1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حلال جانور کا حرام جانور سے دودھ پینا

'فقہ عام' میں موضوعات آغاز کردہ از danish ghaffar, ‏دسمبر 25، 2017۔

  1. ‏دسمبر 25، 2017 #1
    danish ghaffar

    danish ghaffar رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 30، 2017
    پیغامات:
    93
    موصول شکریہ جات:
    15
    تمغے کے پوائنٹ:
    52

    السلام علیکم
    محترم قارئین

    ایک بکری کا بچا اگر کسی گھدی یا کتیا کا دودھ پی لے تو اس پر کیا حکم ہے

    آیا وہ حلال ہی رہے گا یا حرام ہوجائیگا

    جزاکاللہ
     
  2. ‏دسمبر 25، 2017 #2
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,267
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    وعلیکم السلام ر رحمتہ اللہ و برکاتہ
    بطور ایک "قاری" کے عرض ہے کہ حلال و حرام انسانوں کے لئے ہوتا ہے جانوروں کے لئے نہیں۔ ہمارے لئے جو جانور حلال ہے، تو اس جانور کے لئے ضروری نہیں کہ صرف وہی چیزیں کھائے جو ہمارے لئے حلال ہو۔ جیسے مرغی گندی اور (ہمارے لئے) حرام چیزیں بھی کھاجاتی ہیں۔ اس کے باوجود مرغی ہمارے لئے حلال ہی ہوتی ہے۔ لہٰذا اگر کبھی کبھار بکری کا بچہ (ہمارے لئے) حرام جانور کا دودھ پی لے تو ایسا بکری کا بچہ ہمارے لئے حرام نہیں ہوگا۔ واللہ اعلم بالصواب

    اب آپ شیوخ کے علمی جواب اور فتویٰ کا انتظار فرمائیے۔
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  3. ‏دسمبر 25، 2017 #3
    danish ghaffar

    danish ghaffar رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 30، 2017
    پیغامات:
    93
    موصول شکریہ جات:
    15
    تمغے کے پوائنٹ:
    52

    جزکاللہ
     
  4. ‏دسمبر 26، 2017 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,331
    موصول شکریہ جات:
    2,384
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    شریعت اسلامیہ میں وہ حلال جانور جو نجاست کھائیں ان کے متعلق یہ حکم ہے کہ
    ان کچھ دنوں تک نجاست کھانے سے روک کر ان کا گوشت کھانا چاہیئے ؛
    (عن ابن عمر، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ "نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن اكل الجلالة والبانها".
    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاست خور جانور کے گوشت کھانے اور اس کا دودھ پینے سے منع فرمایا۔
    سنن ابي داود حدیث نمبر: 3785 ، سنن الترمذی/الأطعمة ۲۴ (۱۸۲۴)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ۱۱ (۳۱۸۹)، (تحفة الأشراف: ۷۳۸۷) (صحیح)
    اس حدیث سے جلالہ کی قطعی حرمت ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس کے استعمال سے اس وقت تک روکا گیا ہے جب تک کہ اس گندی خوراک کی بدبو زائل نہ ہو
    جیسا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے صحیح چر سے ثابت ہے کہ:" إنه كان يحبس الدجاجة الجلالة ثلاثا"
    ''عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جلالہ مرغی کو تین دن بند رکھتے تھے (پھر استعمال کر لیتے تھے)۔''(رواہ ابنِ ابی شیبہ)
    علامہ ناصرا لدین البانی نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے ، (ارواء الغلیل ج۸، ص۱۵۱)
    اور سنن ابوداود کے مشہور شارح علامہ شمس الحق عظیم آبادی عون المعبود میں اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
    "قال الخطابي واختلف الناس في أكل لحوم الجلالة وألبانها فكره ذلك أصحاب الرأي والشافعي وأحمد بن حنبل وقالوا لا يؤكل حتى تحبس أياما وتعلف علفا غيرها فإذا طاب لحمها فلا بأس بأكله
    وقد روي في حديث أن البقر تعلف أربعين يوما ثم يؤكل لحمها وكان بن عمر تحبس الدجاجة ثلاثة أيام ثم تذبح

    ترجمہ : امام خطابی فرماتے ہیں کہ نجاست خور جانور کے گوشت اور دودھ کے متعلق کچھ اہل الرائے اور شافعیہ اور حنبلی علماء کا کہنا ہے کہ مکروہ ہے، لیکن اگر اس کو گندگی کھانے سے کچھ روز روک لیا جائے اور دوسری پاک غذا کھلائی جائے اور اس کے گوشت سے نجاست کا اثر زائل ہو جائے تو اسے کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں ، اور ایک حدیث منقول ہے کہ ایسی گائے کو چالیس روز دوسری صاف غذا کھلائی پھر اس کا گوشت کھایا جائے اور سیدنا ابن عمر تین دن ایسی مرغی کو نجاست سے بچا کر اسے ذبح کرتے "

    یہ صرف اس لئے کرتے تھے تا کہ اس کا پیٹ صاف ہو جائے اور گندگی کی بو اس کے گوشت سے جاتی رہے۔
    اگر جلالہ کی حرمت گوشت کی نجاست کی وجہ سے ہوتی تو وہ گوشت جس نے حرام پر نشو ونما پائی ہے کسی بھی حال میں پاک نہ ہوتا۔
    جیسا کہ ابنِ قدامہ نے کہا ہے کہ اگر جلالہ نجس ہوتی تو دو تین دن بند کرنے سے بھی پاک نہ ہوتی۔ (المغنی ج۹، ص۴۱)
    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے اس صحیح اثر سے معلوم ہوتا ہے کہ جلالہ کی حرمت اس کے گوشت کا نجس اور پلید ہونا نہیں بلکہ علت اس کے گوشت سے گندگی کی بدبو وغیرہ کا آنا ہے۔ جیسا کہ حافظ ابنِ حجر فرماتے ہیں:
    " و المعتبر فى جواز اكل الجلالة زوال رائحة النجاسة عن تعلف بالشيى الطاهر على الصحيح "( فتح البارى ج9 , ص 565)
    ''جلالہ کے کھانے کا لائق ہونے میں معتبر چیز نجاست وغیرہ کی بدبو کا زائل ہونا ہے۔ یعنی جب بدبو زائل ہو جائے تو اس کا کھانا درست ہے۔''

    علامہ صنعانی بھی فرماتے ہیں:" قيل بل الإعتبار بالرائحة و النتن"
    ''کہ جلالہ کے حلال ہونے میں بدبو کے زائل ہونے کا اعتبار کیا جاتا ہے۔''(سبل السلام ، ج۳، ص۷۷)

    جلالہ کے بارے میں اہل لغت کے اقوال جان لینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ اکثر اہل لغت نے لکھا ہے کہ:
    " ألجلالة هى البقرة التى تتبع النجاسات"
    ''کہ جلالہ وہ گائے ہے جو نجاسات کو تلاش کرتی ہے۔'' (لسان العرب ج۲، ص۳۳۶، الصحاح للجوہری ج۴، ص۱۲۵۸، القاموس المیط ج۱، ص۵۹۱)
    لغت عرب کے مشہور امام ابنِ منظور الافریقی لکھتے ہیں:
    " و الجلالة من الحيوان التى تأكل الجلة العذرة "
    ''کہ جلالہ وہ حیوان جو انسان کا پاخانہ وغیرہ کھاتے ہیں۔''(لسان العرب، ج۲، ص۳۳۶ )
     
  5. ‏دسمبر 26، 2017 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,331
    موصول شکریہ جات:
    2,384
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    اس سوال کے جواب میں شیخ صالح بن فوزان حفظہ اللہ کا فتویٰ ہے کہ
    السؤال
    يقول فضيلة الشيخ وفقكم الله : رجل عنده شاة لكنها رضعت من كلبة وهي صغيرة فما حكم لحمها ولبنها ؟ الجواب : يكره لحمها مادامت صغيرة مادامت ترضع ، أما إذا كبرت وطعمت الطعام وشربت الماء ذهب عنها أثر لبن الكلبة مافي مانع إذا كبرت مافي مانع . نعم . لكن لا يأكلها وفيها أثر لبن الكلبة مثل الجلالة ، نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن لحوم الجلالة حتى تحبس وتطعم الطاهر ، هذي أطعمت الطاهر فتحل بعد ذلك . نعم .

    http://www.alfawzan.af.org.sa/ar/node/2554
     
    • متفق متفق x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  6. ‏دسمبر 26، 2017 #6
    danish ghaffar

    danish ghaffar رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 30، 2017
    پیغامات:
    93
    موصول شکریہ جات:
    15
    تمغے کے پوائنٹ:
    52

    جزاکاللہ شیخ
     
  7. ‏دسمبر 26، 2017 #7
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,331
    موصول شکریہ جات:
    2,384
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    محترم بھائی !
    جزاک اللہ خیراً ۔۔۔ اس طرح لکھا کریں ؛ یعنی جزاک کے کاف کو اللہ کے الف سے جدا اور ساتھ ہی خیراً بھی لکھنا چاہیئے ؛
     
  8. ‏دسمبر 27، 2017 #8
    danish ghaffar

    danish ghaffar رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 30، 2017
    پیغامات:
    93
    موصول شکریہ جات:
    15
    تمغے کے پوائنٹ:
    52

    معذرت دراصل ٹائپنگ میں مسلہ ہوجاتا ہے

    جزک اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں