1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جزیرہ نماے عرب اسلامی تحریک کا مرکز

'تاریخ عرب' میں موضوعات آغاز کردہ از فیاض عبدالباری ملتانی, ‏فروری 19، 2015۔

  1. ‏فروری 19، 2015 #1
    فیاض عبدالباری ملتانی

    فیاض عبدالباری ملتانی رکن
    جگہ:
    اسلامک سنٹر محانی الطائف سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏فروری 03، 2015
    پیغامات:
    20
    موصول شکریہ جات:
    11
    تمغے کے پوائنٹ:
    45

    جزیرۃ نماۓ عرب
    جزیرۃ العرب اللہ تعالی کے پسندیدہ دین اسلام کا نقطہ آغاز ھے یہ اسلامی تحریک کا ابتدائی مرکز رھا ھے-اور یھی وہ جگہ ھے جھاں اخری پیغام ربانی (قرآن مجید ) کم وبیش 22 سال کی مدت میں نازل ھوا -
    یہ قدیم زمانہ سے عربوں کا وطن رھا ھے -یہ براعظم ایشیا کے جنوب مغرب میں واقع ھے -اس کو تین سمندروں نے گھیر رکھا ھے مغرب میں بحیرہ قلزم ، جنوب میں بحیرہ عرب اور خلیج عدن، مشرق میں خلیج عربی ( خلیج فارس ) اور شمال میں شام کا صحراء ھے -علماۓ جغرافیہ نے طبعی لحاظ سے جزیرۃ نماۓ عرب کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ھے ::
    1ــ تہامہ :: یہ وہ ساحلی پٹی ھے جو بحیرہ احمر (بحیرہ قلزم ) کے ساتھ ساتھ شمال میں ینبع سے لے کر جنوب میں نجران تک پھیلی ھوئی ھے -اس علاقے کو سخت گرمی اور حبس کی وجہ سے تہامہ کھا جاتا ھے - تہامہ ( التھم ) سے مشتق ھے جس کے لغوی معنی سخت گرمی اور حبس ھے
    2-کوھستان سراۃ :: یہ وہ پہاڑی سلسلہ ھے جو بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ ساتھ جزیرہ نماۓ عرب کے مغرب میں اور تہامہ کے نشیبی علاقے کے مشرق میں پھیلا ھوا ھے - اس سلسلے میں بھت سی وادیاں ھیں -یہ سلسلہ خلیج عقبہ سے یمن تک وسیع ھے-شمال میں اسے مدین کے پہاڑ،جنوب میں عسیر کے پہاڑ اور درمیان میں حجاز کہا جاتا ھے جھاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ واقع ھے -اس علاقے کو حجاز اس لیے کہا جاتا ھے کہ تہامہ اور نجد کے درمیان حائل ھے- حجز کے لغوی معنی رکاوٹ ھے
    3-سطح مرتفع نجد :: یہ یمن اور جنوبی عراق کے درمیانی علاقے کا نام ھے- اس کے مشرق میں علاقہ عروض ھے اس علاقے کو نجد اس لیے کہا جاتا ھے کہ یہ سطح سمندر سے کافی بلند ھے ( واضح رھے کہ نجد کا لغوی معنی بلندی ھے )
    4- یمن :: جزیرہ نماۓ عرب کے انتہائی جنوب مغرب میں پہاڑی علاقہ ھے جو مشرق میں حضرموت ، مہرہ ، عمان سے ملا ھوا ھے-جزیرہ نماۓ عرب کی سب سے اونچی چوٹی یہیں پائی جاتی ھے جو صنعاء کے جنوب مغرب میں3750 میٹر بلند ہے
    5- عروض :: یہ یمامہ ، عمان اور بحرین پر مشتمل ھے - اس علاقہ کو عروض اس لیے کہا جاتا ھے کہ یہ یمن اور نجد کے سامنے (مشرق میں) واقع ہے-
    جزیرہ نماۓ عرب میں اج کل سات ممالک شامل ہیں -
    -------------------------------------------------------------------------
    ملک رقبہ دارالحکومت
    -------------------------------------------------------------------------

    1-مملکت سعودی عرب 2248000 مربع کلومیٹر ریاض
    2-جمہوریہ یمن 472099 صنعاء
    3-سلطنت عمان 306000 مسقط
    4-متحدہ عرب امارات 83000 ابوظبی
    5-کویت 17818 کویت
    6-قطر 11437 دوحہ
    7-بحرین 694 منامہ

    ------------------------------------------------------------------------
    جزیرہ نماۓ عرب کا مجموعی رقبہ 3139048 مربع کلومیٹر
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  2. ‏فروری 19، 2015 #2
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    جزاک اللہ خیرا۔۔۔مفید معلومات ہیں۔جغرافیہ طور پر مشرق ، مغرب ، مشرق وسطی وغیرہ پر مبنی "نقشہ" بھی اگر پیش کر سکیں تو بہترین ہے۔برائے مہربانی!
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏فروری 19، 2015 #3
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,497
    موصول شکریہ جات:
    6,602
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    [​IMG]
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏فروری 20، 2015 #4
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    پروردیگار عالم نے قرآن حکیم سید المرسلین خاتم النبیین سرور کائنات حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر مختلف اوقات میں تھوڑا تھوڑا کر کے 23 سال کی مدت میں نازل فرمایا۔

    ح
     
  5. ‏فروری 20، 2015 #5
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    محترم بھائی !۔۔۔مجھے اس کی سمجھ نہیں آ رہی۔دراصل میں ایسا نقشہ چاہتی ہوں جو براعظم کی تقسیم پر مبنی ہو۔جیسا کہ کافی تعداد میں احادیث میں مشرق سے فتنوں کے نزول کا تذکرہ ہے۔اس حوالے سے آپ کوئی نقشہ فراہم کر سکیں تو ضرور کریں۔
     
  6. ‏فروری 25، 2015 #6
    فیاض عبدالباری ملتانی

    فیاض عبدالباری ملتانی رکن
    جگہ:
    اسلامک سنٹر محانی الطائف سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏فروری 03، 2015
    پیغامات:
    20
    موصول شکریہ جات:
    11
    تمغے کے پوائنٹ:
    45

    جزاکم اللہ خیرا ----- حوصلہ افزائی کا شکریہ ---- نقشہ کے حوالہ سے کوشش کرتا ھوں
    ان شاء اللہ
     
  7. ‏فروری 25، 2015 #7
    فیاض عبدالباری ملتانی

    فیاض عبدالباری ملتانی رکن
    جگہ:
    اسلامک سنٹر محانی الطائف سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏فروری 03، 2015
    پیغامات:
    20
    موصول شکریہ جات:
    11
    تمغے کے پوائنٹ:
    45

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ------- مدت نزول قران بعض کتب میں 22 سال اور چند ماہ درج ھے اس لئے میرۓ ذھن میں تھا لیکن میں دیکھتا ھوں -- جزاکم اللہ خیر
     
  8. ‏فروری 25، 2015 #8
    فیاض عبدالباری ملتانی

    فیاض عبدالباری ملتانی رکن
    جگہ:
    اسلامک سنٹر محانی الطائف سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏فروری 03، 2015
    پیغامات:
    20
    موصول شکریہ جات:
    11
    تمغے کے پوائنٹ:
    45

     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں