1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں۔

'مسلمانوں کے حقوق' میں موضوعات آغاز کردہ از نسیم احمد, ‏دسمبر 10، 2016۔

  1. ‏دسمبر 10، 2016 #1
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    724
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    السلام علیکم
    آج کل ملاوٹ اور دھوکہ دہی ایک آرٹ بن گیا ہے۔ جو عوام کو جتنا اچھی طرح بے وقوف بناتا ہے ۔ اس کو انتہائی ذہین کہا جاتا ہے ۔میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ 99فیصدی لوگ کاروبار میں دھوکہ کرتے ہیں۔ مختلف روز مرہ کے استعمال کی عام اشیاء میں ملاوٹ کو تو سب کو ہی پتا ہے ۔اور یہ ملاوٹ شدہ اشیاء صحت کیلئے نقصان دہ ہوتی ہیں ۔ یعنی ملاوٹ کر نے والے لوگوں کی جانوں کو ایک تسلسل سے نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ پہنچارہے ہیں ۔
    آپ کسی جنرل اسٹور پر جائیں تو دکاندار آپ سے پوچھتا ہے کہ فلاں برانڈ ایک نمبر چاہیے یا دو نمبر ؟
    میں نے ایک دودھ فروش سے کہا کہ آپ نے دودھ 80روپے کلوگرام کا بورڈ لگا یا ہوا ہے جب کہ آپ فروخت لیٹر میں کر رہے ہیں جو کہ کلو گرام سے کم ہے۔ اس کو میری یہ بات سمجھ ہی نہیں آئی اور کہا ایسا ہی ہمیشہ سے اسی طرح دودھ بیچتے ہیں آپ نے نئی بات کہی ہے۔'
    گوشت والے کے پاس چلے جائیں کم تولنا اور اس میں ناقص گوشت ملادینا عام ہے ۔
    ابھی حالیہ ہی میں محمکہ پنجاب فو ڈ ڈپارٹمنٹ نے بہت نامی گرامی تیل اور گھی کے برانڈ کو چیک کر نے کے بعد کہا کہ ان میں وٹامن اے موجو د ہی نہیں ہے۔جس کی موجود گی ثابت کرنے کیلئے لاکھوں روپے کے اشتہارات چلائے جاتے ہیں۔
    مردار اور حرام جانور لوگوں کو کھلانے کی خبروں سب کو ہی پتا ہیں ۔ مونگ پھلیوں پر بادام اور پستوں کا رنگ کر کے ان کو بیچا جارہا ہے ۔کسی چیز کو مرمت کے لئے مکینک کے پاس لے کر جائیں تو وہ ان خرابیوں کے بھی پیسے لے لیتا ہے جو موجود ہی نہیں ہوتیں۔جھوٹ بول کر اپنی چیزیں بیچنا ایک عام بات ہے ۔ ہمارے معاشرہ اس غلیظ دلدل میں ڈوب چکا ہے ۔
    جو لوگوں کو دھوکہ دے کر روزی کماتے ہیں ۔ پھر ناقص چیزوں سے انسانی جانوں کے نقصان پہنچنے پر کیا اس وعید کے زمرے میں نہیں آتے کہ جس نے ایک انسان کو قتل کیا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔ کیا ملاوٹ ہماری آنے والے نسلوں کو تباہ و بر با د نہیں کر رہی ہے ۔نئی سے نئی بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔
    پھر ہم دعؤٰی کر تے ہیں کہ ہم بہت مہذب قوم ہیں ۔جس طرح کفر اور اسلام کے درمیان تفریق کرنے والی چیز نماز ہے اسی طرح ملاوٹ بھی اور دھوکہ دہی ایک انتہائی مکروہ اور گھناؤنا کام ہے ۔جس کی سزا یہ ہے کہ پیارے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جرم کو کر نے والے کو امت سے خارج قرار دیا ہے۔
    حدیث نمبر: 1315 ترمذی--- حکم البانی: صحيح ، ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک غلہ کے ڈھیر سے گزرے ، تو آپ نے اس کے اندر اپنا ہاتھ داخل کر دیا ، آپ کی انگلیاں تر ہو گئیں تو آپ نے فرمایا : ” غلہ والے ! یہ کیا معاملہ ہے ؟ “ اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! بارش سے بھیگ گیا ہے ، آپ نے فرمایا : ” اسے اوپر کیوں نہیں کر دیا تاکہ لوگ دیکھ سکیں “ ، پھر آپ نے فرمایا : ” جو دھوکہ دے ، ہم میں سے نہیں ہے “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲ - اس باب میں ابن عمر ، ابوحمراء ، ابن عباس ، بریدہ ، ابوبردہ بن دینار اور حذیفہ بن یمان ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ وہ دھوکہ دھڑی کو ناپسند کرتے ہیں اور اسے حرام کہتے ہیں ۔
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏دسمبر 11، 2016 #2
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109


    و عليكم السلام و رحمة الله و بركاته
    "فليس منا" (وہ ہم میں سے نہیں) کا مطلب وہ ہمارے طریقے اور سنت پر نہیں ، امت سے خارج کرنا یا ہونا اس کا مطلب ہرگز نہیں۔

    ایسے بہت سارے کام ہیں جن کو کرنے یا نہ کرنے والے کے متعلق نبیﷺ نے "فليس منا" کہا ہے اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کے وہ اسلام اور امت سے خارج ہو گئے۔
     
  3. ‏دسمبر 12، 2016 #3
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    724
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    جو رسول کے طریقے اور سنت پر نہیں ۔پھر اسکا اسلام سے کیا واسطہ رہ جاتا ہے۔
     
  4. ‏دسمبر 12، 2016 #4
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    بھائی ہر تارک سنت امت سے خارج نہیں ہو جاتا ، اگر ایسا کیا جائے تو کرہ ارض پر مشکل سے کوئی مسلم بچے گا ۔

    نبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے ثابت ہے کہ آپ نے کبیرہ گناہ کرنے والے شخص کے متعلق بھی کہا ہے کہ وہ جنت میں داخل ہو گا ، اور ایک حدیث جس میں ہے کہ قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا اور اس کے گناہوں کے ۹۹ رجسٹر ہونگے پھر ایک چھوٹا سا کاغذ کا ٹکڑا لایا جائے گا جس پر "لا الہ الا اللّٰہ" ہوگا تو وہ ٹکڑا ان گناہوں کے ۹۹ رجسٹروں کے مقابل وزن ہو جائے گا اور اس شخص کو جنت میں داخل کر دیا جائے گا (حدیث کا مفہوم ہے یہ ترجمہ نہیں) ، اسی طرح وہ شخص بھی جنت میں داخل کر دیا جائے گا جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہوگا۔


    اہل سنت کا اجماع ہے کہ کبیرہ گناہ کا مرتکب امت سے خارج نہیں ہوتا ، کبیرہ گناہ کے مرتکب کو امت سے خارج کرنا خوارج کا منہج ہے اہلحدیث ، اہل سنت والجماعت کا ہرگز نہیں۔

    اگر ہم ائمہ کی عقائد کی کتابوں کا مطالعہ کریں گے تو معلوم ہوگا کہ اس متعلق صحیح منہج کیا ہے۔
     
  5. ‏دسمبر 12، 2016 #5
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    پیارے بھائی!
    اس حدیث کا مطلب واقعی یہی ہے کہ وہ ہمارے طریقے پر نہیں.
    اور یہ خود ساختہ معنی نہیں. اسکی وجہ بھی ہے. دلائل کو دیکھ کر یہ معنی بتایا گیا ہے
     
  6. ‏مارچ 13، 2018 #6
    اصف اقبال

    اصف اقبال مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 13، 2018
    پیغامات:
    1
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    2

    "وہ ہم میں سے نہیں" کا مطلب "وہ ہم میں سے نہیں" ہی ہے۔ اپنی طرف سے دوسری معنی لینا میرے خیال میں خود کو اور دوسروں کو گمراہ کرنے کے سِوا اور کچھ نہیں۔
    دھوکہ دینا تو ایک سنگین اخلاقی جرم ہے۔ اس کی معافی تو اللہ بھی نہیں دیگا جب تک وہ معاف نہ کردیں جس کو دھوکہ دیا گیا ہے۔ اور مسلمان ہونے کا مطلب ہی یہی ہے کہ اس پر ہر قسم کا اعتبار کیا جا سکتا ہو۔ اس سے کِسی کی مال، جان یا آبرو کو کویی خطرہ نہ ہو۔ اگر ایسا نہیں تو وہ مسلمان کِس لیے ہے پھر۔ وہ تو پھر منافق ہے جو کہ کافر سے خطرناک اور بد تر ہوتا ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں