• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيَوْمَ يَحْشُرُ‌هُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ فَيَقُولُ أَأَنتُمْ أَضْلَلْتُمْ عِبَادِي هَـٰؤُلَاءِ أَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيلَ ﴿١٧﴾
اور جس دن اللہ تعالیٰ انہیں اور سوائے اللہ کے جنہیں یہ پوجتے رہے، انہیں جمع کرکے پوچھے گا کہ کیا میرے ان بندوں کو تم نے گمراہ کیا یا یہ خود ہی راہ سے گم ہو گئے۔ (١)
١٧۔١ دنیا میں اللہ کے سوا جن کی عبادت کی جاتی رہی ہے اور کی جاتی رہے گی۔ ان میں جمادات (پتھر، لکڑی اور دیگر دھاتوں کی بنی ہوئی مورتیاں) بھی ہیں، جو غیر عاقل ہیں اور اللہ کے نیک بندے بھی ہیں جو عاقل ہیں مثلاً حضرت عزیر، حضرت مسیح علیہما السلام اور دیگر بہت سے نیک بندے۔ اسی طرح فرشتے اور جنات کے پجاری بھی ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ غیر عاقل جمادات کو بھی شعور و ادراک اور گویائی کی قوت عطا فرمائے گا۔ اور ان سب معبودین سے پوچھے گا کہ بتلاؤ! تم نے میرے بندوں کو اپنی عبادت کرنے کا حکم دیا تھا یا یہ اپنی مرضی سے تمہاری عبادت کرکے گمراہ ہوئے تھے؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَالُوا سُبْحَانَكَ مَا كَانَ يَنبَغِي لَنَا أَن نَّتَّخِذَ مِن دُونِكَ مِنْ أَوْلِيَاءَ وَلَـٰكِن مَّتَّعْتَهُمْ وَآبَاءَهُمْ حَتَّىٰ نَسُوا الذِّكْرَ‌ وَكَانُوا قَوْمًا بُورً‌ا ﴿١٨﴾
وہ جواب دیں گے کہ تو پاک ذات ہے خود ہمیں ہی یہ زیبا نہ تھا کہ تیرے سوا اوروں کو اپنا کارساز بناتے (١) بات یہ ہے کہ تو نے انہیں اور ان کے باپ دادوں کو آسودگیاں عطا فرمائیں یہاں تک کہ وہ نصیحت بھلا بیٹھے، یہ لوگ تھے (٢) ہی ہلاک ہونے والے۔
١٨۔١ یعنی جب ہم خود تیرے سوا کسی کو کارساز نہیں سمجھتے تھے تو پھر ہم اپنی بابت کس طرح لوگوں کو کہہ سکتے تھے کہ تم اللہ کے بجائے ہمیں اپنا ولی اور کارساز سمجھو۔
١٨۔٢ یہ شرک کی علت ہے کہ دنیا کے مال و اسباب کی فراوانی نے انہیں تیری یاد سے غافل کردیا اور ہلاکت و تباہی ان کا مقدر بن گئی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَقَدْ كَذَّبُوكُم بِمَا تَقُولُونَ فَمَا تَسْتَطِيعُونَ صَرْ‌فًا وَلَا نَصْرً‌ا ۚ وَمَن يَظْلِم مِّنكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِيرً‌ا ﴿١٩﴾
تو انہوں نے تمہیں تمہاری تمام باتوں میں جھٹلایا، اب نہ تو تم میں عذابوں کے پھیرنے کی طاقت ہے، نہ مدد کرنے کی، (١) تم میں سے جس نے ظلم کیا ہے (٢) ہم اسے بڑا عذاب چکھائیں گے۔
١٩۔١ یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے جو مشرکین سے مخاطب ہو کر اللہ تعالیٰ کہے گا کہ تم جن کو اپنا معبود گمان کرتے تھے، انہوں نے تو تمہیں تمہاری باتوں میں جھوٹا قرار دے دیا ہے اور تم نے دیکھ لیا ہے کہ انہوں نے تم سے براءت کا اعلان کر دیا ہے۔ گویا جن کو تم اپنا مددگار سمجھتے تھے، وہ مددگار ثابت نہیں ہوئے۔ اب کیا تمہارے اندر یہ طاقت ہے کہ تم میرے عذاب کو اپنے سے پھیر سکو اور اپنی مدد کر سکو؟
١٩۔٢ ظلم سے مراد وہی شرک ہے، جیسا کہ سیاق سے بھی واضح ہے اور قرآن میں دوسرے مقام پر شرک کو ظلم عظیم سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ﴿إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ﴾ (لقمان: ۱۳)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا أَرْ‌سَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْ‌سَلِينَ إِلَّا إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِي الْأَسْوَاقِ ۗ وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً أَتَصْبِرُ‌ونَ ۗ وَكَانَ رَ‌بُّكَ بَصِيرً‌ا ﴿٢٠﴾
ہم نے آپ سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب کے سب کھانا بھی کھاتے تھے (١) اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے (٢) اور ہم نے تم میں سے ہر ایک کو دوسرے کی آزمائش کا ذریعہ بنا دیا۔ (٣) کیا تم صبر کرو گے؟ تیرا رب سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ (٤)
٢٠۔١ یعنی وہ انسان تھے اور غذا کے محتاج۔
٢٠۔٢ یعنی رزق حلال کی فراہمی کے لیے کسب و تجارت بھی کرتے تھے۔ مطلب اس سے یہ ہے کہ یہ چیزیں منصب نبوت کے منافی نہیں، جس طرح کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں۔
٢٠۔٣ یعنی ہم نے ان انبیاء کی اور ان کے ذریعے سے ان پر ایمان لانے والوں کی بھی آزمائش کی، تاکہ کھرے کھوٹے کی تمیز ہو جائے، جنہوں نے آزمائش میں صبر کا دامن پکڑے رکھا، وہ کامیاب اور دوسرے ناکام رہے۔ اسی لیے آگے فرمایا "کیا تم صبر کرو گے؟"
٢٠۔٤ یعنی وہ جانتا ہے کہ وحی و رسالت کا مستحق کون ہے اور کون نہیں؟ ﴿اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ﴾ (الأنعام: ۱۲۴) حدیث میں بھی آتا ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ بادشاہ نبی بنوں یا بندہ رسول؟ میں نے بندہ رسول بننا پسند کیا (ابن کثیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
پارہ 19
وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَرْ‌جُونَ لِقَاءَنَا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْمَلَائِكَةُ أَوْ نَرَ‌ىٰ رَ‌بَّنَا ۗ لَقَدِ اسْتَكْبَرُ‌وا فِي أَنفُسِهِمْ وَعَتَوْا عُتُوًّا كَبِيرً‌ا ﴿٢١﴾
اور جنہیں ہماری ملاقات کی توقع نہیں انہوں نے کہا کہ ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے جاتے؟ (١) یا ہم اپنی آنکھوں سے اپنے رب کو دیکھ لیتے؟ (٢) ان لوگوں نے اپنے آپ کو ہی بہت بڑا سمجھ رکھا ہے اور سخت سرکشی کر لی ہے۔ (۳)
٢١۔١ یعنی کسی انسان کو رسول بنا کر بھیجنے کی بجائے، کسی فرشتے کو رسول بنا کر بھیجا جاتا۔ یا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر کے ساتھ فرشتے بھی نازل ہوتے، جنہیں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور وہ اس بشر رسول کی تصدیق کرتے۔
٢١۔٢ یعنی رب آ کر ہمیں کہتا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) میرا رسول ہے اور اس پر ایمان لانا تمہارے لئے ضروری ہے۔
۲۱۔۳ اسی استکبار اور سرکشی کا نتیجہ ہے کہ وہ اس قسم کے مطالبے کر رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی منشا کے خلاف ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو ایمان بالغیب کے ذریعے سے انسانوں کو آزماتا ہے۔ اگر وہ فرشتوں کو ان کی آنکھوں کے سامنے اتار دے یا آپ خود زمین پر نزول فرما لے تو اس کے بعد ان کی آزمائش کا پہلو ہی ختم ہو جائے اس لیے اللہ تعالیٰ ایسا کام کیونکر کر سکتا ہے جو اس کی حکمت تخلیق اور مشیت تکوینی کے خلاف ہے؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَوْمَ يَرَ‌وْنَ الْمَلَائِكَةَ لَا بُشْرَ‌ىٰ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِ‌مِينَ وَيَقُولُونَ حِجْرً‌ا مَّحْجُورً‌ا ﴿٢٢﴾
جس دن یہ فرشتوں کو دیکھ لیں گے اس دن ان گناہ گاروں کو کوئی خوشی نہ ہو گی (۱) اور کہیں گے یہ محروم ہی محروم کیے گئے۔ (۲)
۲۲۔۱ اس دن سے مراد موت کا دن ہے یعنی یہ کافر فرشتوں کو دیکھنے کی آرزو تو کرتے ہیں لیکن موت کے وقت جب یہ فرشتوں کو دیکھیں گے تو ان کے لیے کوئی خوشی اور مسرت نہیں ہو گی، اس لیے کہ فرشتے انہیں اس موقع پر عذاب جہنم کی وعید سناتے ہیں اور کہتے ہیں اے خبیث روح خبیث جسم سے نکل، جس سے روح دوڑتی اور بھاگتی ہے، جس پر فرشتے اسے مارتے اور کوٹتے ہیں جیسا کہ سورۃ الانفال: ۵۰، سورۃ الانعام: ۹۳ میں ہے۔ اس کے برعکس مومن کا حال وقت احتضار (جان کنی کے وقت) یہ ہوتا ہے کہ فرشتے اسے جنت اور اس کی نعمتوں کو نوید جاں فزا سناتے ہیں۔ جیسا کہ سورۂ حم السجدۃ: ۳۰-۳۲ میں ہے اور حدیث میں بھی آتا ہے کہ "فرشتے مومن کی روح سے کہتے ہیں، اے پاک روح، جو پاک جسم میں تھی، نکل! اور ایسی جگہ چل جہاں اللہ کی نعمتیں ہیں اور وہ رب ہے جو تجھ سے راضی ہے"۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے مسند احمد ۲/ ۳۶۴۔ ۳۶۵، ابن ماجہ، كتاب الزهد، باب ذكر الموت) بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ دونوں ہی قول صحیح ہیں۔ اس لیے کہ دونوں ہی دن ایسے ہیں کہ فرشتے مومن اور کافر دونوں کے سامنے ظاہر ہوتے ہیں۔ مومنوں کو رحمت و رضوان الٰہی کی خوش خبری اور کافروں کو ہلاکت و خسران کی خبر دیتے ہیں۔
۲۲۔۲ حِجْرٌ کے اصل معنی ہیں منع کرنا، روک دینا۔ جس طرح قاضی کسی کو اس کی بے وقوفی یا صغر سنی کی وجہ سے اس کے اپنے مال میں تصرف کرنے سے روک دے تو کہتے ہیں حَجَرَ الْقَاضِي عَلَى فُلانٍ قاضی نے فلاں کو تصرف کرنے سے روک دیا ہے۔ اسی مفہوم میں خانہ کعبہ کے اس حصے (حطیم) کو حجر کہا جاتا ہے جسے قریش مکہ نے خانہ کعبہ میں شامل نہیں کیا تھا۔ اس لیے طواف کرنے والوں کے لیے اس کے اندر سے طواف کرنا منع ہے۔ طواف کرتے وقت، اس کے بیرونی حصے سے گزرنا چاہیے جسے دیوار سے ممتاز کر دیا گیا ہے۔ اور عقل کو بھی حجر کہا جاتا ہے، اس لیے کہ عقل بھی انسانوں کو ایسے کاموں سے روکتی ہے جو انسانوں کے لائق نہیں ہیں۔ معنی یہ ہیں کہ فرشتے کافروں کو کہتے ہیں کہ تم ان چیزوں سے محروم ہو جن کی خوش خبری متقین کو دی جاتی ہے۔ یعنی یہ حَرَامًا مُحَرَّمًا عَلَيْكُمْ کے معنی میں ہے۔ آج جنت الفردوس اور اس کی نعمتیں تم پر حرام ہیں، اس کے مستحق صرف اہل ایمان و تقویٰ ہوں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَقَدِمْنَا إِلَىٰ مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَّنثُورً‌ا ﴿٢٣﴾
اور انہوں نے جو جو اعمال کیے تھے ہم نے ان کی طرف بڑھ کر انہیں پراگندہ ذروں کی طرح کر دیا۔ (١)
٢٣۔١ هَبَاءً ان باریک ذروں کو کہتے ہیں جو کسی سوراخ سے گھر کےاندر داخل ہونے والی سورج کی کرن میں محسوس ہوتے ہیں لیکن اگر کوئی انہیں ہاتھ میں پکڑنا چاہے تو یہ ممکن نہیں ہے۔ کافروں کے عمل بھی قیامت والے دن ان ہی ذروں کی طرح بے حیثیت ہوں گے۔ کیوں کہ وہ ایمان و اخلاص سے بھی خالی ہوں گے اور موافقت شریعت سے بھی عاری۔ جب کہ عند اللہ قبولیت کے لیے دونوں شرطیں ضروری ہیں۔ ایمان و اخلاص بھی اور شریعت اسلامیہ کی مطابقت بھی۔ یہاں کافروں کے اعمال کو جس طرح بے حیثیت ذروں کی مثل کہا گیا ہے۔ اسی طرح دوسرے مقامات پر کہیں راکھ سے، کہیں سراب سے اور کہیں صاف چکنے پتھر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ ساری تمثیلات پہلے گزر چکی ہیں ملاحظہ ہو سورۃ البقرۃ: ۲۶۴، سورۃ ابراہیم: ۱۸ اور سورۃ النور: ۲۹۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَصْحَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ‌ مُّسْتَقَرًّ‌ا وَأَحْسَنُ مَقِيلًا ﴿٢٤﴾
البتہ اس دن جنتیوں کا ٹھکانا بہتر ہو گا اور خواب گاہ بھی عمدہ ہو گی۔ (١)
٢٤۔١ بعض نے اس سے یہ استدلال بھی کیا ہے کہ اہل ایمان کے لیے قیامت کا یہ ہولناک دن اتنا مختصر اور ان کا حساب اتنا آسان ہو گا کہ قیلولے کے وقت تک یہ فارغ ہو جائیں گے اورجنت میں یہ اپنے اہل خاندان اور حورعین کے ساتھ دوپہر کو استراحت فرما ہوں گے، جس طرح حدیث میں ہے کہ مومن کے لیے یہ دن اتنا ہلکا ہو گا کہ جتنے میں دنیا میں ایک فرض نماز ادا کر لینا۔ (مسند احمد ۴/ ۷۵)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلَائِكَةُ تَنزِيلًا ﴿٢٥﴾
اور جس دن آسمان بادل سمیت پھٹ جائے گا (١) اور فرشتے لگاتار اتارے جائیں گے۔
٢٥۔١ اس کا مطلب یہ ہے کہ آسمان پھٹ جائے گا اور بادل سایہ فگن ہو جائیں گے، اللہ تعالیٰ فرشتوں کے جلو میں، میدان محشر میں، جہاں ساری مخلوق جمع ہو گی، حساب کتاب کے لیے جلوہ فرما ہو گا، جیسا کہ سورۂ بقرۃ آیت: ۲۱۰ سے بھی واضح ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّ‌حْمَـٰنِ ۚ وَكَانَ يَوْمًا عَلَى الْكَافِرِ‌ينَ عَسِيرً‌ا ﴿٢٦﴾
اور اس دن صحیح طور پر ملک صرف رحمٰن کا ہی ہو گا اور یہ دن کافروں پر بڑا بھاری ہو گا۔

وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيْهِ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّ‌سُولِ سَبِيلًا ﴿٢٧﴾
اور اس دن ظالم شخص اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کر کہے گا ہائے کاش کہ میں نے رسول (ﷺ) کی راہ اختیار کی ہوتی۔

يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا ﴿٢٨﴾
ہائے افسوس کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ (١)
٢٨۔١ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے نافرمانوں سے دوستی اور وابستگی نہیں رکھنی چاہیے، اس لیے کہ صحبت صالح سے انسان اچھا اور صحبت طالح سے انسان برا بنتا ہے۔ اکثر لوگوں کی گمراہی کی وجہ غلط دوستوں کا انتخاب اور صحبت بد کا اختیار کرنا ہی ہے۔ اسی لیے حدیث میں بھی صالحین کی صحبت کی تاکید اور بری صحبت سے اجتناب کو ایک بہترین مثال سے واضح کیا گیا ہے۔ (ملاحظہ ہو مسلم، كتاب البر والصلة، باب استحباب مجالسة الصالحين ...)۔
 
Top