• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَاذْكُرِ‌ اسْمَ رَ‌بِّكَ بُكْرَ‌ةً وَأَصِيلًا ﴿٢٥﴾
اور اپنے رب کے نام کا صبح و شام ذکر کیا کر۔ (۱)
۲۵۔۱ صبح و شام سے ہے، تمام اوقات میں اللہ کا ذکر کر۔ یا صبح سے مراد فجر کی نماز اور شام سے عصر کی نماز ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمِنَ اللَّيْلِ فَاسْجُدْ لَهُ وَسَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيلًا ﴿٢٦﴾
اور رات کے وقت اس کے سامنے سجدے کر اور بہت رات تک اس کی تسبیح کیا کر۔ (۱)
٢٦۔۱ رات کو سجدہ کر، سے مراد بعض نے مغرب و عشاء کی نمازیں مراد لی ہیں۔ اور تسبیح کا مطلب، جو باتیں اللہ کے لائق نہیں ہیں، ان سے اسکی پاکیزگی بیان کر، بعض کے نزدیک اس سے رات کی نفلی نماز، یعنی تہجد ہے امر ندب و استحباب کے لیے ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ هَـٰؤُلَاءِ يُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ وَيَذَرُ‌ونَ وَرَ‌اءَهُمْ يَوْمًا ثَقِيلًا ﴿٢٧﴾
بیشک یہ لوگ جلدی ملنے والی (دنیا) کو چاہتے ہیں (١) اور اپنے پیچھے ایک بڑے بھاری دن کو چھوڑے دیتے ہیں۔ (٢)
٢٧۔١ یعنی یہ کفار مکہ اور ان جیسے دوسرے لوگ دنیا کی محبت میں گرفتار ہیں اور ساری توجہ اسی پر ہے۔
٢٧۔٢ یعنی قیامت کو، اس کی شدتوں اور ہولناکیوں کی وجہ سے اسے بھاری دن کہا اور چھوڑنے کا مطلب ہے کہ اس کے لیے تیاری نہیں کرتے اور اس کی پروا نہیں کرتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
نَّحْنُ خَلَقْنَاهُمْ وَشَدَدْنَا أَسْرَ‌هُمْ ۖ وَإِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَا أَمْثَالَهُمْ تَبْدِيلًا ﴿٢٨﴾
ہم نے انہیں پیدا کیا اور ہم نے ہی ان کے جوڑ اور بند ھن مضبوط کیے (١) اور ہم جب چاہیں ان کے عوض ان جیسے اوروں کو بدل لائیں۔ (٢)
٢٨۔١ یعنی ان کی پیدائش کو مضبوط بنایا، یا ان کے جوڑوں کو، رگوں اور پٹھوں کے ذریعے سے، ایک دوسرے کے ساتھ ملا دیا ہے، بلفظ دیگر: ان کا مانجھا کڑا کیا۔
٢٨۔٢ یعنی ان کو ہلاک کرکے ان کی جگہ کسی اور قوم کو پیدا کر دیں یا اس سے مطلب قیامت کے دن دوبارہ پیدائش ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ هَـٰذِهِ تَذْكِرَ‌ةٌ ۖ فَمَن شَاءَ اتَّخَذَ إِلَىٰ رَ‌بِّهِ سَبِيلًا ﴿٢٩﴾
یقیناً یہ تو ایک نصیحت ہے پس جو چاہے اپنے رب کی راہ لے لے۔ (١)
٢٩۔١ یعنی اس قرآن سے ہدایت حاصل کرے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ ۚ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴿٣٠﴾
اور تم نہ چاہو گے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ ہی چاہے (١) بیشک اللہ تعالیٰ علم والا باحکمت ہے۔ (٢)
٣٠۔١ یعنی تم میں سے کوئی اس بات پر قادر نہیں ہے کہ وہ ہدایت کی راہ لگا لے، اپنے لیے کسی نفع کو جاری کر لے، ہاں اگر اللہ چاہے تو ایسا ممکن ہے، اس کی مشیت کے بغیر تم کچھ نہیں کر سکتے۔ البتہ صحیح قصد و نیت پر وہ اجر ضرور عطا فرماتا ہے [إنَّما الأَعمالُ بالنِّيَّات، وإِنَّمَا لِكُلِّ امرئٍ مَا نَوَى] "اعمال کا دار و مدار، نیتوں پر ہے، ہر آدمی کے لیے وہ ہے جس کی وہ نیت کرے"۔
٣٠۔٢ چوں کہ وہ علیم و حکیم ہے اس لیے اس کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے، بنابریں ہدایت اور گمراہی کے فیصلے بھی یوں ہی الل ٹپ نہیں ہو جاتے، بلکہ جس کو ہدایت دی جاتی ہے وہ واقعی اس کا مستحق ہوتا ہے اور جس کے حصے میں گمراہی آتی ہے، وہ حقیقتا اسی کے لائق ہوتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يُدْخِلُ مَن يَشَاءُ فِي رَ‌حْمَتِهِ ۚ وَالظَّالِمِينَ أَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا ﴿٣١﴾
جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کر لے، اور ظالموں کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (۱)
۳۱۔۱ وَالظَّالِمِينَ، اس لیے منصوب ہے کہ اس سے پہلے یعذب، محذوف ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة المرسلات

(اس میں پچاس آیتیں اور دو رکوع ہیں۔ یہ سورت مکی ہے جیسا کہ صحیحین میں مروی ہے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم منٰی کے ایک غار میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورہ مرسلات کا نزول ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت فرما رہے تھے اور میں اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کر رہا تھا کہ اچانک ایک سانپ آگیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اسے مار دو، لیکن وہ تیزی سے غائب ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "تم اس کے شر اور وہ تمہارے شر سے بچ گیا" (بخاری، تفسیر سورۃ المرسلات، مسلم، کتاب قتل الحیات وغیرھا) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض دفعہ مغرب کی نماز میں بھی یہ سورت پڑھی ہے۔ بخاری و مسلم)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

وَالْمُرْ‌سَلَاتِ عُرْ‌فًا ﴿١﴾
دل خوش کن چلتی ہوئی ہواؤں کی قسم۔ (١)
١۔١ اس مفہوم کے اعتبار سے عرفاً کے معنی پے در پے ہوں گے۔ بعض نے مُرسلات سے فرشتے یا انبیاء مراد لیے ہیں۔ اس صورت میں عرفاً کے معنی وحی الٰہی، یا احکام شریعت ہوں گے۔ یہ مفعول لہ ہو گا لاجل العرف یا منصوب بنزع الخافض۔ بالعرف
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَالْعَاصِفَاتِ عَصْفًا ﴿٢﴾
پھر زور سے جھونکا دینے والیوں کی قسم۔ (١)
٢۔١ یا فرشتے مراد ہیں، جو بعض دفعہ ہواؤں کے عذاب کے ساتھ بھیجے جاتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالنَّاشِرَ‌اتِ نَشْرً‌ا ﴿٣﴾
پھر (ابر کو) ابھار کر پراگندہ کرنے والیوں (١) کی قسم۔
٣۔١ یا ان فرشتوں کی قسم، جو بادلوں کو منتشر کرتے ہیں یا فضائے آسمانی میں اپنے پر پھیلاتے ہیں۔ تاہم امام ابن کثیر اور امام طبری نے ان تینوں سے ہوائیں مراد لینے کو راجح قرار دیا ہے۔ جیسا کہ ترجمے میں بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔
 
Top