• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَلَمْ نَجْعَل لَّهُ عَيْنَيْنِ ﴿٨﴾
کیا ہم نے اس کی دو آنکھیں نہیں بنائیں۔ (١)
٨۔١ جن سے یہ دیکھتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلِسَانًا وَشَفَتَيْنِ ﴿٩﴾
اور زبان اور ہونٹ (نہیں بنائے) (۱)
۹۔۱ زبان سے وہ بولتا ہے اور مافی الضمیر کا اظہار کرتا ہے۔ ہونٹوں سے وہ بولنے اور کھانے کے لیے مدد حاصل کرتا ہے۔ علاوہ ازیں وہ اس کے چہرے اور منہ کے لیے خوب صورتی کا بھی باعث ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ ﴿١٠﴾
ہم نے دکھا دیئے اس کو دونوں راستے۔ (١)
١٠۔١ یعنی خیر کی بھی اور شر کی بھی اور ایمان کی بھی، سعادت کی بھی اور شقاوت کی بھی۔ جیسے فرمایا، ﴿إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا﴾ (الدهر: ۳) نَجْدٌ کے معنی ہیں، اونچی جگہ۔ اس لیے بعض نے یہ ترجمہ کیا ہے ”ہم نے انسان کی (ماں کے) دو پستانوں کی طرف رہنمائی کر دی“ یعنی وہ عالم شیر خوارگی میں ان سے اپنی خوراک حاصل کرے۔ لیکن پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ ﴿١١﴾
سو اس سے نہ ہو سکا کہ گھاٹی میں داخل ہوتا۔ (١)
١١۔١ عَقَبَةٌ گھاٹی کو کہتے ہیں یعنی وہ راستہ جو پہاڑ میں ہو۔ یہ عام طور پر نہایت دشوار گزار ہوتا ہے۔ یہ جملہ یہاں استفہام بمعنی انکار کے مفہوم میں ہے۔ یعنی (أَفَلا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ) کیا وہ گھاٹی میں داخل نہیں ہوا؟ مطلب ہے نہیں ہوا۔ یہ ایک مثال ہے اس محنت و مشقت کی وضاحت کے لیے جو نیکی کے کاموں کے لیے ایک انسان کو شیطان کے وسوسوں اور نفس کے شہوانی تقاضوں کے خلاف کرنی پڑتی ہے، جیسے گھاٹی پر چڑھنے کے لیے سخت جد و جہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ (فتح القدیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا أَدْرَ‌اكَ مَا الْعَقَبَةُ ﴿١٢﴾
اور کیا سمجھا کہ گھاٹی ہے کیا؟

فَكُّ رَ‌قَبَةٍ ﴿١٣﴾
کسی گردن (غلام لونڈی) کو آزاد کرنا۔

أَوْ إِطْعَامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ ﴿١٤﴾
یا بھوکے والے دن کھانا کھلانا۔

يَتِيمًا ذَا مَقْرَ‌بَةٍ ﴿١٥﴾
کسی رشتہ دار یتیم کو۔

أَوْ مِسْكِينًا ذَا مَتْرَ‌بَةٍ ﴿١٦﴾
یا خاکسار مسکین کو۔ (۱)
۱٦۔۱ مَسْغَبَةٍ، مَجَاعَةٍ (بھوک) ﴿يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ﴾، بھوک والے دن۔ ﴿ذَا مَتْرَبَةٍ ﴾(مٹی والا) یعنی جو فقر و غربت کی وجہ سے مٹی (زمین) پر پڑا ہو۔ اس کا گھر بار بھی نہ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ کسی گردن کو آزاد کر دینا، کسی بھوکے کو، رشتے دار یتیم کو یا مسکین کو کھانا کھلا دینا، یہ دشوار گزار گھاٹی میں داخل ہونا ہے جس کے ذریعے سے انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جا پہنچے گا۔ یتیم کی کفالت ویسے ہی بڑے اجر کا کام ہے، لیکن اگر وہ رشتے دار بھی ہوں تو اس کی کفالت کا اجر بھی دگنا ہے۔ ایک صدقے کا، دوسرا صلہ رحمی کا۔ اسی طرح غلام آزاد کرانے کی بھی بڑی فضیلت احادیث میں آئی ہے۔ آج کل اس کی ایک صورت کسی مقروض کو قرض کے بوجھ سے نجات دلا دینا ہو سکتی ہے، یہ بھی ایک گونہ فَكُّ رَقَبَةٍ ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ‌ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْ‌حَمَةِ ﴿١٧﴾
پھر ان لوگوں میں ہو جاتا ہے جو ایمان لاتے (١) اور ایک دوسرے کو صبر کی اور رحم کرنے کی وصیت کرتے ہیں۔ (٢)
١٧۔١ اس سے معلوم ہوا کہ مذکورہ اعمال خیر، اسی وقت نافع اور اخروی سعادت کا باعث ہوں گے جب ان کا کرنے والا صاحب ایمان ہو گا۔
١٧۔٢ اہل ایمان کی صفت ہے کہ وہ ایک دوسرے کو صبر کی اور رحم کی تلقین کرتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ ﴿١٨﴾
یہی لوگ ہیں دائیں بازو والے (خوش بختی والے)۔

وَالَّذِينَ كَفَرُ‌وا بِآيَاتِنَا هُمْ أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ ﴿١٩﴾
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کے ساتھ کفر کیا یہ کم بختی والے ہیں۔

عَلَيْهِمْ نَارٌ‌ مُّؤْصَدَةٌ ﴿٢٠﴾
انہی پر آگ ہو گی جو چاروں طرف سے گھیری (۱) ہوئی ہو گی۔
۲۰۔۱ مُؤْصَدَةٌ کے معنی مُغْلَقَةٌ (بند) یعنی ان کو آگ میں ڈال کر چاروں طرف سے بند کر دیا جائے گا، تاکہ ایک تو آگ کی پوری شدت و حرارت ان کو پہنچے۔ دوسرے، وہ بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة الشمس

(سورہ شمس مکی ہے اور اس میں پندرہ آیتیں ہیں۔)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا ﴿١﴾
قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی۔ (۱)
۱۔۱ یا اس کی روشنی کی، یا مطلب ضحیٰ سے دن ہے۔ یعنی سورج کی اور دن کی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالْقَمَرِ‌ إِذَا تَلَاهَا ﴿٢﴾
قسم ہے چاند کی جب اس کے پیچھے آئے۔ (۱)
۲۔۱ یعنی جب سورج غروب ہونے کے بعد وہ طلوع ہو، جیسا کہ پہلے نصف مہینہ میں ایسا ہوتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالنَّهَارِ‌ إِذَا جَلَّاهَا ﴿٣﴾
قسم ہے دن کی جب سورج کو نمایاں کرے۔ (۱)
۳۔۱ یا تاریکی کو دور کرے، ظلمت کا پہلے ذکر تو نہیں ہے لیکن سیاق اس پر دلالت کرتا ہے۔ (فتح القدیر)
 
Top