1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جناب عمار خان ناصر اور زاھد الراشدی (ماھنامہ الشریعہ) صاحب کی افسوس کن جسارت۔۔۔

'مغرب کے ہمنوا مسلمان' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عثمان, ‏مئی 23، 2013۔

  1. ‏مئی 23، 2013 #1
    محمد عثمان

    محمد عثمان رکن
    جگہ:
    اسلام آباد
    شمولیت:
    ‏فروری 29، 2012
    پیغامات:
    231
    موصول شکریہ جات:
    594
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    حال ھی میں الجزائر کے ایک مشھور نام نہاد مجاھد بنام " عبد القادر الجزائری" کی انگریزی سوانح حیات کا اردو ترجمہ پڑھنے کو ملا۔ موصوف الجزائر میں موجود ایک جہادی تحریک سے تعلق رکھتے تھے۔ 19 صدی کے بیچ فرانسیسی جارحیت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ جس کے بعد "امیر عبد القادر الجزائری" کے نام سے مشھور ھوئے۔ ان کے والد کا نام محی الدین الحسنی تھا، جو کہ سلسلہ قادریہ پر بیت تھے۔ 1847 میں انکو بغاوت کے جرم میں فرانس کے ماتحت سلطنت الجزائیر سے ملک بدر کر دیا گیا، اور فرانس میں قید کر دیا گیا۔ 1852 عبد القادر الجزائری کو اس وقت کے صدر نیپولین بوناپارٹ نے رھائی دلائی اور اس عہد پر کہ وہ دوبارہ الجزائر میں کوئی شورش برپا نہیں کرینگے، انکے کے لئے 100000 فرینکس کی پینشن مقرر کی۔ اس واقعہ کے بعد انکی فکر اور فلسفہ میں ایک واضع تبدیلی ھوئی، اور وہ ترکی کی طرف صفر کر گئے۔ دمشق میں انکی دوستی تین اشخاص سے ھوئی اور جن میں دو عسائی اور ایک یہودی النسل تھے۔ 1860 میں دروز کے علاقے میں عسایوں پر ایک خون ریز حملہ ہوا جس میں عبد القادر الجزائری نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر عیسایوں کی جان بچائی، جس پر اس وقت کے امریکی صدر ابراہم لنکن نے انکو تحفہ میں اصلحہ دیا اور دو یادگار بندوقیں بھی عنایت فرمائیں۔ اس معرکہ کے بعد انکو فرانس کے دشمن کے بجائے فرانس کا دوست مانا جانے لگا۔
    غور طلب بات یہ ھے کہ عبد القادر الجزائری 1864 نے "فری میسنری" نامی تنظیم میں شمولیت اختیار کی، اور اس کے بعد ان کے 3 بیٹے بھی فری میسنز تھے۔
    1865 میں انھوں نے پیرس میں نیپولین بوناپارٹ سے ملاقات کی اور انکو بھت سے اعزازات سے نوازا گیا۔
    1883 میں موصوف فوت ھوئے اور مشھور صوفی "ابن عربی" کی قبر کے قریب مدفون ھوئے۔
    امریکہ کے ایک شہر میں انکی یاد میں ایک علاقہ انکے نام سے مسموم کیا گیا۔
    موصوف عمر کے آخری حصہ میں جب فری میسن بنے تو جہاد کرنا تو ایک طرف، اسلامی جہاد کے سخت مخالف ھو گئے، جس کی پاداش میں اپنے ایک بیٹے کو بھی خود سے الگ کر دیا۔ جس کی وجہ بیٹے کی الجزائر میں نیپولین کے خلاف آواز جہاد بلند کرنا تھی۔
    موصوف ایک مہر بھی رکھتے تھے، جس کا نشان عین وہی نشان ھے جو موجودہ اسرایئل کے جھنڈے پر موجود ھے۔

    حال ھی میں مغرب نواز تبقے نے عبد القادر الجزائری کی سوانح حیات کا اردو میں ترجمہ کیا، اور اس اسلام دشمن فری میسن کو ایک "سچا مجاھد" بنا کر پیش کیا۔ فلسطین پر ہیودیوں کے حق تولیت پر غامدی صاحب کا موقف تو واضع تھا، اب ان کے مقلد جناب عمار خان ناصر ولد مولانا سرفراز صفدر صاحب بھی یہود و مغرب نوازی میں کھل کر سامنے آئے ہیں اور اس نیپولین نواز فری میسن کو صحیح مجاھد قرار دے کر اسلام اور جھاد کے نظریہ کو مسمار کرنا چاھتے ہیں۔ افسوس تو مولانا زاہد الراشدی پر ھے کہ انہوں نے بھی عبد القادر الجزائری کی تعریف کے پل باندھے، اور اس کتاب کے اردو ترجمہ کی معاونت کی۔ قارئین کو اس کتاب کو پڑھنے کے بعد اس کے ترجمہ کا اصل مقصد سمجھ میں ائیگا۔ اللہ تعالی ہمیں اس پر فتن دور میں راہ حق پر چلنے کی توفیق دے، آمین۔

    مضمون مندرجہ زیل لنکس کی مدد سے تیار کیا گیا ھے:
    http://en.wikipedia.org/wiki/Abdelkader_El_Djezairi
    اور کتاب " امیر عبد القادر الجزائری " 482413_166763063485147_677705853_n.jpg 575366_166764346818352_1299062716_n.jpg 482413_166763063485147_677705853_n.jpg 575366_166764346818352_1299062716_n.jpg 316312_166983333463120_926671915_n.jpg 428654_166983236796463_613317539_n.jpg 20 اٹیچمنٹ کو ملاحظہ فرمائیں
     
    • معلوماتی معلوماتی x 6
    • شکریہ شکریہ x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏مئی 23، 2013 #2
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    بھائی، ازراہ کرم آخری تصویر میں سے چہرے کو چھپا کر پھر سے شیئر کریں۔ جزاکم اللہ خیرا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  3. ‏مئی 23، 2013 #3
    محمد عثمان

    محمد عثمان رکن
    جگہ:
    اسلام آباد
    شمولیت:
    ‏فروری 29، 2012
    پیغامات:
    231
    موصول شکریہ جات:
    594
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    شاکر بھائی ھٹا دی :)
     
  4. ‏مئی 23، 2013 #4
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    جزاکم اللہ خیرا۔
     
  5. ‏مئی 24، 2013 #5
    makki pakistani

    makki pakistani سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 25، 2011
    پیغامات:
    1,323
    موصول شکریہ جات:
    3,028
    تمغے کے پوائنٹ:
    282

    [​IMG]
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • زبردست زبردست x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  6. ‏مئی 24، 2013 #6
    makki pakistani

    makki pakistani سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 25، 2011
    پیغامات:
    1,323
    موصول شکریہ جات:
    3,028
    تمغے کے پوائنٹ:
    282

    ماہنامہ الشریعہ نے اپنے پچھلے شمارے میں اس کتاب کا بڑا چرچا

    کیا تھا۔اور اب موجودہ شمارے میں اس پر تنقیدی جائزہ بنام مفتی

    ابو لبابہ شائع کیا ھے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  7. ‏مئی 26، 2013 #7
    محمد عثمان

    محمد عثمان رکن
    جگہ:
    اسلام آباد
    شمولیت:
    ‏فروری 29، 2012
    پیغامات:
    231
    موصول شکریہ جات:
    594
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    عمار خان ناصر صاحب نے اس تنقیدی مضمون کے جواب میں ایک مضمون تحریر کیا ھے، جس میں بھت سی حقیقتوں سے آنکھیں پھیر کر، اس مضمون کے چند پھلوں پر تنقید کی اور دبے الفاظ میں جھاد کے اسلامی تصور پر بھی تنقید کی ھے۔ اگر مکی پاکستانی بھائی اس مضمون کو بھی اٹیچ کر دیں تاکہ تبصرہ یہیں ھو جائے۔ جزاک اللہ۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  8. ‏جون 19، 2013 #8
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    [​IMG][/IMG]
     

    منسلک کردہ فائلیں:

    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  9. ‏جون 19، 2013 #9
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    ہم آخر ایسی ہی کتابوں، مقالوں، یاتحریروں کو ہی اہمیت کیوں دیتے ہیں۔۔۔
    جس میں جہاد کو فساد اور مجاہد کو ایجنٹ ثابت کرنے کی پوری کوشش کی جاتی ہے۔۔۔
    کچھ دن پہلے فیصل رضا عابدی کی باتیں سُن کر بڑی حیرت ہوئی کے شام میں مدفن۔۔۔
    ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کو چاک کیا اور ان کے جسد خاکی کو۔۔۔
    باہر نکال کر اس کی بےحرمتی کی گئی۔۔۔
    لیکن سوال یہ ہے کہ اللہ کے دین کی خاطر جان دینے والا یہ عمل انجام دے سکتا ہے؟؟؟۔۔۔
    انہوں نے نصیریوں کے عقائد کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا۔۔۔
    اگر وہ اُن کے عقائد کو سامنے رکھتے تو شاید یہ بات سمجھنے میں آسانی ہوتی۔۔۔
    کہ یہ حرکت شام کی حکومت نے کی ہے۔۔۔
    کیونکہ نصیریوں کا عقیدہ ہے کہ وہ علی رضی اللہ عنہ کو رب مانتے ہیں۔۔۔
    اور حسن نصر اللہ جو بشار الاسد کا زبردست حامی ہے اور حزب اللہ کا روح رواں۔۔۔
    تو ان لوگوں کو اگر شیطان کی فوج کا خطاب دیا جائے تو کیا غلط ہوگا؟؟؟۔۔۔
    بہت آسانی سے سمجھنے والی بات ہے۔۔۔
    اب مسلمانوں کی جنگ یہودیوں یا عیسائیوں سے نہیں ہے۔۔۔
    روس کی تباہی کے بعد اور امریکہ کا افغانستان میں بارہ سال ذلت اٹھانے بعد۔۔۔
    یہودی اور عیسائی سمجھ گئے تھے کہ ہم ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔۔۔
    اس ہی لئے عرب کے نقشے کو تبدیل کر ایک بیلٹ کو دو میں منقسم کریدیا گیا۔۔۔
    اہلسنت والجماعت اور دوسرے رافضی شیعہ۔۔۔
    کل دوحۃ میں طالبان نے دفتر کھول لیا۔۔۔ مذاکراب شروع۔۔۔
    دوسرے ایران کے انتخابات میں۔۔۔
    اعتدال پسند گروپ کیسے جیتا؟؟؟۔۔۔
    امریکہ کا پہلا بیان شاید نظروں سے گذرا ہو۔۔۔
    اب وہ ایران سے ایٹمی ٹیکنالوجی کے بارے میں بات چیت پر آمادہ ہوگیا ہے۔۔۔ کیوں؟؟؟۔۔۔
    یہ تاثر کیوں دیا جارہا ہے کہ ایران آہستہ آہستہ تبدیلی کیطرف بڑھ رہا ہے جو مغرب سے مشابہت رکھتی ہے؟؟؟۔۔۔
    یعنی امریکہ ایران کو ایٹمی طاقت بنا کر پورے عرب اور ایشیائی خطوں پر مسلط کردے گا۔۔۔
    اور نوازشریف کی حکومت جس تیزی سے حالات خراب کروائے جارہے ہیں۔۔۔
    کوئی بعید نہیں کے پاکستان کا ایٹمی پروگرام فریز کردیا جائے۔۔۔
    تاکہ سعودی عرب کے خلاف اگر ایران جارحیت کرے تو مذاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔۔۔
    لیکن صحیح صورتحال سامنے اس وقت آئے گی جب امریکہ افغانستان سے نکل جائے گا۔۔۔
    ساتھ میں یہ گمان بھی ہے کہ امریکہ طالبان کو ایسے جعلی دستاویزات پیش نہ کردے جس میں یہ شواہد موجود ہوں کے امریکہ کے افغانستان پر حملے کے براہ راست اسلامی ریاست ملوث ہو۔۔۔

    اللہ تعالٰی سے دعا ہے وہ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔۔۔
    کیونکہ یہ آگ اگر بھڑک گئی تو پورے خطے کو لپیٹ میں لے گی۔۔۔
    اور حدیث بھی موجود ہے۔۔۔
    دوسری قومیں مسلمانوں پر اس طرح لپکیں گی جیسے بھوکے دسترخوان پر۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں