• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة الذاریات

(سورة الذاریات مکی ہے اور اس میں ساٹھ آیتیں اور تین رکوع ہیں)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

وَالذَّارِ‌يَاتِ ذَرْ‌وًا ﴿١﴾
قسم ہے بکھیرنے والیوں کی اڑا کر۔ (١)
١۔١ اس سے مراد ہوائیں ہیں جو مٹی کو اڑا کر بکھیر دیتی ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَالْحَامِلَاتِ وِقْرً‌ا ﴿٢﴾
پھر اٹھانے والیاں بوجھ کو۔ (١)
٢۔١ وَقْرٌ ہر وہ بوجھ جسے کوئی جاندار لے کر چلے، حاملات سے مراد وہ ہوائیں ہیں جو بادلوں کو اٹھائے ہوئے ہیں، یا پھر وہ بادل ہیں جو پانی کا بوجھ اٹھائے ہوتے ہیں جیسے چوپائے، حمل کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَالْجَارِ‌يَاتِ يُسْرً‌ا ﴿٣﴾
پھر چلنے والیاں نرمی سے۔ (١)
٣۔١ جَارِيَاتٌ، پانی میں چلنے والی کشتیاں، يُسْرًا آسانی سے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَالْمُقَسِّمَاتِ أَمْرً‌ا ﴿٤﴾
پھر کام کو تقسیم کرنے والیاں۔ (١)
٤۔١ مُقَسِّمَاتٌ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو کاموں کو تقسیم کر لیتے ہیں۔ کوئی رحمت کا فرشتہ ہے تو کوئی عذاب کا، کوئی پانی کا ہے تو کوئی سختی (قحط سالی وغیرہ) کا، کوئی ہواؤں کا فرشتہ ہے تو کوئی موت اور حوادث کا۔ بعض نے ان سب سے صرف ہوائیں مراد لی ہیں اور ان سب کو ہواؤں کی صفت بنایا ہے، جیسے فاضل مترجم نے بھی اسی کے مطابق ترجمہ کیا ہے۔ لیکن ہم نے امام ابن کثیر اور امام شوکانی کی تفسیر کے مطابق تشریح کی ہے۔ قسم سے مقصد مقسم علیہ کی سچائی کو بیان کرنا ہوتا ہے یا بعض دفعہ صرف تاکید مقصود ہوتی ہے اور بعض دفعہ مقسم علیہ کو دلیل کے طور پر پیش کرنا مقصود ہوتا ہے۔ یہاں قسم کی یہی تیسری قسم ہے۔ آگے جواب قسم یہ بیان کیا گیا ہے کہ تم سے جو وعدے کیے جاتے ہیں یقیناً وہ سچے ہیں اور قیامت برپا ہو کر رہے گی جس میں انصاف کیا جائے گا۔ یہ ہواؤں کا چلنا، بادلوں کا پانی کو اٹھانا، سمندروں میں کشتیوں اور فرشتوں کا مختلف امور کو سرانجام دینا، قیامت کے وقوع پر دلیل ہے، کیونکہ جو ذات یہ سارے کام کرتی ہے جو بظاہر نہایت مشکل اور اسباب عادیہ کے خلاف ہیں، وہی ذات قیامت والے دن تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ بھی کر سکتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَصَادِقٌ ﴿٥﴾
یقین مانو کہ تم سے جو وعدے کیے جاتے ہیں (سب) سچے ہیں۔

وَإِنَّ الدِّينَ لَوَاقِعٌ ﴿٦﴾
اور بیشک انصاف ہونے والا ہے۔

وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْحُبُكِ ﴿٧﴾
قسم ہے راہوں والے آسمان کی۔ (١)
٧۔١ دوسرا ترجمہ، حسن و جمال اور زینت و رونق والا کیا گیا ہے، چاند، سورج ، کواکب و سیارات، روشن ستارے، اس کی بلندی اور وسعت، یہ سب چیزیں آسمان کی رونق و زینت اور خوب صورتی کا باعث ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّكُمْ لَفِي قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ ﴿٨﴾
یقیناً تم مختلف بات میں پڑے ہوئے ہو۔ (١)
٨۔١ یعنی اے اہل مکہ! تمہارا کسی بات میں آپس میں اتفاق نہیں ہے۔ ہمارے پیغمبر کو تم میں سے کوئی جادوگر، کوئی شاعر، کوئی کاہن اور کوئی کذاب کہتا ہے۔ اسی طرح کوئی قیامت کی بالکل نفی کرتا ہے، کوئی شک کا اظہار، علاوہ ازیں ایک طرف اللہ کے خالق اور رازق ہونے کا اعتراف کرتے ہو، دوسری طرف دوسروں کو بھی معبود بنا رکھا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ ﴿٩﴾
اس سے وہی باز رکھا جاتا ہے (١) جو پھیر دیا گیا ہو۔
٩۔١ یعنی نبی ﷺ پر ایمان لانے سے، یا حق سے یعنی بعث و توحید سے یا مطلب ہے مذکورہ اختلاف سے وہ شخص پھیر دیا گیا جسے اللہ نے اپنی توفیق سے پھیر دیا، پہلے مفہوم میں ذم ہے۔ دوسرے میں مدح۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُتِلَ الْخَرَّ‌اصُونَ ﴿١٠﴾
بے سند باتیں کرنے والے غارت کر دیئے گئے۔

الَّذِينَ هُمْ فِي غَمْرَ‌ةٍ سَاهُونَ ﴿١١﴾
جو غفلت میں ہیں اور بھولے ہوئے ہیں۔

يَسْأَلُونَ أَيَّانَ يَوْمُ الدِّينِ ﴿١٢﴾
پوچھتے ہیں کہ یوم جزا کب ہو گا؟

يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ‌ يُفْتَنُونَ ﴿١٣﴾
ہاں یہ وہ دن ہے کہ یہ آگ پر تپائے جائیں گے۔ (١)
١٣۔١ يُفْتَنُونَ کے معنی ہیں يُحَرَّقُونَ وَيُعَذَّبُونَ، جس طرح سونے کو آگ میں ڈال کر جانچا پرکھا جاتا ہے، اسی طرح یہ آگ میں ڈالے جائیں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ذُوقُوا فِتْنَتَكُمْ هَـٰذَا الَّذِي كُنتُم بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ ﴿١٤﴾
اپنی فتنہ پردازی کا مزہ چکھو، (١) یہی ہے جس کی تم جلدی مچا رہے تھے۔
١٤۔١ فِتْنَةٌ، بمعنی عذاب یا آگ میں جلنا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ ﴿١٥﴾
بیشک تقوٰی والے لوگ بہشتوں اور چشموں میں ہوں گے۔

آخِذِينَ مَا آتَاهُمْ رَ‌بُّهُمْ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذَٰلِكَ مُحْسِنِينَ ﴿١٦﴾
ان کے رب نے جو کچھ انہیں عطا فرمایا ہے اسے لے رہے ہوں گے وہ تو اس سے پہلے ہی نیکوکار تھے۔

كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ ﴿١٧﴾
وہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔ (١)
١٧۔١ هُجُوعٌ کے معنی ہیں، رات کو سونا، مَا يَهْجَعُونَ میں ما تاکید کے لیے ہے۔ وہ رات کو کم سوتے تھے، مطلب ہے ساری رات سو کر غفلت اور عیش و عشرت میں نہیں گزار دیتے تھے۔ بلکہ رات کا کچھ حصہ اللہ کی یاد میں اور اس کی بارگاہ میں گڑگڑاتے ہوئے گزارتے تھے۔ جیسا کہ احادیث میں بھی قیام اللیل کی تاکید ہے۔ مثلاً ایک حدیث میں فرمایا ”لوگو! لوگوں کو کھانا کھلاؤ، صلۂ رحمی کرو، سلام پھیلاؤ اور رات کو اٹھ کر نماز پڑھو، جب کہ لوگ سوئے ہوئے ہوں، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے“۔ (مسند احمد ۵/ ۴۵۱)
 
Top