1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حمد کے ساتھ تسبیح

'قرآن وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏جولائی 27، 2017۔

  1. ‏جولائی 27، 2017 #1
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,719
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    محترم شیخ @اسحاق سلفی حفظک اللہ

    ایک بھائی نے سوال کیا ہے:
    قُرآن میں ایک سے ذائد مُقام پہ فرشتوں کے بارے الله کریم نے فرمایا
    ہے کہ " یُسبِّحُونَ بحمدِ ربِّھِم " تو
    میں یہ جاننا چاھتا ہوں کہ
    " حمد کے ساتھ تسبیح " کرنے کا کیا مطلب ہے؟
    مُختلف عُلماء کرام اسکی کیا تشریح کرتے ہیں؟
    جو سلف صالحین کےحوالوں اورآرء پہ مبنی ہو
    جزاکم اللهُ خیرًاکثیرا
     
  2. ‏اگست 22، 2017 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,239
    موصول شکریہ جات:
    2,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    جواب میں تاخیر کیلئے معذرت خواہ ہوں ،
    دراصل اس کا جواب کیلئے متعلقہ مواد کچھ اسی وقت دیکھ کر جمع کرلیا تھا ، لیکن بوجوہ پوسٹ نہ کرسکا ۔
    آج اس پوسٹ کو ڈھونڈا ہے ، تدوین کے بعد پوسٹ کروں گا ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ
     
  3. ‏اگست 22، 2017 #3
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,719
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    شیخ محترم!
    یہ سوال ایک دوست نے ایک سال قبل کیا تھا اُس وقت جو کچھ مجھے میسر ہوسکا تھا میں نے انہیں پیش کر دیا تھا..لیکن وہ مزید تفصیل کے خواہش مند تھے اور پھر چند ہفتے قبل دوبارہ سوال بھیج دیا..
    اس لیے جس قدر تفسیر و تفصیل مل سکے بہتر ہے.
    اجر اللہ کے ذمے ہے..
     
  4. ‏اگست 26، 2017 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,239
    موصول شکریہ جات:
    2,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    علمائے اسلاف میں ایک بہت جید عالم
    أبو عبد الله إبراهيم بن محمد نِفْطَوَيْهِ (المتوفى: 323 هـ) نے لفظ سبحان کے معانی و فضائل پر ایک کتاب لکھی ہے ،اس میں وہ فرماتے ہیں :

    مَعْنَى «سُبْحَانَ» : التَّنْزِيهُ، وَالتَّعْظِيمُ، وَالتَّكْبِيرُ، وَالْإِبْعَادُ فَمَعْنَى قَوْلِهِ: {سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ} [المؤمنون: 91] أَيْ بَعِيدٌ ذَلِكَ مِنْ صِفَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَتَنْزِيهًا لِلَّهِ عَنْهُ، وَقَوْلُ الْقَائِلِ: سُبْحَانَ اللَّهِ عَنْ هَذَا، أَيْ: بَرَّأْتُهُ مِنْ هَذَا بَرَاءَةً، َوَنَزَّهْتُهُ تَنْزِيهًا، ثُمَّ جُعِلَتْ «سُبْحَانَ» مَكَانَ ذَلِكَ، فَهِيَ مَنْصُوبَةُ عَلَى الْمَصْدَرِ ۔۔۔
    یعنی لفظ " سبحان " کا معنی ہے : تنزیہ (ہر عیب و نقص اور تشبیہ پاک کہنا ،ماننا )، اور تعظیم کرنا ،اور اسکی بڑائی کرنا اوراسکی شان کے منافی امور کو اس سے دور کرنا ،
    جیسا کہ سورۃ مومنون میں فرمایا : اللہ تو ان باتوں سے پاک ہے۔ جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں "
    یعنی یہ جاہل جن اوصاف کی نسبت اللہ تعالی سے کرتے ہیں وہ ان سے بہت دور ہے ، لہذا کسی کے (سُبْحَانَ اللَّهِ عَنْ هَذَا ) کہنے کا مطلب ہوگا : میں اللہ کو ان گھٹیا اوصاف سے بری اور پاک کہتا ہوں ،اور اسے ایسے اوصاف سے بہت بعید مانتا ،کہتا ہوں ؛ پھر کثرت استعمال کے بعد ( اختصار کی غرض سے اس جملہ کو صرف ) لفظ " سبحان " کہہ کر ادا کیا جاتا ہے ؛

    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    علامہ راغب اصفہانی ؒ فرماتے ہیں :
    سبح
    والتَّسْبِيحُ : تنزيه اللہ تعالی. وأصله : المرّ السّريع في عبادة اللہ تعالی، وجعل ذلک في فعل الخیر کما جعل الإبعاد في الشّرّ ، فقیل : أبعده الله، وجعل التَّسْبِيحُ عامّا في العبادات قولا کان، أو فعلا، أو نيّة، قال : فَلَوْلا أَنَّهُ كانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ
    [ الصافات/ 143] ،
    ( س ب ح ) السبح
    التسبیح کے معنی تنزیہ الہیٰ بیان کرنے کے ہیں اصل میں اس کے معنی عبادت الہی میں تیزی کرنا کے ہیں ۔۔۔۔۔۔ پھر اس کا استعمال ہر فعل خیر پر
    ہونے لگا ہے جیسا کہ ابعاد کا لفظ شر پر بولا جاتا ہے کہا جاتا ہے ابعد اللہ خدا سے ہلاک کرے پس تسبیح کا لفظ قولی ۔ فعلی اور قلبی ہر قسم کی عبادت پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَلَوْلا أَنَّهُ كانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ [ الصافات/ 143] قو اگر یونس (علیہ السلام) اس وقت ( خدا کی تسبیح ( و تقدیس کرنے والوں میں نہ ہوتے ۔ یہاں بعض نے مسبحین کے معنی مصلین کئے ہیں لیکن انسب یہ ہے کہ اسے تینوں قسم کی عبادت پر محمول کیا جائے "

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    امام ابن کثیر ؒ آیۃ سورہ الصافات کی آخری آیات :
    {سبحان ربك رب العزة عما يصفون (180) وسلام على المرسلين (181) والحمد لله رب العالمين (182) }
    پاک ہے آپ کا رب جو بہت بڑی عزت والا ہے، ہر اس چیز سے [پاک ہے جو مشرک] بیان کرتے ہیں۔ (180) پیغمبروں پر سلام ہے۔ (181) اور سب طرح کی تعریف اللہ کے لئے ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔ (182)
    اسکی تفسیر میں فرماتے ہیں :
    ولما كان التسبيح يتضمن التنزيه والتبرئة (4) من النقص بدلالة المطابقة، ويستلزم إثبات الكمال، كما أن الحمد يدل على إثبات صفات الكمال مطابقة، ويستلزم التنزيه من النقص -قرن بينهما في هذا الموضع، وفي مواضع كثيرة من القرآن؛
    تسبیح سے (بدلالت مطابقت ) اس کی ذات پاک ہر طرح کے نقائص وعیوب سے دوری ثابت ہوتی ہے، تویہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ہر طرح کے کمالات کی مالک اس کی ذات واحد ہے۔ اور الحمد کی دلالت یہ ہے کہ صفات کمال کو ثابت کیا جائے۔ جیسا کہ حمد نقائص سے براءت کو بھی مستلزم ہے ( کیونکہ مکمل تعریف تبھی ہوسکتی ہے جب ہر قسم کے نقائص سے پاک ثابت ہو )تاکہ نقصانات کی نفی اور کمالات کا اثبات ہو جائے۔ ایسے ہی قران کریم کی بہت سی آیتوں میں تسبیح اور حمد کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    امام راغب اصفہانی ؒ ۔۔ الغریب فی مفردات القرآن۔۔ میں لکھتے ہیں :
    حمد
    الحَمْدُ لله تعالی: الثناء عليه بالفضیلة، وهو أخصّ من المدح وأعمّ من الشکر، فإنّ المدح يقال فيما يكون من الإنسان باختیاره، ومما يقال منه وفيه بالتسخیر، فقد يمدح الإنسان بطول قامته وصباحة وجهه، كما يمدح ببذل ماله وسخائه وعلمه، والحمد يكون في الثاني دون الأول، والشّكر لا يقال إلا في مقابلة نعمة، فكلّ شکر حمد، ولیس کل حمد شکرا، وکل حمد مدح ولیس کل مدح حمدا، ويقال : فلان محمود :
    إذا حُمِدَ ، ومُحَمَّد : إذا کثرت خصاله المحمودة، ومحمد : إذا وجد محمودا «2» ، وقوله عزّ وجلّ :إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ [هود/ 73] ، يصحّ أن يكون في معنی المحمود، وأن يكون في معنی الحامد، وحُمَادَاكَ أن تفعل کذا «3» ، أي : غایتک المحمودة، وقوله عزّ وجل : وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ [ الصف/ 6] ، فأحمد إشارة إلى النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم باسمه وفعله، تنبيها أنه كما وجد اسمه أحمد يوجد وهو محمود في أخلاقه وأحواله، وخصّ لفظة أحمد فيما بشّر به عيسى صلّى اللہ عليه وسلم تنبيها أنه أحمد منه ومن الذین قبله، وقوله تعالی: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ
    [ الفتح/ 29] ، فمحمد هاهنا وإن کان من وجه اسما له علما۔ ففيه إشارة إلى وصفه بذلک وتخصیصه بمعناه كما مضی ذلک في قوله تعالی: إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ اسْمُهُ يَحْيى [ مریم/ 7] ، أنه علی معنی الحیاة كما بيّن في بابه «4» إن شاء اللہ .

    ( ح م د ) الحمدللہ
    ( تعالیٰ ) کے معنی اللہ تعالے کی فضیلت کے ساتھ اس کی ثنا بیان کرنے کے ہیں ۔ یہ مدح سے خاص اور شکر سے عام ہے کیونکہ مدح ان افعال پر بھی ہوتی ہے جو انسان سے اختیاری طور پر سرزد ہوتے ہیں اور ان اوصاف پر بھی جو پیدا کشی طور پر اس میں پائے جاتے ہیں چناچہ جس طرح خرچ کرنے اور علم وسخا پر انسان کی مدح ہوتی ہے اس طرح اسکی درازی قدو قامت اور چہرہ کی خوبصورتی پر بھی تعریف کی جاتی ہے ۔
    لیکن حمد صرف افعال اختیار یہ پر ہوتی ہے ۔ نہ کہ اوصاف اضطرار ہپ پر اور شکر تو صرف کسی کے احسان کی وجہ سے اس کی تعریف کو کہتے ہیں ۔ لہذا ہر شکر حمد ہے ۔ مگر ہر شکر نہیں ہے اور ہر حمد مدح ہے مگر ہر مدح حمد نہیں ہے ۔ اور جس کی تعریف کی جائے اسے محمود کہا جاتا ہے ۔ مگر محمد صرف اسی کو کہہ سکتے ہیں جو کثرت قابل ستائش خصلتیں رکھتا ہو نیز جب کوئی شخص محمود ثابت ہو تو اسے بھی محمود کہہ دیتے ہیں ۔
    اور آیت کریمہ ؛ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ [هود/ 73] وہ سزاوار تعریف اور بزرگوار ہے ۔ میں حمید بمعنی محمود بھی ہوسکتا ہے اور حامد بھی حماد اک ان تفعل کذا یعنی ایسا کرنے میں تمہارا انجام بخیر ہے ۔
    اور آیت کریمہ : وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ [ الصف/ 6] اور ایک پیغمبر جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا ان کی بشارت سناتاہوں ۔ میں لفظ احمد سے آنحضرت کی ذات کی طرف اشارہ ہے اور اس میں تنبیہ ہے کہ جس طرح آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام احمد ہوگا اسی طرح آپ اپنے اخلاق واطوار کے اعتبار سے بھی محمود ہوں گے اور عیٰسی (علیہ السلام) کا اپنی بشارت میں لفظ احمد ( صیغہ تفضیل ) بولنے سے اس بات پر تنبیہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت مسیح (علیہ السلام) اور ان کے بیشتر وجملہ انبیاء سے افضل ہیں ،
    اور آیت کریمہ : مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ [ الفتح/ 29] محمد خدا کے پیغمبر ہیں ۔ میں لفظ محمد گومن وجہ آنحضرت کا نام ہے لیکن اس میں آنجناب کے اوصاف حمیدہ کی طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے جیسا کہ آیت کریمہ : إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ اسْمُهُ يَحْيى [ مریم/ 7] میں بیان ہوچکا ہے کہ ان کا یہ نام معنی حیات پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ اس کے مقام پر مذکور ہے ۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں :
    التسبيح والتحميد يجمع النفي والإثبات، نَفْي المعائب وإثبات المحامد، وذلك يتضمن التعظيم، ولهذا قال: (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى (سورة الأعلى))
    (2) ، وقال: (فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ (74)) (3) .
    وقد قال النبي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "اجعلوا هذه في ركوعكم، وهذه في سجودكم" ( أخرجه أحمد (4/155) وأبو داود (869) ) .
    وقال: "أما الركوع فعظِّموا فيه الرب" ( أخرجه مسلم (479)) . فالتسبيح يتضمن التنزيه المستلزم للتعظيم، والحمد يتضمن إثبات المحامد المتضمن لنفي نقائصها.

    یعنی :(تسبیح اور تحمید ) سبحان اللہ اور الحمد للہ ،دو کلمے جو ۔۔نفی ،اثبات کو جمع کرتے ہیں ، صفات عیب کی نفی اور تعریف و حمد کا اثبات کرتے ہیں ، اور یہ صورت تعظیم کو متضمن ہے ، اسی لئے فرمایا : اپنے رب کی تسبیح کر جو بہت اعلیٰ ہے ،۔۔ اور دوسرے مقام پر فرمایا : اپنے رب کے نام کی تسبیح کر جو بہت عظیم ہے ۔
    اور انہی دو جملوں جے متعلق نبی کریم علیہ الصلاۃ و التسلیم نے فرمایا کہ : ​
    (فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ ) کو رکوع میں ۔۔ اور (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ) کو سجدہ میں پڑھو ۔
    اور فرمایا کہ : رکوع میں اپنے رب کی تعظیم بیان کیا کرو ،
    سو واضح ہو کہ ۔۔تسبیح میں تنزیہہ ( پاک ہونا ) پایا جاتا ہے ، اور یہ تعظیم کو مستلزم ہے ،
    جبکہ الحمد میں محامد کا اثبات ہے ، اور وہ نقائص سے مبرا و منزہ ہونے کو متضمن ہے ۔
    (جامع المسائل لابن تيمية - للشیخ عزير شمس )
     
    • زبردست زبردست x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  5. ‏اگست 27، 2017 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,239
    موصول شکریہ جات:
    2,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    شیخ محمد بن صالح العثیمینؒ شرح عقیدۃ الواسطیۃ میں فرماتے ہیں :
    {سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} اس آیہ کریمہ کی شرح میں لکھتے ہیں :
    التسبيح وهو تنزيه الله عن كل ما لا يليق به
    حمد الله نفسه عز وجل بعد أن نزهها، لأن في الحمد كمال الصفات، وفي التسبيح تنزيه عن العيوب، فجمع في الآية بين التنزيه عن العيوب بالتسبيح، وإثبات الكمال بالحمد.

    یعنی ۔۔ تسبیح ۔۔سے مراد اللہ کی تنزیہہ ہے یعنی ہر اس صفت و وصف سے پاک ہونا جو اسکی شان کے لائق نہیں ،
    اور اپنی تنزیہہ کے بعد ۔۔ حمد ۔۔ کرنے سے مراد یہ ہے کہ :
    حمد میں صفات کمال کا اثبات ہے ، اور تسبیح میں تمام عیوب و نقائص سے براءت ہے ، تو اسلئے اس آیت میں عیوب سے مبرا و منزہ ہونا اور صفات کمالیہ سے موصوف ہونا دونوں کو جمع کیا ،
    (مجموع فتاوى ورسائل فضيلة الشيخ محمد بن صالح العثيمين ) جلد 8 ،ص 114
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    اور احسن البیان میں ہے:​
    {الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ )
    اس میں ملائکہ مقربین کے ایک خاص گروہ کا تذکرہ اور وہ جو کچھ کرتے ہیں اس کی وضاحت ہے یہ گروہ ہے ان فرشتوں کا جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور وہ جو عرش کے ارد گرد ہیں ان کا ایک کام یہ ہے کہ یہ اللہ کی تسبیح وتحمید کرتے ہیں یعنی نقائص سے اس کی تنزیہ کمالات اور خوبیوں کا اس کیلیے اثبات کرتے ہیں "
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    مصر کے مشہور اور جید عالم شیخ فوزی سعید حفظ اللہ فرماتے ہیں :
    فإذا اقترن به ذكرٌ لصفات الكمال والجمال أو ذكر الأفْعَال المُقَدَّسَة الدالة على الكمال ، أو ذكرٌ لهما معاً ( للصفات والأفعال ) ،
    فإنَّ ذلك الاقتران يفيد ثلاثة أمُوَرْ : الأوَّل : تأكيد معنى التعظيم المتضمَّن في التَّسْبيح مع ذكر بَيَانِه وتَفْصِيله . فَيذِلُّ المُسْلِم غاية الذل لما ذُكِرَ من العظمة

    والأمر الثاني : ذكر المَحَاسن والمحامد التي يستحق بها سبحانه أن يُحَبَّ بغاية الحُبّ ، فبذلك يجتمع غاية الحب بغاية الذل ، وهما أصْلاَ العبادة . ولذلك إنما يأتي التَّسْبيح في القرآن والسُّنَّة في معظم المواضع مَقْرُونا بصفات الكمال إجمالا أو تفصيلاً أو ما يدل عليها من الأفعال المقدسة . والحمد : كلمةٌ جَامعة لذلك(للمحامد والمحاسن والكمالات والأفعال) ولذلك اصطفي الله لملائكته : سَبْحان الله وبحمده ، وأفضل الكلام بعد القرآن وهن من القرآن سُبْحَان الله والحَمْد لله ولا إله إلا الله واللهُ أَكْبر ، وسيأتي مزيد لذلك .

    والأمر الثالث : أنَّ الَحَمْد إثبات الكمالات ، والتَّسْبيحَ يتضمن التنزيه وهو نَفْي ما يناقض تلك الكمالات ، وذلك هو الثناء الذي يحبُّه الله "
     
    • زبردست زبردست x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  6. ‏اگست 28، 2017 #6
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,719
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    جزاکم اللہ خیرا یا شیخ
    مزید کا منتظر رہوں یا اسی پر اکتفاء کروں؟..ابتسامہ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں