1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جہیز کا خاتمہ اب نہیں تو کب کریں گے ؟؟؟

'اصلاح معاشرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از afrozgulri, ‏جون 23، 2019۔

  1. ‏جون 23، 2019 #1
    afrozgulri

    afrozgulri مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 23، 2019
    پیغامات:
    13
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    9

    از قلم : افروز عالم ذکراللہ سلفی،گلری،ممبئی

    سابقہ دنوں میں کچھ اس طرح جہیز کے حادثات و واقعات کو سن کر رونگٹے کھڑے ہوئے اور رہی سہی کسر بعض ساتھیوں کے جہیز مخالف پوسٹ دیکھ کر ہم نے اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ کو اپنی تحریر میں جگہ دی ہے ۔
    موجودہ وقت ہمارے لیے سب سے بڑا چیلنج بنا ہوا ہےاور بنتا جا رہا ہے ایک طرف قوم مسلم غیر سے پریشان کم تو وہیں اپنے لوگوں سے زیادہ پریشان ہے ۔

    آج عوام تو عوام علماء اور ناقدین جہیز بھی اپنی اور اپنے لڑکوں کی شادی میں جہیز لیتے نظر آتے ہیں اس لیے پہل کون کرے ؟؟؟
    مکمل خاتمہ کون کرے ؟

    ہم نے اکثر چھوٹے بڑے سب کو دیکھا الا ماشاء اللہ من رحم ربی ۔
    جہیز کو مکمل بائیکاٹ اب کرنے کی جلد کوئی صورت بنائی جائے ،صرف تقریر یا تحریر سے اس وبا کو نھیں روکا جاسکتا ہے مناسب اقدامات کی ضرورت ہے وہ یہ کہ ہم اپنے اپنے حلقوں سے اسے ختم کریں ۔اور اس کے خاتمے کے لیے پر عزم ہوں ۔
    ہماری پہل کسی کی سانس کے بقا کا ذریعہ و سبب بھی بن سکتی ہے۔

    یہ کوئی گورمنٹ کا قانون نہیں جس کے بدلنے پر کوئی جرمانہ یا سزا ہو اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتاری ہوئی کو پیشکش ہدیہ وتحفہ ہے کہ ہم اسے قبول کرلیں اور ایسا بھی نہیں کہ ہم اگر لیں گے تو ثواب اور نھیں لئے تو عذاب ملے گا ۔

    لھذا جو لیے ہوئے تھے کبھی تو اب کبھی نہ لیں اللہ تعالیٰ کے اسے حوالے کردیں آئندہ اس حرمت کی چادر کو نہ پھاڑیں۔نھیں تو قوم مسلم تباہ و برباد ہو جائے گی ،فحش کے دروازے کھلیں گے ،عصمتیں پامال وتار تار ہوں گی ،حیا کا جنازہ اٹھ جائے گا۔ برائیاں عام ہوتی نظر آرہی ہیں اور آئندہ بھی آئیں گی اور ان میں مسلم بہنیں بھی ملوث نظر آتی رہیں گی ۔

    کیا ہمارے پاس ہے کوئی ایسا پلیٹ فارم جس سے اس وبا کو روکا جائے ؟
    کیا ایسا مضبوط ومناسب اقدامات کرسکتے ہیں جس سے غیر شادی شدہ مردوں و خواتین کی شادی کراسکیں ؟
    کیا ایسی کوئی صورت بنائی جاسکتی ہے جس کے ذریعے علاقائی و ضلعی،صوبائی و مرکزی سطح پر ہم اسے روک کر ایثار و ہمدردی اور اخوت و محبت کو فروغ دے کر باطل و حرام سے بچ سکیں ؟
    کیا ایسی کوئی این جی او ،تنظیم ،سنستھا ہے جو ایسے بے راہ روی کے شکار لوگوں کو اپنی پکڑ میں رکھ کر روک سکے ۔
    کیا مال کی پوجا کرنے والے ،روپئے پیسے کی عبادت کرنے والے اپنی ان حرکتوں سے تائب ہوں گے ؟

    کیا ہم اب ہوش کے ناخن لیں گے ؟

    کیا ہم سسکتی انسانیت کو اس ظلم سے بچا سکیں گے؟
    کیا ہم غریب و محتاج والدین کا سہارا بنیں گے ؟
    کیا ہم اپنے مال کو ایسے لٹیروں کو دیتے رہیں گے؟

    کیا ہم ہاتھ پر ہاتھ پسارے دیوث بنے بیٹھے رہیں گے کہ اپنے ہی گھر میں برائی دیکھیں اور روک نہ سکیں ،اپنے ہی گھر میں بےحیائی دیکھیں اور کچھ نہ کرسکیں ؟؟

    کیا ہم فضول خرچیوں کرتے ہوئے ان بے سہارا لڑکوں ولڑکیوں پر نظر نہ رکھیں گے ؟

    کیا ہم وراثت سے اپنی ہی لڑکیوں کو محروم کرکے قبر میں آرام سے سو جائیں گے ؟
    یاد رکھیں دنیا میں سوکر اٹھ سکتے ہیں اور حیلے بنا سکتے مگر مرنے کے بعد یہ سب کچھ کام نہ آئے گا ۔

    اگر ہم بیوہ ومطلقہ عورتوں سے شادی نہیں کرتے تو کیا ہم ان کی شادیاں نہیں کراسکتے ؟؟

    کیا جہیز لینے دینے کی وجہ سےغریب لڑکیوں کے ماں باپ پر بوجھ نہیں بنتا جا رہا ہے ؟؟؟

    کہاں ہیں خدمت خلق کی بات کرنے والے ؟؟
    کہاں چلے گئے جہیز کے روکنے والے ؟؟؟
    یہ کہیں نہیں گئے ہیں بلکہ ہر ہر گھر ،سماج ومعاشرے وقرابت داری میں آپ کو مل جائیں گے ۔
    ایسے ایسے لوگ ملیں گی کہ ان سے مل کرآپ کبھی اندازہ نہ لگا پاؤ گے کہ انھوں نے بھی کبھی کسی کی پیسے سے بھری اٹیچی گم کی ہے یا انھوں نے بھی کبھی کسی کی الماری و پاکٹ پر ہا تھ ڈالا ہے یا انھوں نے کسی کی خریدی واشنگ مشین یا فریج کو استعمال کیا ہے ۔

    اور تو اور ایسی بیڈ اور کرسیاں آپ کو ملیں گی جن پر ان کے باپ دادا بھی نہیں سوئے مانگنے کو تیار ہوجاتے ہیں ۔
    ایسی گاڑیاں ملیں گی جن پر نہ تو وہ سوار ہوئے تھے اس سے پہلے اور ایسی بھی گاڑیاں ملیں گی جن کو وہ کبھی پٹرول ڈلا کر چلانا تو دور سیکھا بھی نہیں تھا اس کے ڈرائیور نے
    ایسی بھی گاڑیاں ملیں گی جن کے لینے والے کے پاس پٹرول تک کا بھی انتظام نہیں مگر پوچھو تو سماج اور معاشرہ کا بہانہ بنا کر نکل جانے کی کوشش کرتے ہیں ۔

    آپ کا اسلام غریب گھروں کو خوش کرنے کے لئے ہے ان کو لوٹنے کے لیے نہیں
    آپ کا اسلام امیروں کے ساتھ غریبوں کو بھی زندگی جینے کا سبق دیتا ہے جیو اور جینے دو۔

    آپ کا اسلام عورتوں پر ظلم سے روک کر انصاف کا حکم دیتا ہے ۔
    آپ کا اسلام زنا اور فحاشی کے اڈوں پر جانے سے روک کر عفت و پاکیزگی کی زندگی گزارنے والے راستے پر لے جاتا ہے۔

    آپ کا اسلام نوجوان لڑکیوں اور ان کے ماں باپ پر ظلم وبربریت سے روکتا ہے۔
    آپ کا اسلام جیسا عظیم دین مال کو باطل طریقے سے کھانے سے منع کرتا ہے ۔

    تعلیم و تربیت پر زور دیں بچوں وبچیوں کو دینی و عصری تقاضوں کے مطابق تعلیم کے ہر میدان میں ثابت قدم رکھیں ان کی ہمت وحوصلہ افزائی بھی کرتے رہیں۔
    سماج میں سب ملکر رہیں ،معاشرے میں توازن برقرار رہے اسلام ہم سے یہی چاہتا ہے کہ غریب کے ساتھ امیر بھی خوش رہے ،غریب کی غریبی دور ہو مال چند لوگوں میں نہ رہے اہل مال اپنے مال کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں اور اللہ کے بندوں پر اقرباء رشتےداروں پر بھی خرچ کریں بخیلی سے بچیں ۔

    آئیے ہم سب مل کر اس وبا کو جڑ سے اکھاڑنے کی مہم چلائیں
    اس کو روکنے کی گھر گھر کوشش کریں
    نوجوان لڑکوں کی سادگی سے مساجد میں نکاح کرادیں اور چند جوڑے میں لڑکی کو سسرال میں رخصت کرکے اس کے سسرال والوں کے حوالہ کردیں

    یقین مانیں اگر چند لوگوں نے دھیرے دھیرے آگے آنا شروع کردیا تو قوم مسلم اسراف سے بھی بچے کی ،بے حیائیوں سے بھی بچے کی اور رشتوں کی بھی قدر ہوگی ،حرمات کی پامالی نہ ہوگی ،اور شادی کے بچے پیسے سے کاروبار بھی کرنے کا موقع ہاتھ آئے گا ورنہ وہ بھی جہیز کی آگ میں جل کر خاکستر ہو جائے گا۔

    اس کی پہل ہم اپنی ذات ،اپنے رشتے داروں و اپنے علاقوں سے کریں
    ہم خود اس کی کوشش میں ہیں کہ اس پر لگام کس دیا جائے اس میں آپ کا سپورٹ آپ کی تائید کی بھی ضرورت ہے۔
    کیا ہماری غیرت اس وقت بھی نہیں جاگتی جب ہم ایک غریب جوان غیر شادی شدہ لڑکی کو سبزی یا چھوٹے موٹے دوکان وآفس پر کام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں ؟؟
    کیا ہم اس وقت بھی بیدار نہیں ہوتے اس کی مجبوری صرف جہیز اکھٹا کرنے ہوتی ہے کہ اس کی شادی کا انتظام ہو وہ کروڑ پتی بننے کا خواب نہیں دیکھتی ۔

    کیا ہماری غیرت مر جاتی ہے جب ایک مجبور بوڑھی ماں اپنی بیٹی کی شادی کے لیے در در بھٹکتی ہے ؟؟

    جب ہماری غیرت کا جنازہ نکل جاتا ہے یا محلے میں جب خودکشی ہو جاتی ہے یا کوئی دوشیزہ جلا دی جاتی ہے یا مار دی جاتی ہے تب صنف نازک کو بچانے اور اس کی تحفظ کی بات کرتے نظر آتے ہیں ۔؟؟؟

    اللہ تعالیٰ ہمیں بصیرت اور سمجھ دے اور اس وبا کو ختم کرنے کے لئے ہمیں مناسب وٹھوس اقدام کرنے کی توفیق دے اور ہم سے صحیح اور درست کام لے جس سے تو راضی و خوش ہو ۔

    وفقنا اللہ ایانا وایاکم لما یحب ویرضی'آمین

    آپ کا بھائی : افروز عالم ذکراللہ سلفی،گلری،ممبئی
    مدیر: ذکری' ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی afrozgulri@gmail.com


    Sent from my TA-1053 using Tapatalk
    [​IMG][​IMG][​IMG]
     
    Last edited: ‏جون 23، 2019
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں