1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حدیث نبوی عہد رسالت میں

'علوم حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از اسلام ڈیفینڈر, ‏مئی 07، 2013۔

  1. ‏مئی 07، 2013 #1
    اسلام ڈیفینڈر

    اسلام ڈیفینڈر رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    368
    موصول شکریہ جات:
    1,003
    تمغے کے پوائنٹ:
    97

    بعثت محمدی سے قبل عربوں پر جہالت کی تاریکی چھائی ہوئی تھی ۔ جہالت کی حد یہ تھی کہ جو بت انہوں نے اپنے ہاتھوں کے ساتھ پتھروں سے تراشے تھے ان کو معبود بنا رکھا تھا ان کی سنگدلی کا یہ عالم تھا کہ عاریاتنگ دستی کی بنا پر اپنی اولاد کو قتل کرڈالتے تھے ۔جنگجو اور خونخوار اس قسم کے تھے کہ معمولی معمولی باتوں پر دشمن لو لوٹ لیتے اوراس پر دھاوا بول دیتے تھے۔جاہلی حمیت وغیرت اور قبائلی تعصب ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔شراب اور جوا ا ن کی گھٹی میں پڑا تھا۔

    لڑائیوں کا سلسلہ جب ایک مرتبہ شروع ہو جا تا تو پھر سالہا سال تک رکنے میں نہ آتا ۔ نہ کوئی حاکم تھا جوان کو منکرات سے روکتا،اور نہ وہ کسی مذہب کے پیرو تھے ۔جو ان کی برائیوں سے باز رکھتا۔بہر کیف دور جاہلیت پر دور تاریکی کے سائے دراز تھے۔اور ضلالت وجہالت نے ان کو چاروں طرف سے کھیر رکھا تھا جس کے نتیجہ میں جزیرہ نمائے عرب حرب وپیکار کی جگہ بن چکا تھا۔خدا کی زمین اس خونریزی سے تنگ آچکی تھی اور اس پر بسنے والے انسان ایسے شخص کی تلاش میں تھے جو ان کو اس تیر و تار اور وحشت وجہالت سے نجات دلا سکے ،مگر اس میں کامیابی کی راہ دکھائی نہیں دیتی تھی۔ان کی جہالت بعینہ اس شخص جیسی تھی جو پیاس کی شدت میں مبتلاء ہوکر پانی کے لئے ہاتھ مار رہا ہو مگر پانی ہاتھ نہ آئے۔

    خداوند کریم کو عربوں کی اس حالت زار بلکہ پوری انسانیت پر ترس آیا اور اس نے عربوں ہی میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا،یہ رسول ان کو آیات خداوندی پرھ کر سناتا،ان کا تزکیہ کرتا اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا۔اس رسول کا اسم گرامی محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم حسب ونسب کے اعتبار سے سب سے اعلی اور قریش کے بزرگ ترین قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔

    سرور کائنات نے اسلامی دعوت وارشاد کا کام رازدارانہ طور پر رفتہ رفتہ شروع کیا تاکہ یہ جہالت زدہ قوم بدک نہ جائےاس دعوت کے نتیجہ میں چند افراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے جن کی تعداد ہاتھوں کی انگلیوں سے زیادہ نہ تھی۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلانیہ دعوت کا آغاز کیا اور بڑے بڑے لوگ مشرف بااسلام ہوئے ۔ان لوگوں نے اعلی وجہ البصیرت(بلا جبر واکراہ )اسلام قبو ل کیا ۔کتاب اللہ اور سنت رسول میں بیان کردہ احکام سنے ۔اسلام کو سوچ سمجھ کر قبول کرنے کا فائدہ یہ ہوا کہ اسلام ان کےر گ وپے میں سما گیا۔

    س کی بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ پہلے ہی شرک کی تاریکیوں سے نکلنے کے خواہاں تھے،چنانچہ اسلام نے رشدو ہدایت کے پیاسے دلوں کو پایا اور ان میں داخل ہوگیا۔ان کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا پتہ چل گیا تھا کہ دین ہی ان کی سعادت کا منبع اوراسی کے ساتھ ان کا عزو شرف وابستہ ہے۔اس لئے وہ دین کی پیروی کے لئے کمر بستہ ہوگئے۔

    صحابہ رضی اللہ عنہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل وجان سے شیدا تھے اور آپ کو اپنے والدین اور اپنے بال بچوں سے زیادہ چاہتے تھے۔ قرآن ان کا اوڑہنا بچھونا تھا وہ اس کو نوک زبان یاد کرتے اور اس کی شرح تفسیر معلوم کرنے میں لگے رہتے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی جو تفسیر بیان کرتے یا اسلامی احکام پر جو روشنی ڈالتے صحابہ رضی اللہ عنہم اس کو اپنے سینوں میں محفوظ کر لیتے ۔پھر ہجرت مدینہ کا واقعہ پیش آیا اور سماع قرآن اور حضور کی علمی مجلس سے استفادہ کا دائرہ وسیع تر ہو گیا۔
     
  2. ‏مئی 07، 2013 #2
    اسلام ڈیفینڈر

    اسلام ڈیفینڈر رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    368
    موصول شکریہ جات:
    1,003
    تمغے کے پوائنٹ:
    97

    حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم حدیث نبوی کی اہمیت سے واقف تھے اور جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے حدیث کی پیروی کا حکم دیا ہے اور اس کی خلاف ورزی سے بار رکھا ہے وہ اس حقیقت سے بھی باخبر تھے کہ حدیث کے معاملہ میں افراط وتفریط سے کام لینے والا بدبخت انسان ہے اور جو شخص حدیث کو یاد کرتا ہو اور اس پر عمل کرتا ہو وہ خوش نصیب آدمی ہے ۔

    صحابہ رضی اللہ عنہم کی نگاہ سے یہ حقیقت پوشیدہ نہ تھی کہ قرآن عزیز نے علم اور علماء کا مرتبہ بلند کیا ہے اور جہالت وجہلاء کو نفرت وحقارت کی نگاہ سے دیکھا ہے ۔چنانچہ ارشاد فرمایا:

    (قل ھل یستوی الذین یعلمون والذین لا یعلمون)''الزمر :۹''

    ''کہہ دیجئے کہ کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہیں ''۔

    (یرفع اللہ الذین امنو منکم والذین اوتوالعلم درجت)''المجادلہ:۱۱''

    ''اللہ تعالیٰ تم میں سے اصحاب علم وایمان کے درجات بلند کرتا ہے''۔

    علم دین اورا س کی تبلیغ کی فضیلت ان الفاظ میں واضح فرمائی :


    ''وما کان المؤمنون لینفرو کافۃ فلو لا نفر من کل فرقۃ منھم طائفۃ لیتفقھو فی الدین ولینذرو قومھم اذا رجعو الیھم لعلھم یحذرون''(التوبہ:۱۲۲)

    ''سب مومنوں کو (طلب علم کے لئے )گھر سے نہیں نکل جانا چاہیے ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ایک جماعت میں سے کچھ لوگ دین کا علم حاصل کرنے کے لئے چلے جائیں اور جب واپس آئیں تو اپنی قوم کو ڈرائیں تاکہ وہ پرہیز کریں''۔

    علم کو چھپانے اور اس کا اظہار نہ کرنے کے سلسلہ میں جو وعیدِ شدید وارد ہوئی ہے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم اس سے بھی آگاہ تھے قرآن عزیز میں فرمایا:


    ''ان الذین یکتمون ما انزلنا من البینات والھدی من بعد ما بیناہ للناس فی الکتب اولئک یلعنھم اللہ ویلعنھم اللعنون''(البقرۃ:۱۵۹)

    ''بےشک وہ لوگ جو ان دلائل اور ہدایت کو چھپاتے ہیں جس کو ہم نے اتارا ہے اس کے بعد کہ ہم نے اس کو لوگوں کے لئے کتاب میں واضح کردیا ہے ان پر اللہ بھی لعنت بھیجتا ہےاور لعنت بھیجنے والے ''۔

    جس طرح قرآنی نصوص میں دینی علم حاصل کرنے اوراس کی نشرواشاعت کی فضیلت بیان کی گئی ہے اسی طرح بکثرت احادیث نبویہ علوم دینیہ کی تحصیل وتبلیغ اور کتمان علم کی مذمت میں وارد ہوئی ہیں۔

    چند احادیث ملاحظہ ہوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    ۱۔ اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اس کو دین کی سمجھ عطا کرتا ہے۔(صحیح بخاری ومسلم)

    ۲۔ دنیا ومافیہا ملعون ہے سوائے ذکر الہی اور عالم ومتعلم کے ۔(ترمذی)

    ۳۔اللہ رتعالیٰ اس شخص کو خوش وخرم رکھے جس نے ہم سے کوئی بات سنی اور بلاکم وکاست آگے پہنچادیا۔اس لئے کہ جن کو بات پہنچائی جاتی ہے ان میں سے بعض سننے والے سے بھی زیادہ یاد رکھتے ہیں۔(ترمذی)

    ۴۔ جو شخص کسی راہ پر اس لئے چلا کہ علم حاصل کرے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کے راستہ کو آسان کردیتا ہے۔(صحیح مسلم)

    ۵۔جس شخص سے کوئی علمی مسئلہ دریافت کیا جائے اور وہ اسے چھپائے تو قیامت کے روز اس کو آگ کی لگام پہنائی جائے گی۔(ابو یعلی)

    مذکورہ بالاآیات واحادیث حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے رگ وپے میں سما گئیں اور ان کے قلب اذہان پر چھا گئی تھیں ۔ان کے دل اللہ اور اس کے رسول کی محبت سے بھر پور ومعمور تھے ان کے نفوس میں علم وعمل کی شمع فروزاں تھی چنانچہ انہوں نے اپنی احکام وسنن کے تحفظ ونگہداشت میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی اس کی خاطر انہوں نے اپنے مال وجان کو قربان کرنے سے بھی دریغ نہ کیا ،مزیر برآں دینی حمیت وغیرت کے پہلو بہ پہلو صحابہ رضی اللہ عنہم حد درجہ کی فطری استعداد سے بھی بہرہ ور تھے ان کی قوت حافظہ اور ذہانت وفطانت ضرب المثل کی حد تک مشہور تھی اور اس ضمن میں وہ یگانہ روز گار تھے۔
     
  3. ‏مئی 07، 2013 #3
    اسلام ڈیفینڈر

    اسلام ڈیفینڈر رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    368
    موصول شکریہ جات:
    1,003
    تمغے کے پوائنٹ:
    97

    اس کی وجہ یہ تھی کہ خالص عرب تھے اور لکھنے پڑہنے سے آشنا نہ تھے اکثرو بیشتر وہ اپنے حافظہ پر اعتماد کرنے کی عادی تھے ۔دور جاہلیت میں ان کی حالت یہ تھی کہ اشعار خطبات اور انساب ومناقب ان کو زبانی یاد ہوا کرتے تھے اکثر ایسا ہوتا کہ حسب ونسب میں ایک دوسرے پر فخر کا اظہار کرتے اس سلسلہ میں اپنے اور دشمن کے جو اخبار واقعات ان کو یاد ہوا کرتے تھے بیان کرتے اور اس طرح مخالفین پر اپنی عظمت کا سکہ بٹھاتے ۔ہر شخص اپنی عقل اور قوت حافظہ کی حد تک اپنے قبیلہ کا تر جمان ہوا کرتا تھا۔ وہ اپنے قبیلہ کے اوصاف ومحاسن بیان کرتا اور قبیلہ اس کو خراج تحسین پیش کرتا تھا گویا قبیلہ کوئی تاریخ کتاب ہے جو اخبار وحوادث سے بھرپور ہے۔عربوں کے اندر حسب ونسب پر فخر کرنے اور دوسروں کے عیوب ونقائص گنوانے کا جو ملکہ راسخ ہوچکا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ جو قبائلی تعصب ان میں پایا جاتا تھا وہ ان کی قوت حفظ ضبط کے لئے مزید معاون ثابت ہوتا تھا یہی وجہ ہے کہ قوت حافظہ میں دنیا کی کوئی قوم عربوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی۔

    گویا خداوند کریم نے اس امت عربیہ کو یہ حیر ت ناک استعداد دے کر اسی لئے خلق فرمایا تھا کہ رسالت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اساس وبنیاد کا کام دے سکے چنانچہ اس امت کے سینے آیات قراانی کے سفینے قرار پائے اور ان کے قوت حفظ وضبط سے بھر پور دل حدیث نبوی کے ملجا ومامن ٹھہرے یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ حضور کے صحابہ رضی اللہ عنہم والہانہ ذوق شوق کے ساتھ حدیث کے اخذ وتحمل میں لگ گئے اور ان کی برکت سے خداوند کریم نےاس دین کو جملہ مذاہب عالم پر برتری عطا فرمائی۔

    خلاصہ یہ کہ امت عربیہ میں روحانی وفطری دو قسم کے عوامل جمع ہوگئے تھے ۔جن کی بدولت وہ امت ایسے کارنامے انجام دے سکی جو کسی قوم نے آغاز آفرینش سے انجام نہیں دئے تھے۔انہوں نے کتاب سنت کی حفاظت وصیانت کا فریضہ بطریق احسن ادا کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کو دینی ودنیوی جملہ امور میں مشعل راہ بنایا اور جوں کی توں اسے دوسرے لوگوں تک پہنچایا۔

    ۲۔سرور کائنات کی علمی مجالس:


    سرورکائنات جس طرح قرآن عزیز کے احکام پر روشنی ڈالتے اور دعوت وارشاد کے فریضہ کی ادائیگی فرماتے تھے اس کی ایک جھلک آپ دیکھ چکے ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی اسکول یا کالج تعمیر کررکھا تھا اور حسب قاعدہ اس میں بیٹھ کر صحابہ رضی اللہ عنہم کو پڑھایا کرتے تھے بخلاف ازیں ہوتا یوں ں تھا کہ جہاں بھی موقع ملتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم علمی مجالس جمالیتے میدان جہاد میں جرأت وجلادت کی تلقین کر کے دلوں کو گرماتے سفر میں ہوتے تو لوگوں کو رشدو ہدایت کی راہ دکھاتے گھر میں مقیم ہوتے تو اہل خانہ کو تعلیم دیتے مسجد میں ایک مدرس ،خطیب ،قاضی اور مفتی کا پارٹ ادا کرتے۔

    تعلیم وتدریس کی حدیہ ہے کہ راہ چلتے لوگوں کو کھڑا کر کے دینی مسائل سمجھاتے گویا یوں کہئے کہ حالت کوئی اور کیسی بھی ہو آپ ایک مرشد ،ناصح اور معلم کا فریضہ ادا کرنے میں کبھی بھی سہل انگاری سے کام نہ لیتے جب لوگ نماز ادا کرنےکے لئے مسجد میں حاضر ہوتے تو بسااوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم علمی مجالس منعقد کر کےان کو وعظ وتذکیر فرمایا کرتے تھے مگر لوگوں کی نفسیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے آپ ہمیشہ ایسا نہیں کرتے تھے ۔مبادا اکتاہٹ وبیزاری کے آثار پیدا ہوجائیں ۔حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیزاری کے ڈر سے ہمیں کبھی کھبی وعظ فرمایا کرتے تھے ۔(صحیح بخاری)

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی علمی مجالس میں ایسی پاکیزہ اور مفید باتیں ارشاد فرماتے جن سے صحابہ رضی اللہ عنہم کو شرح صدر عطا ہوتا اور ان کےدل ایمان سے جگمگا اٹھتے صحابہ رضی اللہ عنہم ان علمی مجالس میں اپنے بچوں کو بھی ہمراہ لاتے تھے تاکہ وہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادت گرامی سے مستفید ہوسکیں اور مجلس نبوی کےآداب سیکھیں،بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سےکوئی مسئلہ دریافت کیا جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا جواب ارشاد فرماتے ۔گاہے کوئی حادثہ رونما ہوتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں حکم خداوندی سے آگاہ فرماتے ۔یا کوئی قرآنی آیت نازل ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تفسیر کرتے بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کوئی کام کیا جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہتے یہ اس جانب اشارہ تھا کہ یہ کام شرعا جائز ہے اور ممنوع نہیں ۔

    حضور کی نسبت یہ گمان درست نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بادشاہوں کی طرح لوگوں سے الگ تھلگ رہا کرتے تھے اور افراد امت کے ساتھ گھل مل کر رہنے کو ناپسند کرتے تھے بخلاف ازیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ میل جول کو پسند فرماتے تھے لوگوں کو وعظ فرماتےتھے بیماروں کی عیادت کرتے تھے جنازہ میں شرکت کرتے لوگوں کے جھگڑے چکاتے اور ان کے متنازعہ امور میں فیصلے کرتے صحابہ رضی اللہ عنہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ان سب معاملات کو بچشم خود دیکھتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کود ل کے کانوں سے سنتے ۔

    مگر یہ امر پیش نظر رہے کہ سب صحابہ رضی اللہ عنہم آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی علمی مجالس سے اخذ واستفادہ میں مساوی نہ تھے ۔کچھ خوش نصیب ایسے بھی تھے جو ہر جگہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وابستہ دامن رہتے اورسفر ہو یاحضر کسی حالت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے الگ نہیں ہوتے تھے ۔ مثلا ًحضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ وحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ۔بعض ایسے بھی تھے جو زراعت وتجارت میں مشغول ہونے کی وجہ سے ہر وقت حاضری سے معذور تے ۔مگر بایں ہمہ حدیث نبوی کے ساتھ ان کی شیفتگی ودل بستگی کا یہ عالم تھا کہ جب واپس آتے تو دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھ کر وہ احادیث یاد کرلیتے جو ان کی عدم حاضری میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی تھیں ۔بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے یہ طریقہ اختیار کر رلکھاتھا کہ ایک روز خود اور ایک روز ان کا پروسی باری باری خدمت اقدس میں حاضر ہوتے اور جو کچھ سنتے ایک دوسرے کو بتا دیتے جیسا کہ جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اور ان کےایک انصاری پڑوسی کے بارے میں منقول ہے کہ دونوں باری باری آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوتے اور جو کچھ دیکھتے یا سنتے ایک دوسرے کو بتا دیتے ۔(صحیح بخاری)

    مدینہ منورہ سے دور رہنے والے صحابہ رضی اللہ عنہم کی حالت یہ تھی کہ جب کسی نئے مسئلے سے دوچار ہوتے اور اسے حل نہ کر پاتے تو اونٹوں پر سوار دور دراز کا سفر طے کرتے اور مدینہ پہنچ کر یہ مسئلہ دریافت کرتے ۔بعض اوقات کئی کئی دن اور راتیں سفر میں لگ جاتیں ،چنانچہ حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نے انہیں بتایا کہ ''میں نے تم اور تمہاری بیوی دونوں کو دودھ پلایا ہے ''۔ یہ سن کر وہ مکہ سے روازنہ ہوئے اور مدینہ پہنچ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم دونوں نے ایک عورت کا دودھ پیا ہے تو تمہاری بیوی تمہارے نکاح میں کیسے رہ سکتی ہے ؟چنانچہ حضرت عقبہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔(صحیح بخاری)

    سالا رسل صلی اللہ علیہ وسلم اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دعوت وارشاد کا کام صحابہ رضی اللہ عنہم کے کندھون پر آپڑے گا اس لئے آپ اپنے تعلیمی اسباق میں اس بات کا خاص خیال رکھتے تھے کہ اس کام کے لئے صحابہ رضی اللہ عنہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خصوصی تربیت کا ذکر کریں گے جو صحابہ رضی اللہ عنہم کےلئے مشعل راہ ثابت ہوئی۔اور صحابہ رضی اللہ عنہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس کی روشنی میں دعوت وارشاد کا فریضہ بجالا تے رہے۔
     
  4. ‏مئی 07، 2013 #4
    اسلام ڈیفینڈر

    اسلام ڈیفینڈر رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    368
    موصول شکریہ جات:
    1,003
    تمغے کے پوائنٹ:
    97

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کو تربیت دیتے تھے اس کے خصوصی پہلو حسب ذیل تھے۔

    ۱۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ایسی بات دریافت کی جاتی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم نہ ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سکوت فرماتے اور وحی کا انتظٓار کرتے۔

    ۲۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت مبارکہ تھی کہ جو بات کرتے اسے تین مرتبہ دہراتے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات اچھی طرح سمجھی جائے۔

    ۳۔ بعض اوقات صحابہ رضی اللہ عنہم کی ذہانت وفطانت معلوم کرنے کے لئے ان سے بعض مسائل دریافت فرمایا کرتے تھے۔

    ۴۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی سوال کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب دیتے اور حاضرین کے فائدہ کے لئے جواب سے ملتے جلتے مسائل بھی بیان کردیتے ۔

    ۵۔آپ وعظ ناغہ کے ساتھ فرمایا کرتے تھے تاکہ سامعین اکتا نہ جائیں ۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے تلامذہ نے ان سے عرض کی کہ آپ ہر روز ہمیں حدیثیں سنایا کریں تو انہوں نے تسلیم نہ کیا اور کہا میں ناغہ سے تمہیں حدیثیں سنایا کروں گا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی ناغہ کے ساتھ وعظ فرمایا کرتے تھے تاکہ لوگ اکتا نہ جائیں

    ۶۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کو خصوصی مسائل سے آگاہ کرتے تھے ،جب کہ دوسروں کو یہ علمی باتیں نہ جاتیں مباداکہ وہ فتنہ میں مبتلا ہوجائیں اور دیگر امثلہ جن سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح صحابہ رضی اللہ عنہم کی علمی تربیت فرماتے تھے ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم وتربیت ہی کا خوشگوار ثمرہ تھا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو جلیل القدر اساتذہ کی حیثیت حاصل ہوئی اور وہ دینی احکا م ومسائل کے امین قرار پائے۔

    ۳۔اخذ حدیث کے سلسلہ میں صحابہ رضی اللہ عنہم کا طرز وانداز:


    اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے جو لوگ پڑھنا جانتے تھے وہ انگلیوں پر گنے جا سکتے تھے اکثر وبیشتر ان میں ناخواندہ تھے یہی وجہ ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث سیکھتے و قت وہ زیادہ تر اپنے حافظہ پر اعتماد کیا کرتے تھے حفظ پر بھروسہ کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ آغاز اسلام میں ان کو کتابت حدیث سے منع کر دیا گیا تھا مبادا وہ قرآن عزیز کےساتھ مل جائے اور دونوں میں امتیاز مشکل ہو ۔صحابہ رضی اللہ عنہم یا تو آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہ ہو کر بالمشافہ احادیث اخذ کرتے یا آپ کے افعال وتقریرات کو بچشم خود دیکھ کر دوسروں تک پہنچاتے یا دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم سے احادیث سنتے جنہوں نے بذات خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر وہ احادیث سنی تھیں اس کی وجہ یہ تھی کہ سب صحابہ رضی اللہ عنہم آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی علمی مجلس میں حاضر ہو کر استفادہ کرنے سے قاصر تھے وہ اپنے کام کاج کے سلسلہ میں لگے رہتے تھے۔

    چونکہ سب صحابہ رضی اللہ عنہم آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے استفادہ کرنے میں یکساںنہ تھے اسی لئے ان کی مرویات میں بھی فرق مراتب پایا جاتا ہے چنانچہ بعض احادیث تواتر کے درجہ پر فائز ہیں جب کہ بعض ایسی نہیں متواتر اس حدیث کو کہتے ہیں جس کی روایت کرنے والے اشخاص اس قدر زیادہ ہوں کہ عقل انسانی ان کے کذب پر متفق ہونے کو محال سمجھتی ہو ۔متواتر کی دو قسمیں ہیں ۔

    ۱۔ متواتر لفظی :
    ایسی احادیث بہت کم ہیں مثلاً''من کذب علی متعمدا فلیتبوءمقعدہ من النار''۔

    ۲۔ متواتر معنوی:
    ایسی احادیث کی تعداد بہت زیادہ ہے مثلاً طہارت ،نماز،روزہ، اور حج وزکوۃ کے احکام سے متعلق احادیث جن میں بیع کے اقسام نکاح اور غزوات کا ذکر کیا گیا ہے اور جن کے بارے میں سب فرقہ ہائے اسلام متفق الخیال ہیں ۔

    بعض احادیث وہ ہیں جو تواتر کے درجہ تک نہیں پہینچ سکیں ان کو ''اخبار آحاد ''کہتے ہیں۔

    صحابہ رضی اللہ عنہم احادیث نبویہ کو زبانی یاد کرتے اور لو گوں کو مل کر پہنچا دیا کرتے تھے البتہ صحابہ رضی اللہ عنہم میں چند ایسے بھی تھے جو حدیثیں لکھ لیا کرتے تھے۔ مثلاً حضرت عبداللہ بن عمر وبن العاص رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیثین لکھنے کی اجازت دے رکھی تھی ۔ چنانچہ حضرت عبداللہ کا بیان ہے کہ میں جو چیز بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتا اس کو حفظ کرنے کے ارادہ سے لکھ لیا کرتا تھا قریش نے مجھے اس سے منع کیا اور کہا کہ ''تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو چیز بھی سنتے ہو اس کو لکھ لیتے ہو حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک انسان ہیں کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ میں ہوتے ہیں اور کبھی حالت رضا میں اس لئے ہر چیز کا لکھ لینا موزوں نہیں ''۔چنانچہ میں نے لکھنا بند کردیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں ماجرا بیان کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا ''لکھتے رہو مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میری زبان سے جوبات بھی نکلتی ہے حق ہوتی ہے۔(مسند احمد)

    جس طرح سب صحابہ رضی اللہ عنہم لکھنے پڑہنے سے آشنا ہونے اور نہ ہونے نیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی علمی مجالس میں حاضری دینےکے اعتبار سے مساوی الدرجہ نہ تھے اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایات کے اخذ وتحمل اور اس کو لوگوں تک پہنچانے کےسلسلے میں بھی یکساں نہ تھے چنانچہ ان میں قلیل الروایت اور کثیر الروایت دونوں قسم کے صحابہ رضی اللہ عنہم پائے جاتے تھے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

    اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں کوئی صحابی مجھ سے کثیر الروایت نہ تھا بجز عبداللہ بن عمر وبن العاص کے اور ا س کی وجہ یہ تھی کہ عبداللہ حدیثیں لکھ لیا کرتا تھے جبکہ میں لکھا نہیں کرتا تھا ۔(بخاری کتاب العلم)

    جس طرح صحابہ رضی اللہ عنہم رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایات اخذ کرنے میں متفاوت الدرجہ تھے اسی طرح حدیث نبوی کے فہم وادراک میں بھی سب کی حالت یکساں نہ تھی اور اس کی وجہ فطری استعداد کا فرق وتفاوت ہے یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ناسخ ومنسوخ عام وخاص مطلق ومفید اور مجمل ومفسر احادیث کے جاننے پہچاننے میں بھی سب صحابہ رضی اللہ عنہم مساوی الدرجہ نہ تھے تاہم جب ان کے یہاں کسی مسئلہ میں اختلاف رونما ہوتا تو وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب رجوع کیا کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں منصفانہ فیصلہ صادر فرمایا کرتے تھے۔
     
  5. ‏مئی 07، 2013 #5
    اسلام ڈیفینڈر

    اسلام ڈیفینڈر رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    368
    موصول شکریہ جات:
    1,003
    تمغے کے پوائنٹ:
    97

    اشاعت حدیث میں خواتین کا حصہ :


    سالار رسل صلی اللہ علیہ وسلم کی علمی مجالس کا سلسلہ مردوں تک ہی محدود نہ تھا بلکہ بکثرت خواتین مسجد نبوی میں حاضر ہوکر حدیث نبوی سنا کر تی تھیں علاوہ ازیں حضور کی عام مجالس مثلاً عید کے اجتماع میں شرکت کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مواعظ حسنہ سے مستفید ہوتیں حضور اکر م صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ مردود کی اگلی صفوں میں خطبہ دے کر عورتوں کی صفوں کی طرف تشریف لے جاتے اور ان کو دینی احکام سے آگاہ فرماتے ۔مگر اکثر حضور کی علمی مجالس میں مرد ہی ہوا کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ ایک مرتبہ خواتین کے وفد نے آنحضور کی خدمت میں حاضر ہوکر درخواست کی کہ ہمارے لئے ایک دن مقرر کر کے اس میں ہمیں دینی مسائل سے آگاہ فرمائیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس درخواست کو شرف قبولیت بخشا۔

    تاہم اس کے یہ معنی نہیں کہ ان عمومی یا خصوصی مجالس سے خواتین کی دینی ضروریات پوری ہوگئی تھیں بخلاف ازیں ان کو نئے مسائل سے سابقہ پڑتا رہتا تھا اس کی بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ ان کو اسلام کو قبول کئے ہوئے زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا ۔ جب کسی خاتو ن کو کوئی نیا مسئلہ پیش آتا تو وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حل دریافت کرتی۔ ایسا کرتے ہوئے حیا کا جذبہ ان کی راہ میں اس لئے حائل نہیں ہوا کرتا تھا کہ دینی مسائل سیکھنے میں حیاء کو مانع نہیں ہونا چاہیے۔ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا کہ کوئی شرمیلی خاتون دینی مسئلہ دریافت کرنے سلے پہلے یہ جملہ دہراتی ''یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ شرم کی بناء پر حق مسئلہ دریافت کرنے سے نہیں روکتا ''پھر بارگاہ نبوی میں عرض پرداز ہوتیں کہ''جب عورت کو احتلام ہوجائے تو اس پر غسل واجب ہے؟انصاری خواتین اس ضمن میں زیادہ بے باک واقع ہوئی تھیں ۔ حتی کہ حضرت عائشہ کو ان کی شان میں یہ فقرہ کہنا پڑا کہ''انصاری خواتین کیا خوب ہیں حیا ان کو دینی مسائل سیکھنے سے نہ روک سکی۔(صحیح بخاری)

    اگر کوئی شرمیلی خاتون براہ راست حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت نہ کر سکتی تو امہات المؤمنین رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ کر اس کو مسئلہ سے آگاہ کرتیں۔

    امہات المؤمنین مبلغ احادیث کی حیثیت سے:


    مسلم خواتین میں امہات المؤمنین نے حدیث نبوہ کی نشرواشاعت میں جو پارٹ ادا کیا تھا اسے فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ خصوصا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمات جلیلہ اس ضمن میں قابل ذکر ہیں ۔ آپ حد درجہ ذہن وفطین تھیں ۔آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دینی مسائل دریافت کرتیں اور اکثر قرآن واحادیث کی شرح وتفسیر کے بارے میں سوال کیا کرتی تھیں۔

    ابن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ کو جو مسئلہ معلوم نہ ہوتا اور وہ کسی سے سنتیں تو اس کے بارے میں بحث تمحیص اور نقد جرح کرتیں حتیٰ کہ اس مسئلے سے آگاہ ہو جاتیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ''جس شخص سے حساب لیا جائے گا اسے عذاب ہوگا '' حضرت عائشہ نے یہ سن کر سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے(فسوف یحاسب حسابا یسیرا)'' اس سے آسان حساب لیا جائے گا''۔

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ''یہ تو اعمال کے پیش کرنے کے وقت ہوگا البتہ جس پر محاسبہ اعمال کے وقت جرح وقدح کی جائے گی اسے سخت عذاب دیا جائے گا''۔ (صحیح البخاری)

    جن حکم مصالح کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو چار سے زیادہ ازواج دی تھیں ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ ازواج مطہرات فریضہ دعوت ارشاد بجا لائیں ۔خصوصا ایسے مسائل جو آپ صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے انجام نہیں دے سکتے تھے ،اور ازواج مطہرات کے سوا کوئی ان سے آگاہ نہیں ہوسکتا تھا اسی لئے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم آپ کے بعد کسی مسئلہ میں مختلف الرائے ہوتے مثلاً،غسل ،حیض،اور جماع کی قسم کے مسائل تو امہات المؤمنین کی جانب رجوع کرتے اور ان کے فیصلہ کو تسلیم کرتے اسی طرح ان کا باہمی نزاع اور جدال ختم ہوتا۔

    ۴۔ حدیث کی نشر واشاعت میں قبائلی وفود کا کردار:


    دعوت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کا آغاز پوشیدہ طور پر ہوااور تین سال تک یونہی رہا جب کچھ لوگ مشرف باسلام ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اعلانیہ دعوت کا حکم ملا ۔قریش نے آپ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا کچھ عرصہ تک یہی کیفیت رہی ،حتیٰ کہ اکثر اہل مدینہ حلقہ بگوش اسلام ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت مدینہ کا حکم ملا چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ عازم مدینہ ہوگئے مدینہ اس وقت سے مہبط وحی اور مرکز اسلام ٹھرا ۔مدینہ میں مقیم رہ کر آپ نے اعدائے دین کے خلاف علم جہاد بلند کیا اور وہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احا یث کی نشرو اشاعت کا فریضہ انجام دیا ۔ مگر قتال وجہاد کا سلسلہ جس طرح بہت سے قبائل کے حلقہ بگوش اسلام ہونے میں سد راہ تھا ۔اسی طرح بیرون عرب دعوت اسلامی کے پھیلنے میں بھی رکاوٹ بنا ہوا تھا ،جونہی نبی اکر م صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل مکہ کے درمیان صلح حدیبیہ کا معاہدہ ہوا اور فریقین کو ملنے جلنے اور اس نئے دین کے بارے میں غور وخوض کرنے کے مواقع میسر آئے تو اسلام کو بیش از بیش پھیلنے کا موقع ملا چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع کو غنیمت جانا اور اطراف واکناف کے سلاطین کو دعوت اسلام پر مشتمل خطوط ارسال فرمائے ،جو قبیلے مشرف باسلام ہوچکے تھے ان کو دینی احکام سکھلانے کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اطراف ملک میں وفود بھیجنے کا آغاز کیا ۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن ،بحرین ، یمامہ ،حضرموت،عمان،اور دیگر بلاد میں مسلمانوں کے وفد بھیج کر ان کو اسلامی احکام سے آگاہ کیا ۔

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے یہ وفود لوگوں کے لئے ہدایت ورحمت کے پیامبر ثابت ہوئے اس لئے کہ یہ لوگوں تک قرآ ن و سنت کی وہ غذا پہنچاتے تھے جس پر روحانی زندگی کا مدار وانحصار ہے۔ اس کے دوش بدوش یہ وفود اطراف عرب میں حدیث نبوی کی نشرو اشاعت کا زبردست ذریعہ تھے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس مقصد کے لئے صحابہ رضی اللہ عنہم کو منتخب فرمایا کرتے تھے جو کتاب وسنت میں ماہرانہ بصیرت رکھتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو کتاب وسنت کی تعلیم دیتے اور دعوت وارشاد کے مناسب طریقوں سے آگاہ فرماتے چناچہ سرورکائنات نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو جب یمن بھیجا تو ارشاد فرمایا:

    ''آپ کی ملاقات اہل کتاب کی ایک قوم سے ہوگی جب آپ ان سے ملیں تو کہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر شب وروز پانچ نمازیں فرض کی ہیں اگر وہ آپ کی اطاعت کرنے پر رضامند ہوں تو ان سے کہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سال بھر میں تم پر ماہ رمضان کے روزے فرض کئے ہیں اگر وہ اس کو بھی تسلیم کر لیں تو ان سے کہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کیا ہے جو اس کی استطاعت سے بہرہ ور ہو اگر وہ اس کی بھی اطاعت کریں تو کہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے مالوں میں زکوۃ فرض کی ہے جو دولتمند سے لے کر تنگدستوں میں بانٹی جاتی ہے۔''

    غرض یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلمکا فر ستادہ شخص حسب موقع ومقام دینی احکام ومسائل جو اسے معلوم ہوتے بیان کیا کرتا تھا یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی رہنمائی کا نتیجہ تھا کہ یہ وفود حدیث نبوی کی نشرواشاعت کے سلسلہ میں بڑے مفید ثابت ہوئے۔

    مدینہ پہنچنے والے قبائلی وفود:


    جب عہد رسالت میں اسلامی فتوحات کا دائرہ پھیلا اورغزوہ تبوک سے فارغ ہوئے تو عربی قبائل کے وفد اپنے اونٹوں کو ہانکتے اور سفر کی وسعتوں کو سمیٹتے ہوئے نبی امین صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کا شوق لے کر مدینہ حاضر ہوئے تاکہ دین کے اولین سرچشمہ سے اپنی علمی پیاس بجھائیں ،وہ قبائل اس حقیقت سے بخوبی آشنا ہو چکے تھے کہ جب قریش نے اسلام کے جھنڈے تلے اپنا سر جھکا دیا ہے تو بھلا وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کیسے نبرد آزما ہو سکیں گے حلقہ بگوش اسلام ہوئے اور انفرادی یا اجتماعی طور پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں بایاب ہوئے قرآن اسی ضمن میں فرماتا ہے:

    ''اذا جا ء نصر اللہ والفتح ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا''

    جب اللہ کی مدد اور فتح آگئی اور تونے دیکھ لیا کہ لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں۔(النصر)

    یہ وفود یکے بعد دیگر سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اسی طرح بیرونی سلاطین کے خطوط اور قاصد یہ پیغام لے کر حاضر ہوئے کہ ہم نے اسلام قبول کر لیا اور شرک کو ترک کردیا ہے جو وفد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا اکرام واحترام بجالاتے ان کی رہنمائی کرتے ان کو دینی احکام ومسائل سے آگاہ فرماتے اطاعت کی صورت میں بشارت سناتے اور ان کے حقوق فرائض اور واجبات سے مطلع فرماتے تھے ۔ یہ بیرونی وفد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ۹ ہجری میں حاضر ہوئے ۔اسی لئے اس کو عام الوفود (وفدوں کا سال ) کہتے ہیں ۔یہ وفود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عطیات لینے نہیں آتے تھے یہ دوسری بات ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کا اکرام فرماتے اور خدا کے عطا کردہ مال سے ان کو نوازتے ۔ان کا مقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں حاضر ہوکر اسلام کے اصول وفروع معلوم کرنا ہوتا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان سے بات چیت کرتے ان کے سوالات کا جواب دیتے ان کو وعظ سناتے دینی احکام بیان کرتے اور خدا سے ڈرتے رہنے کی تلقین کرتے تھے۔

    کتب سیرت کا قاری اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ سر ور کائنات کی خدمت میں بہت سے وفود حاضر ہوئے حتیٰ کہ عربی قبائل میں سے کوئی قبیلہ ایسا نہ تھا جس میں کوئی وفد بارگاہ نبوت میں شرف باریابی حاصل نہ کر چکا ہو ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ان میں کے ایک ایک وفد سے آگاہ وآشنا تھے اور بخوبی جانتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کون کون سی احادیث سنائیں یا کون سا خطبہ دیا ۔وہ پوری طرح با خبر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کن مواعظ ونصائح اور احکام وسنن سے مستفید فرمایا ۔ حدیث نبوی اور سیر ومغازی پر مشتمل کتب ان وفود کے ذکر سے مملو ہیں ۔ ان کے مطالعہ سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ حدیث رسول کی نشرواشاعت میں ان وفود نے کیا پارٹ ادا کیا خواہ یہ وفود ۹ ہجری میں حاضر بارگاہ ہوئے ہوں یا اس سے پہلے ذیل میں چند وفود کا ذکر کیا جاتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات سے مشرف ہوئے۔

    وفد بنی سعد بن بکر:


    اس قبیلہ کا سردار ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ ۹ ہجری میں آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوا جب مدینہ پہنچا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے درمیان تشریف فرما پایا۔ کہنے لگا ''تم میں ابن عبدالمطلب کون ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب اشارہ کیا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آکر کہنے لگا ''میں آپ سے چند باتیں پوچھوں گا اور سوال میں سختی سے کام لوں گا''فرمایا ''جوجی میں آئے پوچھو ''کہنے لگا''اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آ پ کا فرستادہ ہمارے یہاں آیا اور کہنے لگا کہ آپ کا یہ دعویٰ ہے کہ آپ کو خدانے بھیجا ہے ''آپ نے فرمایا ''یہ درست ہے''ضمام نے کہا''میں آ پ کو آپ سے پہلے اور پچھلوں کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ آیا یہ درست ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ''ہاں یہ ٹھیک ہے''ضمام نے کہا''میں آپ کو خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا خدا نے آپ کو پانچ نمازوں کا حکم دیا ہے ؟ ''فرمایا ''جی ہاں '' اس نے پھر کہا '' میں آپ کو خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ دولتمند کے مال کا کچھ حصہ ان سے لے کر فقرا کو دیں ؟ ''فرمایا''بخدا بالکل درست'' ضمام نے کہا'' میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا اللہ نے آپ کو رمضان کے روزے رکھنے کا حکم دیا ہے ؟'' فرمایا''جی ہاں'' ضمام نے پھر کہا'' کیا اللہ نے آپ کو اس بات کا حکم دیا ہے کہ جو شخص استطاعت رکھتا ہو وہ بیت اللہ کا حج کرے؟'' فرمایا'' ہاں یہ درست ہے'' ضمام کہنے لگا تو میں تصدیق کرتا ہوں اور ان پر ایمان لاتا ہوں ۔ میرا نام ضمام بن ثعلبہ ہے ۔ پھر ضمام اپنی قوم کی طرف لوٹ گیا اور وہ مشرف باسلام ہوگئے۔

    وفد عبدالقیس:


    عبدالقیس نامی قبیلہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض پرداز ہوا کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف محرم کے مہینے میں حاض ہوسکتے ہیں (جب کہ جنگ جدال بند ہوتا ہے) ہمارے اور آپ کے درمیان مضر (کا کافر قبیلہ) حائل رہتا ہے۔ لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کوئی فیصلہ کن بات بتائیں جو ہم اپنے پچھلوں کو بتلادیں اور اس پر عمل کر کے جنت کے مستحق ٹھریں ۔انہوں آپ سے پانی کے برتنوں کے بارے میں بھی سوال کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نےان کو چار باتوں کا حکم دیا اور چار سے منع فرمایا ۔آپ نے ان کو خدائے واحد پر ایمان لانے کا حکم دیا پھر فرمایا کیا آپ کو معلوم ہے کہ خدائے واحد پر ایمان کیسے لایا جاتا ہے ؟ وہ کہنے لگے ''اللہ اور اس کا رسول ہی خوب جانتے ہیں '' آپ نے فرمایا ایمان باللہ یہ ہے کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔

    جن چار باتوں کا حکم دیا وہ یہ ہیں۔

    ۱۔اقامت الصلوۃ


    ۲۔ادائیگی زکوۃ

    ۳۔ماہ رمضان کے روزے

    ۴۔ مال غنیمت میں سے خمس کی ادائیگی

    مندرجہ ذیل چار برتنوں کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ۔

    ۱۔جس برتن میں لاخ لا روغن لگا ہو۔

    ۲۔ کدو کے بنے ہوئے برتن

    ۳۔ لکڑی کھود کر جو برتن بنائے گئے ہوں

    ۴۔ جن برتنوں پر رال کا روغن کیا گیا ہو

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کو یاد رکھو اور پچھلے لوگوں کو اس کی اطلاع دے دو۔(بخاری کتاب الایمان)

    وفد تجیب:

    یہ وفد تیرہ افراد پر مشتمل تھا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو تے وقت یہ زکوۃ کے مویشی بھی ہمراہ لائے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور ان کی میزبانی کا حق ادا فرمایا۔ کہنے لگے ہمارے اموال پر خدا کا جو حق تھا ہم وہ بھی ساتھ لائے ہیں ۔ فرمایا ان مویشیوں کو واپس لے جائے اور آپ کے یہا ںجو تنگ دست ہوں ان میں تقسیم کردیجیے ۔ وہ کہنے لگے ہم فقراہ کو پہلے دے چکے ۔جو مال بچ گیا تھا وہ ہمراہ لائے ہیں جناب صدیق رضی اللہ عنہ فرمانے لگے حضور صلی اللہ علیہ وسلم :آج تک عرب بھر سے اس قسم کا وفد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں آیا فرمایا ہدایت خداوند کریم کے ہاتھ میں ہے۔ جس کے ساتھ وہ بھلائی کرنا چاہے اس کے سینہ کو ایمان کے لئے کھول دیتا ہے۔

    وفد تجیب نے حضور سے کتاب وسنت کے مسائل دریافت کئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے ساتھ رغبت میں مزید اضافہ ہوا جب انہوں نے واپسی کا اردہ کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپ کیا چاہتے ہیں ؟ عرض کرنے لگے ۔ہم واپس جا کر لوگوں کو بتائیں گے کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوئے اور آپ نے ہمیں فلاں فلاں دینی احکام سنائے پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اجازت چاہی جب رخصت ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال کو بھیج کر پھر انہیں بلایا اور عمدہ قسم کے تحائف دیے۔ جو اس سے پہلے آپ نے کسی وفد کو نہ دیئے تھے ۔آپ نے دریافت کیا تم سے کوئی شخص رہ تو نہیں گیا جس کو تحفہ نہ ملا ہو؟ انہوں نے کہا کہ ایک لڑکا باقی رہ گیا ہے جس کو ہم سامان کی حفاظت کے لئے پیچھے چھوڑ آئے ہیں فرمایا اس کو بھیج دو۔ جب وہ خدمت میں حاضر ہوا تو کہنے لگا ،حضور !میں اس قبیلہ سے تعلق رکھتا ہوں جو ابھی آپ کے یہاں آیا تھا آپ نے ان کی ضروریات پوری فرمادیں اب میری حاجت روائی فرمائے ۔فرمایا آپ کیا چاہتے ہیں ،عرض کی بارگاہ خداوندی میں دعا کیجئے کہ خدا مجھے بخشے اور مجھ پر رحم فرمائے اور میرے دل کو غنی کردے ۔حضور نے دعا فرمائی۔پھراس کو اسی قسم کا تحفہ دیا جیسا اس کے قبیلہ والوں کو دیاتھا۔

    کچھ عرصہ بعد اسی قبیلہ کے لوگ ایام حج میں منیٰ کے میدان میں حضور سے ملے مگر وہ لڑ کا موجود نہ تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے اس جیسا کوئی شخص نہیں دیکھا اور نہ ہی اس سے بڑھ کر کسی کو صابر پایا۔ اگر لوگوں کو ساری دنیا بھی مل جائے تووہ اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھے ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ''اللہ کا شکر ہے مجے امید ہے کہ وہ بڑے اطمینان سے جان دے گا۔ ایک شخص نے کہا کیا اور کوئی شخص اطمینان سے نہیں مرتا فرمایا لوگوں کے خیالات امنگیں دنیا کی وادیوں میں ہر جگہ بھٹکتی پھرتی ہیں اور اسی قسم کی کسی وادی میں انسان کی موت آجاتی ہے، ایسے میں خداکو بھی اس کی پروا نہیں ہوتی کہ اس کی موت کس وادی میں آئی۔

    مندرجہ صدر بیانات اس حقیقت کی آئینہ داری کرتے ہیں کہ بیرونی قبائل کے وفود علم دین کے سر چشمہ صافی سے اپنی علمی پیاس بجھانے اور دینی احکام ومسائل سے آگاہ ہونے کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتے تھے ۔پھر وطن واپس لوٹتے تھے اور اپنے متعلقین کو دینی مسائل سے آگاہ کرتے صحابہ رضی اللہ عنہم کے جو وفد حضور صلی اللہ علیہ وسلم مختلف قبائل کی جانب دعوت ارشاد کے سلسلہ میں بھیجا کرتے تھے وہ اس پر مزید ہیں خلاصہ یہ کہ ان دونوں قسم کے وفود نے حدیث نبوی کی نشرو اشاعت میں خصوصی پارٹ ادا کیا ۔ اور احادیث جزیرہ نمائے عرب کے کونے کونے تک پہنچ گئیں ۔

    اشاعت حدیث میں حجۃ الوداع کے اثرات:


    جب جزیرہ نمائے عر ب پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا تسلط حاصل ہوگیا تو آپ نے حج کا ارادہ فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل اسلام کو مخاطب کر کے ایک جامع خطبہ دیا جس میں اکثر احکام وسنن پر روشنی ڈالی اور جاہلی رسوم کو باطل قرار دیا لوگوں کے ہجوم کی وجہ سے ربیعہ بن امیہ بن خلف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز لوگوں تک پہنچا رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ کا آغاز الحمد للہ کے الفاظ سے فرمایا اور کہا:

    اے لوگو! میری بات سنو۔ شائد اس سال کے بعد میں آپ کو یہاں کھبی نہ ملوں ۔

    یہ طویل خطبہ ہے اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مناسک حج پر روشنی ڈالی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا احساس ہوگیا تھا کہ آپ کی وفات کا وقت قریب ہے اس لئے آپ نے ہر ضروری بات بیان فرمادی اس عظیم اجتماع میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جامع خطبہ حدیث نبوی کی نشرو اشاعت کے عوامل میں سے ایک عظیم عامل تھا گویا یہ دعوت اسلامی بالعموم اور حدیث نبوی بالخصوص کا آخری پروگرام تھا اس موقع پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی

    ''الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا''

    ''آج کے دن میں نے تمہارے دین کو کامل کردیا اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسند فرمایا''۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں