• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿١٨﴾
وہ پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے زبردست حکمت والا (ہے)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة الطلاق

(سوره طلاق مدنی ہے اور اس میں بارہ آیتیں اور دو رکوع ہیں)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ ۖ وَاتَّقُوا اللَّـهَ رَ‌بَّكُمْ ۖ لَا تُخْرِ‌جُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُ‌جْنَ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ ۚ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّـهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ ۚ لَا تَدْرِ‌ي لَعَلَّ اللَّـهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَٰلِكَ أَمْرً‌ا ﴿١﴾
اے نبی! (اپنی امت سے کہو کہ) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو (١) تو ان کی عدت (کے دنوں کے آغاز) میں انہیں طلاق دو (٢) اور عدت کا حساب رکھو، (٣) اور اللہ سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرتے رہو، نہ تم انہیں ان کے گھر سے نکالو (٤) اور نہ وہ (خود) نکلیں (٥) ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ کھلی برائی کر بیٹھیں، (٦) یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں، جو شخص اللہ کی حدوں سے آگے بڑھ جائے اس نے یقیناً اپنے اوپر ظلم کیا، (۷) تم نہیں جانتے شاید اس کے بعد اللہ تعالیٰ کوئی نئی بات پیدا کر دے۔ (٨)
١۔١ نبی ﷺ سے خطاب آپ کے شرف و مرتبت کی وجہ سے ہے، ورنہ حکم تو امت کو دیا جا رہا ہے۔ یا آپ ہی کو بطور خاص خطاب ہے اور جمع کا صیغہ بطور تعظیم کے ہے اور امت کے لیے آپ ﷺ کا اسوہ ہی کافی ہے۔ طَلَّقْتُمُ کا مطلب ہے جب طلاق دینے کا پختہ ارادہ کر لو۔
١۔٢ اس میں طلاق دینے کا طریقہ اور وقت بتلایا ہے لِعِدَّتِهِنَّ میں لام توقیت کے لیے ہے۔ یعنی (لأوَّلِ یا لاسْتِقْبَالِ عِدَّتِهِنَّ) (عدت کے آغاز میں) طلاق دو۔ یعنی جب عورت حیض سے پاک ہو جائے تو اس سے ہم بستری کیے بغیر طلاق دو۔ حالت طہر اسکی عدت کا آغاز ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حیض کی حالت میں یا طہر میں ہم بستری کرنے کے بعد طلاق دینا غلط طریقہ ہے اس کو فقہا طلاق بدعی سے اور پہلے (صحیح) طریقے کو طلاق سنت سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں آتا ہے کہ حضرت ابن عمر رضی الله عنہ نے حیض کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو رسول اللہ ﷺ غضبناک ہوئے اور انہیں اس سے رجوع کرنے کے ساتھ حکم دیا کہ حالت طہر میں طلاق دینا، اور اس کے لیے آپ ﷺ نے اسی آیت سے استدلال فرمایا۔ (صحيح بخاری، كتاب الطلاق) تاہم حیض میں دی گئی طلاق بھی، باوجود بدعی ہونے کے واقع ہو جائے گی۔ محدثین اور جمہور علما اسی بات کے قائل ہیں۔ البتہ امام ابن قیم اور امام ابن تیمیہ طلاق بدعی کے وقوع کے قائل نہیں ہیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھیئے نيل الأوطار، كتاب الطلاق، باب النهي عن الطلاق في الحيض وفي الطهر اور دیگر شروحات حدیث)
١۔٣ یعنی اس کی ابتدا اور انتہا کا خیال رکھو، تاکہ عورت اس کے بعد نکاح ثانی کر سکے، یا اگر تم ہی رجوع کرنا چاہو، (پہلی اور دوسری طلاق کی صورت میں) تو عدت کے اندر رجوع کر سکو۔
١۔٤ یعنی طلاق دیتے ہی عورت کو اپنے گھر سے مت نکالو، بلکہ عدت تک اسے گھر میں ہی رہنے دو، اور اس وقت تک رہائش اور نان و نفقہ تمہاری ذمے داری ہے۔
١۔٥ یعنی عدت کے دوران خود عورت بھی گھر سے باہر نکلنے سے احتراز کرے، الایہ کہ کوئی بہت ہی ضروری معاملہ ہو۔
١۔٦ یعنی بد کاری کا ارتکاب کر بیٹھے یا بد زبانی اور بد اخلاقی کا مظاہرہ کرے جس سے گھر والوں کو تکلیف ہو۔ دونوں صورتوں میں اس کا اخراج جائز ہو گا۔
١۔٧ یعنی احکام مذکورہ، اللہ کی حدیں ہیں، جن سے تجاوز خود اپنے آپ پر ہی ظلم کرنا ہے، کیونکہ اس کے دینی اور دنیوی نقصانات خود تجاوز کرنے والے کو ہی بھگتنے پڑیں گے۔
١۔٨ یعنی مرد کے دل میں مطلقہ عورت کی رغبت پیدا کر دے اور وہ رجوع کرنے پر آمادہ ہو جائے، جیسا کہ پہلی اور دوسری طلاق کے بعد خاوند کو عدت کے اندر رجوع کرنے کا حق حاصل ہے۔ اسی لیے بعض مفسرین کی رائے ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صرف ایک طلاق دینے کی تلقین اور بیک وقت تین طلاقیں دینے سے منع فرمایا ہے، کیونکہ اگر وہ ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دے دے (اور شریعت اسے جائز قرار دے کر نافذ بھی کر دے) تو پھر یہ کہنا بے فائدہ ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ کوئی نئی بات پیدا کر دے۔ (فتح القدیر) اسی سے امام احمد اور دیگر بعض علما نے یہ استدلال بھی کیا ہے کہ رہائش اور نفقے کی جو تاکید کی گئی ہے وہ ان عورتوں کے لیے ہے جن کو ان کے خاوندوں نے پہلی یا دوسری طلاق دی ہو۔ کیونکہ ان میں خاوند کے رجوع کا حق برقرار رہتا ہے۔ اور جس عورت کو مختلف اوقات میں دو طلاقیں مل چکی ہوں تو تیسری طلاق اس کے لیے طلاق بتہ یا بائنہ ہے، اس کا سُكْنَى (رہائش) اور نفقہ خاوند کے ذمے نہیں ہے۔ اس کو فوراً خاوند کے مکان سے دوسری جگہ منتقل کر دیا جائے گا، کیونکہ خاوند اب اس سے رجوع کر کے اسے اپنے گھر آباد نہیں کر سکتا ﴿حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ اس لیے اب اسے خاوند کے پاس رہنے کا اور اس سے نان و نفقہ وصول کرنے کا حق نہیں ہے۔ اس کی تائید حضرت فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کے اس واقعے سے ہوتی ہے کہ جب ان کے خاوند نے ان کو تیسری طلاق بھی دے دی اور اس کے بعد انہیں خاوند کے مکان سے نکلنے کے لیے کہا گیا تو وہ آمادہ نہیں ہوئی بالآخر معاملہ رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا تو آپ ﷺ نے یہی فیصلہ فرمایا کہ ان کے لیے رہائش اور نفقہ نہیں ہے، انہیں فوراً کسی دوسری جگہ منتقل ہو جانا چاہیے۔ بلکہ بعض روایات میں صراحت بھی ہے،[إِنَّمَا النَّفَقَةُ وَالسُّكْنَى لِلْمَرْأَةِ؛ إِذَا كَانَ لِزَوْجِهَا عَلَيْهَا الرَّجْعَةُ] رواه أحمد والنسائی۔ البتہ بعض روایات میں حاملہ عورت کے لیے بھی نفقہ اور رہائش کی صراحت ہے۔ (تفصیل اور حوالوں کے لیے دیکھئے: نيل الأوطار، باب ما جاء في نفقة المبتوتة وسكناها وباب النفقة والسكنى للمعتدة الرجعية) بعض لوگ ان روایات کو قرآن کے مذکورہ حکم ﴿لا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ﴾ کے خلاف باور کرا کے ان کو رد کر دیتے ہیں جو صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن کا حکم اپنے گرد و پیش کے قرائن کے پیش نظر مطلقہ رجعیہ سے متعلق ہے۔ اور اگر اسے عام مان بھی لیا جائے تو یہ روایات اس کی مخصص ہیں یعنی قرآن کے عموم کو ان روایات نے مطلقہ رجعیہ کے لیے خاص کر دیا اور مطلقہ بائنہ کو اس عموم سے نکال دیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُ‌وفٍ أَوْ فَارِ‌قُوهُنَّ بِمَعْرُ‌وفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ وَأَقِيمُوا الشَّهَادَةَ لِلَّـهِ ۚ ذَٰلِكُمْ يُوعَظُ بِهِ مَن كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ‌ ۚ وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَ‌جًا ﴿٢﴾
پس جب یہ عورتیں اپنی عدت کرنے کے قریب پہنچ جائیں تو انہیں یا تو قاعدہ کے مطابق اپنے نکاح میں رہنے دو یا دستور کے مطابق انہیں الگ کر دو (١) اور آپس میں سے دو عادل شخصوں کو گواہ کر لو (٢) اور اللہ کی رضا مندی کے لیے ٹھیک ٹھیک گواہی دو۔ (٣) یہی ہے وہ جس کی نصیحت اسے کی جاتی ہے اور جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے۔ (٤)
٢۔١ مطلقہ مدخولہ کی عدت تین حیض ہے۔ اگر رجوع کرنا مقصود ہو تو عدت ختم ہونے سے پہلے پہلے رجوع کر لو۔ بصورت دیگر انہیں معروف کے مطابق اپنے سے جدا کر دو۔
٢۔٣ اس رجعت اور بعض کے نزدیک طلاق پر گواہ کر لو۔ یہ امر وجوب کے لیے نہیں، استحباب کے لیے ہے۔ یعنی گواہ بنا لینا بہتر ہے تاہم ضروری نہیں۔
٢۔٢ یہ تاکید گواہوں کو ہے کہ وہ کسی کی رو رعایت اور لالچ کے بغیر صحیح صحیح گواہی دیں۔
٢۔٤ یعنی شدائد اور آزمائشوں سے نکلنے کی سبیل پیدا فرما دیتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيَرْ‌زُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۚ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ۚ إِنَّ اللَّـهَ بَالِغُ أَمْرِ‌هِ ۚ قَدْ جَعَلَ اللَّـهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرً‌ا ﴿٣﴾
اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اپنا کام پورا کر کے ہی رہے گا۔ (١) اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ (٢)
٣۔١ یعنی وہ جو چاہے۔ اسے کوئی روکنے والا نہیں۔
٣۔٢ تنگیوں کے لیے بھی اور آسانیوں کے لیے بھی۔ یہ دونوں اپنے وقت پر انتہا پذیر ہو جاتے ہیں۔ بعض نے اس سے حیض اور عدت مراد لی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِن نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْ‌تَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ‌ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ ۚ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَل لَّهُ مِنْ أَمْرِ‌هِ يُسْرً‌ا ﴿٤﴾
تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے نا امید ہو گئی ہوں، اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور ان کی بھی جنہیں حیض آنا شروع نہ ہوا ہو (١) اور حاملہ عورتوں کی عدت ان کے وضع حمل ہے (٢) اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اللہ اس کے (ہر) کام میں آسانی کر دے گا۔
٤۔١ یہ ان کی عدت ہے جن کا حیض عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے بند ہو گیا، یا جنہیں حیض آنا شروع ہی نہیں ہوا۔ واضح رہے کہ نادر طور پر ایسا ہوتا ہے کہ عورت سن بلوغت کو پہنچ جاتی ہے اور اسے حیض نہیں آتا۔
٤۔٢ مطلقہ اگر حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہے، چاہے دوسرے روز ہی وضع حمل ہو جائے۔ علاوہ ازیں ظاہر آیت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہر حاملہ عورت کی عدت یہی ہے چاہے وہ مطلقہ ہو یا اس کا خاوند فوت ہو گیا ہو۔ احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، (دیکھئے صحيح بخاری وصحيح مسلم اور دیگر سنن، كتاب الطلاق) دیگر عورتیں جن کے خاوند فوت ہو جائیں، ان کی عدت ۴ مہینے ۱۰ دن ہے۔ (سورۂ بقرۃ: ۲۳۴)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ذَٰلِكَ أَمْرُ‌ اللَّـهِ أَنزَلَهُ إِلَيْكُمْ ۚ وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يُكَفِّرْ‌ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ وَيُعْظِمْ لَهُ أَجْرً‌ا ﴿٥﴾
یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف اتارا ہے اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے گناہ مٹا دے گا اور اسے بڑا بھاری اجر دے گا۔

أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنتُم مِّن وُجْدِكُمْ وَلَا تُضَارُّ‌وهُنَّ لِتُضَيِّقُوا عَلَيْهِنَّ ۚ وَإِن كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّىٰ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ فَإِنْ أَرْ‌ضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَ‌هُنَّ ۖ وَأْتَمِرُ‌وا بَيْنَكُم بِمَعْرُ‌وفٍ ۖ وَإِن تَعَاسَرْ‌تُمْ فَسَتُرْ‌ضِعُ لَهُ أُخْرَ‌ىٰ ﴿٦﴾
تم اپنی طاقت کے مطابق جہاں تم رہتے ہو وہاں ان (طلاق والی) عورتوں کو رکھو (۱) اور انہیں تنگ کرنے کے لیے تکلیف نہ پہنچاؤ (۲) اور اگر وہ حمل سے ہوں تو جب تک بچہ پیدا ہولے انہیں خرچ دیتے رہا کرو (۳) پھر اگر تمہارے کہنے سے وہی دودھ پلائیں تو تم انہیں ان کی اجرت دے دو (٣) اور باہم مناسب طور پر مشورہ کر لیا کرو (٤) اور اگر تم آپس میں کشمکش کرو تو اس کے کہنے سے کوئی اور دودھ پلائے گی۔ (۵)
٦۔١ یعنی مطلقہ رجعیہ کو۔ اس لیے کہ مطلقہ بائنہ کے لیے تو رہائش اور نفقہ ضروری ہی نہیں ہے، جیسا کہ گزشتہ صفحے میں بیان ہوا۔ اپنی طاقت کے مطابق رکھنے کا مطلب ہے کہ اگر مکان فراخ ہو اور اس میں متعدد کمرے ہوں تو ایک کمرہ اس کے لیے مخصوص کر دیا جائے۔ بصورت دیگر اپنا کمرہ اس کے لیے خالی کر دے۔ اس میں حکمت یہی ہے کہ قریب رہ کر عدت گزارے گی تو شاید خاوند کا دل پسیج جائے اور رجوع کرنے کی رغبت اس کے دل میں پیدا ہو جائے۔ خاص طور پر اگر بچے بھی ہوں تو پھر رغبت اور رجوع کا قوی امکان ہے۔ مگر افسوس ہے کہ مسلمان اس ہدایت پر عمل نہیں کرتے، جس کی وجہ سے اس حکم کے فوائد و حکم سے بھی وہ محروم ہیں۔ ہمارے معاشرے میں طلاق کے ساتھ ہی جس طرح عورت کو فوراً اچھوت بنا کر گھر سے نکال دیا جاتا ہے، یا بعض دفعہ لڑکی والے اسے اپنے گھر لے جاتے ہیں، یہ رواج قرآن کریم کی صریح تعلیم کے خلاف ہے۔
٦۔۲ یعنی نان نفقہ میں یا رہائش میں اسے تنگ اور بے آبرو کرنا تاکہ وہ گھر چھوڑنے پر مجبور ہو جائے۔ عدت کے دوران ایسا رویہ اختیارنہ کیا جائے۔ بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ عدت ختم ہو جانے کے قریب ہو تو پھر رجوع کر لے اور بار بار ایسا کرے، جیسا کہ زمانۂ جاہلیت میں کیا جاتا تھا۔ جس کے سدباب کے لیے شریعت نے طلاق کے بعد رجوع کرنے کی حد مقرر فرما دی تاکہ کوئی شخص آئندہ اس طرح عورت کو تنگ نہ کرے، اب ایک انسان دو مرتبہ تو ایسا کرسکتا ہے یعنی طلاق دے کر عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کر لے۔ لیکن تیسری مرتبہ جب طلاق دے گا تو اس کے بعد اس کے رجوع کا حق بھی ختم ہو جائے گا۔
٦۔٢ یعنی مطلقہ خواہ بائنہ ہی کیوں نہ ہو۔ اگر حاملہ ہے تو اس کا نفقہ و سکنیٰ ضروری ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا گیا ہے۔
٦۔٣ یعنی طلاق دینے کے بعد اگر وہ تمہارے بچے کو دودھ پلائے، تو اس کی اجرت تمہارے ذمے ہے۔
٦۔٤ یعنی باہمی مشورے سے اجرت اور دیگر معاملات طے کر لیے جائیں۔ مثلاً بچے کا باپ عرف کے مطابق اجرت دے اور ماں، باپ کی استطاعت کے مطابق اجرت طلب کرے، وغیرہ۔
٦۔۵ یعنی آپس میں اجرت وغیرہ کا معاملہ طے نہ ہو سکے تو کسی دوسری انا کے ساتھ معاملہ کر لے جو اس کے بچے کو دودھ پلائے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لِيُنفِقْ ذُو سَعَةٍ مِّن سَعَتِهِ ۖ وَمَن قُدِرَ‌ عَلَيْهِ رِ‌زْقُهُ فَلْيُنفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّـهُ ۚ لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا ۚ سَيَجْعَلُ اللَّـهُ بَعْدَ عُسْرٍ‌ يُسْرً‌ا ﴿٧﴾
کشادگی والے کو اپنی کشادگی سے خرچ کرنا چاہیے (۱) اور جس پر اس کے رزق کی تنگی کی گئی ہو (۲) اسے چاہیے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اسے دے رکھا ہے اسی میں سے (اپنی حسب حیثیت) دے، کسی شخص کو اللہ تکلیف نہیں دیتا مگر اتنی ہی جتنی طاقت اسے دے رکھی ہے، (۳) اللہ تنگی کے بعد آسانی و فراغت بھی کر دے گا۔ (٤)
۷۔۱ یعنی دودھ پلانے والی عورتوں کو اجرت اپنی طاقت کے مطابق دی جائے اگر اللہ نے مال ودولت میں فراخی عطا فرمائی ہے تو اسی فراخی کے ساتھ مرضعہ کی خدمت ضروری ہے۔
۷۔۲ یعنی مالی لحاظ سے کمزور ہو۔
۷۔۳ اس لیے وہ غریب اور کمزور کو یہ حکم نہیں دیتا کہ وہ دودھ پلانے والی کو زیادہ اجرت ہی دے۔ مطلب ان ہدایت کا یہ ہے کہ بچے کی ماں اور بچے کا باپ دونوں ایسا مناسب رویہ اختیار کریں کہ ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچے اور بچے کو دودھ پلانے کا مسئلہ سنگین نہ ہو۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿لا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلا مَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ﴾ (البقرة: ۲۳۳) ”نہ ماں کو بچے کی وجہ سے تکلیف پہنچائی جائے اور نہ باپ کو“۔
۷۔٤ چنانچہ جو اللہ پر اعتماد و توکل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو آسانی و کشادگی سے بھی نواز دیتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَكَأَيِّن مِّن قَرْ‌يَةٍ عَتَتْ عَنْ أَمْرِ‌ رَ‌بِّهَا وَرُ‌سُلِهِ فَحَاسَبْنَاهَا حِسَابًا شَدِيدًا وَعَذَّبْنَاهَا عَذَابًا نُّكْرً‌ا ﴿٨﴾
اور بہت سی بستی والوں نے اپنے رب کے حکم سے اور اس کے رسولوں سے سرتابی کی (۱) تو ہم نے بھی ان سے سخت حساب کیا اور انہیں عذاب دیا ان دیکھا (سخت) عذاب۔ (۲)
۸۔۱ عَتَتْ، أَيْ: ( تَمَرَّدَتْ وَطَغَتْ وَاسْتَكْبَرَتْ عَنِ اتِّبَاعِ أَمْرِ اللهِ وَمُتَابَعَةِ رُسُلِهِ۔)
۷۔۲ نُكْرًا، مُنْكَرًا فَظِيعًا حساب اور عذاب، دونوں سے مراد دنیاوی مواخذہ اور سزا ہے، یا پھر بقول بعض کلام میں تقدیم و تاخیر ہے۔ عَذَابًا نُكْرًا وہ عذاب ہے جو دنیا میں قحط، خسف و مسخ وغیرہ کی شکل میں انہیں پہنچا، اور حِسَابًا شَدِيدًا وہ ہے جو آخرت میں ہو گا۔ (فتح القدیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَذَاقَتْ وَبَالَ أَمْرِ‌هَا وَكَانَ عَاقِبَةُ أَمْرِ‌هَا خُسْرً‌ا ﴿٩﴾
پس انہوں نے اپنے کرتوت کا مزہ چکھ لیا اور انجام کار ان کا خسارہ ہی ہوا۔

أَعَدَّ اللَّـهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا ۖ فَاتَّقُوا اللَّـهَ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ الَّذِينَ آمَنُوا ۚ قَدْ أَنزَلَ اللَّـهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرً‌ا ﴿١٠﴾
ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے، پس اللہ سے ڈرو اے عقل مند ایمان والو۔ یقیناً اللہ نے تمہاری طرف نصیحت اتار دی ہے۔

رَّ‌سُولًا يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِ اللَّـهِ مُبَيِّنَاتٍ لِّيُخْرِ‌جَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ‌ ۚ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّـهِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِ‌ي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ‌ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۖ قَدْ أَحْسَنَ اللَّـهُ لَهُ رِ‌زْقًا ﴿١١﴾
(یعنی) رسول (١) جو تمہیں اللہ کے صاف صاف احکام سناتا ہے تاکہ ان لوگوں کو جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں وہ تاریکیوں سے روشنی کی طرف لے آئے، (٢) اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے (۳) اللہ اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جس کے نیچے نہریں جاری ہیں جن میں یہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ بیشک اللہ نے اسے بہترین روزی دے رکھی ہے۔
١١۔١ رسول، ذکر سے بدل ہے، بطور مبالغہ رسول کو ذکر سے تعبیر فرمایا، جیسے کہتے ہیں، وہ تو مجسم عدل ہے۔ یا ذکر سے مراد قرآن ہے اور رسولاً سے پہلے أَرْسَلْنَا محذوف ہے یعنی ذکر (قرآن) کو نازل کیا اور رسول کو ارسال کیا۔
١١۔٢ یہ رسول کا منصب اور فریضہ بیان کیا گیا کہ وہ قرآن کے ذریعے سے لوگوں کو اخلاقی پستیوں سے شرک و ضلالت کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان و عمل صالح کی روشنی کی طرف لاتا ہے۔ رسول سے یہاں مراد الرسول یعنی حضرت محمد رسول اللہ (ﷺ) ہیں۔
١١۔۳ عمل صالح میں دونوں باتیں شامل ہیں، احکام وفرائض کی ادائیگی اور معصیات و منہیات سے اجتناب۔ مطلب ہے کہ جنت میں وہی اہل ایمان داخل ہوں گے، جنہوں نے صرف زبان سے ہی ایمان کا اظہار نہیں کیا تھا، بلکہ انہوں نے ایمان کے تقاضوں کے مطابق فرائض پر عمل اور معاصی سے اجتناب کیا تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اللَّـهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْ‌ضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ‌ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ‌ وَأَنَّ اللَّـهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا ﴿١٢﴾
اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور اسی کے مثل زمینیں بھی۔ (۱) اس کا حکم ان کے درمیان اترتا ہے (۲) تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو بہ اعتبار علم گھیر رکھا ہے۔ (۳)
١٢۔١ أَيْ خَلَقَ مِنَ الأَرْضِ مِثْلَهُنَّ یعنی سات آسمانوں کی طرح، اللہ نے سات زمینیں بھی پیدا کی ہیں۔ بعض نے اس سے سات اقالیم مراد لیے ہیں، لیکن یہ صحیح نہیں۔ بلکہ جس طرح اوپر نیچے سات آسمان ہیں، اسی طرح سات زمینیں ہیں، جن کے درمیان بعد و مسافت ہے اور ہر زمین میں اللہ کی مخلوق آباد ہے (القرطبی) احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، جیسے نبی ﷺ نے فرمایا [مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الأَرْضِ ظُلْمًا فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَاضِينَ] (صحيح مسلم، كتاب البيوع، باب تحريم الظلم) ”جس نے کسی کی ایک بالشت زمین بھی ہتھیا لی تو قیامت والے دن اس زمین کا اتنا حصہ ساتوں زمینوں سے طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا“۔ صحیح بخاری کے الفاظ ہیں [خسف بِهِ إِلَى سَبْعِ أَرَاضِينَ] ”اس کو ساتوں زمینوں تک دھنسا دیا جائے گا“۔ (صحيح بخاری، كتاب المظالم باب إثم من ظلم شيئا من الأرض) بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ ہر زمین میں، اسی طرح کا پیغمبر ہے، جس طرح کا پیغمبر تمہاری زمین پر آیا، مثلاً آدم، آدم کی طرح۔ نوح، نوح کی طرح۔ ابراہیم، ابراہیم کی طرح۔ عیسیٰ، عیسیٰ کی طرح موسی (علیہم السلام)۔ لیکن یہ بات کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں۔
١٢۔۲ یعنی جس طرح ہر آسمان پر اللہ کا حکم نافذ اور غالب ہے، اسی طرح ہر زمین پر اس کا حکم چلتا ہے، آسمانوں کی طرح ساتوں زمینوں کی بھی وہ تدبیر فرماتا ہے۔
١٢۔۳ پس اس کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں، چاہے وہ کیسی ہی ہو۔
 
Top