1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تین سانس میں پانی پینے کاطریقہ

'تمدن' میں موضوعات آغاز کردہ از ناصر رانا, ‏ستمبر 05، 2011۔

  1. ‏ستمبر 05، 2011 #1
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,447
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    تین سانس میں پانی پینے کاطریقہ


    عن أبي هريرة : أن رسول الله كان يشرب في ثلاثة أنفاس إذا أدنى الإناء إلى فيه سمى الله فإذا أخره حمد الله يفعل به ثلاث مرات

    (معجم الاوسط للطبرانی : ج١ص٢٥٧ رقم٨٤٠وانظرسلسلۃ الصحیحۃ للالبانی:٢٧٢/٣رقم ١٢٧٧

    صحابی رسول ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پانی تین سانس میں پیتے تھے ہربارجب برتن منہ کے پاس لے جاتے تو'' بسم اللہ'' کہتے اور ہربارجب برتن منہ سے ہٹاتے تو''الحمدللہ ''کہتے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایساتین بار کرتے تھے۔

    اس حدیث کے اندرتین سانس کے اندرپانی پینے کانبوی طریقہ بتلایاگیاہے،یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ پانی تین سانس میں پیناچاہئے ،گرچہ یہ واجب اورفرض نہیں لیکن یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ضرور ہے ،لیکن تین سانس میں پانی پینے کانبوی طریقہ کیاہے، شاید اس حقیقت سے بہت کم لوگ واقف ہوں ۔
    مذکورہ حدیث میں اسی چیز کابیان وارد ہواہے،اس حدیث میں غور کیجئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تین سانس میں پانی پینے کاطریقہ یہ بتلایاگیاہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہرسانس کےشروع میں ''بسم اللہ ''اور اخیر میں ''الحمدللہ''کہتے تھے ،حدیث کے اخیرمیں بالکل صراحت ہے کہ ''یَفْعَلُ بِہِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ''یعنی ایساآپ صلی اللہ علیہ وسلم تین بارکرتے تھے ، اور بعض روایات میں یہاں تک صراحت ہے کہ''یُسَمِّی عِنْدَ کُلِّ نَفَسٍ، وَیَشْکُرُ فِی آخِرِھنَّ ''یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہرسانس کے شروع میں ''بسم اللہ ''اور اخیر میں ''الحمدللہ''کہتے تھے
    (معجم الاوسط للطبرانی:١١٧٩رقم٩٢٩٠وفی سندہ ضعف)۔​

    مذکورہ تفصیل سے معلوم ہواکہ تین سانس میں پانی پینے کانبوی طریقہ یہ ہے کہ تینوں دفعہ ہرسانس سے پہلے ''بسم اللہ ''اور اخیر میں ''الحمدللہ''کہاجائے یعنی تین بار ''بسم اللہ ''اور تین بار ''الحمدللہ''کہاجائے،یہ ہے تین سانس میں پانی پینے کی نبوی سنت ،ہمارے ایک ڈاکٹردوست نے بتایاکہ اس طریقہ پرعمل کرنا طبی لحاظ سے بھی انتہائی مفید ہے گویا کہ اس طریقہ پرعمل کرنا مفید صحت ہونے کے ساتھ ساتھ باعث اجروثواب بھی ہے بشرطیہ کہ سنت کی نیت سے عمل کیاجائے۔

    اللہ تبارک وتعالی سے دعاء ہے کہ وہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہرسنت پرعمل کی توفیق دے ،آمین۔


    از: أبو الفوزان کفایت اللہ السنابلی
    [LINK=http://deenekhalis.net/play.php?catsmktba=1080]لنک[/LINK]
     
  2. ‏ستمبر 05، 2011 #2
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    جزاکم اللہ خیرا ناصر بھائی ۔۔۔
    شرمندگی کی بات ہے۔ لیکن سچ میں مجھے اس سنت طریقے کا معلوم نہ تھا۔ میں تو پانی پینے سے قبل بسم اللہ ، پھر تین سانس اور پھر ختم کرنے کے بعد الحمدللہ پڑھنے کو ہی درست طریقہ سمجھتا رہا۔ دن میں کئی بار اس سنت پر عمل کرنے کا موقع ملتا ہے، ان شاءاللہ اب سے یہ سب ثواب آپ کے اور کفایت اللہ بھائی کے حصے میں بھی جائے گا جن کی کہ یہ تحریر ہے۔ بہت شکریہ آپ دونوں بھائیوں گا۔
     
  3. ‏ستمبر 05، 2011 #3
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,447
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    لیکن شاکر بھائی ایک چیز کی مجھے سمجھ نہیں آئی
    کہ اس میں ایک ضیعف حدیث کا حوالہ بھی ہے
    اس کی سمجھ نہیں آئی
    اھل علم روشنی ڈالیں،
    جزاک اللہ خیرا
     
  4. ‏ستمبر 05، 2011 #4
    ابن خلیل

    ابن خلیل سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2011
    پیغامات:
    1,383
    موصول شکریہ جات:
    6,746
    تمغے کے پوائنٹ:
    332

    جزاک الله خیرا
    الله ہمیں عمل کی توفیق دے امین
     
  5. ‏ستمبر 05، 2011 #5
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا ناصر بھائی جان
     
  6. ‏ستمبر 06، 2011 #6
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    ناصر بھائی، ضعیف حدیث دراصل پہلی صحیح حدیث کی تائید یا شاہد کے طور پر پیش کی گئی ہے۔ میں نے کل ہی کفایت اللہ بھائی سے کنفرم بھی کیا تھا۔ وہ یہاں جواب دینے والے تھے، پھر غالباً کسی وجہ سے جواب نہیں دے پائے۔
     
  7. ‏ستمبر 06، 2011 #7
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,447
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    جزاک اللہ خیرا
    اچھا ایک اور بات کل لنک شو ہو رھا تھا آج کیوں نہیں شو رھا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
     
  8. ‏ستمبر 06، 2011 #8
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    لنک میں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں۔ اس ٹیگ پر کچھ کام کیا جا رہا ہے۔ کل تک ان شاءاللہ درست ہو جائے گا۔
     
  9. ‏فروری 15، 2012 #9
    Muhammad Waqas

    Muhammad Waqas مشہور رکن
    جگہ:
    فیصل آباد
    شمولیت:
    ‏مارچ 12، 2011
    پیغامات:
    356
    موصول شکریہ جات:
    1,595
    تمغے کے پوائنٹ:
    139

    السلام علیکم
    بھائی اس حدیث کی سند کے بارے میں حافظ ندیم ظہیر حفظہ اللہ سے میری بات ہوئی تھی،ان کی تحقیق میں یہ روایت "محمد بن عجلان" کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے اور اس کے تمام شواہد بھی ضعیف ہیں۔
    " حَدَّثَنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ ، قَالَ : نا عَتِيقُ بْنُ يَعْقُوبَ ، قَالَ : نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَشْرَبُ فِي ثَلاثَةِ أَنْفَاسٍ ، إِذَا أَدْنَى الإِنَاءَ إِلَى فِيهِ سَمَّى اللَّهَ ، فَإِذَا أَخَّرَهُ حَمِدَ اللَّهَ ، يَفْعَلُ بِهِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ " . لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، إِلا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، تَفَرَّدَ بِهِ : عَتِيقُ بْنُ يَعْقُوبَ . "
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں