1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تمام کاموں میں پابندی اور نماز میں سستی آخر کیوں ؟

'نماز باجماعت' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن بشیر الحسینوی, ‏جنوری 31، 2012۔

  1. ‏جنوری 31، 2012 #1
    ابن بشیر الحسینوی

    ابن بشیر الحسینوی رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    Pakistan
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    1,066
    موصول شکریہ جات:
    4,418
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    آج ہم ہر کسی کو دیکھتے ہیں کہ وہ ٹائم کے پابند ہیں ایک منٹ کی بھی سستی نہیں کرتے اور اگر سستی ہو جائے تو تنخواہ میں کٹوتی بھی ہوتی ہے ۔!!!گھر سے بھی بے عزتی ہوتی ہے ۔!!!اساتذہ بھی سزا دیتے ہیں ۔!!!افسوس کہ نماز کی سستی کی کوئی بھی ڈانٹ ڈہٹ نہیں !آخر کیوں ؟
    میں پہلے اپنے آپ سے پھر تمام امت مسلمہ سے سوال کرتا ہوں کہ نماز کی سستی کیوں اور کیسے یہ دور ہو سکتی ہی ؟اپنا حصہ ڈالئے اور قیمتی آراء سے نوازیں
     
  2. ‏جنوری 31، 2012 #2
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    السلام علیکم،

    سوال بہت مشکل ہے لیکن جواب اور بھی مشکل ہے، اس سوال کے کئی جواب ہو سکتے ہے،

    میرے مطابق انسان دنیا کے کاموں کو نقصان کے ڈر سے کرتا ہے، اگر فلاں کام نہ کرونگا تو یہ نقصان ہو جاےگا، وغیرہ وغیرہ، کیونکی اسے ظاہری نقصان اپنی زندگی ہی میں دیکھنے کو مل جاتا ہے،

    رہی بات نماز کی تو اس کا بڑا عذر تو آخرت میں ملیگا، اور ہم لوگ تو نام نہاد مسلمان ہی ہے جو اپنے آپ کو مسلم کہتے ہے لیکن آخرت کے عذاب سے کم ہی ڈرتے ہے، اس لئے یہ صورت حال ہے.
     
  3. ‏فروری 01، 2012 #3
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    پہلےتو میں شکریہ ادار کرو گا شیخ صاحب کا کہ انہوں ایک اچھا موضوع کو ہمت کرکے شروع کیا اللہ ان کو جزائے خیر دے ۔
    معروف مقولہ ہے :

    نماز سے نہ کہو کہ مجھےکام کرنا ہے بلکہ کام سےکہو کہ مجھے نماز پڑھنا ۔

    کسی چیز کو کسی چیز پر ترجیح دینے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم مرجَح ( جس کو ترجیح دیتے ہیں ) کو مرجَح علیہ ( جس پر ترجیح دیتے ہیں ) سے افضل یا فائدہ مند سمجھتےہیں ۔
    جب ہم کسی کام میں جتے رہتے ہیں اور نمازمیں سستی اور تأخیر کرتے ہیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہےکہ ہم نماز سے دوسرے کاموں کو اہم سمجھتےہیں ۔

    لیکن ایسا بھی نہیں ہے بلکہ ہر مسلمان شخص کا ایمان ہے کہ نماز دیگر کاموں سے افضل ہے ۔

    تو سوال یہ ہےکہ ہم نماز کو دیگر کاموں سے افضل سمجھتے ہوئے بھی کیونکہ اس کے ساتھ مفضول والا رویہ اختیار کرتےہیں ؟

    اس کا ایک جواب جو میرے ذہن میں آتا وہی ہےجس کی طرف عامر بھائی نے توجہ دلائی کہ ہم اگر چہ عقیدتا نماز کو افضل سمجھتے ہیں ۔ لیکن دنیاوی فوائد و نقصانات چونکہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں اور نماز کے فوائد یا اس کو چھوڑنے کے جو نقصانات ہیں وہ ہمیں محسوس نہیں ہوتے اس لیے ہم وقتی فائدہ حاصل کرنے یا وقتی نقصان سے بچنے کے لیے حقیقی فائدہ کھودیتےہیں اور اصل خسارہ کا سودا کرتے ہیں ۔
    یہأں یہ بات بھی مد نظر رہنی چاہیے کہ نماز میں جسطرح سستی دنیاوی کاموں کی وجہ سے ہوجاتی ہے اسی طرح شیطان دیندار لوگوں کو دوسرے طریقے سےبھی سست کرنےکی کوشش کرتا ہے مثال کے طور پر طالب علم نماز کے وقت پڑہتے رہتےہیں کہ چلو یا یہ بھی تو دین کا کام ہی ہے نا ۔
    بات یہأں بھی وہی وقتی فائدے والی ہےکہ چونکہ بعض دینی کام ایسے ہیں جن کا فائدہ ہم فورا یا اگر چہ کچھ تاخیر ہوتی ہے لیکن اسی دنیا میں فائدہ ملنے کی امید ہوتی ہے ہم ان کو مقدم کردیتے ہیں ایسے کاموں پر جو آخرت میں فائدہ مند ہوتےہیں ۔
    اللہ تعالی کا فرمان ہے :
    بل تؤثرون الحيوة الدنيا و الآخرة خير وأبقى
    کہ تم دنیاوی زندگی کو (آخرت کی زندگی پر ترجیح دیتےہو ) حالانکہ آخرت ( تمہارے لیے ) بہتر اور باقی رہنے والی ہے ( جبکہ دنیاوی زندگی تمہارے لیےبہتر بھی نہیں ہے اور باقی رہنے والی بھی نہیں ہے ۔ )

    باقی حقیقی نفع و نقصان کو پہچاننا شاید اتنا مشکل نہیں ہوگا جتنا عملا اس کے حصول یا اس سے بچنے کے لیے تگ و دو کرنا مشکل ہے ۔ ان چیزوں کا تعلق تقوی کے ساتھ ہے جتنا تقوی اور زہد و ورع ہو گا اتنا ہی انسان دنیا سے کنارہ کشی کرکے آخرت کی طرف راغب ہو گا ۔
    نماز پڑہنے کا ثواب بھی قرآن وسنت میں موجود ہے اور اس میں سستی کرنے والے کے لیے عقاب کی بھی وضاحت ہے ۔ اگرچہ دونوں چیزیں مؤثر ہیں لیکن میرے خیال سے نماز میں سستی کی جو سزائیں ہیں ان کا تصور کرنا بعض دفعہ زیادہ مؤثر ہوتا ہے ۔ واللہ أعلم ۔
    یہاں یہ بات بھی فائدہ سے خالی نہیں کہ اس طرح کی چیزوں پر آپس میں گفتگو یا مطالعہ کرتے رہنا چاہیے ۔ کیونکہ اگر چہ ہم لاکھ سنا سنایا یا پڑھا پڑھایا ہو نصحیت بہر صورت ہر حال میں فائدہ مند ہوتی ہے ۔
    وذکر فإن الذکری تنفع المؤمنین نصیحت کیجیے نصیحت مؤمنوں کے لیے باعث فائدہ ہے ۔

    اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اگرچہ زہد و ورع اور تقوی کی معراج پر تھے لیکن ان سے بھی اس طرح کے اقوال ثابت ہیں کہ :
    هلموا نزدد إيمانا ۔ ۔ ۔ آؤ ! ( وعظ و تذکیر کے ذریعے ) ایمان میں اضافہ کریں ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں