1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حدیث زمین کی کنجیاں پر قادیانی شبہات کا ازالہ

'قادیانیت' میں موضوعات آغاز کردہ از مبشر شاہ, ‏جون 13، 2014۔

  1. ‏جون 13، 2014 #1
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن
    شمولیت:
    ‏جون 28، 2013
    پیغامات:
    173
    موصول شکریہ جات:
    67
    تمغے کے پوائنٹ:
    70

    حدیث زمین کی کنجیاں پر قادیانی شبہات کا ازالہ
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : أُعْطِيْتُ مَفَاتِيْحَ الْکَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَبَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ الْبَارِحَةَ إِذْ أُتِيْتُ بِمَفَاتِيْحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ حَتَّی وُضِعَتْ فِي يَدِي قَالَ أَبُوْ هُرَيْرَةَ رضی الله عنه : فَذَهَبَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم وَأَنْتُمْ تَنْتَقِلُوْنَهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
    59 : أخرجه البخاری في الصحيح، کتاب : التعبير، باب : رؤيا الليل، 6 / 2568، الرقم : 6597، والعسقلاني في فتح الباري، 12 / 391، والعيني في عمدة القاري، 24 / 142.
    ’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے (مختصر اور واضح) کلام کی کنجیاں عطا کی گئیں اور رعب و دبدبہ کے ساتھ میری مدد کی گئی اور میں رات کے وقت سویا ہوا تھا جبکہ میرے پاس روئے زمین کے خزانوں کی کنجیاں لا کر میرے ہاتھ پر رکھ دی گئیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو تشریف لے گئے اور آپ لوگ (ابھی تک اُن عطا کردہ) خزانوں کو منتقل (یعنی ان سے نفع حاصل) کر رہے ہیں۔‘‘
    حدیث مذکور سے درج ذیل مسائل استنباط ہوتے ہیں :
    اعتراض:جب آپ ﷺ کو تمام زمین کی چابیاں دے دی گئیں تو پھر قیصر وکسریٰ کے خزانے آپ ﷺ کی زندگی مبارک میں آپ ﷺ کو کیوں نہیں ملے ؟
    [​IMG]
    جواب:ان تمام جوابات کو ہم اپنی سابقہ بحث میں واضح کر آئے ہیں اول تو یہ کہ حدیث پاک کے معنیٰ حقیقی بھی ہو سکتے ہیں اور معنیٰ مجازی بھی حقیقت پر محمول کریں تو مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ کو تمام زمین کے مال ومتاع کا تصرف دے دیا گیا اور اگر معنیٰ مجازی پر محمول کریں تو زمین کے مال و متاع کے حقائق سے آگاہ کر دیا گیا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏فروری 27، 2018 #2
    Hina Rafique

    Hina Rafique رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 21، 2017
    پیغامات:
    282
    موصول شکریہ جات:
    18
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

    . عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : أُعْطِيْتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي وَلَا أَقُوْلُهُنَّ فَخْرًا : بُعِثْتُ إِلَی النَّاسِ کَافَّةً الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيْرَةَ شَهْرٍ وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُوْرًا وَأُعْطِيْتُ الشَّفَاعَةَ فَأَخَّرْتُهَا لِأُمَّتِي فَهِيَ لِمَنْ لَا يُشْرِکُ بِاﷲِ شَيْئًا.

    رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

    وَقَالَ ابْنُ کَثِيْرٍ : رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

    وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ : رِجَالُ أَحْمَدُ رِجَالُ الصَّحِيْحِ.

    66 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 1 / 250، 301، الرقم : 2256، 2742، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 303، الرقم : 31643، و عبد بن حميد فی المسند، 1 / 215، الرقم : 643، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8 / 258، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 2 / 256.

    ’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے پانچ ایسی چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں عطا کی گئیں اور ایسا میں بطور فخر نہیں کہہ رہا، مجھے تمام سرخ و سیاہ لوگوں کی طرف (نبی بنا کر) بھیجا گیا، ایک ماہ کی مسافت سے ہی طاری ہونے والے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے، اور میرے لئے اموالِ غنیمت کو حلال کیا گیا جبکہ مجھ سے پہلے کسی نبی کے لئے یہ حلال نہیں تھے، اور تمام زمین میرے لئے پاک اور سجدہ گاہ بنا دی گئی، اور مجھے شفاعت عطا کی گئی جسے میں نے اپنی امت کے لئے (روز قیامت تک) موخر کر دیا، اور یہ شفاعت اس کے لئے ہو گی جو کسی چیز کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں ٹھہرائے گا۔‘‘

    اس حدیث کو امام احمد اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔ اور علامہ ابن کثیر نے کہا کہ اسے امام احمد نے روایت کیا اور اس کی سند عمدہ ہے، اور امام ہیثمی نے کہا کہ امام احمد کی روایت کے رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں