1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حقیقت اور مجاز میں کلام کی تقسیم: اصول الفقہ

'اصول حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از ناصر رانا, ‏ستمبر 26، 2011۔

  1. ‏ستمبر 26، 2011 #1
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,448
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    حقیقت اور مجاز میں کلام کی تقسیم:


    سب سے پہلے تو یہ جان لیجئے کہ حقیقت اور مجاز میں کلام کی تقسیم کے بارے میں لوگوں کی تین رائیں ہیں:

    ۱۔ پہلی رائے ان لوگوں کی ہے جو کہتےہیں کہ مجاز نہ تو قرآن میں ہے اور نہ ہی لغت عربی میں۔ گویا ان کے نزدیک حقیقت او ر مجاز کی تقسیم ہی غلط ہے۔ یہ ابو اسحاق الاسفرائینی کا مذہب ہے اور اسی کی تائید شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے کتاب الایمان میں کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ : ”حقیقت اور مجاز کی اصطلاح ہی نئی ہے جو پہلی تین صدیاں گزر جانے کے بعد پیدا ہوئی ہے جس کے بارے میں نہ تو صحابہ نے، نہ نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والے تابعین نے اور نہ ہی علم مشہور ائمہ جیسے امام مالک، ثوری، اوزاعی، ابوحنیفہ اور شافعی نے کلام کیا ہےبلکہ اس کے بارے میں تو لغت اور نحو کے اماموں جیسے خلیل، سیبویہ، ابوعمرو بن العلاء اور ان جیسے دوسرے ائمہ میں سے کسی نے کوئی بات نہیں کی۔“ یہاں تک کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے کہا کہ: ”امام شافعی نے سب سے پہلے اصول فقہ کو مدون کیا ہے لیکن انہوں نے نہ تو اس طرح کی کوئی تقسیم کی ہے اور نہ ہی حقیقت اور مجاز کا لفظ استعمال کیا ہے“

    ۲۔ دوسری رائے ان لوگوں کی ہے جو کہتے ہیں کہ قرآن میں تو مجاز نہیں ہے البتہ لغت میں موجود ہے۔ اس بات کو (شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے )کتاب الایمان میں حنابلہ میں سے ابوالحسن الجزری او ر ابن حامد، مالکیہ میں سے محمد بن خویز منداد اور ظاہریوں میں سے داؤد بن علی الظاہری اور ان کے بیٹے ابوبکر کی طرف منسوب کیا ہے۔

    ۳۔ تیسری رائے ان لوگوں کی ہے جو کہتےہیں کہ مجاز قرآن میں بھی ہے اور لغت میں بھی۔ یہ رائے حنابلہ میں سے ابویعلی، ابن عقیل ، ابوالخطاب اور ان کے علاوہ چند دوسرے لوگوں کی ہے۔ اسی رائے کو ابن قدامہ نے روضۃ الناظر میں راجح قرار دیا ہے اور اسی رائے کو امام زرکشی نے اپنی کتاب ’البرہان فی علوم القرآن ‘میں جمہور کی طرف منسوب کیا ہے۔

    کلام کی حقیقت اور مجاز میں تقسیم سے متعلقہ مختصر گفتگو آپ کے سامنے پیش کی جاتی ہے، ان لوگوں کی طرف سے جو اس تقسیم کو جائز سمجھتے ہیں۔

    حقیقت:


    لغوی طور پر حقیقت کا لفظ حق سے لیا گیا ہے جو اگر فاعل کے معنی میں ہو تو اس کا مطلب ’ثابت‘ ہوتا ہے ، اور اگر مفعول کے معنی میں ہوتو اس کا مطلب مُثْبَت(ثابت ہونے والا)ہوتا ہے۔

    اصطلاح میں: تخاطب کی اصطلاح میں جو لفظ ابتدائی طور پر جس معنی کےلیے بنایا گیاہو، اسی میں استعمال ہو تو اسے حقیقت کہتے ہیں، جیسے ’اسد‘کا لفظ چیر پھاڑ کرنے والے درندے کےلیے وضع کیا گیا ہے، اسی طرح ’شمس‘ روشن ستارے کےلیے وضع کیا گیا ہے۔

    کلمہ’في اصطلاح التخاطب‘ سے یہ بات ہمارے لیے واضح ہوتی ہے کہ حقیقت کی تین قسمیں ہیں:

    ۱۔ لغوی ۲۔ عرفی ۳۔ شرعی

    1 حقیقت لغوی:
    یہ وہ استعمال ہونے والا لفظ ہے جو اسی معنی میں استعمال ہو جس معنی کےلیے یہ پہلی مرتبہ لغت میں وضع ہوا تھا، جیسے’ اسد‘ چیر پھاڑ کرنے والے درندے کےلیے وضع ہوا ہے۔

    2 حقیقت عرفی:
    اس کی دو قسمیں ہیں:

    ۱۔ حقیقت عرفیہ عامہ ۲۔ حقیقت عرفیہ خاصہ

    1۔ حقیقت عرفیہ عامہ:
    وہ حقیقت عرفی ہے جو عام اہل لغت کے ہاں لفظ کے اپنے ہی بعض مدلول پر بہت زیادہ استعمال ہونے کی وجہ سے یا مجاز کے حقیقت پر غالب ہونے کی وجہ سے متعارف ہو۔

    پہلے اعتبار سے:
    اصل لغت میں کوئی لفظ کسی عام معنی کےلیے وضع کیا گیا ہو ،پھرعرف اس لفظ کو اس عام کے کچھ افراد کےلیے خاص کردے جیسے :دابۃ کا لفظ ہے ، اصل لغت میں یہ لفظ ہر اس چیز کےلیے بنایا گیا تھا جو زمین کی سطح پر رینگ کر چلے ، پھر عرف نے اسے چوپائیوں کےلیے مخصوص کردیا۔

    دوسرے اعتبار سے:
    اصل لغت میں تو لفظ کسی اور معنی کےلیے وضع کیاگیا ہو لیکن پھر وہ عرف میں استعمال کی وجہ سے مجازی معنی میں اتنا مشہور ہوجائے کہ اس کے بولنے سے بس وہ مجازی معنی ہی سمجھ آئے ، جیسے: غائط کا لفظ ہے ، اصل لغت میں تو یہ اس جگہ کےلیے وضع کیا گیا جہاں اطمینان حاصل ہو لیکن پھر یہ انسان سے نکلنے والے فضلہ کےلیے استعمال ہونے لگا، اسی طرح ’راویہ‘ کا لفظ ہے جو اصل میں اس اونٹ کےلیے وضع کیا گیا تھا جس کے ذریعے پانی پلایا جاتا تھا، پھر یہ مشکیزے کےلیے استعمال ہونے لگ گیا۔

    2۔ حقیقت عرفیہ خاصہ:
    وہ الفاظ جو کسی خاص گروہ کے ہاں ان معانی کےلیےمتعارف ہوں جو انہوں نے بنائے ہیں، جیسے نحویوں کا عرف ہے، رفع ، نصب اور جر کا استعمال وہ ان خاص معنوں میں کرتے ہیں جو انہوں نے وضع کیے ہیں۔اسی طرح بلاغت والوں کامسند اور مسند الیہ کے بارے میں عرف ہے۔ اسی طرح دوسری مثالیں بھی ہیں۔

    3 حقیقت شرعی:
    جو لفظ شریعت میں پہلے پہل جس معنی کےلیے وضع کیا گیا تھا ، اسی معنی میں استعمال ہو۔جیسے : صلاۃ کا لفظ، اس مخصوص عبادت کےلیے وضع کیا گیا ہے جو تکبیر سے شروع ہوتی ہے اور سلام کے ساتھ ختم ہوتی ہے، اسی طرح ایمان کا لفظ ہے جو قول، فعل اور اعتقاد کےلیے وضع کیا گیا ہے۔

    مجاز:

    لغت
    میں مجاز جواز کی جگہ کہتے ہیں یااگر اسے مصدر میمی مان لیا جائے توصرف جواز کو کہتے ہیں۔

    اصطلاح میں اس کی دو قسمیں ہیں:

    ۱۔ لغوی ۲۔ عقلی

    1 مجاز لغوی:
    ایسا لفظ جسے کسی قرینہ کے ساتھ تعلق کی وجہ سے اس معنی کےعلاوہ دوسرے معنی میں استعمال کیا جائے ، جس کےلیے اسے وضع کیا گیا تھا۔

    اس کی مثال :
    لفظ ’اسد‘ کا بہادر آدمی کےلیے استعمال ہونا ہے کیونکہ یہ اس معنی کےعلاوہ میں استعمال ہوا ہے جس کےلیے اس کو پہلی مرتبہ بنایا گیا تھا۔ دراصل اس لفظ کو چیر پھاڑ کرنے والے درندے کےلیے بنایا گیا تھا ، پھر اس کے پہلے محل سے گزارکر اس کو بہادر آدمی کےلیے استعمال کیا گیا۔

    تعلق اور اس کی غرض:


    مجاز میں علاقہ یعنی تعلق کی شرط اس لیے لگائی گئی ہےتاکہ اگر لفظ کو بھول کر یا غلطی سے اس معنی کے علاوہ دوسرے معنی میں استعمال کی جائے تو اس بھول یا غلطی کو مجاز کی تعریف سے نکالا جاسکے۔ مثال کے طورپر آپ کہیں کہ قلم پکڑاؤ اور اشارہ کتاب کی طرف کریں۔ اسی طرح اگر جان بوجھ کر بھی لفظ کو غیر ما وضع لہ استعمال کیا جائے اور ان دونوں معنوں میں کوئی تعلق اور مناسبت نہ ہوتو اسے بھی مجاز کی تعریف سے نکالا جاسکے۔ مثال کےطورپر آپ کہیں کہ اس کتاب کو پکڑ لو یا میں نے کتاب خریدی حالانکہ آپ کے کہنے کا مقصد سیب یا کپڑا مراد لینا تھا، تو یہاں نہ تو کتاب اور سیب کے درمیان کوئی مناسبت ہے اور نہ کتاب اور کپڑے کے درمیان۔

    تعلق کا مقصد:


    اس طریقے سے ذہن کو ایک معنی سے دوسرے معنی کی طرف منتقل کرنا تعلق کا مقصد ہے ، گویا کہ یہ ذہن کےلیے ایک پل کی مانند ہے جسے ذہن عبور کرتا ہے، مثال کے طورپر آپ کا کہنا کہ: میں نے شیر کو تیز اندازی کرتے ہوئے دیکھا۔ یہاں پر ذہن کے منتقل ہونے کا پل شجاعت ہے جو ذہن کو چیرپھاڑ کرنے والے درندے سے بہادر آدمی کی طرف لے جاتی ہے ، اور یہ شجاعت ہی ہے جو چیر پھاڑ کرنے والے درندے اور بہادر آدمی دونوں معنوں میں ربط کا کا م دے رہی ہے۔

    تعلق کی اقسام:

    تعلق یا تو مشابہت والا ہوتا ہے جیسا کہ مذکورہ بالا مثال میں بہادر آدمی شیر سے شجاعت میں مشابہ ہے کیونکہ یہ معنی دونوں میں مشترک ہے۔

    یا پھر مشابہت والا نہیں ہوتا جیسے لوگوں کا کہنا ہے کہ : امیر نے شہر میں اپنی آنکھیں پھیلا دی ہیں، یعنی اپنے جاسوس پھیلا دیئے ہیں۔

    ہر وہ مجاز جس کا تعلق مشابہت والا ہو، اسے استعارہ کہتے ہیں کیونکہ پہلے آپ نے تشبیہ دی ، پھر مشبہ بہ والے لفظ کو ادھار لے کر مشبہ پر فٹ کردیا۔

    اور ہر وہ مجاز جس کا تعلق مشابہت والا نہ ہو ، اسے مجاز مرسل کہتے ہیں، کیونکہ وہ مشابہت کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔

    بغیر مشابہت والے تعلق بہت سارے ہیں کیونکہ یہ ہر قسم کی مناسبت کوشامل ہے یا دو معنوں کے درمیان ایساتعلق ہو تا ہے جو لفظ کو ایک معنی سے دوسرے معنی کی طرف منتقل کرنا صحیح قراردیتا ہے۔جیسے کہ کلی اور جزئی کا تعلق ہے کہ بولا تو ’کل‘ جاتا ہے لیکن مراد’ جزء ‘لیا جاتا ہے، مثال کے طور پرآپ کہیں کہ: پولیس نے چور پکڑ لیا ہے۔ یہاں پر مراد یہ ہے کہ پولیس والوں میں سے کسی ایک پولیس والے نے چور کو پکڑ لیا ہے۔ دوسری مثال یہ ہے کہ لفظ ’جزء ‘کا بولا جائے اور مراد ’کل ‘لیا جائے، جیسے کہ گزشتہ مثال میں آنکھ کا لفظ بول کر پورا انسان مرادلیا گیا تھا۔

    اسی طرح سبب اور مسبب کا تعلق ہے کہ سبب بول کر مسبب مراد لیا جاتا ہے ، مثال کے طور پر: ہم پر بادل برسے۔

    اور کبھی مسبب بول کر سبب مراد لیا جاتا ہے ،جیسے: آسمان نے ربیع بہار برسائی۔

    اسی طرح حال اور محل کا تعلق ہے کہ کبھی آپ ’حال‘ بول کر ’محل‘ مراد لیتے ہیں اور کبھی ’محل‘ بول کر ’حال‘ مراد لیتے ہیں۔

    مجاز لغوی مفرد بھی ہوتا ہے اور مرکب بھی:

    1۔ مجاز لغوی مفرد:
    وہ مجاز لغوی ہے جو ایک لفظ میں ہو جیسے کہ اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔

    2۔ مجاز لغوی مرکب:
    وہ مجاز لغوی ہے جو جملوں میں ہو، اگر اس میں تعلق مشابہت والا ہو تو اس کا نام استعارہ تمثیلہ رکھتے ہیں اور اگر ایسا نہ ہو تو اس کا نام مجاز مرکب مرسل رکھتے ہیں۔

    استعارہ تمثیلہ کی مثال:
    ایک صورت کو دوسری صورت سے تشبیہ دینا، اور مشبہ بہا صورت پر جو چیز دلالت کررہی ہو اسے نقل کرکے مشبہ کی صورت پر چسپاں کردینا، جیسے آپ کا کسی معاملہ میں متردد شخص کو کہنا: میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تم ایک قدم آگے کرتے ہو اور دوسرا پیچھے کرلیتے ہو۔

    مجازمرکب مرسل کی مثال:
    آپ کا اس شخص سے کہنا جس نے دو بری عادتوں ،مثلاً سگریٹ پینا اور داڑھی منڈوانا کو اپنے اندر جمع کیا ہوا ہو: ایک کریلا دوسرا نیم چڑھا (یا) اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی۔

    2 مجاز عقلی:
    مجاز عقلی اس وقت ہوتا ہے جب الفاظ تو اپنے حقیقی معنی میں استعمال ہوں لیکن نسبت مجازی ہو ، جیسےآپ کا یہ قول کہ : امیر نے محل بنایا۔

    تو یہاں[بنایا]، [امیر] اور [محل] کے الفاظ اپنی حقیقت میں ہی استعمال ہوئے ہیں لیکن بنانے کی نسبت امیر کی طرف مجازی ہے کیونکہ حقیقت میں تو محل مزدوروں نے بنایا ہے۔

    ترجمہ کتاب تسہیل الوصول از محمد رفیق طاہر
     
  2. ‏ستمبر 27، 2011 #2
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
     
  3. ‏ستمبر 27، 2011 #3
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,448
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    جزاک اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں