• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ‌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ ۖ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ‌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورً‌ا ﴿٤٢﴾
اور ان کفار نے بڑی زور دار قسم کھائی تھی کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آئے تو وہ ہر ایک امت سے زیادہ ہدایت قبول کرنے والے ہوں۔ (١) پھر جب ان کے پاس ایک پیغمبر آ پہنچے (٢) تو بس ان کی نفرت ہی میں اضافہ ہوا۔
٤٢۔١ اس میں اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا کہ بعثت محمدی سے قبل یہ مشرکین عرب قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر ہماری طرف کوئی رسول آیا، تو ہم اس کا خیر مقدم کریں گے اور اس پر ایمان لانے میں ایک مثالی کردار ادا کریں گے۔ (یہ مضمون دیگر مقامات پر بھی بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً سورۃ الانعام: ۱۵۶-۱۵۷، الصافات: ۱۶۷-۱۷۰)
٤٢۔٢ یعنی حضرت محمد ﷺ ان کے پاس نبی بن کر آ گئے جن کے لیے وہ تمنا کرتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اسْتِكْبَارً‌ا فِي الْأَرْ‌ضِ وَمَكْرَ‌ السَّيِّئِ ۚ وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ‌ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ ۚ فَهَلْ يَنظُرُ‌ونَ إِلَّا سُنَّتَ الْأَوَّلِينَ ۚ فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّـهِ تَبْدِيلًا ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّـهِ تَحْوِيلًا ﴿٤٣﴾
دنیا میں اپنے کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے، (١) اور ان کی بری تدبیروں کی وجہ سے (٢) اور بری تدبیروں کا وبال ان تدبیر والوں ہی پر پڑتا ہے، (٣) سو کیا یہ اسی دستور کے منتظر ہیں جو اگلے لوگوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے (٤) سو آپ اللہ کے دستور کو کبھی بدلتا ہوا نہ پائیں گے، (٥) اور آپ اللہ کے دستور کو کبھی منتقل ہوتا ہوا نہ پائیں گے۔ (٦)
٤٣۔١ یعنی آپ ﷺ کی نبوت پر ایمان لانے کے بجائے انکار و مخالفت کا راستہ محض استکبار اور سرکشی کی وجہ سے اختیار کیا۔
٤٣۔٢ اور بری تدبیر یعنی حیلہ، دھوکہ اور عمل قبیح کی وجہ سے کیا۔
٤٣۔٣ یعنی لوگ مکر و حیلہ کرتے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ بری تدبیر کا انجام برا ہی ہوتا ہے اور اس کا وبال بالآخر مکر و حیلہ کرنے والوں پر ہی پڑتا ہے۔
٤٣۔٤ یعنی کیا یہ اپنے کفر و شرک، رسول ﷺ کی مخالفت اور مومنوں کو ایذائیں پہنچانے پر مصر رہ کر اس بات کے منتظر ہیں کہ انہیں بھی اس طرح ہلاک کیا جائے، جس طرح پچھلی قومیں ہلاکت سے دوچار ہوئیں؟
٤٣۔٥ بلکہ یہ اسی طرح جاری ہے اور ہر مکذب (جھٹلانے والے) کا مقدر ہلاکت ہے یا بدلنے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ کے عذاب کو رحمت سے بدلنے پر قادر نہیں ہے۔
٤۳۔٦ یعنی کوئی اللہ کے عذاب کو دور کرنے والا یا اس کا رخ پھیرنے والا نہیں ہے یعنی جس قوم کو اللہ عذاب سے دوچار کرنا چاہے، کوئی اس کا رخ کسی اور قوم کی طرف پھیر دے، کسی میں یہ طاقت نہیں ہے۔ مطلب اس سنت اللہ کی وضاحت سے مشرکین عرب کو ڈرانا ہے کہ ابھی بھی وقت ہے، وہ کفر و شرک چھوڑ کر ایمان لے آئیں، ورنہ وہ اس سنت الٰہی سے بچ نہیں سکتے، دیر سویر اس کی زد میں آ کر رہیں گے، کوئی اس قانون الٰہی کو بدلنے پر قادر ہے اور نہ عذاب الٰہی کو پھیرنے پر۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَوَلَمْ يَسِيرُ‌وا فِي الْأَرْ‌ضِ فَيَنظُرُ‌وا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَكَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً ۚ وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعْجِزَهُ مِن شَيْءٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْ‌ضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَلِيمًا قَدِيرً‌ا ﴿٤٤﴾
اور کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں جس میں دیکھتے بھالتے کہ جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کا انجام کیا ہوا؟ حالانکہ وہ قوت میں ان سے بڑھے ہوئے تھے، اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ کوئی چیز اس کو ہرا دے نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں۔ وہ بڑے علم والا، بڑی قدرت والا ہے۔

وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّـهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَ‌كَ عَلَىٰ ظَهْرِ‌هَا مِن دَابَّةٍ وَلَـٰكِن يُؤَخِّرُ‌هُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ۖ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ فَإِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِعِبَادِهِ بَصِيرً‌ا ﴿٤٥﴾
اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں پر ان کے اعمال کے سبب دارو گیر فرمانے لگتا تو روئے زمین پر ایک جاندار کو نہ چھوڑتا، (۱) لیکن اللہ تعالیٰ ان کو میعاد معین تک مہلت دے (۲) رہا ہے، سو جب ان کی میعاد آ پہنچے گی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آپ دیکھ لے گا۔ (۳)
٤۵۔۱ انسانوں کو تو ان کے گناہوں کی پاداش میں اور جانوروں کو انسانوں کی نحوست کی وجہ سے۔ یا مطلب ہے کہ تمام اہل زمین کو ہلاک کر دیتا، انسانوں کو بھی اور جن جانوروں اور روزیوں کے وہ مالک ہیں، ان کو بھی۔ یا مطلب ہے کہ آسمان سے بارشوں کا سلسلہ منقطع فرما دیتا، جس سے زمین پر چلنے والے سب دابتہ مر جاتے۔
٤٥۔١ یہ میعاد معین دنیا میں بھی ہو سکتی ہے اور یوم قیامت تو ہے ہی۔
٤۵۔۳ یعنی اس دن ان کا محاسبہ کرے گا اور ہر شخص کو اس کے عملوں کا پورا بدلہ دے گا۔ اہل ایمان و اطاعت کو اجر و ثواب اور اہل کفر و معصیت کو عتاب و عقاب۔ اس میں مومنوں کے لیے تسلی ہے اور کافروں کے لیے وعید۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة یس

(سورة یٰسین مکی ہے اور اس میں تراسی آیتیں اور پانچ رکوع ہیں۔)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
يس﴿١﴾
یٰسِین (١)
١۔١ بعض نے اس کے معنی یا رجل یا انسان کے کیے ہیں۔ بعض نے اسے نبی ﷺ کے نام اور بعض نے اسے اللہ کے اسمائے حسنیٰ میں سے بتلایا ہے۔ لیکن یہ سب اقوال بلا دلیل ہیں۔ یہ بھی ان حروف مقطعات میں سے ہی ہے۔ جن کا معنی و مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالْقُرْ‌آنِ الْحَكِيمِ ﴿٢﴾
قسم ہے قرآن با حکمت کی۔ (١)
٢۔١ یا قرآن محکم کی، جو نظم و معنی کے لحاظ سے محکم یعنی پختہ ہے۔ واو قسم کے لیے ہے۔ آگے جواب قسم ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْ‌سَلِينَ ﴿٣﴾
کہ بے شک آپ پیغمبروں میں سے ہیں۔ (١)
٣۔١ مشرکین نبی کریم ﷺ کی رسالت میں شک کرتے تھے، اس لیے آپ ﷺ کی رسالت کا انکار کرتے اور کہتے تھے ﴿لَسْتَ مُرْسَلا﴾ (الرعد: ۴۳) ”تو تو پیغمبر ہی نہیں ہے“۔ اللہ نے ان کے جواب میں قرآن حکیم کی قسم کھا کر کہا کہ آپ ﷺ یقیناً اس کے پیغمبروں میں سے ہیں۔ اس میں آپ ﷺ کے شرف و فضل کا اظہار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی رسول کی رسالت کے لیے قسم نہیں کھائی یہ بھی آپ ﷺ کے امتیازات اور خصائص میں سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی رسالت کے اثبات کے لیے قسم کھائی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
عَلَىٰ صِرَ‌اطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿٤﴾
سیدھے راستے پر ہیں۔ (١)
٤۔١ یہ إِنَّكَ کی دوسری خبر ہے۔ یعنی آپ ﷺ ان پیغمبروں کے راستے پر ہیں جو پہلے گزر چکے ہیں۔ یا ایسے راستے پر ہیں جو سیدھا اور مطلوب منزل (جنت) تک پہنچانے والا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
تَنزِيلَ الْعَزِيزِ الرَّ‌حِيمِ ﴿٥﴾
یہ قرآن اللہ زبردست مہربان کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ (١)
٥۔١ یعنی اس اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے جو عزیز ہے یعنی اس کا انکار اور اس کے رسول کی تکذیب کرنے والے سے انتقام لینے پر قادر ہے رحیم ہے یعنی جو اس پر ایمان لائے گا اور اس کا بندہ بن کر رہے گا، اس کے لیے نہایت مہربان ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لِتُنذِرَ‌ قَوْمًا مَّا أُنذِرَ‌ آبَاؤُهُمْ فَهُمْ غَافِلُونَ ﴿٦﴾
تاکہ آپ ایسے لوگوں کو ڈرائیں جن کے باپ دادے نہیں ڈرائے گئے تھے، سو (اسی وجہ سے) یہ غافل ہیں۔ (١)
٦۔١ یعنی آپ ﷺ کو رسول اس لیے بنایا ہے اور یہ کتاب اس لیے نازل کی ہے تاکہ آپ ﷺ اس قوم کو ڈرائیں جن میں آپ ﷺ سے پہلے کوئی ڈرانے والانہیں آیا، اس لیے ایک مدت سے یہ لوگ دین حق سے بے خبر ہیں۔ یہ مضمون پہلے بھی کئی جگہ گزرچکا ہے کہ عربوں میں حضرت اسماعیل عليہ السلام کے بعد، نبی کریم ﷺ سے پہلے براہ راست کوئی نبی نہیں آیا۔ یہاں بھی اسی چیز کو بیان کیا گیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلَىٰ أَكْثَرِ‌هِمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿٧﴾
ان میں سے اکثر لوگوں پر بات ثابت ہو چکی ہے سو یہ لوگ ایمان نہ لائیں گے۔ (١)
٧۔١ جیسے ابوجہل، عتبہ، شیبہ وغیرہ۔ بات ثابت ہونے کا مطلب، اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کہ ”میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سے بھر دوں گا“۔ (الم السجدۃ: ۱۳) شیطان سے بھی خطاب کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا تھا ”میں جہنم کو تجھ سے اور تیرے پیروکاروں سے بھر دوں گا“۔ (ص: ۸۴) یعنی ان لوگوں نے شیطان کے پیچھے لگ کر اپنے آپ کو جہنم کا مستحق قرار دے لیا، کیونکہ اللہ نے تو ان کو اختیار و حریت ارادہ سے نوازا تھا، لیکن انہوں نے اس کا استعمال غلط کیا اور یوں جہنم کا ایندھن بن گئے۔ یہ نہیں کہ اللہ نے جبراً ان کو ایمان سے محروم رکھا، کیونکہ جبر کی صورت میں تو وہ عذاب کے مستحق ہی قرار نہ پاتے۔
 
Top