1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حرام کمائی والے شخص کی دعوت قبول کرنا،اس سے قرض لینا کیسا ہے؟ کیا کفار و مشرکین کی دعوت قبول کر سکتے

'معاشرت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد جاوید بودلہ, ‏جولائی 20، 2018۔

  1. ‏جولائی 20، 2018 #1
    محمد جاوید بودلہ

    محمد جاوید بودلہ مبتدی
    جگہ:
    پاکپتن
    شمولیت:
    ‏اپریل 22، 2018
    پیغامات:
    18
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،
    محترم و معزز شیوخ حضرات ، اللہ آپکو برکت دیں،
    پلیز میری رہنمائی فرمائیں، کیا یہ تحریر جو نیچے بھیجی درست ہے؟ یا غلط؟ غلطی کی نشاندھی فرما دیں،
    جزاکم اللہ خیرا کثیرا
    اور دوسری بات مجھے بتائیں کہ اگر ایسی کوئی تحریر کی تصحیح کروانی ہو تو کہاں پوسٹ کروں؟
    یہاں میری طرف جواب داخل کرنے کی اجازت نہیں شو ہو رہی،
    جزاکم اللہ خیرا،




    "سلسلہ سوال و جواب نمبر-62"
    سوال_ کسی کافر،مشرک سے تعلقات رکھنا، اسکی دعوت قبول کرنا ،اس سے لین دین کرنا یا قرض لینا کیسا ہے؟
    اور ایسا مسلمان جسکی آمدن حرام کی ہو جیسے سودی کاروبار وغیرہ ؟ کیا اسکا دیا ہوا تحفہ یا دعوت قبول کر سکتے ہیں؟

    Published Date: 19-7-2018

    جواب:
    الحمد للہ:

    *شدت پسند کافر و مشرک سے محبت رکھنا جائز نہیں*

    اس بارے میں اللہ تعالی کا فرمان ہے:

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُمْ مِنَ الْحَقّ
    ترجمہ: اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو! میرے اور (خود) اپنے دشمنوں کو اپنا دوست نہ بناؤ تم دوستی سے ان کی طرف پیغام بھیجتے ہو اور وہ اس حق کے ساتھ جو تمہارے پاس آچکا ہے کفر کرتے ہیں،
    ۔[سورہ الممتحنۃ:آئیت نمبر-1]
    یعنی بغض و عناد سے بھرے کافر سے مودّت و محبت رکھنا جائز نہیں ہے، انہیں دوست اور اپنا ساتھی بنانا بھی درست نہیں ہے،

    *لیکن جو کافر و مشرک مسلمانوں سے لڑتے نہیں ہیں، انکے دلوں میں نفرت نہیں،انکے ساتھ تعلقات رکھنا جائز ہے!*

    اللہ تعالی کا فرمان ہے:
    ( لا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ )
    ترجمہ: اللہ تعالی تمہیں ان لوگوں کیساتھ نیکی اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے دین کی وجہ سے تم سے لڑائی نہیں کی، اور تمہیں تمہارے گھروں سے بے دخل نہیں کیا، بیشک اللہ تعالی انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (الممتحنہ: 8)
    لہذا ایسے کافر و مشرک جو مسلمانوں سے لڑتے نہیں ،بغض نہیں رکھتے تو انکی دعوت احسان اور نیکی کی نیت سے قبول کر لینی چاہیے،
    تا کہ اسلام کی دعوت اچھے انداز سے انہیں دی جاسکے،یہ بات ان غیر مسلموں کےساتھ احسان اور انصاف کرنے کے ضمن میں آتی ہے،

    اسی آئیت کو دلیل بنا کر امام بخاری نے فتح الباری میں یہ بات ثابت کی ہے کہ مشرکین کو تحفہ دیا جا سکتا ہے،
    اور بخاری سے یہ حدیث بھی ذکر کرتے ہیں،
    کہ
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو جبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیا تھا وہ انہوں نے مکہ کے ایک مشرک عثمان بن حکیم کو تحفے میں دے دیا تھا،
    (صحیح بخاری،حدیث نمبر_2619)
    (فتح الباری،ج5/ص231-232)

    *نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مشرکین اور کفار کے تحفے،دعوت قبول کر لیا کرتے تھے*

    ایک یہودی عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زہر ملا ہوا بکری کا گوشت لائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ کھایا ( لیکن فوراً ہی فرمایا کہ اس میں زہر پڑا ہوا ہے ) پھر جب اسے لایا گیا ( اور اس نے زہر ڈالنے کا اقرار بھی کر لیا ) تو کہا گیا کہ کیوں نہ اسے قتل کر دیا جائے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔
    (صحیح بخاری،حدیث نمبر-2617)
    اس حدیث پر امام بخاری نے باب باندھا کہ
    *مشرکین کا ہدیہ قبول کرنے کا بیان*

    اسی باب میں ایک اور حدیث ہے کہ

    دومہ ( تبوک کے قریب ایک مقام ) کے اکیدر ( نصرانی ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ بھیجا تھا،
    (صحیح بخاری،حدیث نمبر-2616)

    مکہ سے مصر جاتے ہوئے سمندر کے کنارے ایک ایلہ نامی بندرگاہ تھی، وہاں کے عیسائی حاکم کا نام یوحنہ بن ادبہ تھا ،اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ایک سفید خچر اور ایک چادر تحفے میں بھیجی،
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لکھا کہ وہ اپنی قوم کے حاکم کی حیثیت سے باقی رہے کیونکہ اس نے جزیہ کی ادائیگی قبول کر لی تھی،
    (صحیح بخاری،حدیث نمبر-1481)

    انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ اكیدر دومہ نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے لئے ریشم كا ایك جبہ بھیجا، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اسے پہنا تو لوگوں كو اس بات سے تعجب ہوا۔ رسول اللہ نے فرمایا: كیا تم اس كی وجہ سے تعجب كر رہے ہو؟ اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے ! سعد بن معاذ كے رومال جنت میں اس سے بہتر ہیں، پھر وہ جبہ عمر‌رضی اللہ عنہ كو تحفے میں دے دیا۔ انہوں نے كہا: اے اللہ كے رسول! آپ اسے نا پسند كرتے ہیں، تو میں اسے كس طرح پہن لوں؟ آپ نے فرمایا: عمر ! میں نے یہ جبہ تمہاری طرف اس لئے بھیجا ہے تاكہ آپ اسے کسی کو بیچ کر اس كے ذریعے مال حاصل كریں۔
    یہ واقعہ ریشم سے منع سے پہلے كا ہے٬
    (سلسہ الصحیحہ،حدیث نمبر-3346)

    سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ (روم کے بادشاہ) اکیدر نے جمی ہوئی بوندی کا ایک گھڑا بھر کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لئے تحفہ بھیجا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہو ئے اور لوگوں کے پاس سے گزرے تو ہر ایک کو ایک ایک ٹکڑا دیتے گئے، ان میں سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کوبھی ایک ٹکڑا دیاتھا، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوبارہ لوٹے اور ان کو ایک اور ٹکڑا دیا تو انھوں نے کہا: آپ مجھے ایک دفعہ تو دے چکے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: یہ عبد اللہ کی بیٹیوں کے لیے ہے۔
    (مسند احمد،حدیث نمبر-12224)
    سند میں علی بن زید بن جدعان راوی ضعیف ہے،
    (علامہ الهيثمي/ مجمع الزوائد،ج5/ص47)میں
    اسکاضعف بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں فحديثه حسن،)

    ان تمام احادیث میں یہ بات ملی کسی مصلحت کے تحت مشرک،کافر کا تحفہ،کھانا قبول کیا جا سکتا ہے،

    *اب وہ احادیث ذکر کرتے ہیں جن میں مشرک و کافر سے تحفہ لینے میں کراہت کا ذکر ہے*

    عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں،
    انہوں نے ( اسلام لانے سے قبل ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک تحفہ دیا یا اونٹنی ہدیہ کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم اسلام لا چکے ہو؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”مجھے تو مشرکوں کے تحفہ سے منع کیا گیا ہے
    (سنن ترمذی،حدیث نمبر-1577)

    عامر بن مالک بن جعفر،
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس حال میں کہ وہ مشرک تھا، آپ نے اس پر اسلام پیش کیا، لیکن اس نے قبول کرنے سے انکار کر دیا، پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں مشرک کا تحفہ قبول نہیں کرتا۔“
    (سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1727)

    *وضاحت*
    *اوپر ذکر کردہ قرآنی آیات اور تمام احادیث سے یہ سمجھ آئی کہ عام روٹین میں شدت اور بغض رکھنے والے کافروں، مشرکوں ساتھ نا دوستی رکھی جائے نا انکے تحفے قبول کیے جائیں،نا انکو تحفے دیے جائیں*

    *لیکن جو کافر و مشرک مسلمانوں سے نفرت نہیں کرتے، لڑائی نہیں کرتے انکے ساتھ اچھا سلوک کرنا جائز ہے اور کسی خاص یا عام مصلحت کی خاطر انکے تحفے قبول کیے جا سکتے ہیں، اور انہیں تحفے دیے بھی جا سکتے ہیں،جیسا کہ اوپر حضرت عمر رض نے ایک مشرک کو تحفہ دیا*

    *چنانچہ بعض علماء نے قبول کرنے اور نہ کرنے کی حدیثوں کے مابین تطبیق کی یہ صورت نکالی ہے کہ جو لوگ دوستی اور موالاۃ کی خاطر ہدیہ دینا چاہتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ہدیہ کو قبول نہیں کیا اور جن کے دلوں میں اسلام اور اس کے ماننے والوں کے متعلق انسیت دیکھی گئی تو ان کے ہدایا قبول کیے گئے،تا کہ انکو اسلام کے قریب لایا جا سکے*

    *یہ بات جب ثابت ہو چکی ہے کہ کافر و مشرک سے تعلق رکھنا، احسان کرنا، انکو تحفے دینا ان سے تحفے ،دعوت قبول کرنا جائز ہے*

    *تو یقیناً ایسی صورت میں جو اوپر ذکر کی گئی کہ کوئی مسلمان حرام کاروبار میں ملوث ہو تو اسکے ساتھ تعلقات رکھنا،دعوت قبول کرنا، تحفہ دینا یا لینا درست ہے*
    *خاص کر اس صورت میں افضل ہو گا کہ آپکا مقصد اسکو دین کے قریب لانا ہو اور حرام سے منع کرنا ہو تو ایسی صوت میں کسی مسلمان سے تحفہ یا دعوت قبول کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں جسکی آمدن حرام یا سودی کاروبار کی ہو*

    _____________&&______

    مزید اسکی وضاحت کے لیے یہاں سعودی فتاویٰ کیمٹی کا فتویٰ ذکر کرتے ہیں ،
    کہ جب ان سے سوال کیا گیا کہ،

    *کیا کسی سودی کاروبار کرنے والے شخص سے قرض لینا،کاروبار کرنا، یا انکی دعوت قبول کرنا جائز ہے؟*

    تو انکا جواب تھا۔۔۔کہ

    یہ واضح ہے کہ یہودیوں،مشرکوں کا مال حرام کا کمائی سے بھی تھا

    جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالى كا قرآن میں فرمان ہے:
    يہوديوں ميں سے ظلم كرنے والوں پر ہم نے وہ پاكيزہ اشياء ان پر حرام كرديں جو ان كے ليے حلال كى گئي تھيں، اور اكثر لوگوں كو اللہ تعالى كى راہ روكنے كے باعث: اور ان كے سود لينے كے باعث جس سے انہيں روكا گيا تھا، اور لوگوں كا ناحق مال كھانے كے باعث ﴾
    (سورہ النساء_آئیت نمبر-160 - 161)
    اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم يہوديوں كے ساتھ خريد و فروخت جيسے معاملات كيا كرتے، اور ان سے ہديہ بھى قبول كرتے تھے، حالانكہ يہودى سودى لين دين كرتے ہيں،
    اس كے باوجود نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم ان كا ہديہ قبول فرمايا كرتے تھے، آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے خيبر ميں اس يہودى عورت كا ہديہ قبول كيا جس نے آپ كو بكرى كا بطور ہديہ پيش كى تھى، اور ان يہوديوں كے ساتھ لين دين كيا، اور جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم اس دنيا سے رخصت ہوئے تو آپ كى ذرع ايك يہودى كے پاس گروى ركھى ہوئى تھى.

    لہذا کسی حرام کاروبار کرنے والے شخص سے میل جول رکھنے اور دعوت وغیرہ قبول کرنے ميں قاعدہ اور اصول يہ ہے كہ:

    1_ وہ چيز جو بطور كمائى حرام ہو، وہ صرف كمانے والے پر حرام ہے، ليكن جو شخص اس حرام كمائى كو جائز اور مباح طريقہ سے حاصل كرتا ہے اس كے ليے وہ حرام نہيں.جیسے حرام کمانے والا کسی کو ہدیہ دیتا ہے تو یہ لینے والے کے لیے جائز ہے،

    2_اس بنا پر سودى لين دين كرنے والے كا ہديہ قبول كرنا جائز ہے، اور اس كے ساتھ خريدوفروخت كا معاملہ كرنا بھى جائز ہوگا،
    ليكن اگر اس سے تعلقات منقطع كرنے ميں كوئى مصلحت ہو، يعنى اس كے ساتھ لين دين نہ كرنے، اور اس كا ہديہ قبول نہ كرنے ميں كوئى مصلحت پيش نظر ہو تو پھر لين دين نہيں كرنا چاہيے، تو ہم مصلحت كے پيش نظر اس كے پيچھے چليں گے اور اس سے لين دين نہيں كرينگے.

    3_ليكن جو چيز بعينہ حرام ہو تو وہ لينےوالے پر اور دوسروں سب پر حرام ہے مثلا شراب حرام ہے، اگر كوئى يہودى يا عيسائى جو اسے مباح اور جائز سمجھتے ہيں وہ مجھے ہديہ ديں، تو ميرے ليے يہ ہديہ قبول كرنا جائز نہيں كيونكہ يہ چيز بعنيہ حرام ہے.

    4_ اور اگر كوئى انسان كسى شخص كا مال چورى كرے ،اور آكر وہ مال مجھے ديتا ہے تو يہ مسروقہ مال لينا مجھ پر حارم ہے، كيونكہ يہ بھی بعنيہ حرام ہے.

    يہ قاعدہ اور اصول آپ كو كئى ايك اشكالات سے راحت ديگا، جو بطور كمائى حرام ہو وہ صرف كمانے والے شخص پر حرام ہے،
    ليكن اسے حلال طريقہ سے حاصل كرنے والے پر حرام نہيں، ليكن اگر اس سے تعلقات منقطع كرنے اور اس سے نہ لينے اور اس كا ہديہ قبول نہ كرنے ميں، اور اس كے ساتھ خريد و فروخت نہ كرنے ميں كوئى مصلحت ہو جو اس عمل سے منع كرتى ہو تو پھر مصلحت كے پيش نظر اس سے تعلقات منتقطع كيے جائينگے.
    ديكھيں: اسئلۃ الباب المفتوح للشخ ابن عثيمين ( 1 / 76 )
    _______________&&_________

    ایک اور جگہ پر فتاویٰ کمیٹی سے سوال کیا گیا کہ کیا ہم حرام کمانے والوں سے میل جول رکھ سکتے؟ انکی دعوت قبول کر سکتے؟ اور انکے دیے ہوئے مال کو نیکی کی راہ پر خرچ کر سکتے ہیں؟

    تو انکا جواب تھا..!!

    آپ كےذمہ انہيں نصيحت كرنا ضروري ہے اور انہيں آپ اس بات سےآگاہ كريں كہ حرام اشياء كي تجارت كا انجام اچھا نہيں،
    اور انہيں يہ بھي ياد دلائيں كہ يہ دنيا كا مال ومتاع بہت ہي كم ہے اور آخرت ہي بہتر اور باقي رہنے والي ہے ، اگر تووہ آپ كي بات مان ليں تو الحمد للہ تو اس طرح وہ تمہارے ديني بھائي ہيں ، پھر آپ انہيں يہ بھي نصيحت كريں كہ اگر انہيں علم ہے كہ فلاں فلاں كےحقوق ان كےذمہ ہيں تو وہ اس كي ادائيگي كريں اور برائي كو نيكي كےذريعہ مٹائيں تو اس طرح اللہ تعالي ان كي توبہ قبول فرمائےگا اور ان كي برائيوں كونيكيوں ميں بدل ڈالےگا .

    يہ كام كرنے پر آپ ان سےميل جول اور بھائي چارہ قائم ركھ سكتےہيں اور ان كےساتھ كھا پي بھي سكتےہيں اور اسي طرح ان كا ديا ہوا چندہ بھي قبول كر كےاسے مساجد كےاخراجات اور دوسرےنيكي وبھلائي كےكاموں ميں صرف كر سكتےہيں .

    اگر وعظ ونصيحت كرنےكےبعد بھي وہ لوگ حرام كمائي چھوڑنے سے انكاركريں اور جن حرام كاموں ميں پڑے ہوئے ہيں اسي پر مصر ہوں تو پھر اللہ كےليے ان سے قطع تعلقي اور ان سےبائيكاٹ كرنا ضروري اور واجب ہے ، نہ تو ان كي دعوت قبول كرني چاہيے اور نہ ہي چندہ تاكہ انہيں احساس ہو اور وہ حرام كمائي اور غلط كام كرنے سے باز آجائيں .
    اللہ تعالي ہي توفيق بخشنے والا ہے .
    (ديكھيں فتاوي اللجنۃ الدائمۃ_16 / 182- 183)

    ______&&&&_________

    مفتی اعظم شیخ ابن باز سے سوال کیا گیا کہ،
    كيا ميرے ليے ایسے شخص سے قرض لينا جائز ہے جو حرام تجارت كرنے ميں معروف ہے، اور حرام كھانے كا عادى ہے ؟؟

    تو انکا جواب کا مفہوم یہ تھا کہ،

    اگر اسکی ساری آمدن حرام کمائی سے ہے، تو قرض نہیں لینا چاہیے،
    ليكن اگر وہ شخص حرام اور غير حرام دونوں قسم كا لين دين كرتا ہو، يعنى اس كا لين دين حلال اور حرام گندے اور اچھے دونوں سے مختلط ہو تو پھر كوئى حرج نہيں،

    ليكن پھر بھى اسے ترك كرنا افضل اور بہتر ہے كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
    جس ميں تجھے شك ہو اسے چھوڑ كر،
    اسے اختيار كرو جس ميں شك نہ ہو "
    سنن ترمذى حديث نمبر ( 2518 )

    اور اس ليے بھى كہ ايك دوسرى حديث ميں رسو كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان كچھ اسطرح ہے:
    جو شخص شبھات سے بچ گيا اس نے اپنے دين اور اپنى عزت كى حفاظت كر لى "
    (صحیح بخاری،حدیث نمبر-52)

    اور ايك حديث ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
    گناہ وہ ہے جو تيرے دل ميں كھٹكے، اور تو اس پر راضى نہ ہو كہ لوگوں كو اس كا علم ہو "
    سنن ترمذى حديث نمبر ( 2389 )

    اس ليے مؤمن شخص شبھات سے دور رہتا ہے، اور جب آپ كو يہ علم ہے كہ اس شخص كا سارا لين دين حرام پر مبنى ہے، اور وہ حرام اشياء كى تجارت كرتا ہے تو اس طرح كے شخص كے ساتھ لين دين نہيں كرنا چاہيے، اور نہ ہى ايسے شخص سے قرض ليا جائے " انتہى
    ديكھيں:
    ( مجموع فتاوى ابن باز ( 19 / 286 )

    (واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب)

    اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث میں مسائل حاصل کرنے کے لیے "ADD" لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر دیں،

    آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
    ان شاءاللہ۔۔!!
    سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہمارا فیسبک پیج لائیک ضرور کریں۔۔.
    آپ کوئی بھی سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کر سکتے ہیں۔۔!!

    *الفرقان اسلامک میسج سروس*
    +923036501765

    https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/
     
    Last edited: ‏جولائی 20، 2018
  2. ‏جولائی 20، 2018 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,189
    موصول شکریہ جات:
    2,367
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    جس طرح ۔۔فتاویٰ کمیٹی ۔۔ اور ۔۔ شیخ ابن بازؒ ۔۔ کے فتاوی کا حوالہ دیا گیا
    پہلی تحریر کا حوالہ نہیں دیا گیا اگر اس کا حوالہ مل جائے تو اصل سے تقابل کے بعد جواب دے سکتے ہیں "
    یعنی یہاں سے ۔۔۔
    یہاں تک ـــــــــــــــــ
     
  3. ‏جولائی 20، 2018 #3
    محمد جاوید بودلہ

    محمد جاوید بودلہ مبتدی
    جگہ:
    پاکپتن
    شمولیت:
    ‏اپریل 22، 2018
    پیغامات:
    18
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    جزاک اللہ خیرا، شیخ صاحب یہ تحریر میں نے خود لکھی ہے،
    اسی لیے آپ سے رہنمائی چاہ رہا ہوں، کہ کیا یہ صحیح لکھی ہے یا غلط؟؟
    میں ڈیلی ایک سلسلہ بنا کے لوگوں کو سینڈ کرتا ہوں، واٹس ایپ پر،
    یہ سوال آیا تھا، تو دو دن کی تحقیق کے اور علماء سے ڈسکس کر کے جو مجھے سمجھ آیا وہ یہ لکھ دیا،

    لیکن پھر بھی میں نے لوگوں کو سیند کرنے سے پہلے سے آپ پوچھنا بہتر سمجھا، تا کہ کوئی غلطی نا رہ جائے،

    جزاکم اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں