• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا ۚ إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ‌ ﴿٦﴾
جانو (١) وہ تو اپنے گروہ کو صرف اس لیے ہی بلاتا ہے کہ وہ سب جہنم واصل ہو جائیں۔
٦۔١ یعنی اس سے سخت عداوت رکھو، اس کے دجل و فریب اور ہتھکنڈوں سے بچو، جس طرح دشمن سے بچاؤ کے لیے انسان کرتا ہے۔ دوسرے مقام پر اسی مضمون کو اس طرح ادا کیا گیا ہے۔ ﴿أَفَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِي وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ لِلظَّالِمِينَ بَدَلا﴾ (الكهف: ۵۰) ”کیا تم اس شیطان اور اس کی ذریت کو، مجھے چھوڑ کر، اپنا دوست بناتے ہو؟ حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں۔ ظالموں کے لیے برا بدلہ ہے“۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
الَّذِينَ كَفَرُ‌وا لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ ۖ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَهُم مَّغْفِرَ‌ةٌ وَأَجْرٌ‌ كَبِيرٌ‌ ﴿٧﴾
جو لوگ کافر ہوئے ان کے لیے سخت سزا ہے اور جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے ان کے لیے بخشش ہے اور (بہت) بڑا اجر۔ (١)
٧۔١ یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے دیگر مقامات کی طرح ایمان کے ساتھ، عمل صالح کو بیان کرکے اس کی اہمیت کو واضح کر دیا ہے تاکہ اہل ایمان عمل صالح سے کسی وقت بھی غفلت نہ برتیں، کہ مغفرت اور اجر کبیر کا وعدہ اس ایمان پر ہی ہے جس کے ساتھ عمل صالح ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَفَمَن زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ فَرَ‌آهُ حَسَنًا ۖ فَإِنَّ اللَّـهَ يُضِلُّ مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي مَن يَشَاءُ ۖ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَ‌اتٍ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ بِمَا يَصْنَعُونَ ﴿٨﴾
کیا پس وہ شخص جس کے لیے اس کے برے اعمال مزین کر دیئے گئے ہیں پس وہ انہیں اچھا سمجھتا (١) ہے (کیا وہ ہدایت یافتہ شخص جیسا ہے)، (یقین مانو) کہ اللہ جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہے راہ راست دکھاتا ہے۔ (۲) پس آپ ان پر غم کھا کھا کر اپنی جان ہلاکت میں نہ ڈالنی چاہیے، (۳) یہ جو کچھ کر رہے ہیں اس سے یقیناً اللہ تعالیٰ بخوبی واقف ہے۔ (٤)
٨۔١ جس طرح کفار و فجار ہیں، وہ کفر و شرک اور فسق و فجور کرتے ہیں اور سمجھتے یہ ہیں کہ وہ اچھا کر رہے ہیں۔ پس ایسا شخص، جس کو اللہ نے گمراہ کر دیا ہو، اس کے بچاؤ کے لیے آپ کے پاس کوئی حیلہ ہے؟ یا یہ اس شخص کے برابر ہے جسے اللہ نے ہدایت سے نوازا ہے؟ جواب نفی میں ہی ہے، نہیں یقیناً نہیں۔
۸۔۲ اللہ تعالیٰ اپنے عدل کی رو سے، اپنی سنت کے مطابق اس کو گمراہ کرتا ہے جو مسلسل اپنے کرتوتوں سے اپنے کو اس کا مستحق ٹھہرا چکتا ہے اور ہدایت اپنے فضل و کرم سے اسے دیتا ہے جو اس کا طالب ہوتا ہے۔
۸۔۳ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ہر کام حکمت اور علم تام پر مبنی ہے، اس لیے کسی کی گمراہی پر اتنا افسوس نہ کریں کہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال لیں۔
۸۔٤ یعنی اس سے ان کا کوئی قول یا فعل مخفی نہیں، مطلب یہ ہے کہ اللہ کا ان کے ساتھ معاملہ ایک علیم و خبیر اور ایک حکیم کی طرح کا ہے۔ عام بادشاہوں کی طرح نہیں ہے جو اپنے اختیارات کا الل ٹپ استعمال کرتے ہیں، کبھی سلام کرنے سے بھی ناراض ہو جاتے ہیں اور کبھی دشنام پر ہی خلعتوں سے نواز دیتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَاللَّـهُ الَّذِي أَرْ‌سَلَ الرِّ‌يَاحَ فَتُثِيرُ‌ سَحَابًا فَسُقْنَاهُ إِلَىٰ بَلَدٍ مَّيِّتٍ فَأَحْيَيْنَا بِهِ الْأَرْ‌ضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ كَذَٰلِكَ النُّشُورُ‌ ﴿٩﴾
اور اللہ ہی ہوائیں چلاتا ہے جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں پھر ہم بادلوں کو خشک زمین کی طرف لے جاتے ہیں اور اس سے زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیتے ہیں۔ اسی طرح دوبارہ جی اٹھنا (بھی) ہے۔ (۱)
۹۔۱ یعنی جس طرح بادلوں سے بارش برسا کر خشک (مردہ) زمین کو ہم شاداب (زندہ) کر دیتے ہیں، اسی طریقے سے قیامت والے دن تمام مردہ انسانوں کو بھی ہم زندہ کر دیں گے۔ حدیث میں آتا ہے کہ (انسان کا سارا جسم بوسیدہ ہو جاتا ہے، صرف ریڑھ کی ہڈی کا ایک چھوٹا سا حصہ محفوظ رہتا ہے، اسی سے اس کی دوبارہ تخلیق و ترکیب ہو گی)۔ [كُلُّ جَسَدِ ابْنِ آدَمَ يَبْلَى، إِلا عَجب الذَّنَبِ، مِنْه خُلِقَ ، وَمِنْهُ يُرَكَّبُ] (البخاری، تفسير سورة عم، مسلم، كتاب الفتن، باب ما بين النفختين)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مَن كَانَ يُرِ‌يدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّـهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا ۚ إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْ‌فَعُهُ ۚ وَالَّذِينَ يَمْكُرُ‌ونَ السَّيِّئَاتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ ۖ وَمَكْرُ‌ أُولَـٰئِكَ هُوَ يَبُورُ‌ ﴿١٠﴾
جو شخص عزت حاصل کرنا چاہتا ہو تو اللہ تعالیٰ ہی کی ساری عزت ہے، (١) تمام تر ستھرے کلمات اسی کی طرف چڑھتے ہیں (۲) اور نیک عمل ان کو بلند کرتا ہے، (۳) جو لوگ برائیوں کے داؤں گھات میں لگے رہتے ہیں (٤) ان کے لیے سخت تر عذاب ہے، اور ان کا یہ مکر برباد ہو جائے گا (٥)
۱۰۔۱ یعنی جو چاہتا ہے کہ اسے دنیا اور آخرت میں عزت ملے، تو وہ اللہ کی اطاعت کرے، اس سے اسے یہ مقصود حاصل ہو جائے گا۔ اس لیے کہ دنیا و آخرت کا مالک اللہ ہی ہے، ساری عزتیں اسی کے پاس ہیں وہ جس کو عزت دے، وہی عزیز ہو گا، جس کو وہ ذلیل کر دے، اسے دنیا کی کوئی طاقت عزت نہیں دے سکتی۔ دوسرے مقام پر فرمایا ﴿الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَيَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا﴾ (النساء: ۱۳۹)
١٠۔۲ الْكَلِمُ، كَلِمَةٌ کی جمع ہے، ستھرے کلمات سے مراد اللہ کی تسبیح و تحمید، تلاوت، امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے۔ چڑھتے ہیں کا مطلب، قبول کرنا ہے۔ یا فرشتوں کا انہیں لے کر آسمانوں پر چڑھنا ہے تاکہ اللہ ان کی جزا دے۔
۱۰۔۳ يَرْفَعُهُ، میں ضمیر کا مرجع کون ہے؟ بعض کہتے ہیں الْكَلِمُ الطَّيِّبُ ہے، یعنی عمل صالح کلمات طیبات کو اللہ کی طرف سے بلند کرتا ہے۔ یعنی محض زبان سے اللہ کا ذکر (تسبیح و تحمید) کچھ نہیں، جب تک اس کے ساتھ عمل صالح یعنی احکام و فرائض کی ادائیگی بھی نہ ہو۔ بعض کہتے ہیں يَرْفَعُهُ میں فاعل کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے۔ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ عمل صالح کو کلمات طیبات پر بلند فرماتا ہے اس لیے کہ عمل صالح سے ہی اس بات کا تحقق ہوتا ہے کہ اس کا مرتکب فی الواقع اللہ کی تسبیح و تحمید میں مخلص ہے (فتح القدیر) گویا قول، عمل کے بغیر، اللہ کے ہاں بے حیثیت ہے۔
١٠۔٤ خفیہ طریقے سے کسی کو نقصان پہنچانے کی تدبیر کو مکر کہتے ہیں کفر و شرک کا ارتکاب بھی مکر ہے کہ اس طرح اللہ کے راستہ کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کے خلاف قتل وغیرہ کی جو سازشیں کفار مکہ کرتے رہے، وہ بھی مکر ہے، ریاکاری بھی مکر ہے۔ یہاں یہ لفظ عام ہے، مکر کی تمام صورتوں کو شامل ہے۔
١٠۔٥ یعنی ان کا مکر بھی برباد ہو گا اور اس کا وبال بھی ان ہی پر پڑے گا جو اس کا ارتکاب کرتے ہیں، جیسے فرمایا ﴿وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلا بِأَهْلِهِ﴾ (فاطر: ۴۳)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَاللَّـهُ خَلَقَكُم مِّن تُرَ‌ابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ أَزْوَاجًا ۚ وَمَا تَحْمِلُ مِنْ أُنثَىٰ وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِ ۚ وَمَا يُعَمَّرُ‌ مِن مُّعَمَّرٍ‌ وَلَا يُنقَصُ مِنْ عُمُرِ‌هِ إِلَّا فِي كِتَابٍ ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ يَسِيرٌ‌ ﴿١١﴾
لوگو! اللہ تعالیٰ نے تمہیں مٹی سے پھر نطفہ سے پیدا کیا ہے، (١) پھر تمہیں جوڑے جوڑے (مرد و عورت) بنا دیا ہے، عورتوں کا حاملہ ہونا اور بچوں کا تولد ہونا سب اس کے علم سے ہی ہے، (٢) اور جو بھی بڑی عمر والا عمر دیا جائے اور جس کسی کی عمر گھٹے وہ سب کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ (۳) اللہ تعالیٰ پر یہ بات بالکل آسان ہے۔
۱۱۔۱ یعنی تمہارے باپ آدم (عليہ السلام) کو مٹی سے اور پھر اس کے بعد تمہاری نسل کو قائم رکھنے کے لیے انسان کی تخلیق کو نطفے سے وابستہ کر دیا، جو مرد کی پشت سے نکل کر عورت کے رحم میں جاتا ہے۔
۱۱۔۲ یعنی اس سے کوئی چیز مخفی نہیں، حتیٰ کہ زمین پر گرنے والے پتے اور زمین کی تاریکیوں میں نشو و نما پانے والے بیج کو بھی وہ جانتا ہے۔ (الأنعام: ۵۹)
۱۱۔۳ اس کا مطلب یہ ہے کہ عمر کی طوالت اور اس کی تقصیر (کم ہونا) اللہ کی تقدیر و قضا سے ہے۔ علاوہ ازیں اس کے اسباب بھی ہیں جس سے عمر لمبی یا چھوٹی ہوتی ہے، طوالت کے اسباب میں صلۂ رحمی وغیرہ ہے، جیسا کہ احادیث میں ہے اور تقصیر کے اسباب سے معاصی کا ارتکاب ہے۔ مثلاً کسی آدمی کی عمر ۷۰ سال ہے لیکن کبھی اسباب زیادت کی وجہ سے اللہ اس میں اضافہ فرما دیتا ہے اور کبھی اس میں کمی کر دیتا ہے جب وہ اسباب نقصان اختیار کرتا ہے۔ اور یہ سب کچھ اس نے لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ اس لیے عمر میں یہ کمی بیشی ﴿فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلا يَسْتَقْدِمُونَ﴾ کے منافی نہیں ہے۔ اس کی تائید اللہ کے اس قول سے بھی ہوتی ہے ﴿يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ﴾ (سورة الرعد: ۳۹) ”جو چاہتا ہے، مٹاتا اور ثبت کرتا ہے اور اس کے پاس لوح محفوظ ہے“۔ (فتح القدیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا يَسْتَوِي الْبَحْرَ‌انِ هَـٰذَا عَذْبٌ فُرَ‌اتٌ سَائِغٌ شَرَ‌ابُهُ وَهَـٰذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ ۖ وَمِن كُلٍّ تَأْكُلُونَ لَحْمًا طَرِ‌يًّا وَتَسْتَخْرِ‌جُونَ حِلْيَةً تَلْبَسُونَهَا ۖ وَتَرَ‌ى الْفُلْكَ فِيهِ مَوَاخِرَ‌ لِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُ‌ونَ ﴿١٢﴾
اور برابر نہیں دو دریا یہ میٹھا ہے پیاس بجھاتا اور پینے میں خوشگوار اور یہ دوسرا کھاری ہے کڑوا، تم ان دونوں میں سے تازہ گوشت کھاتے ہو اور وہ زیورات نکالتے ہو جنہیں تم پہنتے ہو۔ اور آپ دیکھتے ہیں کہ بڑی بڑی کشتیاں پانی کو چیرنے پھاڑنے (۱) والی ان دریاؤں میں ہیں تاکہ تم اس کا فضل ڈھونڈو اور تاکہ تم اس کا شکر کرو۔
۱۲۔۱ مواخر، وہ کشتیاں جو آتے جاتے پانی کو چیرتی ہوئی گزرتی ہیں، آیت میں بیان کردہ دوسری چیزوں کی وضاحت سورۃ الفرقان میں گزرچکی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ‌ وَيُولِجُ النَّهَارَ‌ فِي اللَّيْلِ وَسَخَّرَ‌ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ‌ كُلٌّ يَجْرِ‌ي لِأَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ ذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَ‌بُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ ۚ وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِن قِطْمِيرٍ‌ ﴿١٣﴾
وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور آفتاب و ماہتاب کو اسی نے کام پر لگا دیا ہے۔ ہر ایک میعاد معین پر چل رہا ہے۔ یہی ہے اللہ (١) تم سب کا پالنے والا اسی کی سلطنت ہے۔ جنہیں تم اس کے سوا پکار رہے ہو وہ تو کھجور کی گھٹلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں۔ (۲)
١٣۔١ یعنی مذکورہ تمام افعال کا فاعل ہے۔
۱۳۔۲ یعنی اتنی حقیر چیز کے بھی مالک نہیں، نہ اسے پیدا کرنے پر ہی قادر ہیں۔ قِطْمِيرٌ اس جھلی کو کہتے ہیں جو کھجور اور اس کی گٹھلی کے درمیان ہوتی ہےیہ پتلا سا چھلکا گٹھلی پر لفافے کی طرح چڑھا ہوا ہوتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ‌ونَ بِشِرْ‌كِكُمْ ۚ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ‌ ﴿١٤﴾
اگر تم انہیں پکارو وہ تمہاری پکار سنتے ہی نہیں (١) اور اگر (با لفرض) سن بھی لیں تو فریاد رسی نہیں کریں گے، (٢) بلکہ قیامت کے دن تمہارے اس شرک کا صاف انکار کر جائیں گے۔ (٣) آپ کو کوئی بھی حق تعالیٰ جیسا خبردار خبریں نہ دے گا۔ (٤)
١٤۔١ یعنی اگر تم انہیں مصائب میں پکارو تو وہ تمہاری پکار سنتے ہی نہیں ہیں، کیونکہ وہ جمادات ہیں یا منوں مٹی کے نیچے مدفون۔
١٤۔٢ یعنی اگر بالفرض وہ سن بھی لیں تو بے فائدہ، اس لیے کہ وہ تمہاری التجاؤں کے مطابق تمہارا کام نہیں کر سکتے۔
١٤۔٣ اور کہیں گے ﴿مَا كُنْتُمْ إِيَّانَا تَعْبُدُونَ﴾ (يونس: ۲۸) ”تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے“۔ ﴿إِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغَافِلِينَ﴾ (يونس: ۲۹) ”ہم تو تمہاری عبادت سے بے خبر تھے“۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جن کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے، وہ سب پتھر کی مورتیاں ہی نہیں ہوں گی، بلکہ ان میں عاقل (ملائکہ، جن، شیاطین اور صالحین) بھی ہوں گے۔ تب ہی تو یہ انکار کریں گے۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کی حاجت براری کے لیے پکارنا شرک ہے۔
١٤۔٤ اس لیے کہ اس جیسا کامل علم کسی کے پاس بھی نہیں ہے۔ وہی تمام امور کی کنہ اور حقیقت سے پوری طرح باخبر ہے جس میں ان پکارے جانے والوں کی بے اختیاری، پکار کو نہ سننا اور قیامت کے دن اس کا انکار کرنا بھی شامل ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَ‌اءُ إِلَى اللَّـهِ ۖ وَاللَّـهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ ﴿١٥﴾
اے لوگو! تم اللہ کے محتاج ہو (۱) اور اللہ بے نیاز (۲) خوبیوں والا ہے۔ (۳)
۱۵۔۱ نَاسٌ کا مطلب عام ہے جس میں عوام و خواص، حتیٰ کہ انبیا علیہم السلام و صلحا سب آجاتے ہیں۔ اللہ کے ڈر کے سب ہی محتاج ہیں۔ لیکن اللہ کسی کا محتاج نہیں۔
۱۵۔۲ وہ اتنا بے نیاز ہے کہ سب لوگ اگر اس کے نافرمان ہو جائیں تو اس سے اس کی سلطنت میں کوئی کمی اور سب اس کے اطاعت گزار بن جائیں، تو اس سے اس کی قوت میں زیادتی نہیں ہو گی۔ بلکہ نافرمانی سے انسانوں کا اپنا ہی نقصان ہے اور اس کی عبادت و اطاعت سے انسانوں کا اپنا ہی فائدہ ہے۔
١٥۔۳ یعنی محمود ہے اپنی نعمتوں کی وجہ سے۔ پس ہر نعمت، جو اس نے بندوں پر کی ہے، اس پر وہ حمد و شکر کا مستحق ہے۔
 
Top