• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة ص

(سورة ص مکی ہے اور اس میں اٹھاسی آیتیں اور پانچ رکوع ہیں)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں میں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

ص ۚ وَالْقُرْ‌آنِ ذِي الذِّكْرِ‌ ﴿١﴾
ص! اس نصیحت والے قرآن کی قسم۔ (١)
١۔١ جس میں تمہارے لیے ہر قسم کی نصیحت اور ایسی باتیں ہیں، جن سے تمہاری دنیا بھی سنور جائے اور آخرت بھی۔ بعض نے ذی الذکر کا ترجمہ شان اور مرتبت والا، کیے ہیں۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ اس لیے کہ قرآن عظمت شان کا حامل بھی ہے اور اہل ایمان و تقویٰ کے لیے نصیحت اور درس عبرت بھی۔ اس قسم کا جواب محذوف ہے کہ بات اس طرح نہیں ہے جس طرح کفار مکہ کہتے ہیں کہ محمد ﷺ ساحر، شاعر یا کاذب ہیں۔ بلکہ وہ اللہ کے سچے رسول ہیں جن پر ذی شان قرآن نازل ہوا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَلِ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ ﴿٢﴾
بلکہ کفار غرور و مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں۔ (١)
٢۔١ یعنی یہ قرآن تو یقیناً شک سے پاک اور ان کے لیے نصیحت ہے جو اس سے عبرت حاصل کریں البتہ ان کافروں کو اس سے فائدہ اس لیے نہیں پہنچ رہا ہے کہ ان کے دماغوں میں استکبار اور غرور ہے اور دلوں میں مخالفت و عناد۔ عزت کے معنی ہوتے ہیں، حق کے مقابلے میں اکڑنا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْ‌نٍ فَنَادَوا وَّلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ ﴿٣﴾
ہم نے ان سے پہلے بھی بہت سی امتوں کو تباہ کر ڈالا (١) انہوں نے ہر چند چیخ پکار کی لیکن وہ وقت چھٹکارے کا نہ تھا۔ (٢)
٣۔١ جو ان سے زیادہ مضبوط اور قوت والے تھے لیکن کفر وتکذیب کی وجہ سے برے انجام سے دوچار ہوئے۔
٣۔٢ یعنی انہوں نے عذاب دیکھ کر مدد کے لیے پکارا اور توبہ پر آمادگی کا اظہار کیا لیکن وہ وقت توبہ کا تھا نہ فرار کا۔ اس لیے نہ ان کا ایمان نافع ہوا اور نہ وہ بھاگ کر عذاب سے بچ سکے لَاتَ، لَا ہی سے ہے جس میں ت کا اضافہ ہے جیسے ثَمَّ کو ثَمَّةَ بھی بولتے ہیں مَنَاصٌ، نَاصَ يَنُوصُ کا مصدر ہے، جس کے معنی بھاگنے اور پیچھے ہٹنے کے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَعَجِبُوا أَن جَاءَهُم مُّنذِرٌ‌ مِّنْهُمْ ۖ وَقَالَ الْكَافِرُ‌ونَ هَـٰذَا سَاحِرٌ‌ كَذَّابٌ ﴿٤﴾
اور کافروں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ان ہی میں سے ایک انہیں ڈرانے والا آ گیا (١) اور کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے۔
٤۔١ یعنی انہی کی طرح کا ایک انسان رسول کس طرح بن گیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَـٰهًا وَاحِدًا ۖ إِنَّ هَـٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ ﴿٥﴾
کیا اس نے اتنے سارے معبودوں کا ایک ہی معبود کر دیا واقعی یہ بہت ہی عجیب بات ہے۔ (١)
٥۔١ یعنی ایک ہی اللہ ساری کائنات کانظام چلانے والا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی طرح عبادت اور نذر و نیاز کا مستحق بھی صرف وہی ایک ہے؟ یہ ان کے لیے تعجب انگیز بات تھی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَانطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُ‌وا عَلَىٰ آلِهَتِكُمْ ۖ إِنَّ هَـٰذَا لَشَيْءٌ يُرَ‌ادُ ﴿٦﴾
ان کے سردار یہ کہتے ہوئے چلے کہ چلو جی اور اپنے معبودوں پر جمے رہو، (١) یقیناً اس بات میں تو کوئی غرض ہے۔ (٢)
٦۔١ یعنی اپنے دین پر جمے رہو اور بتوں کی عبادت کرتے رہو، محمد (ﷺ) کی بات پر کان مت دھرو!
٦۔٢ یعنی یہ ہمیں ہمارے معبودوں سے چھڑا کر دراصل ہمیں اپنے پیچھے لگانا اور اپنی قیادت و سیادت منوانا چاہتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مَا سَمِعْنَا بِهَـٰذَا فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَ‌ةِ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ ﴿٧﴾
ہم نے تو یہ بات پچھلے دین میں بھی نہیں سنی، (١) کچھ نہیں یہ تو صرف گھڑنت ہے۔ (٢)
٧۔١ پچھلے دین سے مراد یا تو ان کا ہی دین قریش ہے، یا پھر دین نصاریٰ۔ یعنی یہ جس توحید کی دعوت دے رہا ہے، اس کی بابت تو ہم نے کسی بھی دین میں نہیں سنا۔
٧۔٢ یعنی یہ توحید صرف اس کی اپنی من گھڑت ہے، ورنہ عیسائیت میں بھی اللہ کے ساتھ دوسروں کو الوہیت میں شریک تسلیم کیا گیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَأُنزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ‌ مِن بَيْنِنَا ۚ بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ مِّن ذِكْرِ‌ي ۖ بَل لَّمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ ﴿٨﴾
کیا ہم سب میں سے اسی پر کلام الٰہی نازل کیا گیا ہے؟ (١) دراصل یہ لوگ میری وحی کی طرف سے شک میں ہیں، (٢) بلکہ (صحیح یہ ہے کہ) انہوں نے اب تک میرا عذاب چکھا ہی نہیں۔ (٣)
٨۔١ یعنی مکے میں بڑے بڑے چودھری اور رئیس ہیں، اگر اللہ کسی کو نبی بنانا ہی چاہتا تو ان میں سے کسی کو بناتا۔ ان سب کو چھوڑ کر وحی و رسالت کے لیے محمد ﷺ کا انتخاب بھی عجیب ہے؟ یہ گویا انہوں نے اللہ کے انتخاب میں کیڑے نکالے۔ سچ ہے خوئے بدر ابہانہ بسیار۔ دوسرے مقام پر بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً سورۂ زخرف: ۳۱-۳۲۔
٨۔٢ یعنی ان کا انکاراس لیے نہیں ہے کہ انہیں محمد ﷺ کی صداقت کا علم نہیں ہے یا آپ کی سلامت عقل سے انہیں انکار ہے بلکہ یہ اس وحی کے بارے میں ہی ریب و شک میں مبتلا ہیں جو آپ پر نازل ہوئی، جس میں سب سے نمایاں توحید کی دعوت ہے۔
٨۔٣ کیونکہ عذاب کا مزہ چکھ لیتے تو اتنی واضح چیز کی تکذیب نہ کرتے۔ اور جب یہ اس تکذیب کا واقعی مزہ چکھیں گے تو وہ وقت ایسا ہو گا کہ پھر نہ تصدیق کام آئے گی، نہ ایمان ہی فائدہ دے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَ‌حْمَةِ رَ‌بِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ ﴿٩﴾
یا کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں۔ (١)
٩۔١ کہ یہ جس کو چاہیں دیں اور جس کو چاہیں نہ دیں، انہی خزانوں میں نبوت بھی ہے۔ اور اگر ایسا نہیں ہے، بلکہ رب کے خزانے کا مالک وہی وہاب ہے جو بہت دینے والا ہے، تو پھر انہیں نبوت محمدی سے انکار کیوں ہے؟ جسے اس نواز نے والے رب نے اپنی رحمت خاص سے نوازا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَمْ لَهُم مُّلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ فَلْيَرْ‌تَقُوا فِي الْأَسْبَابِ ﴿١٠﴾
یا کیا آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز کی بادشاہت ان ہی کی ہے، تو پھر رسیاں تان کر چڑھ جائیں۔ (١)
١٠۔١ یعنی آسمان پر چڑھ کر اس وحی کا سلسلہ منقطع کر دیں جو محمد ﷺ پر نازل ہوتی ہے۔ اسباب، سبب کی جمع ہے۔ اس کے لغوی معنی ہر اس چیز کے ہیں جس کے ذریعے سے مطلوب تک پہنچا جائے، چاہے وہ کوئی سی بھی چیز ہو۔ اس لیے اس کے مختلف معنی کیے گئے ہیں۔ رسیوں کے علاوہ ایک ترجمہ دروازے کا بھی کیا گیا ہے، جن سے فرشتے زمین پر اترتے ہیں۔ یعنی سیڑھیوں کے ذریعے سے آسمان کے دروازوں تک پہنچ جائیں اور وحی بند کر دیں۔ (فتح القدیر)
 
Top