1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

"جملہ حقوق محفوظ ہیں" کا کیا مطلب ہوتا ہے؟

'اصول فقہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جنوری 21، 2017۔

  1. ‏جنوری 21، 2017 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,824
    موصول شکریہ جات:
    6,482
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    "جملہ حقوق محفوظ ہیں" کا کیا مطلب ہوتا ہے؟

    اس جملے کا کیا مطلب ہے: "جملہ حقوق محفوظ ہیں" یہ آپ کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے، کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ویب سائٹ یا کتاب سے میں استفادہ یا کاپی نہیں کی جا سکتی ؟

    Published Date: 2017-01-10

    الحمد للہ:

    علمی مصنوعات، ایجادات، سافٹ وئیر، اپلیکیشن اور تالیفات پیش کرنے والوں کی عادت ہے کہ وہ ان کے شروع میں ہی لکھ دیتے ہیں: "جملہ حقوق محفوظ ہیں"

    اس عبارت کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ: اس تیار کردہ چیز سے متعلقہ فکری ملکیت اور تخلیقی حقوق اس چیز کو بنانے والے ادارے یا فرد کے نام پرمحفوظ ہیں۔

    حقوق کے ساتھ دو چیزوں کا تعلق ہوتا ہے:

    1- ادبی اور معنوی امور:

    اس میں یہ بات آتی ہے کہ اس تیار کردہ چیز ، تالیف یا سافٹ وئیر کی نسبت اس کے مالک کی جانب کی جائے، اور اس کی نشر و اشاعت کا حق بھی اسی کو ہو، طریقہِ نشر و اشاعت ، اور اس میں ضرورت کے وقت تغیر و تبدل کا حق بھی اسی کو ہو۔

    2- مالی حقوق:

    کسی بھی مصنوعات اور ایجادات کی مالی قیمت ہوتی ہے ، البتہ مالک اپنی مرضی سے لوگوں میں اسے مفت تقسیم کر سکتا ہے، اور چاہے تو اس کی قیمت بھی وصول کر سکتا ہے، چنانچہ ان کے عوض میں حاصل ہونے والی آمدنی یا خصوصیات پر ان کا مالک ہی حقدار ہوتا ہے۔

    اسلامی فقہ اکیڈمی کی قرار دادوں میں ہے کہ:

    "کمرشل نام، کمرشل عنوان، ٹریڈ مارک، تالیفات، ایجادات، یا جدت طرازی سب ان کے مالکان کی ملکیت ہوتے ہیں، عصر حاضر کے عرف عام میں ان کی معتبر و معتمد مالی حیثیت ہے ؛ کیونکہ ان کے مالکان نے ان پر اپنا سرمایہ صرف کیا ہوتا ہے، چنانچہ شرعی طور پر ان کے حقوق کو مکمل تحفظ حاصل ہو گا اور ان سے ان کا یہ حق غصب کرنا جائز نہیں ہو گا"

    دوم:

    جملہ حقوق اگر مالکان کے نام محفوظ بھی ہوں تو اس کا یہ تقاضا نہیں ہے کہ اس سے اقتباس نہیں لیا جا سکتا، یا اس میں موجود علم اور اچھی چیزوں سے مستفید نہیں ہو سکتے۔

    اس لیے اگر کوئی شخص اقتباس لے اور ان مصنوعات سے فائدہ اٹھائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، بشرطیکہ اصل مأخذ کا حوالہ ضرور دے۔

    جمال الدین قاسمی کہتے ہیں:

    "تصنیف و تالیف کے میدان میں یہ بڑی ہی اہم بات ہے کہ : علمی نکات، مسائل اور فوائد قائلین کی جانب منسوب کریں، تا کہ کسی کی محنت پر اپنا نام مت لگے، اور ایسا نہ ہو کہ اونچی دکان پھیکا پکوان کا مصداق بن جائے" انتہی
    " قواعد التحديث" (ص: 40)

    "علمی امانت کا تقاضا ہے کہ: کسی بھی بات کی نسبت اس کے قائل کی طرف کی جائے، جس نے جدت دی اسی کی جانب ہی اسے منسوب کریں، ایسا نہ ہو کہ دوسروں سے فائدہ لیکر اپنی طرف اس کی نسبت کر دے؛ کیونکہ یہ چوری کی ہی ایک شکل ہے، دھوکا دہی اور ملاوٹ کی ایک قسم ہے" انتہی
    ماخوذ از کتاب: " الرسول و العلم " (ص63 )

    تاہم مطبوعات اور دیگر اشیا کے مالکان کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ لوگوں کو اس کی نگارشات اور تحریروں سے فائدہ اٹھانے سے روکیں، اگر کوئی روکے بھی سہی تو اس کی اس بات کا کوئی اعتبار نہیں ہو گا۔

    تفصیل کیلیے دیکھیں: سوال نمبر: (218902)

    سوم:

    مالکان کے حقوق کا تحفظ یہ تقاضا نہیں کرتا کہ آپ ان کی مصنوعات اور دیگر اشیا کو کاپی نہیں کر سکتے یا اس کی نقل نہیں لے سکتے یا اسے ڈاؤنلوڈ نہیں کر سکتے بشرطیکہ اس سے مقصود ذاتی استعمال ہو ۔

    لیکن اگر تجارتی مقاصد کیلیے آپ ان کی نقول تیار کریں اور تقسیم کریں تو یہ حرام کام ہے؛ کیونکہ اس طرح سے مالکان کے مالی حقوق پامال ہوں گے۔

    شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:

    "کیا ایسی کیسٹوں سے نقل کرنا جائز ہے جن میں لکھا ہوتا ہے کہ "جملہ حقوق طباعت محفوظ ہیں" اور کیا اس کے حکم میں اس وقت تبدیلی آ سکتی ہے جب نقول تیار کرنے کا مقصد مفت تقسیم اور دعوتی ہو تجارتی نہ ہو؟"

    تو انہوں نے جواب دیا:

    "مجھے لگتا ہے کہ اگر ذاتی استعمال کیلیے ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

    لیکن اگر تجارتی استعمال کیلیے ہو ، مثلاً: اس کی نقول تیار کر کے کسی دکان پر پہنچائے تو یہ جائز نہیں ہو گا؛ کیونکہ اس سے آپ کے بھائی کے مالی حقوق پامال ہوں گے۔

    البتہ اگر کوئی طالب علم اپنے ساتھی طالب علم کی کاپی سے نقل تیار کرتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے" انتہی
    ماخوذ مختصراً از : "التعليق على الكافي لابن قدامة "(3/373) مکتبہ شاملہ کی خود کار ترتیب کے مطابق

    شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے یہ بھی پوچھا گیا:

    "ایسی کیسٹوں کی نقول تیار کرنے کا کیا حکم ہے جن کے حقوق محفوظ ہوتے ہیں؟"

    تو انہوں نے جواب دیا:

    "میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر انسان اپنے لیے کیسٹ کاپی کرتا ہے ، تجارتی مقاصد کیلیے نہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ اس میں کوئی نقصان والی بات نہیں ہے۔

    لیکن اگر کوئی شخص تجارتی مقاصد کیلیے کاپی کرتا ہے اور پھر اسے پھیلاتا ہے تو یہ زیادتی ہے، بلکہ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی اپنے مسلمان بھائی کی قیمت پر قیمت لگا رہا ہے، اور ایسا کرنا حرام ہے۔
    " انتہی
    "لقاء الباب المفتوح" (164/ 17) مکتبہ شاملہ کی خود کار ترتیب کے مطابق


    پہلے شیخ سعد الحمید کا سوال نمبر: (21927) میں فتوی نقل ہو چکا ہے ، جس میں ہے کہ:

    "کتاب یا سی ڈی کی کاپیاں تیار کرناتجارتی مقاصد کی غرض سے اور اس نیت سے کرنا کہ اس کے اصل مالک کو نقصان پہنچے تو یہ جائز نہیں ہے۔
    لیکن اگر انسان ایک کاپی اپنے لیے تیار کرتا ہے تو امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا، اگرچہ اس سے بھی بچنا بہتر ہے" انتہی

    خلاصہ یہ ہے کہ:

    "جملہ حقوق محفوظ ہیں" کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اس چیز کو ذاتی استعمال میں نہ لائیں یا اس سے اقتباس نہ لیں یا مستفید نہ ہوں۔

    بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ: کسی دوسرے کی محنت پر اپنی اجارہ داری قائم نہ کریں اور اسے اپنی طرف منسوب مت کریں، یا اس کی کاپیاں اور نقول تیار کر کے ان کی تجارت کریں اور فائدہ اٹھائیں، اور اس کیلیے اصل مالک سے اجازت بھی نہ لیں۔

    مزید کیلیے سوال نمبر: (38847) اور (131437) کا جواب ملاحظہ کریں۔

    واللہ اعلم.

    اسلام سوال و جواب

    https://islamqa.info/ur/237588
     
    • متفق متفق x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  2. ‏جنوری 21، 2017 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,824
    موصول شکریہ جات:
    6,482
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    انٹرنيٹ سے دروس اور تقريريں ڈاون لوڈ كركے دعوت و تبليغ كے ليے تقسيم كرنا

    جو شخص انٹرنيٹ سے كچھ درس اور تقارير ڈاون لوڈ كر كے انہيں ريكارڈ كرنے كے بعد نوجوانوں ميں اللہ تبارك وتعالى كى دعوت پھيلانے كے ليے تقسيم كرے تا كہ فائدہ عام ہو اس كا حكم كيا ہے ؟ اور كيا يہ عمل كسى دوسرے كے حق پر زيادتى ميں تو شمار نہيں ہوتا ؟

    Published Date: 2013-08-05

    الحمد للہ:

    اصل بات يہ ہے كہ ان ويب سائيٹوں كے مالكوں نے يہ دروس اور تقارير سننے اور ان سے فائدہ حاصل كرنے كے ليے ريكارڈ كى ہيں، اور ان ميں سے كچھ نے تو اسے ڈاون لوڈ كرنے اور اسے محفوظ كرنے كى سہولت بھي مہيا كر ركھى ہے جو ان كى جانب سے كاپى كرنے كى اجازت ہے.

    لھذا اس بنا پر ان دروس اور تقارير كو ڈاون لوڈ كركے ريكارڈ كرنے كے بعد نوجوانوں وغيرہ ميں تقسيم كرنے ميں كوئى حرج والى بات نہيں، بلكہ يہ ايك نيك اور صالح عمل ہے، جس ميں دعوت الى اللہ اور خير وبھلائى ميں مدد و تعاون كا پہلو پايا جاتا ہے.

    اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان بھى ہے ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    " جس نےبھى ہدايت كى دعوت دى اسے اس پر عمل كرنے والا جتنا ہى اجروثواب ملے گا، اور ان كے اجروثواب ميں كوئى كمى نہيں ہو گى، اور جس نے كسى گمراہى و ضلالت كى دعوت دى اس پر اتنا ہى گناہ ہے جتنا برائى پر عمل كرنے والے كو ہو گا، اور ان كے گناہ ميں سے كچھ كمى نہيں ہو گى" صحيح مسلم حديث نمبر ( 2674 ).

    اور جن ويب سائٹوں نے ان دروس اورتقارير كو ڈوان لوڈ كرنے كى اجازت نہيں دى اسے ڈاون لوڈ كرنے ميں كوئى حيلہ اور كوشش جائز نہيں، كيونكہ اس ميں دوسروں كے نشرو اشاعت اور تاليف و جمع اور ايجاد جيسے حقوق پر زيادتى ہے اور يہ معنوى حقوق ہيں جو ان كے مالكوں كے پاس ہيں، جيسا كہ اسلامى فقہ اكيڈمى كى قرار ميں بھى موجود ہے، جو پانچوين اجلاس ميں جارى كى گئى اور يہ اجلاس كويت ميں 1 - 10جمادى الاول الموافق 10 – 15 كانون الاول ( ديسمبر 1988م ) ميں منعقد ہوا.

    اول:

    تجارتي نام، تجارتي پتہ، ٹريڈ مارك، تاليف اورايجاد يا ابتكار يہ سب ايسےحقوق ہيں جوانہيں اختيار كرنےوالوں كےليےخاص ہےاور دور حاضر ميں اسے مالي قيمت حاصل ہے اور لوگوں ميں اس كي ماليت بنانا معروف ہے، اور انہيں شرعا بھي حقوق شمار كيا جائےگا، لھذا اس پر زيادتي كرنا جائز نہيں.

    ......

    دوم:

    تاليف اور ايجاد اور ابتكار كے حقوق شرعى طور پر محفوظ اور ان كا خيال ركھا گيا ہے، ان كا حق ركھنے والوں كو اس ميں تصرف كا حق حاصل ہے اور اس ميں كسى دوسرے كےليے زيادتى كرنے كا حق نہيں. )

    مزيد تفصيل كے ليے سوال نمبر ( 454 ) اور ( 21927 ) كے جوابات كا مطالعہ ضرور كريں.

    واللہ اعلم .

    الاسلام سوال وجواب

    https://islamqa.info/ur/38847
     
    • متفق متفق x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏جنوری 23، 2017 #3
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,720
    موصول شکریہ جات:
    5,252
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    ”قرآن و حدیث“ کے جملہ حقوق محفوظ کرنا۔
    1۔ قرآن کے تراجم کے حقوق اپنے نام ”محفوظ“ کرنا، اسے نیٹ پر ڈالنا اور یہ ”توقع“ بھی رکھنا کہ کوئی اور اسے کاپی کرکے شائع یا تقسیم نہ کرے۔
    2۔ حدیث کے تراجم و تلخیص کے حقوق
    اپنے نام ”محفوظ“ کرنا، اسے نیٹ پر ڈالنا اور یہ ”توقع“ بھی رکھنا کہ کوئی اور اسے کاپی کرکے شائع یا تقسیم نہ کرے۔
    3۔ قرآن و حدیث کی تفاسیر کے حقوق اپنے نام محفوظ کرنا اور ۔۔۔

    کیا یہ تینوں طریقے درست ہیں۔ تفاسیر والی بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ اس میں مفسر نے اپنی ”آراء“ بھی بھی شامل کی ہوتی ہیں۔ لیکن صرف تراجم قرآن و حدیث کے حقوق محفوظ کرنا سمجھ سے بالا تر ہے۔ کیا مترجمین صرف ”مالی فائدے“ کی خاطر قرآن و حدیث کے ترجمے کرتے ہیں؟ اگر نہیں تو وہ یہ ”توقع“ کیوں رکھتے ہیں (کاپی رائیٹ کی دھمکی دے کر) کہ ان کے ترجمہ کو کوئی اور تجارتی بنیادوں پر استعمال نہ کرے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں