صاف جھلکتا ہے کہ تعلیم میں ہمارا گراف عالمی طور پر کس قدر گرا ہوا ہے!!!
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں