1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جہلاء کی طرف سے گالم گلوچ اور برا بھلا کہنے پر ہمارا رویہ؟؟؟

'تمدن' میں موضوعات آغاز کردہ از انس, ‏مارچ 10، 2011۔

  1. ‏مارچ 10، 2011 #1
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,175
    موصول شکریہ جات:
    15,220
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    بسم الله الرحمٰن الرحيم ​
    اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفرقان کے آخری رکوع میں نیک لوگوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:
    ﴿ وَعِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا ...
    سورة الفرقان: 63 کہ ’’عباد الرحمٰن تو وہ ہیں جو اس زمین پر نرمی سے چلتے ہیں اور جب انہیں جاہل لوگ مخاطب ہوتے ہیں تو وہ سلام کہہ (کر گزر جاتے) ہیں۔‘‘
    امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ ایک بہت بڑے امام ہونے کے ساتھ ساتھ بہت بڑے شاعر بھی تھے، انہوں نے جو علم وحکمت کے موتی شریعت سے سمجھے، انہیں اپنے شعروں میں نہایت خوبصورت انداز میں بیان کیا، فرماتے ہیں:
    يخاطبنـي السفيـه بكـل قـبـح : فأكـره أكــون لــه مجيـبـا
    يزيـد سفاهـة فـأزيـد حلـمـا : كعـود زاده الإحـراق طيـبـا​
    کہ ’’جاہل اور بے وقوف شخص مجھے ہر برے انداز سے پکارتا ہے، لیکن میں اس کے باوجود اسے (برا) جواب دینا ناپسند کرتا ہوں۔ پھر وہ اپنی جہالت (گالم گلوچ) میں جتنا بڑھتا رہتا ہے، میرے حلم میں اتنا ہی اضافہ ہوتا رہتا ہے، جیسے کہ عود (خوشبو دار لکڑی) جتنا جلتی ہے زیادہ خوشبو بکھیرتی جاتی ہے۔‘‘
     
    • شکریہ شکریہ x 19
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 11، 2011 #2
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    جزاک اللہ خیرا فی الدارین۔
     
  3. ‏مارچ 11، 2011 #3
    باذوق

    باذوق رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏فروری 16، 2011
    پیغامات:
    888
    موصول شکریہ جات:
    3,984
    تمغے کے پوائنٹ:
    289

    بےشک ، بری بات یا برے الفاظ کا ترکی بہ ترکی جواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف بھی ہے۔
    فرمان نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) ہے :
    لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ ، وَلَا اللَّعَّانِ ، وَلَا الْفَاحِشِ ، وَلَا الْبَذِيءِ
    مومن بہت طعنے دینے والا ، بہت لعنت کرنے والا ، فحش گوئی کرنے والا ، بےہودہ بکنے والا نہیں ہوتا
     
  4. ‏مارچ 11، 2011 #4
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا انس بھائی اور باذوق بھائی
     
  5. ‏مارچ 11، 2011 #5
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,175
    موصول شکریہ جات:
    15,220
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    جزاکم اللہ خیرا باذوق بھائی! ماشاء اللہ! بہت خوبصورت اضافہ کیا آپ نے، اللہ آپ کو خوش رکھیں اور ہمارے علم میں اضافہ فرمائیں! باذوق بھائی! ہم نے کوشش کرنی ہے کہ اس فورم میں کوئی بات بغیر ریفرنس کے، خاص طور پر کوئی نص تو کبھی بھی بغیر ریفرنس کے پیش نہ کیا جائے۔ امام شافعی کا یہ شعر جو میں نے ذکر کیا تھا، ان کے دیوان میں موجود ہے۔
    جبکہ جو خوبصورت حدیث مبارکہ آپ نے بیان کی ہے، اس کا حوالہ یہ ہے: (صحيح جامع الترمذي: 1977، قال العلامة الألباني رحمه الله: صحيح) دیکھئے: الدرر السنية - الموسوعة الحديثية
     
  6. ‏مارچ 11، 2011 #6
    باذوق

    باذوق رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏فروری 16، 2011
    پیغامات:
    888
    موصول شکریہ جات:
    3,984
    تمغے کے پوائنٹ:
    289

  7. ‏مئی 10، 2011 #7
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,175
    موصول شکریہ جات:
    15,220
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    جزاكم الله باذوق بھائی! یہ تو بہت ہی عظیم الشان اور بڑی ویب سائٹ ہے، لیکن!!
    کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ
    یہ ویب سائٹ کن لوگوں کی ہے؟ میرا مطلب ہے کہ علمی نگران وغیرہ کون ہیں؟
    علاوہ ازیں ہر حدیث پر جو ابتدائی حکم لگایا گیا ہے، تو یہ حکم لگانے والا کون ہے؟ یا کن محدثین کا حکم لیا گیا ہے؟؟
    اگر اس ویب سائٹ اور اس میں موجود احادیث پر حکم کے متعلّق اطمینان ہو سکے تو یہ ویب سائٹ بہت ہی مفید ہوگی۔

    کیا آپ کو کسی ایسی ویب سائٹ کا علم ہے کہ جس میں احادیث مبارکہ کم از کم صحاح ستہ کے اُردو تراجم موجود ہوں؟؟
     
  8. ‏مئی 10، 2011 #8
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,927
    موصول شکریہ جات:
    6,200
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    مومن سے ان صفات کی نفی کی گئی ہے فحش گوئی، فضول گوئی، بہت طعنے دینا اور بہت لعنت کرنا۔

    مومن بہت طعنہ دینے والا اور بہت لعنت کرنے والا نہیں ہوتا کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ مومن کم طعنہ دینے والا اور کم لعنت کرنے والا ہوسکتا ہے۔ یعنی مومن میں طعنہ اور لعنت دینے والی صفات کم مقدار میں پائی جاسکتی ہیں۔
     
  9. ‏مئی 10، 2011 #9
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,175
    موصول شکریہ جات:
    15,220
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    جی بھائی! یہ معنی بھی ہو سکتا ہے، جیسا کہ جامع ترمذی کی اسی روایت کی شرح میں امام عبد الرحمٰن مباکپوری﷫ نے تحفۃ الاحوذی میں لکھا ہے۔
    اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہاں صیغِ مبالغہ سے مراد مؤمن سے ان صفات کی شدّت سے نفی ہو کہ مؤمن بالکل بھی لعن طعن کرنے والا نہیں ہوتا، جیسا کہ فرمان باری ہے: ﴿ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ﴾ اس کا معنیٰ یہ ہرگز نہیں کہ آپ کا اپنے بندوں پر بہت ظلم کرنے والا نہیں (البتہ کم کر سکتا ہے) ، بلکہ اس صحیح کا مفہوم یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بالکل بھی ظلم نہیں کرتے۔
    واللہ تعالیٰ اعلم!
     
  10. ‏مئی 10، 2011 #10
    shahzad

    shahzad رکن
    جگہ:
    kotli loharan west,sialkot
    شمولیت:
    ‏مارچ 17، 2011
    پیغامات:
    34
    موصول شکریہ جات:
    144
    تمغے کے پوائنٹ:
    42

    السلام علیکم انس بھائی: میرے خیال میں آپ کی نظر سے آسان قرآن و حدیث والا دھاگہ نہیں گزرا جس میں میں نے ایک ایسے سوفٹ وئیر کا بتایا ہوا ہے کہ اس میں قران پاک اور کتب الستہ اور چند دوسری احادیث کی کتب کےمختلف مکتبہ فکرکے تراجم و تفاسیر انگلش اور اردو دونوں زبانوں میں موجود ہیں۔ اور اس کی سب سے زبردست با ت یہ ہے کہ آپ اس میں دیے گئے تراجم میں سے search بھی کر سکتے ہیں۔اور اس سے آپ کو انٹرنیٹ پر کسی سائٹ پہ جانے کی بھی ضرورت نہیں۔ مزید معلومات اور ڈاؤن لوڈنگ کے لیے آسان قرآن و حدیث والے دھاگے پر visit کریں۔ مجھے امید ہے آپ کو اس سے انشاء اللہ استفادہ حاصل ہو گا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں