1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جمعہ کی نماز کے مسائل

'محدث فتویٰ' میں موضوعات آغاز کردہ از نسیم احمد, ‏نومبر 18، 2017۔

  1. ‏نومبر 18، 2017 #1
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    732
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    محترم علماء کرام
    السلام علیکم
    جمعہ کی نماز کے حوالے سے میرے کچھ سوالات ہیں جوابات عنایت کریں۔
    1-جمعہ کی نماز کا خطبہ سننا فرض ہے یعنی جس نے خطبہ نہیں سنا اس کی نماز نہیں ہوئی؟
    2-جمعہ کے دن پہلے چھٹی ہوتی تھی اب صرف نماز کا وقت دیا جاتا ہے ۔ اگر اذان کے فوراً بعد پہنچنے تو نماز کی تکمیل تقریباً کم از کم ایک گھنٹہ درکار ہوتا ہے جس کی اجازت عموماً ملازم پیشہ افراد کو نہیں ملتی ہے۔ اس صورت میں وہ خطبہ سے ذرا پہلے یا دوران خطبہ پہنچتے ہیں کیا یہ عمل صحیح ہے؟
    3- ملازمت کی وجہ سے کوئی ایک مسجد فکس نہیں ہے ۔ ایک مسجد جہاں میں نے اکثر جمعہ ادا کیا ہے وہاں کہ امام صاحب خطبہ سے پہلے اعلان کر تے ہیں کہ "خطبہ کا حکم مثل نماز ہے ، خطبے میں چلنا، پھرنا، بات کرنا یا کسی کو نیکی بات بتا نا جائز نہیں ہے۔ جو جمعہ کے دن گردن پھلانگے گا اس کو جہنم کا پل بنا یا جائے گا۔
    دوران خطبہ مسجد میں داخل ہوا ہے تو وہی رک جائے کیوں کہ دوران خطبہ کوئی عمل روا نہیں۔دو زانوں ہوکر بیٹھیں خطیب کی طرف منہ کرکے بیٹھنا سنت ہے ۔ پہلے خطبے میں دونوں ہاتھ زانوں پر اور دوسرے میں دونوں ہاتھ گھٹنوں یعنی جیسے حالت نماز میں التحیات پڑھتے ہوئے ہوتے ہیں رکھیں تو دو رکعتوں کا ثواب ملے گا"
    4-جمعہ کی دو فرض رکعتوں کے علاوہ اور کتنی رکعتیں سنت سے ثابت ہیں ؟
    5-نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کیا پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے وعظ فرماتے تھے پھر اسی طرح دو خطبے دیتے تھے ۔ ؟
    @اسحاق سلفی صاحب
    @خضر حیات صاحب
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏نومبر 19، 2017 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    خطبہ جمعہ سننا ضروری ہے ، البتہ اگر نہ سنا جائے ، یا رہ جائے ، تو نماز نہ ہونے کی دلیل موجود نہیں ۔
    لنک
    یہ عمل صحیح نہیں ۔ کہ اس میں جان بوجھ کر خطبہ جمعہ سے تاخیر ہے ۔ ملازمین کو چاہیے یا خود کہیں جمعہ یا خطیب صاحب کا انتظام کرلیں ، یا پھر کمپنی وغیرہ سے جمعہ کی اجازت لیں ۔ بہرصورت خطیب کے بے جا خطبہ کو لمبا کرنا بھی درست نہیں ، لیکن خطیب خطبہ لمبا کرتا ہے ، اس بہانے خطبے میں تاخیر یا غائب ہونا بھی درست نہیں ۔ واللہ اعلم بالصواب۔
    دوران خطبہ گفتگو وغیرہ کی ممانعت ، اور اسی طرح گردنیں پھلانگنے کی ممانعت احادیث کے اندر موجود ہے ، جہاں آسانی سے جگہ ملے بیٹھنا چاہیے۔
    گردنیں پھلانگنے سے منع کیا گیا ہے ، جو ایسا کرے ، وہ جہنم کا پل بنایا جائے گا ، اس حوالے سے کچھ روایات وارد ہیں ، علامہ البانی نے انہیں شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے ۔ ( السلسلۃ الصحیحۃ حدیث نمبر 3122 )
    خود بولنا ہی نہیں بلکہ بولنے والے کو روکنا بھی ایک لغو کام قرار دیا گیا ہے ۔ جس سے خطبہ جمعہ میں خاموشی اور خطیب کی طرف متوجہ رہنے کی اہمیت واضح ہوتی ہے ۔
    دوران خطبہ کوئی آئے ، تو دو رکعت پڑھنا درست ہے ۔
    اِذَا جَآء اَحَدُکُمْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ فَلْیَرْکَعْ رَکْعَتَیْنِ وَلْیَتَجَوَّزْ فِیْھَمَا ۔ (صحیح مسلم، ص۲۸۷ جلد ۱)
    یعنی جو شخص تم میں سے مسجد میں جمعہ کے دن آئے اور امام خطبہ سنا رہا ہو تو دو رکعت ہلکی پڑھ کر بیٹھے۔
    دوران خطبہ گھٹنے پکڑ کر بیٹھنے سے منع کیا گیا ہے ، البتہ دو زانو ہو کر بیٹھنا ضروری یا باعث ثواب ہے ، اس حوالے سے کوئی حدیث میرے علم میں نہیں ہے ۔
    جمعہ کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم دو دو کرکے چار رکعت ادا کیا کرتے تھے ۔
    نماز جمعہ کی رکعات
    حضور صلی اللہ علیہ و سلم خطبے دو ہی ارشاد فرماتے تھے ، اور دونوں وعظ و نصیحت اور دعا وغیرہ پر ہی مشتمل ہوتے تھے ۔ البتہ خطبہ سے ہٹ کر تقریر یا وعظ وغیرہ کے عنوان سے ایک نیا رواج حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت نہیں ۔
    آنحضرتﷺ کے خطبہ مسنونہ کا ذکر ان لفظوں میں آیا ہے کانت لرسول اللہ خطبتان یقرأ القران ویذکر الناس خطبہ مسنون یہ ہے کہ قرآن شریف کے ساتھ نصیحت کرے اس کے سوا خطبہ محض نظم میں ہو یا محض نثر میں غیر مسنون ہے۔ (فتاویٰ ثنائیہ جلد اول ص ۵۲۹)
     
    • علمی علمی x 4
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏نومبر 19، 2017 #3
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,357
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    بارک اللہ فیکم محترم شیخ
     
  4. ‏نومبر 19، 2017 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
    جمعہ کے خطبہ کی اہمیت اور خطبہ سننے کیلئے اذان سن کر فوراً مسجد حاضر ہونا کتنا ضروری ہے درج ذیل حدیث شریف سے سمجھ لیں :
    ـــــــــــــــــــــ
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ وَقَفَتِ الْمَلَائِكَةُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ يَكْتُبُونَ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ، وَمَثَلُ الْمُهَجِّرِ كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي بَدَنَةً ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي بَقَرَةً ثُمَّ كَبْشًا ثُمَّ دَجَاجَةً ثُمَّ بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طَوَوْا صُحُفَهُمْ وَيَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ ".
    سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے جامع مسجد کے دروازے پر آنے والوں کے نام لکھتے ہیں، سب سے پہلے آنے والا اونٹ کی قربانی دینے والے کی طرح لکھا جاتا ہے۔ اس کے بعد آنے والا گائے کی قربانی دینے والے کی طرح پھر مینڈھے کی قربانی کا ثواب رہتا ہے۔ اس کے بعد مرغی کا، اس کے بعد انڈے کا۔ لیکن جب امام (خطبہ دینے کے لیے) باہر آ جاتا ہے تو یہ فرشتے اپنے دفاتر بند کر دیتے ہیں اور خطبہ سننے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔
    (صحیح البخاری الجمعہ )
    امام ابن کثیر سورۃ الجمعہ کی آیت (اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ ) کے تحت لکھتے ہیں :
    وَقَوْلُهُ: {وَذَرُوا الْبَيْعَ} أَيِ: اسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَاتْرُكُوا الْبَيْعَ إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ: وَلِهَذَا اتَّفَقَ الْعُلَمَاءُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ عَلَى تَحْرِيمِ الْبَيْعِ بَعْدَ النِّدَاءِ الثَّانِي
    اللہ تعالی کا فرمان کہ (اے ایمان والو ! جمعہ کے دن جب نماز کیلئے اذان دی جائے تو فوراً اللہ کے ذکر کی طرف لپکو ")
    اس فرمان الہی کی بنیاد اہل علم کا اس بات پر اتفاق کہ اذان جمعہ کے بعد خرید و فروخت حرام ہے "
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ-
    الاسلام سوال و جواب پر خطبہ جمعہ میں حاضری کے متعلق فتوی میں لکھتے ہیں :

    يقول الله عز وجل :

    ( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ) الجمعة/9
    اے ایمان والو ! جمعہ کے دن جب نماز کیلئے اذان دی جائے تو فوراً اللہ کے ذکر کی طرف لپکو ، اور خرید وفروخت ترک کردو ،یہ تمہارے لیئے بہت بہتر ہے اگر تم سمجھو !
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    قال الشيخ السعدي رحمه الله :

    " يأمر تعالى عباده المؤمنين بالحضور لصلاة الجمعة والمبادرة إليها ، من حين ينادى لها " انتهى .
    علامہ سعدی اپنی تفسیر میں اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں : اللہ تعالی اپنے مومن بندوں کو نماز جمعہ میں حاضری اور اس کیلئے اذان کے بعد فوراً نکلنے کا حکم دے رہا ہے
    "تفسير السعدي" (ص 863)

    عن أوس بْنُ أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ رضي الله عنه قال : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : ( مَنْ غَسَّلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْتَسَلَ ثُمَّ بَكَّرَ وَابْتَكَرَ وَمَشَى وَلَمْ يَرْكَبْ وَدَنَا مِنْ الْإِمَامِ فَاسْتَمَعَ وَلَمْ يَلْغُ ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ عَمَلُ سَنَةٍ أَجْرُ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا ) وصححه الألباني في "صحيح أبي داود" وغيره .
    (وروى أبو داود (345) والترمذي (496) وحسنه ،
    اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو شخص جمعہ کے دن نہلائے اور خود بھی نہائے ۱؎ پھر صبح سویرے اول وقت میں (مسجد) جائے، شروع سے خطبہ میں رہے، پیدل جائے، سوار نہ ہو اور امام سے قریب ہو کر غور سے خطبہ سنے، اور لغو بات نہ کہے تو اس کو ہر قدم پر ایک سال کے روزے اور شب بیداری کا ثواب ملے گا“۔

    تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة ۲۳۹ (۴۹۶)، سنن النسائی/الجمعة ۱۰ (۱۳۸۲)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ۸۰ (۱۰۸۷)، (تحفة الأشراف: ۱۷۳۵) وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۸، ۹، ۱۰)، سنن الدارمی/الصلاة ۱۹۴ (۱۵۸۸) (صحیح)

    ـــــــــــــــــــــــ
    فأوجب الله السعي إليها ، حين ينادى بها ، وسن رسول الله صلى الله عليه وسلم التبكير إليها .
    (تو ان نصوص میں ) اللہ نے نماز جمعہ کیلئے (اذان سننے کے بعد ) فوراً باھتمام جانا واجب قرار دیا ہے ، اور رسول اکرم ﷺ کی سنت سے اول وقت جمعہ کیلئے جانے کی ترغیب دی گئی ہے ۔
    فيجب على كل من سمع النداء للجمعة – وهو النداء الثاني - ممن تجب عليه - أن يسعى إلى الصلاة ، ولا يجوز له التخلف عن حضور الخطبة إلا لعذر ، ومن كان منزله بعيداً وجب عليه أن يسعى لها قبل النداء ليدرك الخطبة والصلاة ؛ لأن إدراكهما واجب ، وما لا يتم الواجب إلا به فهو واجب .
    تو ہر وہ آدمی جو جمعہ کی اذان سنے اس پر واجب ہے کہ بلا تاخیر نماز جمعہ کیلئے مسجد پہنچے ، اور سوائے شرعی عذر کے خطبہ جمعہ سے غیر حاضر رہنا جائز نہیں ، اور جو آدمی مسجد سے دور رہتا ہے اس کیلئے ضراوری ہے کہ اذان سے اتنا پہلے مسجد کیلئے نکل پڑے کہ خطبہ اور جماعت پاسکے ، اسلئے کہ ان دونوں میں حاضری واجب (فرض ) ہے

    قال ابن قدامة رحمه الله :
    " الْخُطْبَة شَرْطٌ فِي الْجُمُعَةِ , لَا تَصِحُّ بِدُونِهَا , وَلَا نَعْلَمُ فِيهِ مُخَالِفًا , إلَّا الْحَسَنَ " انتهى .
    "المغني" (2/74)​
     
    Last edited: ‏نومبر 19، 2017
    • علمی علمی x 4
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  5. ‏نومبر 19، 2017 #5
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    732
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    جزاک اللہ
     
  6. ‏نومبر 19، 2017 #6
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    732
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    محترم اسحاق سلفی صاحب
    محترم خضر حیات صاحب
    آپ دونوں حضرات کا شکریہ اللہ آپ کے علم نافع میں اضافہ عطافرمائے۔
     
  7. ‏نومبر 19، 2017 #7
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    732
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    اس کا یہ معنی ہے کہ اگر خطبہ رہ گیا تو گناہ گار ہوگا لیکن نماز نہیں جائے گی؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں