1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جزء رفع الیدین امام بخاری

'کتب احادیث' میں موضوعات آغاز کردہ از اسحاق سلفی, ‏نومبر 09، 2015۔

  1. ‏نومبر 09، 2015 #1
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    • عنوان الكتاب: رفع اليدين في الصلاة وبهامشه جلاء العينين بتخريج روايات البخاري في جزء رفع اليدين
    • المؤلف: محمد بن إسماعيل البخاري أبو عبد الله
    • المحقق: بديع الدين الراشدي
    • حالة الفهرسة: غير مفهرس
    • الناشر: دار ابن حزم
    • سنة النشر: 1416 - 1996
    • عدد المجلدات: 1
    • رقم الطبعة: 1
    • عدد الصفحات: 189
    یہاں سے ڈاون لوڈ کریں

    جزء رفع.jpg
    جزء رفع.gif
     
    Last edited: ‏نومبر 09، 2015
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏نومبر 09، 2015 #2
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    862
    موصول شکریہ جات:
    241
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    جزاک اللہ خیر بھائ جان
     
  3. ‏نومبر 09، 2015 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    واضح ہو کہ :
    رواهُ (خَ) فِي كتابِ " رفعِ الْيَدَيْنِ " نَا محمدُ بنُ مقَاتل عَنهُ.
    ترجمہ :
    اسے (خَ) (یعنی امام بخاری )نے اپنی کتاب ’’ رفعِ الْيَدَيْنِ " میں محمد بن مقاتل کی سند سے نقل کیا ،
    یعنی ۔۔(خَ)۔۔سے مراد امام بخاری ہیں ،
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  4. ‏نومبر 10، 2015 #4
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,586
    موصول شکریہ جات:
    412
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    جزاك الله خيرا
     
  5. ‏نومبر 10، 2015 #5
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    862
    موصول شکریہ جات:
    241
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    PhotoGrid_1447094446328.jpg
    PhotoGrid_1447094446328.jpg PhotoGrid_1447096813226.jpg
     
  6. ‏نومبر 23، 2015 #6
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    862
    موصول شکریہ جات:
    241
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

  7. ‏نومبر 25، 2015 #7
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    862
    موصول شکریہ جات:
    241
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ @اسحاق سلفی بھائی جان

    بھائی کچھ اعتراض کے جواب چاہئے جو مقلدین کی طرف سے ہے انہوں نے اس کتاب کو امام بخاری رح کی کتاب نہ ماننے کی یہ وجہ بیان کی ہے

    11667375_865666993521692_5333599983185259007_n.jpg


    القراءة خلف الإمام للبخاري

    (ص: 47 )

    121 -

    حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ قَالَ: حَدَّثَنَا الْبُخَارِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ.............................

    مذکورہ سند میں بہت بڑی علّت یہ ہے کی فضيل بن عياض رحمتہ اللہ کی وفات 187 هجری ہے. امام بخاری رحمتہ اللہ فضيل بن عياض کی وفات کے 7 سال بعد 194 هجری میں پیداہوئے.

    کتاب کے غیرمقلّد محقق فضل الرحمن الثوري اور عطا الله حنیف بهوجیانی نے حاشیہ میں اسکی تصریح کی ہے.

    "حَدَّثَنَا" سماعت کی تصریح ہے. اس سے امام بخاری رحمتہ اللہ پر "کذّاب" کی جرح ثابت ہو رہی ہے. اور یہ بہت بڑا جهوٹ ہے.

    درحقیقت یہ کتاب محمود بن إسحاق الخزاعي مجهول الحال کی گهڑی ہوئی ہے.

    جزاک اللہ خیرا
     
  8. ‏نومبر 25، 2015 #8
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔
    پیارے بھائی
    یہ تھریڈ ’’ جزء رفع الیدین ‘‘ کے بارے میں ہے ۔۔اور آپ نے ’’ جزء القراءۃ ‘‘ کے متعلق پوسٹ یہاں لگادی ۔
     
    Last edited: ‏نومبر 26، 2015
  9. ‏جولائی 01، 2019 #9
    محمد فراز

    محمد فراز رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 26، 2015
    پیغامات:
    525
    موصول شکریہ جات:
    126
    تمغے کے پوائنٹ:
    98

    شیخ @اسحاق سلفی جزء رفع الیدین کی سند پر ایک اعتراض کا جواب چاہیے میں وہ تحریر یہاں پوسٹ کررہا ہوں

    عمر بن محمد بن طبرزد
    یہ جزء رفع الیدین کا راوی ہے..حافظ زبیر علی زئی اپنی تحقیق سے مطبوعہ جزء رفع الیدین کے صفحہ 13 پر لکھتے ہیں کہ
    بعض لوگوں نے بعض امور دین میں تہاون (وسستی) کی وجہ سے اس پر کلام کیا ہے مگت ابن نقطہ کہتے ہیں ہو مکثر صحیح السماع ثقہ فی الحدیث.
    ابن طبرزد کے بارے میں مختلف کتب کو دیکھنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ جناب حافظ زبیر بن مجدد علی زئی سابقہ محدث پاکستان نے شدید ڈنڈی ماری ہے اور اس راوی کے بارے میں دوسرے محدثین کا کلام بالکل نقل ہی نہیں کیا. اس راوی کے کے بارے میں باحوالہ کلام مندرجہ ذیل ہے جس سے حافظ زبیر علی زئی کی نا انصافی کتمان علم کھل کر سامنے آتا ہے.
    اس کی پیدائش 516 ھجری میں ہوئی.
    ابن نقطہ نے کہا کہ حدیث میں ثقہ ہے کثیر الروایت اور صحیح السماع ہے.ابن نقطہ نے کہا کہ ہمارے اصحاب میں سے بعض اس پر لعن طعن کیا کرتے تھے. میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ اپنے شیخ کے ایک جز کو دوسرے جز کے ساتھ ملا دیا کرتا تھا اور پھر اسے سناتا تھا.
    ابن اثیر نے کہا کہ عالی الاسناد تھا.
    ابن الدبیثی نے کہا کہ اس کا سماع صحیح ہے اور اس میں تخلیط بھی ہے.
    ابن النجار نے کہا کہ میں نے اسے ایک دفعہ سے زیادہ دیکھا کہ کھڑے ہو کر رفع حاجت کرتا تھا اور پتھر یا پانی سے استنجاء نہیں کرتا تھا. ہم نےاکٹھے ہو کر اس سے سماع کیا اور نماز پڑھی مگر اس نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی اور نہ ہی نماز کے لیے کھڑا ہوا. یہ حدیث کی روایت سے اجر کا طلبگار تھا . اس کے سوا اس میں برائی تھی.
    ابن نجار کہتے ہیں کہ میں مے قاضی ابو القاسم بن العدیم کو کہتے سنا انہوں نے عبدالعزیز بن ہلالہ سے سنا.. اور میرا غالب ظن ہے کہ میں نے ابن ہلالہ سے سنا کہ میں نے ابن طبرزد کی موت کے بعد اسے خواب میں نیلے لباس میں دیکھا اور اس سے اس کی موت کے بعد کے بارے میں سوال کیا تو اس نے کہا میں آگ کے گھر میں ہوں میں آگ کے گھر میں داخل کیا گیا ہوں. میں نے کہا کیوں تو اس نے کہا کہ میں رسول اللہ کی حدیث کا ذاہب ہوں.
    ابن نجار نے کہا کہ عمر بن مبارک بن سہلان نے کہا کہ ابن طبرزد ثقہ نہیں تھا. یہ کذاب تھا یہ لوگوں کے لیے حدیث کے اجزاء کے نام گھڑ لیتا تھا اور پھر انہیں سنایا کرتا تھا . اس بات سے ہمارے شیخ عبدالوہاب اور محمد بن ناصر وغیرہ واقف ہیں.
    ذہبی کہتے ہیں کہ یہ شام کی مسند ہے اور اس نے بہت ساری روایات نقل کی ہیں. تاہم اس کا زیادہ تر سماع اس کے بھائی کے ساتھ اور اس کے افادات پر مشتمل ہے. اس کے بھائی پر کلام کیا گیا ہے تاہم ابن دبیثی اور ابن نقطہ نے اس کے سماع کو مستند قرار دیا ہے. ہمارے استاد ابن ظاہر ی نے یہ بات بیان کی ہے کہ یہ نمازوں کے حوالے سے خلل کا شکار تھا. ابن نجار نے دین کے حوالے سے اسے واہی قرار دیا ہے. اس کا انتقال 607 ھجری میں ہوا.
    ذہبی نے یہ بھی کہا کہ شیخ مسند الکثیر ہے.
    ابن خلکان نے کہا کہ صلاح اور خیر والا تھا..ایک جماعت سے منفرد روایت کرتا ہے جس میں ابو غالب احمد بن الحسن البناء شامل ہیں.
    حوالہ جات
    الکامل ابن الاثیر 10/ 280
    میزان الاعتدال اردو 5/ 273ح6218
    عربی 5/ 268ح6218
    المغنی 2/ 126ح4539
    سیر اعلام النبلاء 21/ 507
    تاریخ الاسلام
    لسان المیزان 6/ 142ح5688
    العبر 5/ 24
    وفیات الاعیان 3/ 452ح499
    التقیید لابن نقطہ 2/ 180ح520
    شذرات الذہب 7/ 49

    اب خود فیصلہ کر لیں کہ آپ بھی بابوں کی بتائی ہوئی باتوں پر چلیں گے یا مسلم علمی کتابی بن کر کتابوں سے چھان پھٹک کر کے جزء رفع الیدین کی استنادی حیثیت کا فیصلہ کریں گے.​
     
  10. ‏جولائی 01، 2019 #10
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,586
    موصول شکریہ جات:
    412
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    ایسا لگ رہا یے معترض خود اصول جرح و تعدیل اور مراتب جرح و تعدیل سے یتیم ہے.
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں