1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جمہوریت: مجرم کون

'جمہوریت' میں موضوعات آغاز کردہ از عابدالرحمٰن, ‏مارچ 25، 2013۔

  1. ‏مارچ 25، 2013 #1
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    السلام علیکم
    جمہوریت: مجرم کون​

    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم
    اما بعد!
    ربی شرح لی صدری ویسر لی امری​

    میرے محترم بزرگو دوستو اور ساتھیو رفقاء و مخلصین علماء و صلحاء و مفکرین عظام
    بڑی خوشی کی بات ہے کہ آپ حضرات ایک اہم اور نازک اور ضروری مسئلہ پر اپنی آراء سے مستفیض فرمارہے ہیں اور بڑی خوش کن بات ہے کہ آپ حضرات کو اس بارے میں کافی علمی معلومات ہیں اور علمی انداز میں ہی گفتگو فرمارہے ہیں اور جس میں اخلاص نیت کا مظاہرہ بھی ہورہاہے ہیں یقیناً آپ تمام حضرات مبارک باد کے مستحق ہیں اللہ تعالیٰ آپ تمام حضرات کے اخلاص کو قبول فرمائیں اور تمام ملت اسلامیہ کے قلبی نیتوں اور ان کے خیالات اور تمناؤں کو شرف قبولیت سے نوازے اور تمام انسانوں کو اسلامی تعلیمات کا پابند بنائے (اسلام میں داخل فرمائے) اٰمین
    سب سے پہلے تو میں یہ عرض کردوں کہ یہ ( الیکشن سے مربوط مسائل اور ان کا حل )مقالہ ہندوستان کے تناظر میں لکھا گیا ہے اور وہاں کے حالات کے مطابق ہے کیوں کہ اس کو ہم سمجھتے ہیں کہ حالات کا تقاضہ کیا ہے اس لیے عرض ہے:
    میں اپنے اس مقالہ( الیکشن سے مربوط مسائل اور ان کا حل ) کا قطعی دفاع نہیں کروں گا اور نہ ہی قطعی طور پر مجھےاس بات کا افسوس ہوگا کہ اس کا پوسٹ مارٹم کیوں کیا گیا
    وجہ اس کی یہ ہے کہ آج ہم جن حالات سے دوچار ہیں یہ ہمارے اور آپ کے پیدا کردہ نہیں ہیں یہ ہمارے بڑوں کی بھول چوک یا غلطی ہے جس کو ہمیں بھگتنا پڑ رہا ہے ۔اور بات بھی یہی ہے کہ بڑوں کی بھول کا خمیازہ نسلوں کو بھگتنا پڑتا ہے اور اس کا اظہار میں اپنے (شریعت طریقت حقیقت) والے تھریڈ میں بھی کرچکا ہوں جس کے قطع و برید کا شرف مولانا عمران اسلم کو حاصل ہے۔ اللہ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
    تو میرے بھایئو!
    اب جبکہ یہ جمہوری(کفریہ نظام)ہمارے سروں پر تھوپ دیا گیا ہے تو اب اس سے براءت چھٹکارہ کیسے حاصل ہو اس لعنت سے کیسے نکلا جائےیا اس نظام باطل کی اصلاح کیسے کی جائے؟
    آج ہم اس نظام کی مخالفت کررہے ہیں اور اسلامی کی باتیں کررہے ہیں بیشک بہت مبارک سوچ اور فکر ہے لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کو نافذ العمل کیسے کیا جائے کس طرح عملی جامہ پہنایا جائے؟
    اس سے دور یا بعید رہ کر یا کنارہ کشی اختیار کرکے یا اس کی تردید کرنے سے یا صرف دور دور سے غراّ نے سے یا گھور گھور کر دیکھنے سےکیا ہم اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوجائیں گے اور یہ باطل نظام تبدیل ہوجائے گا
    میرے حساب سے تو یہ شیخ چلی والی سوچ ہے اور خیالی پلاؤ ہے۔
    بیانات دینا اور تردید کرنا بہت خوب ہے لیکن میرے بھایئ!
    بلی کے گردن میں گھنٹی ڈالے کون!
    یاد رکھئے اللہ تعالیٰ نے حکمت و عقل دی ہے اس کو مثبت کاموں میں حکمت کے ساتھ استعماک کرنے کے لیے سونے کے لیے نہیں، شور مچانے کے لیے نہیں ،جاگنے اور جگانے کے لیے مچھردانی لگا کر سونے کے لیے نہیں اس لیے کہ مچھر اس طرح نہیں بھاگتے کہ دوا چھڑک دی یا مچھر دانی لگالی یا ہتھیلی بجا کر کچھ مچھروں کو مار دیا یا میونسپلٹی والوں کے خلاف بیان بازی کردی اسٹرائک کردی یا کرادی۔ اس کے لیے تو بھائی ہمیں صفائی ستھرائی کے اصولوں پر کام کرنا پڑے گا۔
    چلیے تسلیم ہے کہ ہمیں موجودہ نظام سے دور رہنا چاہئے کیونکہ اس میں شمولیت گناہ عظیم ہے،یہ کافروں منافقوں فاسقوں مرتدوں کے ساتھ تعاون ہے اور اور تعاون علی الاثم کا مصداق ہے ۔
    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے اس طرح سوچنے اور عمل کرنے سے اور دوری اختیا ر کرنے سے ہم محفوظ ہوگئےاور عنداللہ اور عندالناس بری ہوگئے کیا اس طرح اس میں کوئی سدھار آجائے گا میں سمجھتا ہوں کافی نہیں ہے اور غیر مناسب بھی ہے۔
    یاد رکھئے!
    ہمارے اس طرح کے عمل سے اور کنارہ کشی کرنے سے اقتدار کن لوگوں کے ہاتھ میں آئے گا
    چوروں بدمعاشوں فاسقوں اسلام دشمنوں کےہاتھ میں
    کن کے ہاتھ مضبوط ہوں گے
    اسلام دشمنوں کے
    کن کا نقصان ہوگا
    اسلام کا مسلمانوں کا
    کون ذمہ دار ہوں گے آپ اور ہم
    کس وجہ سے
    کہ ہم نے ان کو اقتدار میں آنے کا موقع دیا اور ان کے لیے راستہ ہموار کیا
    کیوں ؟
    اس لیے کہ!
    ہماری نصیحتوں کی وجہ سے ایماندار محب وطن محب قوم اسلام پرست صالح اور با صلاحیت افراد اس نظام سے کنارہ کش ہوگئے
    اس لیے کہ
    یہ سوچ کون اپنی آخرت اور ایمان خطرے میں ڈالے
    معلوم ہے کہ وہ کیا سوچتے ہیں
    مرنے دو ہمارے لیے ہمارے اعمال اور ان کے لیے ان کے اعمال
    لکم دینکم ولی دین
    یاد رکھو کبھی نہیں !
    میرے بھایئو
    بخشش مشکل ہوجائے گی
    کیوں؟
    اس لیے کہ:
    ظالموں کو کھلی چھوٹ دیدی
    کہ جاؤ اقتدار سنبھالو
    اور طلم کرو من مانی کرو اسلام کا نام و نشان مٹادو
    اسلامی نظریات کو قربان کردو
    آج قوم تمہارے ہاتھوں کا کھلونا ہے چاہے جو کرو
    کیوں
    امریکہ یہودی
    زندہ باد
    ہماری پشت پر وہ ہیں
    کس کا ڈر کیسا اسلام کون روکنے والا اور کون دیکھنے والا
    تو بھائیو! معلوم ہے جب ان باطل پرستوں کی حکومت قائم ہوگی کیا ہوگا
    اب قانون پاس ہوں گے کون کون سے
    ہم جنس پرستی کے
    نقاب عذاب ہے
    داڑھی انساینت کی توہین ہے
    کرتا پائجامہ دہشت گردوں کی ڈریس ہے
    مدارس دہشت گردی کے اڈے ہیں
    مساجد جہاد کی تربیت گاہ ہیں
    آذان جہاد کا ترانہ ہے
    مساجد مدارس مسلمانوں کے اتحادکی علامت ہیں
    ان کو ختم کردیا جائے
    قرآن پاک نعوذباللہ نفرت پھیلاتا ہے
    کیوں
    اس میں کافروں مشرکوں یہود ونصاریٰ کو مفسدین اور بدترین انسان کہا جاتا ہے
    نفرت پھیلاتا ہے
    اس لیے معلوم ہے کیا ہورہا ہے
    گلف میں درسیات سے لفظ یہودی نکال دیا گیا ہے
    ضالین کی اصطلاح بدلی جارہی ہے اس میں اصلاح کی جارہی ہے
    اور یہ کام کہاں ہورہا ہے گلف میں
    اسلامی مملکت میں
    اور معلوم ہے کچھ غیر اسلامی ملکوں میں کیا ہورہا ہے
    کافر کی اصطلاح یہ عالم لوگ ہی بدل رہے ہیں
    چند ٹکوں کی خاطراور حکومت کے اشاروں پر
    یہ موقعہ کیسے ملا
    اس لیےکہ اس حمام میں سب ننگے ہیں ننگے
    موقعہ کس نے دیا ہم نے
    اس وجہ سے کہ ہم نے زمام اقتدار مشرکین منافقین مفسدین مرتدین کے ہاتھوں میں تھمادی
    اور یہ کہہ کر مطمئن ہوگئے ہم نے اپنے ایمان کو بچا لیا
    تو بتائیں مجرم کون ہم یا صاحب اقتدار
    کیا اللہ ہمیں معاف فرمادے گا
    اور سنئے
    کیا ہونے والا ہے
    پاکستان کی بات تو میں نہیں کرتا لیکن کچھ دیگر ممالک میں ایسا ہونے والاہے
    بس اقتدار میں آنے کا انتظار ہے
    کیا ہونے والا ہے
    ہم جنس پرستوں کو قانوناً تسلیم کرلیا جائیگا
    اور
    مرد اپنی بیوی سے بغیر اس کی رضامندی کے قربت حاصل نہ کرسکے گا
    اس کو زنا بالجبر قرار دیا جائے گا
    اور
    جو حضرات ووٹنگ میں حصہ نہیں لیں گے ان کو دوسرے درجہ کا شہری قرار دیا جائے گا
    ان کی قومیت سلب کر لی جائے گی اور غیر ملکی مان لیا جائے گا
    الغرض اس طرح کے کچھ قانون زیر غور ہیں
    وہ صرف پارلیمنٹ میں اکثریت کی بات ہے
    تو بھائی پارلیمنٹ میں اگر کچھ بے دین مسلمان بھی ہوئے تو کم از کم کچھ نہ کچھ اسلامی حمیت جاگے گی کچھ امید تو کی جا سکتی ہے
    تو میرے بھایئو یہ قانون صرف اسی وقت بنیں گے کہ جب ہم ۔۔۔۔۔۔۔ گھر میں بیٹھ جائیں گے
    اور اقتدار منافقوں گمراہوں فاسقوں کے ہاتھوں میں چھوڑ دیں گے
    تو بتائیں جب یہ ظلم ہوگا اور بے دینی ہوگی تو کیا اللہ ہمیں معاف فرمادیں گے
    اس کو ایمانداری سے بتایئے گا
    کیا یہ تعاون علی الاثم نہیں ہے؟
    اور بھائیو!
    جہاں تک اسلامی مملکت کی بات ہے
    پارلیمنٹ میں عورتوں کی شمولیت کس وجہ سے ہوئی
    امریکہ کے اشارہ پر
    عورتوں کو ڈرائیونگ کی اجازت کیوں ہوئی
    امریکہ کے حکم سے
    عورتوں کا شاپنگ مال چلانا کیوں ہوا
    یہودیوں اور امریکیوں کی اشتراکیت اور تعاون سے
    تو میرے بھائی آج عربوں کی حالت پاکستان کے کرپٹ سے کرپٹ حاکموں سے زیادہ ہے
    یہ چند معروضات تھے جن کوپیش خدمت کردیا
    اس کے بعد جو مزاج یا ر میں آئے
    تکلیف اور دل آزاری کے لیے معافی چاہوں گا
    فقط والسلام
    عابدالرحمٰن بجنوری
     
  2. ‏مارچ 25، 2013 #2
    فیض اللہ

    فیض اللہ رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 25، 2013
    پیغامات:
    94
    موصول شکریہ جات:
    223
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    ان تمام مشکلات سے نکلنے کا راستہ دعوت و جہاد ہے

    جمہوریت نہیں
     
  3. ‏مارچ 25، 2013 #3
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    جب جہادیوں میں ہی اتحاد نہیں ہر دس پانچ آدمی جس کے پاس ہوئے وہ جہادی ہوگیااور اپنی جماعت الگ بنا لی
    جہاں کثیر تعداد میں امیر ہوں کیا وہ جہاد ہے
    یاد رکھئے جہاد کسی امیر کے تابع ہوتا ہے
    اور میں بھی تقریبا چالیس سال سے دیکھ رہا رہا ہوں اس مروجہ جہاد نے مسلمانوں کو کچھ زخم دئے ہیں اور زخموں پر نمک پاشی کی ہے
    پہلے انتشار کو ختم کیا جائے تبھی کامیابی ممکن ہے
    کہیں ایسا تو نہیں اس جہاد کی آڑ میں ہم اغیار کو فائدہ پہنچا رہے ہوں
     
  4. ‏مارچ 28، 2013 #4
    محمد عاصم

    محمد عاصم مشہور رکن
    جگہ:
    گجرات
    شمولیت:
    ‏مئی 10، 2011
    پیغامات:
    236
    موصول شکریہ جات:
    999
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    عابد الرحمٰن بھائی ماشاءاللہ دین کی تڑپ اور مسلمانوں کی فلاح و بہبود آپ میں کافی ہے اللہ ہم کو بھی دے اور ہم سب کو نظامِ خلافت کے قیام میں معاون و مددگار بنائے آمین۔
    میں ملازم پیشہ بندہ ہوں وقت بہت کم ہوتا ہے آج کسی کام سے چھوٹی پر ہوں اس لیے اس وقت آن لائن ہوں ورنہ تو ہم رات دس١٠ بجے فارغ ہوتے ہیں میں کوشش کرونگا آپ کے اشکالاجات کا مفصل جواب دے سکوں اللہ کی مدد شامل حال ہوئی تو ضرور دے پاؤنگا ان شاءاللہ۔
     
  5. ‏مارچ 29، 2013 #5
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    محترم میں سفر میں ہوں اگرآپ ہندوستان والے گجرات میں ہیں تو اس وقت میں احمد آبادہوں
    مجھے بھی آپ سے گفتگو کرکے خوشی ہوگی
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں