• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَعَّالٌ لِّمَا يُرِ‌يدُ ﴿١٦﴾
جو چاہے اسے کر گزرنے والا ہے۔ (١)
١٦۔١ یعنی وہ جو چاہے، کر گزرتا ہے، اس کے حکم اور مشیت کو ٹالنے والا کوئی نہیں ہے نہ اس سے کوئی پوچھنے والا ہی ہے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ سے ان کے مرض الموت میں کسی نے پوچھا: کیا کسی طبیب نے آپ کو دیکھا؟ انہوں نے فرمایا، ہاں۔ پوچھا، اس نے کیا کہا ؟ فرمایا، اس نے کہا ہے، إِنِّي فَعَّالٌ لِمَا أُرِيدُ "میں جو چاہوں کروں، میرے معاملے میں کوئی دخل دینے والا نہیں۔ (ابن کثیر) مطلب یہ تھا کہ معاملہ اب طبیبوں کے ہاتھوں میں نہیں رہا، میرا آخری وقت آگیا ہے اور اللہ ہی اب میرا طبیب ہے، جس کی مشیت کو ٹالنے کی کسی کے اندر طاقت نہیں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْجُنُودِ ﴿١٧﴾
تجھے لشکروں کی خبر بھی ملی ہے؟ (١)
١٧۔١ یعنی ان پر میرا عذاب آیا اور میں نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا، جسے کوئی ٹال نہیں سکا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فِرْ‌عَوْنَ وَثَمُودَ ﴿١٨﴾
(یعنی) فرعون اور ثمود کی۔

بَلِ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا فِي تَكْذِيبٍ ﴿١٩﴾
(کچھ نہیں) بلکہ کافر جھٹلانے میں پڑے ہوئے ہیں۔

وَاللَّـهُ مِن وَرَ‌ائِهِم مُّحِيطٌ ﴿٢٠﴾
اور اللہ تعالیٰ بھی انہیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔ (۱)
۲۰۔۱ یہ ﴿إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ﴾ ہی کا اثبات اور اس کی تاکید ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَلْ هُوَ قُرْ‌آنٌ مَّجِيدٌ ﴿٢١﴾
بلکہ یہ قرآن ہے بڑی شان والا۔

فِي لَوْحٍ مَّحْفُوظٍ ﴿٢٢﴾
لوح محفوظ میں (لکھا ہوا)۔ (١)
٢٢۔١ یعنی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے، جہاں فرشتے اس کی حفاظت پر مامور ہیں، اللہ تعالیٰ حسب ضرورت و اقتضا اسے نازل فرماتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة الطارق


(سورہ طارق مکی ہے اور اس میں سترہ آیتیں ہیں۔ حضرت خالد عدوانی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بازار ثقیف میں کمان یا لاٹھی کے سہارے پر کھڑے دیکھا، آپ میرے پاس مدد حاصل کرنے آئے تھے، میں نے وہاں آپ سے سورۃ الطارق سنی، میں نے اسے یاد کر لیا دراں حالیکہ میں ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا۔ پھر مجھے اللہ نے اسلام سے نواز دیا اور اسلام کی حالت میں میں نے اسے پڑھا۔ مسند احمد و مجمع الزوائد۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ مغرب کی نماز میں سورہ بقرہ اور نساء پڑھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی تو فرمایا، تو لوگوں کو فتنے میں ڈالتا ہے؟ تجھے یہی کافی تھا کہ والسماء والطارق، والشمس اور اس جیسی سورتیں پڑھتا۔ نسائی)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِ‌قِ ﴿١﴾
قسم ہے آسمان کی اور اندھیرے میں روشن ہونے والے کی۔

وَمَا أَدْرَ‌اكَ مَا الطَّارِ‌قُ ﴿٢﴾
تجھے معلوم بھی ہے کہ وہ رات کو نمودار ہونے والی چیز کیا ہے؟

النَّجْمُ الثَّاقِبُ ﴿٣﴾
وہ روشن ستارہ ہے (١)
٣۔١ طارق سے کیا مراد ہے؟ خود قرآن نے واضح کر دیا۔ روشن ستارہ۔ طارق، طروق سے ہے جس کے لغوی معنی کھٹکھٹانے کے ہیں، لیکن طارق رات کو آنے والے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ستاروں کو بھی طارق اسی لیے کہا گیا ہے کہ یہ دن کو چھپ جاتے ہیں اور رات کو نمودار ہوتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِن كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَيْهَا حَافِظٌ ﴿٤﴾
کوئی ایسا نہیں جس پر نگہبان فرشتہ نہ ہو۔ (١)
٤۔١ یعنی ہر نفس پر اللہ کی طرف سے فرشتے مقرر ہیں جو اس کے اچھے یا برے سارے عمل لکھتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں، یہ انسانوں کی حفاظت کرنے والے فرشتے ہیں، جیسا کہ سورۂ رعد کی آیت نمبر ۱۱ سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی حفاظت کے لیے بھی انسان کے آگے پیچھے فرشتے ہوتے ہیں، جس طرح قول و فعل لکھنے والے ہوتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَلْيَنظُرِ‌ الْإِنسَانُ مِمَّ خُلِقَ ﴿٥﴾
انسان کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔

خُلِقَ مِن مَّاءٍ دَافِقٍ ﴿٦﴾
وہ ایک اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔
٦-۱ یعنی منی سے جو قضائے شہوت کے بعد زور سے نکلتی ہے۔ یہی قطرہ آب (منی) رحم عورت میں جا کر، اگر اللہ کا حکم ہوتا ہے تو، حمل کا باعث بنتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
خْرُ‌جُ مِن بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَ‌ائِبِ ﴿٧﴾
جو پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے۔ (۱)
۷۔۱ کہا جاتا ہے کہ پیٹھ، مرد کی اور سینہ عورت کا، ان دونوں کے پانی سے انسان کی تخلیق ہوتی ہے۔ لیکن اسے ایک ہی پانی اس لیے کہا کہ یہ دونوں مل کر ایک ہی بن جاتا ہے۔ تَرَائِبُ، تَرِيبَةٌ کی جمع ہے، سینے کا وہ حصہ جو ہار پہننے کی جگہ ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّهُ عَلَىٰ رَ‌جْعِهِ لَقَادِرٌ‌ ﴿٨﴾
بیشک وہ اسے پھیر لانے پر یقیناً قدرت رکھنے والا ہے۔ (١)
٨۔١ یعنی انسان کے مرنے کے بعد، اسے دوبارہ زندہ کرنے پر وہ قادر ہے۔ بعض کے نزدیک اس کا مطلب ہے کہ وہ اس قطرہ آب کو دوبارہ شرمگاہ کے اندر لوٹانے کی قدرت رکھتا ہے جہاں سے وہ نکلا تھا۔ پہلے مفہوم کو امام شوکانی اور امام ابن جریر طبری نے زیادہ صحیح قرار دیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَوْمَ تُبْلَى السَّرَ‌ائِرُ‌ ﴿٩﴾
جس دن پوشیدہ بھیدوں کی جانچ پڑتال ہو گی۔ (۱)
۹۔۱ یعنی ظاہر ہو جائیں گے، کیونکہ ان پر جزا و سزا ہو گی۔ بلکہ حدیث میں آتا ہے کہ "ہر غدر (بد عہدی) کرنے والے کے سرین کے پاس جھنڈا گاڑ دیا جائے گا اور اعلان کر دیا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی غداری ہے"۔ (صحیح بخاری)
 
Top